کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: پہلا غزوہ بدر
حدیث نمبر: 39413
٣٩٤١٣ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا أبو أسامة عن (مجالد) (٢) عن زياد بن علاقة عن سعد بن أبي وقاص (قال) (٣): لما قدم رسول اللَّه ﷺ المدينة جاءت (جهينة) (٤) فقالت: إنك قد نزلت بين أظهرنا فأوثق لنا حتى نأمنك و (تأمننا) (٥) فأوثق لهم، ولم يسلموا فبعثنا رسول اللَّه ﷺ في رجب ولا نكون مائة، وأمرنا أن نغير على حي من كنانة إلى جنب جهينة، قال: فأغرنا عليهم وكانوا كثيرا فلجأنا إلى جهينة (٦)، وقالوا: لم تقاتلون في الشهر الحرام؟ فقلنا: إنما نقاتل من أخرجنا من البلد الحرام في الشهر الحرام، (فقال) (٧) بعضنا لبعض: (ما ترون؟) (٨) (فقالوا) (٩): نأتي رسول اللَّه ﷺ فنخبره، وقال قوم: لا، بل نقيم هاهنا، وقلت أنا في أناس معي: لا، بل نأتي عير قريش هذه فنصيبها، فانطلقنا إلى العير، وكان الفيء إذ ذاك من أخذ شيئا فهو له، فانطلقنا إلى العير، وانطلق أصحابنا إلى النبي ﵊ (١٠) فأخبروه الخبر، فقام غضبان محمرا لونه ووجهه، فقال: "ذهبتم من عندي جميعا وجئتم متفرقين، إنما أهلك من كان قبلكم الفرقة، لأبعثن عليكم ⦗٤٢٦⦘ رجلا ليس بخيركم، أصبركم على الجوع والعطش"، فبعث علينا عبد اللَّه بن جحش الأسدي فكان أول أمير في الإسلام (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن ابو وقاص سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس) قبیلہ جہینہ والے آئے اور کہا۔ چونکہ آپ ہمارے درمیان فروکش ہوچکے ہیں پس آپ ہمارے ساتھ معاہدہ کرلیں تاکہ ہم آپ کی طر ف سے مامون رہیں۔ اور آپ ہماری طرف سے مامون رہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے معاہدہ کرلیا۔ اور ان لوگوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ماہ رجب میں ایک لشکر کی شکل میں بھیجا۔ حالانکہ ہم لوگ سو کی تعداد میں بھی نہیں تھے۔ تاکہ ہم جہینہ قبیلہ کے پہلو میں موجود قبیلہ کنانہ پر حملہ کریں۔ راوی کہتے ہیں۔ ہم نے بنو کنانہ پر حملہ کیا تو وہ لوگ کثیر تعداد میں تھے۔ پس ہم نے جہینہ قبیلہ میں (آ کر) پناہ لی تو انہوں نے ہمیں پناہ سے روک دیا اور کہا۔ تم لوگوں نے شہر حرام میں کیوں لڑائی کی ہے ؟ ہم نے کہا : ہم نے انہیں لوگوں سے لڑائی کی ہے جنہوں نے ہمیں بلد حرام (مکہ) سے شہر حرام میں نکالا تھا۔ ہم میں سے بعض لوگوں نے بعض سے پوچھا۔ تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے جواب دیا۔ ہم اللہ کے پیغمبر کے پاس جاتے ہیں اور جا کر انہیں یہ بات بتاتے ہیں۔ اور ایک گروہ نے کہا : نہیں ! بلکہ ہم یہیں قیام کرتے ہیں۔ اور میں نے چند لوگوں کی معیت میں یہ بات کہی کہ نہیں بلکہ قریش کے اس قافلہ کے پاس چلتے ہیں اور اس پر حملہ کرتے ہیں۔ پس ہم قافلہ کی طرف چل پڑے۔ اس وقت فئی یہ تھا کہ جو کوئی جس چیز کو لے لے تو وہ اسی کی ہے۔ پس ہم قافلہ کی طرف چل دیئے۔ اور ہمارے (بقیہ) ساتھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلے گئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتائی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصہ کی حالت میں کھڑے ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک اور رنگ مبارک میں سرخی ظاہر ہونے لگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ میرے پاس سے اکٹھے گئے تھے اور تم متفرق طور پر واپس لوٹے ہو ؟ تم سے پہلے لوگوں کو گروہ بندی نے ہی ہلاک کیا ہے۔ میں تم پر ضرور بالضرور ایسے شخص کو امیر بنا کر بھیجوں گا جو تم میں سے (زیادہ) بہتر (بھی) نہیں۔ اور بھوک پیاس میں تم سب سے زیادہ صبر کرنے والا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم پر عبد اللہ بن جحش کو امیر بنا کر بھیجا۔ یہ صاحب اسلام میں پہلے امیر بنے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39413
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف مجالد، أخرجه البزار (١٢٤٠)، والبيهقي في دلائل النبوة ٣/ ١٤، والدورقي في مسند سعد (١٣١)، وعبد اللَّه وجادة في زيادات المسند (١٥٣٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39413، ترقيم محمد عوامة 37806)
حدیث نمبر: 39414
٣٩٤١٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن سعيد عن قتادة في قوله: ﴿وَلَا تُقَاتِلُوهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى يُقَاتِلُوكُمْ فِيهِ﴾ [البقرة: ١٩١]، فأمر نبيه ﵊ أن لا يقاتلوهم عند المسجد الحرام إلا أن يبدأوا فيه بقتال (ثم) (١) (نسختها) (٢): ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ﴾ [البقرة: ٢١٧]، (نسخها) (٣) هاتان الآيتان قوله: ﴿فَإِذَا انْسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ﴾ [التوبة: ٥] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ، ارشاد خداوندی { وَلاَ تُقَاتِلُوہُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّی یُقَاتِلُوکُمْ فِیہِ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ مشرکین سے مسجد حرام کے پاس نہ لڑیں اِلَّا یہ کہ مشرکین ہی مسجد حرام میں لڑائی کا آغاز کردیں۔ پھر اس آیت کو اس آیت نے منسوخ کردیا۔ { یَسْأَلُونَک عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیہِ } ان دونوں آیات کو ارشاد ، خداوندی : { فَإِذَا انْسَلَخَ الأَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِینَ حَیْثُ وَجَدْتُمُوہُمْ ، وَخُذُوہُمْ وَاحْصُرُوہُمْ } نے منسوخ کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39414
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ سعيد اختلط، وأخرجه ابن جرير ٢/ ١٩٢، والنحاس في الناسخ ص ١١١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39414، ترقيم محمد عوامة 37807)