کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: حبشہ اور نجاشی کے معاملہ سے متعلق اور اس کے اسلام لانے کا قصہ
حدیث نمبر: 39401
٣٩٤٠١ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: أخبرنا إسرائيل عن أبي (إسحاق) (٢) عن أبي بردة عن أبي موسى قال: أمرنا رسول اللَّه ﷺ أن ننطلق مع جعفر بن أبي طالب إلى أرض النجاشي، قال: فبلغ ذلك قومنا، فبعثوا عمرو بن العاص وعمارة بن الوليد، وجمعوا للنجاشي هدية فقدمنا وقدما على النجاشي، فأتوه بهديته فقبلها وسجدوا (له) (٣)، ثم قال له عمرو بن (العاص) (٤): إن قوما منا رغبوا عن ديننا وهم في أرضك، فقال لهم النجاشي: في أرضي؟ قالوا: نعم، فبعث إلينا، فقال لنا جعفر: لا يتكلم منكم أحد، (٥) أنا خطيبكم اليوم، قال: فانتهينا إلى النجاشي وهو جالس في مجلسه وعمرو بن العاص ⦗٤١٩⦘ عن يمينه وعمارة عن يساره، والقسيسون والرهبان جلوس (٦) (سماطين) (٧) وقد (قال) (٨) له عمرو بن العاص وعمارة: إنهم (لا) (٩) يسجدون لك، قال: فلما انتهينا إليه زَبَرنا مَنْ عنده من القسيسين والرهبان: اسجدوا للملك، فقال جعفر: لا نسجد إلا للَّه، فلما انتهينا إلى النجاشي قال: ما يمنعك أن تسجد؟ قال: لا نسجد إلا للَّه، قال له النجاشي: وما ذاك؟ قال: إن اللَّه بعث فينا رسوله، وهو الرسول الذي بشر به عيسى بن مريم (١٠)، ﴿بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ﴾ [الصف: ٦]، فأمرنا أن نعبد اللَّه ولا نشرك به شيئا، ونقيم الصلاة ونؤتي الزكاة، وأمرنا بالمعروف ونهانا عن المنكر، قال: فأعجب النجاشيَ قولُه، فلما رأى ذلك عمرو بن العاص قال: (أصلح) (١١) اللَّهُ الملكَ، إنهم يخالفونك في ابن مريم (١٢)؟ فقال النجاشي لجعفر: ما يقول صاحبك في ابن مريم؟ قال: يقول فيه قول اللَّه: (هو) (١٣) روح اللَّه وكلمته أخرجه من البتول العذراء التي لم يقربها بشر، قال: فتناول النجاشي عودا من الأرض فقال: يا معشر (القسيسين) (١٤) والرهبان ما يزيد ما يقول هؤلاء على ما تقولون في ابن مريم ما (يزن) (١٥) هذه، مرحبا بكم وبمن جئتم من عنده، فأنا أشهد ⦗٤٢٠⦘ أنه رسول اللَّه والذي بشر به عيسى بن مريم (١٦)، ولولا ما أنا فيه من الملك لأتيته حتى أحمل نعليه، امكثوا في أرضي ما شئتم، وأمر لنا بطعام وكسوة، وقال: ردوا على هذين هديتهما، قال: وكان عمرو بن العاص رجلا قصيرا، وكان عمارة بن الوليد رجل جميلا، قال: فاقبلا في البحر إلى النجاشي، قال: فشربوا، قال: ومع عمرو بن (العاص) (١٧) امرأته، فلما شربوا الخمر قال عمارة لعمرو: مر امرأتك (فلتقبلني) (١٨)، فقال له عمرو: ألا تستحي، فأخذه عمارة فرمى به (في البحر) (١٩) فجعل عمرو يناشده حتى أدخله السفينة، فحقد عليه عمرو ذلك، فقال عمرو للنجاشي: إنك إذا خرجت خلف عمارة في أهلك، قال: فدعا النجاشي بعمارة فنفخ في (إحليله) (٢٠) فصار مع الوحش (٢١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حضرت جعفر بن ابی طالب کے ہمراہ ارض ِ نجاشی کی طرف ہجرت کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ ابو موسیٰ کہتے ہیں۔ یہ بات ہماری قوم کو معلوم ہوئی تو انہوں نے عمرو بن العاص اور عمارہ بن الولید کو بھیجا۔ اور نجاشی کے لئے تحائف اکٹھے کئے۔ پس ہم بھی (وہاں) پہنچے اور وہ دونوں بھی پہنچے۔ یہ دونوں اس کے پاس ہدایا لے کر حاضر ہوئے تو اس نے ان ہدایا کو قبول کرلیا۔ ان لوگوں (قاصدین قریش) نے اس کو سجدہ کیا۔ پھر عمرو بن العاص نے نجاشی سے کہا۔ ہماری قوم میں سے کچھ لوگ اپنے دین سے پھرگئے ہیں اور وہ (اس وقت) تمہاری زمین میں ہیں۔ نجاشی نے ان سے پوچھا۔ میری زمین میں ؟ قاصدین نے کہا : جی ہاں ! پھر نجاشی نے ہماری طرف (آدمی) بھیجا۔ ٢۔ حضرت جعفر نے ہمیں کہا۔ تم میں سے کوئی نہ بولے آج تمہارا خطیب میں ہوں۔ راوی کہتے ہیں ۔ پس ہم نجاشی کے پاس پہنچے۔ اور اپنی مجلس میں بیٹھا ہو اتھا۔ عمرو بن العاص اس کے دائیں طرف اور عمارہ اس کے بائیں طرف بیٹھاہو اتھا۔ عباد اور زاہد لوگ دو صفیں بنا کر بٹھے۔ ہوئے تھے۔ عمرو بن العاص اور عمارہ نے نجاشی سے کہہ دیا تھا ۔ کہ یہ لوگ تمہیں سجدہ نہیں کریں گے۔ ٣۔ راوی کہتے ہیں ۔ پس جب ہم اس کے پاس پہنچے تو اس کے پاس موجود زاہدوں اور عباد نے ہمیں روک دیا کہ بادشاہ کو سجدہ کرو۔ حضرت جعفر نے فرمایا : ہم اللہ کے سوا کسی اور کو سجدہ نہیں کرتے۔ پھر جب ہم نجاشی کے پاس پہنچے تو نجاشی نے پوچھا۔ تجھے سجدہ کرنے سے کس چیز نے منع کیا ؟ حضرت جعفر نے جواب دیا۔ ہم اللہ کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرتے۔ نجاشی نے حضرت جعفر سے پوچھا۔ یہ کیا (وجہ) ہے ؟ حضرت جعفر نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان اپنے ایک رسول کو مبعوث فرمایا ہے۔ اور یہ وہی رسول ہے جس کی بشارت حضرت عیسیٰ بن مریم نے دی تھی۔ (بِرَسُولٍ یَأْتِی مِنْ بَعْدِی اسْمُہُ أَحْمَدُ ) پس اس رسول نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اللہ ہی کی عبادت کریں اور ہم اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کریں اور ہم نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں اور اس رسول نے ہمیں اچھائی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا۔ راوی کہتے ہیں : نجاشی کو حضرت جعفر کی بات نے تعجب میں ڈال دیا۔ ٤۔ جب عمرو بن العاص نے یہ حالت دیکھی تو بولا۔ اللہ تعالیٰ بادشاہ کو سلامت رکھے ! یہ لوگ حضرت عیسیٰ بن مریم i میں آپ کی مخالفت کرتے ہیں۔ نجاشی نے حضرت جعفر سے پوچھا۔ تمہارا ساتھی (نبی) عیسیٰ بن مریم i کے بارے میں کیا کہتا ہے ؟ حضرت جعفر نے فرمایا۔ وہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں خدا کا یہ کلام کہتے ہیں۔ کہ وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔ اللہ پاک نے ان کو اس کنواری زاہدہ عورت سے پیدا کیا ہے جس کے قریب کوئی بندہ بشر نہیں گیا۔ راوی کہتے ہیں ۔ نجاشی نے زمین سے ایک لکڑی (تنکا) اٹھائی اور کہا۔ اے جماعت عُبَّاد و زُہَّاد ! حضرت عیسیٰ بن مریم کے بارے میں جو بات تم کہتے ہو ۔ ان لوگوں کی کہی ہوئی بات تمہاری بات سے اس لکڑی کے وزن سے بھی زیادہ نہیں ہے۔ تمہیں آنا مبارک ہو اور اس کو بھی مبارک ہو جس کے پاس سے تم آئے ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ خدا کا رسول ہے اور وہی رسول ہے جس کی بشارت حضرت عیسیٰ بن مریم i نے دی تھی۔ اگر میں ان حکومتی احوال میں نہ ہوتا تو میں اس کے پاس حاضر ہوتا تاکہ میں اس کے جوتے اٹھاتا۔ جتنی دیر تمہارا دل چاہے تم میری زمین میں رہو ۔ پھر نجاشی نے ہمارے لئے کھانے اور کپڑوں کا حکم دیا اور کہا۔ ان دونوں (قاصدین قریش) کو ان کے ہدایا واپس کردو۔ ٥۔ راوی کہتے ہیں : عمرو بن العاص پستہ قد آدمی تھا۔ اور عمارہ بن الولید ایک خوبرو نوجوان تھا۔ راوی کہتے ہیں : یہ دونوں نجاشی کے سامنے سمندر میں آئے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر انہوں نے شراب پی۔ کہتے ہیں۔ عمرو بن العاص کے ہمراہ اس کی بیو ی بھی تھی۔ تو جب انہوں نے شراب نوشی کی تو عمارہ نے عمرو سے کہا۔ اپنی بیوی کو حکم دو کہ وہ مجھے بوسہ دے۔ عمرو نے عمارہ کو کہا۔ تمہیں شرم نہیں آتی۔ پس عمارہ نے عمرو کو پکڑا اور اس کو سمندر میں پھینکنے چلا تو عمرو نے اس کو مسلسل دہائی دینی شروع کی یہاں تک کہ عمارہ نے عمرو کو کشتی مں ی داخل کردیا۔ اس بات پر عمرو نے عمارہ کو موقع پا کر نقصان پہنچانے کا ارادہ کیا۔ تو عمرو نے نجاشی سے کہا۔ جب تم باہر جاتے ہو تو عمارہ تمہارے گھر والوں کے پاس آتا جاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ نجاشی نے عمارہ کو بلا بھیجا اور اس کی پیشاب کی نالی میں پھونک مروا دی پس عمارہ وحشیوں کے ساتھ ہوگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39401
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد بن حميد (٥٥٠)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٦٦)، والحاكم ٢/ ٣٠٩، والروياني (٥٠٢)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١١٤، وابن سعد في الطبقات ٤/ ١٠٦، والبيهقي في دلائل النبوة ٢/ ٢٩٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39401، ترقيم محمد عوامة 37795)
حدیث نمبر: 39402
٣٩٤٠٢ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي قال: لما قدم جعفر من أرض الحبشة لقي عمرُ بن الخطاب أسماءَ بنت عميس فقال لها: سبقنا (كم) (١) بالهجرة، ونحن أفضل منكم، قالت: لا أرجع حتى آتي رسول اللَّه ﷺ، (قال) (٢): فدخلت عليه فقالت: يا رسول اللَّه (٣) لقيت عمر ⦗٤٢١⦘ فزعم أنه أفضل منا وأنهم سبقونا بالهجرة، قالت: قال: نبي اللَّه ﵊ (٤): "بل أنتم هاجرتم مرتين" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے روایت ہے کہ جب حضرت جعفر ارض حبشہ سے واپس تشریف لائے تو حضرت عمر بن خطاب ، اسماء بنت عمیس سے ملے تو اس سے کہا۔ ہم نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے اور ہم تم سے افضل ہیں۔ حضرت اسمائ نے فرمایا : میں تب تک واپس نہیں جاؤں گی جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہ مل لوں۔ راوی کہتے ہیں ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میری حضرت عمر سے ملاقات ہوئی ہے تو ان کا گمان یہ ہے کہ وہ ہم سے افضل ہیں۔ اور یہ کہ انہوں نے ہم سے پہلے ہجرت کی ہے۔ فرماتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : (نہیں) بلکہ تم لوگوں نے دو مرتبہ ہجرت کی ہے۔ اسماعیل کہتے ہیں۔ سعید بن ابی بردہ نے مجھے بیان کیا کہ حضرت اسمائ نے اس دن حضرت عمر سے کہا۔ ایسا نہیں ہے (کیونکہ) ہم لوگ قابل نفرت اور دور کی زمین میں بالکل الگ کئے ہوئے تھے جبکہ تم لوگ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم میں سے ناواقف کو وعظ کہتے اور تمہارے بھوکے کو کھانا کھلاتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39402
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الشعبي تابعي، أخرجه ابن سعد ٨/ ٢٨١، وورد من حديث الشعبي عن أسماء، أخرجه الطبراني ٢٤/ (٣٩٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39402، ترقيم محمد عوامة 37796)
حدیث نمبر: 39403
٣٩٤٠٣ - قال إسماعيل: فحدثني سعيد بن أبي بردة قالت يومئذ لعمر: ما هو كذلك كنا (مطرودين) (١) بأرض البعداء البغضاء وأنتم عند رسول اللَّه ﷺ يعظ جاهلكم ويطعم جائعكم (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39403
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ سعيد بن أبي بردة تابعي، وورد من حديث أبي بردة عن أبي موسى، أخرجه البخاري (٤٢٣٠)، ومسلم (٢٥٠٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39403، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 39404
٣٩٤٠٤ - [حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام عن أبيه في قوله: ﴿تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ﴾ [المائدة: ٨٣]، قال: نزل ذلك في النجاشي] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام اپنے والد سے ارشاد خداوندی { تَرَی أَعْیُنَہُمْ تَفِیضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ } کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ یہ آیت نجاشی کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39404
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عروة تابعي، وورد من حديث عروة عن عبد اللَّه بن الزبير، أخرجه النسائي (١١١٤٨)، والبزار (٢١٨٣)، وابن أبي حاتم في التفسير ٤/ ١١٨٥ (٦٦٨٠)، وابن جرير ٧/ ٥، والضياء في المختارة ٩/ (٢٨٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39404، ترقيم محمد عوامة 37797)
حدیث نمبر: 39405
٣٩٤٠٥ - حدثنا علي بن مسهر عن الأجلح عن الشعبي قال: أتى رسول اللَّه ﷺ حين افتتح خيبر فقيل له: (١) قدم جعفر من عند النجاشي، قال: "ما أدري بأيهما أنا أفرح بقدوم جعفر أو بفتح خيبر"، ثم تلقاه ⦗٤٢٢⦘ فالتزمه وقبّل ما بين عينيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے روایت ہے کہ جب خیبر فتح ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خبر دی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا کہ حضرت جعفر ، نجاشی کے پاس سے واپس آگئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ مجھے معلوم نہیں ہو رہا کہ میں ان دونوں باتوں میں سے کس پر (زیادہ) خوش ہوں۔ حضرت جعفر کے آنے پر یا خیبر کے فتح ہونے پر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنے ساتھ چمٹا لیا اور ان کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39405
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الشعبي تابعي، وأخرجه ابن سعد ٤/ ٣٤، والطحاوي ٤/ ٢٨١، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٦٣)، والطبراني (١٤٦٩)، وورد من حديث الشعبي عن جابر، أخرجه الحاكم ٢/ ٦٨١، والبيهقي في الدلائل ٤/ ٢٤٦، كما ورد من حديث الشعبي عن عبد اللَّه بن جعفر عن أبيه، أخرجه الطبراني (١٤٧٨)، وابن قانع ١/ ١٥٢، والبيهقي في شعب الإيمان (٨٩٦٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39405، ترقيم محمد عوامة 37798)
حدیث نمبر: 39406
٣٩٤٠٦ - حدثنا خالد بن مخلد قال: (حدثنا) (١) (عبد الرحمن) (٢) بن عبد العزيز قال: ثنا الزهري قال: حدثني أبو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام المخزومي قال: دعا النجاشي جعفر بن أبي طالب وجمع له رؤوس النصارى (ثم) (٣) قال لجعفر: اقرأ عليهم ما معك من القرآن فقرأ عليهم: ﴿كهيعص﴾ [مريم: ١]، (ففاضت) (٤) أعينهم (فنزلت) (٥): ﴿تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ﴾ [المائدة: ٨٣] (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن عبد الرحمان روایت کرتے ہیں کہ نجاشی نے جعفر بن ابی طالب کو بلایا ۔ اور ان کے لئے بہت سے عیسائیوں کو جمع کیا پھر حضرت جعفر سے کہا۔ تمہارے پاس قرآن میں سے جو ہے وہ ان پر پڑھو۔ حضرت جعفر نے ان پر کھیعص کی تلاوت کی تو ان کی آنکھیں بہہ پڑیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ { تَرَی أَعْیُنَہُمْ تَفِیضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ }
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39406
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث فقيه تابعي، وأخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ١١٧، وابن أبي حاتم في التفسير (٦٦٧٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39406، ترقيم محمد عوامة 37799)
حدیث نمبر: 39407
٣٩٤٠٧ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن ابن سيرين أنه ذكر عنده عثمان بن عفان، قال (رجل) (١): إنهم يسبونه، قال: ويحهم يسبون رجلا دخل على النجاشي في نفر من أصحاب محمد ﷺ فكلهم أعطاه الفتنة غيره، قالوا: وما الفتنة ⦗٤٢٣⦘ التي أعطوها؟ قال: كان لا يدخل عليه أحد إلا أومأ إليه برأسه فأبى عثمان فقال: ما منعك أن تسجد كما سجد أصحابك؟ فقال: ما (كنت) (٢) لأسجد لأحد دون اللَّه (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین کے بارے میں منقول ہے کہ ان کے ہاں حضرت عثمان بن عفان کا ذکر ہوا تو ایک آدمی نے کہا۔ لوگ تو ان پر سب و شتم کرتے ہیں۔ ابن سیرین نے کہا ہلاکت ہو ان لوگوں پر کہ وہ ایسے آدمی پر سب و شتم کرتے ہیں۔ کہ جو نجاشی کے پاس اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک جماعت کے ہمراہ داخل ہوا تھا۔ تو ان میں سے ہر ایک نے آزمائش اپنے غیر کے حوالہ کردی۔ لوگوں نے پوچھا : وہ کیا آزمائش تھی جو انہوں نے حوالہ کی۔ ابن سیرین نے کہا۔ نجاشی کے پاس جو بھی جاتا تھا تو وہ اپنا سر جھکا کر داخل ہوتا تھا۔ حضرت عثمان نے اس سے نکار کردیا تو نجاشی نے ان سے کہا۔ جس طرح تیرے ساتھیوں نے کیا ہے تمہیں ویسے کرنے سے کس نے منع کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا۔ میں اللہ کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کیا کرتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39407
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ ابن سيرين تابعي، أخرجه ابن عساكر ٣٩/ ٣٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39407، ترقيم محمد عوامة 37800)