کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: وہ احادیث جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصدوں کا ذکر ہے
حدیث نمبر: 39387
٣٩٣٨٧ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا محمد بن فضيل عن حصين (عن) (٢) عبد اللَّه بن شداد قال: كتب كسرى إلى باذام أني نبئت أن رجلا يقول شيئا لا أدري ما هو، فأَرسل إليه فليقعد في بيته ولا يكن من الناس في شيء وإلا ⦗٤٠٩⦘ فليواعدني موعدا ألقاه به، قال: فأرسل باذام إلى رسول اللَّه ﷺ رجلين حالقي لحاهما مرسلي شواربهما، فقال رسول اللَّه ﷺ: "ما يحملكما على هذا؟ " (قال) (٣): فقالا له: يأمرنا به (الذي) (٤) يزعمون أنه ربهم قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "لكنا نخالف سنتكم، نجز هذا، ونرسل هذا"، قال: فمر به رجل من قريش طويل الشارب فأمره رسول اللَّه ﷺ أن يجزَّهما، قال: (فتركهما) (٥) بضعا وعشرين يوما، ثم قال: "اذهبا إلى (الذي) (٦) يزعمون أنه ربكما، فأخبراه أن ربي قَتَل الذي يزعم أنه ربه"، قالا: متى؟ قال: "اليوم" قال: فذهبا إلى باذام فأخبراه الخبر، قال: فكتب إلى كسرى فوجدوا اليوم هو الذي قتل فيه كسرى (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شداد سے روایت ہے کہ کسریٰ نے باذام کو لکھا کہ مجھے خبر دی گئی ہے ۔ کہ ایک آدمی وہ بات کہتا ہے جو مجھے معلوم نہیں ہے۔ پس تم اس کی طرف کسی کو بھیجو تاکہ وہ اپنے گھر میں سکون کرے اور لوگوں میں کسی بات کو نہ پھیلائے وگرنہ میرے ساتھ کوئی وقت اور جگہ مقرر کرلے میں اس سے وہاں ملوں گا۔ راوی کہتے ہیں۔ باذام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو داڑھی منڈے ہوئے آدمیوں کو بھیجا جن کی مونچھیں لمبی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہیں اس بات پر کس نے ابھارا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا۔ کہ ہمیں اس نے اس بات کا حکم دیا ہے جو لوگوں کے گمان کے مطابق ان کا پروردگار ہے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لیکن ہم تمہارے طریقہ کی مخالفت کرتے ہیں۔ ہم اس کو (مونچھوں کو) صاف کرتے ہیں اور اس (داڑھی) کو بڑھاتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک دراز مونچھوں والا قریشی مرد گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ انہیں کاٹ دو ۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان قاصدوں کو بیس سے کچھ اوپر دن چھوڑے رکھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم دونوں اس کے پاس جاؤ جس کو تم اپنا پروردگار گمان کرتے ہو اور اس کو بتاؤ کہ میرے رب نے اس شخص کو قتل کردیا ہے جو اپنے گمان میں رب بنا ہوا تھا۔ ان آدمیوں نے پوچھا : یہ کب ہوا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : آج کے دن ۔ راوی کہتے ہیں : پس یہ دونوں باذام کی طرف گئے اور جا کر اس کو یہ خبر دی۔ راوی کہتے ہیں : ا س نے کسریٰ کو خط لکھا تو انہوں نے کسریٰ کے قتل کو آج ہی کے دن میں رونما پایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39387
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عبد اللَّه بن شداد تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39387، ترقيم محمد عوامة 37781)
حدیث نمبر: 39388
٣٩٣٨٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الرحمن بن حرملة الأسلمي قال: سمعت سعيد بن المسيب يقول: كتب رسول اللَّه ﷺ إلى كسرى وقيصر والنجاشي: "أما بعد، تعالوا إلى كلمة سواء بيننا وبينكم أن لا نعبد إلا اللَّه، ولا نشرك به شيئا، ولا (يتخذ) (١) بعضنا بعضا أربابا من دون اللَّه، فإن تولوا فقولوا اشهدوا بأنا مسلمون"، قال سعيد بن المسيب: فمزق كسرى الكتاب ولم ينظر فيه، قال نبي اللَّه: "مزق ومزقت أمته"، فأما النجاشي فآمن (٢) من كان عنده، وأرسل إلى رسول اللَّه ﷺ بهدية حلة، فقال رسول اللَّه ﷺ: "اتركوه ما ترككم"، وأما قيصر فقرأ ⦗٤١٠⦘ كتاب رسول اللَّه ﷺ فقال: هذا كتاب لم أسمع به بعد سليمان النبي (٣) بسم اللَّه الرحمن الرحيم، ثم أرسل إلى (أبي) (٤) سفيان والمغيرة بن شعبة كانا تاجرين بأرضه، فسألهما عن بعض شأن رسول اللَّه ﷺ وسألهما: من تبعه؟ فقالا: تبعه النساء وضعفة الناس، فقال: أرأيتما الذين يدخلون معه ويرجعون؟ قالا: لا، قال: هو نبي، ليملكن ما تحت قدميّ، لو كنت عنده لقبلت قدميه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسریٰ ، قیصر اور نجاشی کو خط لکھا۔ اما بعد ! ” ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہم تم میں مشترک ہے (اور وہ یہ ہے) کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ کو چھوڑ کر ہم ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں “ پھر بھی اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دو ” گواہ رہنا ہم مسلمان ہیں۔ حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں : کسریٰ نے خط کو پھاڑ دیا اور اس کو دیکھا ہی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ خود پھٹ گیا ہے اور اس کی امت بھی پھٹ گئی ہے۔ اور نجاشی نے ایمان قبول کرلیا اور اس کے پاس جو لوگ تھے وہ بھی ایمان لے آئے۔ اور اس نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک جوڑا ہدیہ میں بھیجا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھے تم بھی ا ن کو چھوڑ دو ۔ اور قیصر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط پڑھا اور کہا۔ میں نے سلیمان نبی کے خط کے بعد بسم اللّٰہ الرحمان الرحیم والا خط نہیں سُنا۔ پھر اس نے ابو سفیان اور مغیرہ بن شعبہ کی طرف قاصد بھیجا۔ یہ دونوں ارض قیصر میں تاجر کی حیثیت سے موجود تھے۔ قیصر نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض احوال کے متعلق سوال کیا۔ اور ان سے یہ سوال کیا ۔ کون لوگ اس کے تابع دار ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : ان کے پیچھے چلنے والے کمزور لوگ اور عورتیں ہیں۔ پھر اس نے پوچھا : یہ بتاؤ ! جو لوگ اس کے پاس گئے ہیں وہ واپس پلٹے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا۔ نہیں ! قیصرنے کہا ۔ یہ شخص نبی ہے۔ میرے قدموں کے نیچے والے حصہ زمین پر یہ شخص ضرور بالضرور تمکن حاصل کرے گا۔ اگر میں اس کے پاس ہوتا تو میں اس کے قدم چوم لیتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39388
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ سعيد بن المسيب تابعي، وأخرجه سعيد بن منصور ق/ ١ (٢٤٨٠)، والقزويني في التدوين ٣/ ٤١٨، وأبو عبيد في الأموال (٥٩)، وأشار له البخاري في الصحيح (٦٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39388، ترقيم محمد عوامة 37782)
حدیث نمبر: 39389
٣٩٣٨٩ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن يعقوب عن جعفر بن عمرو قال: بعث رسول اللَّه ﷺ أربعة نفر إلى أربعة وجوه: رجلا إلى كسرى، ورجلا إلى قيصر، ورجلا إلى المقوقس، وبعث عمرو بن أمية إلى النجاشي، فأصبح كل رجل منهم يتكلم بلسان القوم الذين بعث إليهم، فلما أتى عمروُ بن أمية النجاشي وجد لهم بابا صغيرا يدخلون منه مكفرين (١)، فلما رأى عمرو ذلك ولى ظهره القهقري، قال: فشق ذلك على الحبشة في مجلسهم عند النجاشي حتى هموا به حتى قالوا للنجاشي: إن هذا لم يدخل كما دخلنا، قال: ما منعك أن تدخل كما دخلوا؟ قال: إنا لا نصنع هذا بنبينا (٢)، ولو صنعناه بأحد صنعناه به، قال: صدق، قال: دعوه، قالوا للنجاشي: هذا يزعم أن عيسى (٣) مملوك، قال: فما تقول في عيسى (٤)؟ قال: كلمة ⦗٤١١⦘ اللَّه وروحه، قال: (ما استطاع) (٥) عيسى أن يعدو ذلك (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر بن عمرو کہتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار افراد کو چار افراد کی طرف قاصد بنا کر بھیجا۔ ایک آدمی کو کسریٰ کی طرف۔ ایک آدمی کو قیصر کی طرف، ایک آدمی کو مقوقس کی طرف اور عمرو بن امیہ کو نجاشی کی طرف۔ ان میں سے ہر ایک آدمی اس قوم کی زبان بولنے والا ہوگیا جن کی طرف انہیں (قاصد بنا کر) بھیجا گیا تھا۔ پس جب حضرت عمرو بن امیہ ، نجاشی کے پاس تشریف لائے، تو انہوں نے انکے ہاں ایک چھوٹا دروازہ پایا جس میں سے لوگ جھک کر گزرتے تھے۔ پس جب حضرت عمرو نے یہ دیکھا تو آپ الٹے پاؤں واپس ہو لئے۔ راوی کہتے ہیں : یہ بات نجاشی کی مجلس میں بیٹھے حبشی لوگوں کو شاق گزری یہاں تک کہ انہوں نے ان کا ارادہ کیا۔ اور یہاں تک کہ انہوں نے نجاشی بادشاہ سے کہا۔ یہ آدمی اس طرح اندر نہیں داخل ہوا جس طرح ہم داخل ہوتے ہیں۔ نجاشی نے پوچھا۔ تمہیں لوگوں کی طرح اندر داخل ہونے سے کس چیز نے منع کیا ہے ؟ حضرت عمرو نے فرمایا : ہم یہ کام اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نہیں کرتے اور اگر ہم یہ کام کسی کے ساتھ کرتے تو ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ یہ کام کرتے۔ نجاشی نے کہا۔ اس نے سچ کہا ہے اور نجاشی نے کہا۔ اس کو چھوڑ دو ۔ لوگوں نے نجاشی سے کہا۔ اس آدمی کا گمان ہے کہ عیسیٰ مملوک ہیں۔ نجاشی نے پوچھا : تم عیسیٰ کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ حضرت عمرو نے فرمایا : وہ اللہ کا کلمہ اور روح اللہ ہیں ۔ نجاشی نے کہا۔ عیسیٰ اس بات سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ (یعنی واقعۃً ایسا ہی ہے)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39389
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ جعفر تابعي، ويعقوب مجهول، أخرجه الطبراني في الأوسط (٤٨٩)، وابن عساكر ٤٥/ ٤٢٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39389، ترقيم محمد عوامة 37783)
حدیث نمبر: 39390
٣٩٣٩٠ - حدثنا أبو أسامة عن (مجالد) (١) قال: كتب رسول اللَّه ﷺ إلى جدي وهذا كتابه عندنا: "بسم اللَّه الرحمن الرحيم من محمد رسول اللَّه (٢) إلى عمير ذي مران وإلى من أسلم من همدان، سلام عليكم فإني أحمد إليكم اللَّه الذي لا إله إلا هو، أما بعد (ذلكم) (٣)، فإنه بلغنا إسلامكم مرجعنا من أرض الروم، فأبشروا فإن اللَّه قد هداكم بهداه، وإنكم إذا شهدتم أن لا إله إلا اللَّه وأن محمدا رسول اللَّه وأقمتم الصلاة وآتيتم الزكاة فإن لكم ذمة اللَّه وذمة محمد رسول اللَّه (٤) على دمائكم وأموالكم وأرض البون التي أسلمتم عليها سهلها وجبلها و (غيولها) (٥) ومراعيها غير مظلومين ولا مضيق عليكم فإن الصدقة لا تحل لمحمد وأهل بيته، وإنما هي زكاة تزكون بها أموالكم لفقراء المسلمين، وإن مالك بن مرارة الرهاوي حفظ الغيب وبلغ الخبر وآمرك به يا ذامران خيرا، فإنه منظور إليه، وكتب علي بن أبي طالب والسلام عليكم وليحييكم ربكم" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے دادا کو خط تحریر فرمایا تھا۔ اور یہ ہمارے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نامہ مبارک ہے۔ ” شروع اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے ۔ یہ خط ذی مُرَّان عمیر کی طرف اور ہمدان کے مسلمانوں کی طرف ہے۔ تم پر سلام ہو ! میں تمہارے سامنے اس اللہ کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کے بعد ! ہمیں ارض روم سے واپسی پر تمہارے اسلام کی خبر پہنچی ہے۔ پس تمہارے لیے بشارت ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی ہدایت میں سے ہدایت بخشی ہے۔ اور جب تم نے لوگوں اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ اور تم نے نماز کو قائم کیا اور تم نے زکوٰۃ کو ادا کیا۔ تو پس تمہارے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تمہارے اموال اور خون پر ذمہ ہے اور وہ درمیانی زمین جس پر تم اسلام لائے ہو اس کا ہموار رقبہ، اس کے پہاڑ، اس کے چشمے اور اس کی چراگاہیں تمہاری ہیں۔ نہ تم پر ظلم کیا جائے گا اور نہ تمہیں تنگ کیا جائے گا۔ پس بلاشبہ صدقہ (کا مال) محمد اور اہل بیت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے حلال نہیں ہے۔ یہ تو وہ زکوۃ ہے جس کے ذریعہ تم اپنے مالوں کو یہ زکوۃ مسلمانوں فقراء کو دے کر پاک کرو گے۔ بیشک مالک بن مرارہ رہاوی نے غیب کی باتوں کو یاد کیا اور خبر کو آگے پہنچایا ۔ اور اے ذی مران ! میں تمہیں اس کے ساتھ خیر کا حکم کرتا ہوں کیونکہ یہ منظور نظر ہے۔ اور یہ خط علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے لکھا ہے۔ والسلام علیکم۔ تمہارا رب تم پر سلامتی بھیجے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39390
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39390، ترقيم محمد عوامة 37784)
حدیث نمبر: 39391
٣٩٣٩١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس ابن أبي حازم قال: بعث رسول اللَّه ﷺ إلى خثعم لقوم كانوا فيهم، فلما غشيهم المسلمون استعصموا بالسجود، قال: فسجدوا، قال: فقتل بعضهم فبلغ ذلك رسول اللَّه ﷺ فقال: "أعطوهم نصف العقل لصلاتهم"، ثم قال النبي ﷺ: "ألا إني بريء من كل مسلم مع مشرك" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خثعم قبیلہ کی طرف انہی میں سے کچھ لوگوں کو قاصد بنا کر بھیجا۔ پس جب مسلمانوں نے ان کو ڈھانپ (گھیر) لیا تو ان لوگوں نے سجدوں کے ذریعہ حفاظت طلب کی (یعنی سجدوں سے اپنا اسلام ظاہر کیا) ۔ راوی کہتے ہیں : پس ان لوگوں نے سجدہ کیا۔ راوی کہتے ہیں : پھر بھی مسلمانوں نے بعض ساجدین کو قتل کردیا۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان کی نمازوں کی وجہ سے ان کی نصف دیت ادا کرو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : خبردار ! جو مسلمان مشرک کے ہمراہ رہ رہا ہے میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بری ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39391
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ قيس تابعي، أخرجه الشافعي في المسند ص ٢٠٢ والأم ٦/ ٣٥، والبيهقي ٨/ ١٣٠، وأصله عند النسائي (٦٩٨٢) والترمذي (١٦٠٥)، وسعيد ١/ (٢٦٦٣)، وورد من حديث قيس عن جرير، أخرجه الطبراني (٢٢٦٥)، وبنحوه عند أبي داود (٢٦٤٥)، والترمذي (١٦٠٤)، وورد من حديث قيس عن خالد عند الطبراني (٣٨٣٦)، والطحاوي في شرح المشكل ٨/ ٢٧٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39391، ترقيم محمد عوامة 37785)
حدیث نمبر: 39392
٣٩٣٩٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن الأعمش عن أبي ظبيان عن أسامة قال: بعثنا رسول اللَّه ﷺ في سرية فصبحنا (الحرقات) (١) من جهينة، فأدركت رجلا فقال: لا إله إلا اللَّه، فطعنته فوقع في نفسي من ذلك، فذكرته للنبي ﷺ فقال النبي ﷺ: "قال: لا إله إلا اللَّه وقتلته"، قال: قلت: يا رسول اللَّه، إنما قالها فرقا من السلاح؟ قال: "هلا شققت عن قلبه حتى تعلم أقالها فرقا من السلاح أم لا"، فما زال يكررها حتى تمنيت أني أسلمت يومئذ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں روانہ فرمایا : ہم نے جہینہ قبیلہ میں سے ایک آدمی کو پالیا تو اس نے لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ کہا۔ میں نے اس کو نیزہ مار دیا۔ پھر یہ بات میرے دل میں ٹھہر گئی تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس نے لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ کہا اور تم نے پھر بھی اس کو قتل کردیا ؟ راوی کہتے ہیں ۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس نے تو اسلحہ سے ڈر کر یہ کلمہ کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو نے اس کا دل کیوں نہ چیرا تاکہ تجھے معلوم ہوجاتا کہ اس نے یہ کلمہ اسلحہ کے ڈر سے کہا ہے کہ نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات اتنی مرتبہ دوہرائی کہ میرے دل میں یہ آرزو ہوئی کہ (کاش) میں آج ہی اسلام لایا ہوتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39392
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، والخبر أخرجه البخاري (٤٢٦٩)، ومسلم (٩٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39392، ترقيم محمد عوامة 37786)
حدیث نمبر: 39393
٣٩٣٩٣ - حدثنا يزيد بن هارون (قال: أخبرنا) (١) محمد بن عمرو عن (عمر) (٢) ابن الحكم بن (ثوبان) (٣) عن أبي سعيد الخدري أن رسول اللَّه ﷺ بعث علقمة بن ⦗٤١٣⦘ (مجزز) (٤) على بعث أنا فيهم، فلما انتهى (إلى) (٥) رأس غزاته أو كان ببعض الطريق استأذنته طائفة من الجيش فاذن لهم، وأمر عليهم عبد اللَّه بن حذافة بن قيس السهمي، فكنت فيمن غزا معه، فلما كنا ببعض الطريق أوقد القوم نارا ليصطلوا أو (ليصطنعوا) (٦) عليها (صنيعًا) (٧) لهم، فقال عبد اللَّه وكانت فيه دعابة: أليس لي عليكم السمع والطاعة، قالوا: بلى، قال: فما أنا بآمركم (٨) شيئا إلا صنعتموه، قالوا: نعم، قال: فإني أعزم عليكم ألا تواثبتم في هذه النار، قال: فقام ناس (فتحجزوا) (٩)، فلما ظن أنهم واثبون قال: أمسكوا على أنفسكم، فإنما كنت أمزح معكم، فلما قدمنا ذكرنا ذلك لرسول اللَّه ﷺ فقال: "من أمركم منهم بمعصية فلا (تطيعوه) (١٠) " (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علقمہ بن محرز کو ایک وفد میں امیر بنا کر بھیجا۔ میں بھی اس وفد میں تھا۔ پس جب یہ راستہ میں تھے یا یوں فرمایا کہ کچھ راستہ طے کرچکے تھے تو ان سے لشکر کے ایک گروہ نے اجازت مانگی ۔ انہوں نے ان کو اجازت دے دی۔ اور ان پر عبد اللہ بن حذافہ بن قیس سہمی کو امیر مقرر فرما دیا۔ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے ان کے ہمراہ جہاد میں حصہ لیا تھا۔ پس جب ہم کچھ راستہ طے کرچکے تو لوگوں نے آگ جلائی تاکہ ہاتھ پاؤں گرم کریں یا اس آگ پر کوئی کھانا وغیرہ بنائیں۔ عبد اللہ (امیر قافلہ) کہنے لگے۔ یہ مذاق و ہنسی کرتے تھے۔ کیا تم پر میری بات کا سننا اور ماننا واجب نہیں ہے ؟ لوگوں نے کہا : کیوں نہیں ! تو عبد اللہ نے کہا : پس میں تمہیں جو بھی حکم دوں گا تم اس کی تعمیل کرو گے ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ! عبد اللہ نے کہا : میں تمہں تاکیداً یہ حکم دیتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود جاؤ ۔ راوی کہتے ہیں : کچھ لوگ کھڑے ہوئے اور اس کے لئے تیار ہوگئے۔ پھر جب عبد اللہ کو یقین ہونے لگا کہ یہ لوگ کود جائیں گے تو انہوں نے کہا : تم لوگ ٹھہر جاؤ۔ میں تو تمہارے ساتھ محض مزاح کر رہا تھا۔ پھر جب واپس آئے تو ہم نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ تمہیں، ان (امرائ) میں سے جو گناہ کا حکم دے تو تم اس کی بات نہ مانو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39393
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (١١٦٣٩)، وابن ماجه (٢٨٦٣)، وابن حبان (٤٥٥٨)، وأبو يعلى (١٣٤٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39393، ترقيم محمد عوامة 37787)
حدیث نمبر: 39394
٣٩٣٩٤ - حدثنا علي بن مسهر عن الأجلح عن عبد اللَّه بن أبي الهذيل قال: بعث رسول اللَّه ﷺ خالد بن الوليد إلى العزى، (١) فجعل يضربها بسيفه ويقول: (٢) إني رأيت اللَّه قد أهانك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابی الہذیل کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید کو عُزیٰ کی طرف بھیجا۔ پس حضرت خالد عُزیّٰ کو تلواریں مار رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ اے عُزیّٰ ! تم قابل انکار ہو نہ کہ قابل تقدیس، میں نے دیکھ لیا ہے کہ تجھے اللہ نے رسوا کردیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39394
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عبد اللَّه بن أبي الهذيل تابعي، أخرجه خليفة بن خياط في التاريخ ص ٨٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39394، ترقيم محمد عوامة 37788)
حدیث نمبر: 39395
٣٩٣٩٥ - حدثنا وكيع عن عمرو بن عثمان بن موهب قال: سمعت أبا بردة يقول: كتب رسول اللَّه ﷺ إلى رجل من أهل الكتاب: "أسلم أنت"، قال: فلم يفرغ النبي ﵊ (١) (من كتابه حتى أتاه كتاب من ذلك الرجل أنه يقرأ على النبي ﷺ فيه السلام، فرد النبي ﷺ ﵇ (٢) في أسفل كتابه) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بردہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل کتاب میں سے ایک آدمی کو خط لکھا۔ راوی کہتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ابھی اپنے خط (لکھوانے) سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اسی آدمی کا خط آگیا کہ وہ آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلامتی کی دعا کر رہا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خط کے آخر میں اس کے سلام کا جواب دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39395
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو بردة بن أبي موسى تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39395، ترقيم محمد عوامة 37789)
حدیث نمبر: 39396
٣٩٣٩٦ - حدثنا وكيع عن قرة بن خالد السدوسي عن يزيد بن عبد اللَّه بن الشخير قال: كنا جلوسا بهذا (المربد) (١) بالبصرة، فجاء أعرابي معه قطعة (من) (٢) أديم أو قطعة من جراب فقال: هذا كتاب كتبه لي النبي ﷺ، قال: فأخذته فقرأته على القوم، فإذا فيه: "بسم اللَّه الرحمن الرحيم من محمد رسول اللَّه ﷺ لبني زهير ابن (أقيش) (٣): إنكم (إن) (٤) أقمتم الصلاة وأتيتم الزكاة وأعطيتم من المغانم الخمس وسهم النبي والصفي فأنتم آمنون بأمان اللَّه وأمان رسوله (٥) "، قال: فما سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول شيئا، قال: سمعته يقول: "صوم شهر الصبر وثلاثة أيام من كل شهر يذهبن وحر الصدر" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن عبد اللہ بن شخیر سے روایت ہے کہ ہم بصرہ میں اس باڑے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ تو ایک دیہاتی آیا اس کے پاس چمڑے یا کھال کا ایک ٹکڑا تھا۔ اس آدمی نے کہا۔ یہ وہ خط ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تحریر فرمایا تھا۔ راوی کہتے ہیں ۔ میں نے اس خط کو پکڑا اور لوگوں کو پڑھ کر سنایا۔ اس میں یہ تحریر تھا۔ بسم اللّٰہ الرحمان الرحیم۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) محمد کی طرف سے بنی زہیر بن اقیش کی طرف۔ بلاشبہ اگر تم لوگ نماز کو قائم کرو اور زکوۃ کو ادا کرو اور غنائم میں سے خمس، سہم ال نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حاکم کا منتخب حصہ ادا کرو تو تمہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا امان حاصل ہوگا۔ راوی نے پوچھا۔ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی بات سُنی ہے ؟ اعرابی نے کہا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے سُنا ہے کہ ماہ صبر کے روزے اور ہر ماہ تین دن کے روزے سینہ کے وساوس کو ختم کردیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39396
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٣٠٧٠)، والنسائي ٧/ ١٣٤، وابن سعد ١/ ٢٧٩، وأبو عبيد في الأموال (٣٠)، وابن زنجويه (٨٠)، والطحاوي ٣/ ٣٠٢، وابن قانع ٣/ ١٦٥، والطبراني في الأوسط (٤٩٣٧)، وأبو نعيم في أخبار أصبهان ١/ ٣٠٦، والخطيب في الأسماء المبهمة ص ٣١٥، وابن الأثير ٥/ ٣٥٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39396، ترقيم محمد عوامة 37790)
حدیث نمبر: 39397
٣٩٣٩٧ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن (ابن) (١) إسحاق عن محمد بن جعفر بن الزبير أن رسول اللَّه ﷺ بعث عبد اللَّه بن أنيس إلى خالد بن سفيان قال: فلما دنوت منه، وذلك في وقت العصر، خفت أن يكون دونه محاولة أو مزاولة، فصليت وأنا أمشي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن جعفر بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبد اللہ بن انیس کو خالد بن سفیان کی طرف بھیجا۔ راوی کہتے ہیں۔ پس جب میں ان کے قریب پہنچا۔ اور یہ عصر کا وقت تھا۔ مجھے ڈر ہوا کہ ان سے پہلے ہی کوئی مشغولیت یا آغاز کار ہوجائے تو میں نے چلتے ہوئے نماز پڑھ لی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39397
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ محمد بن جعفر تابعي، أخرجه أحمد (١٦٠٤٨)، وابن خزيمة (٩٨٣)، وابن حبان (٧١٦٠)، وأبو يعلى (٩٠٥)، وأبو داود (١٢٤٩)، وأبو نعيم في الدلائل (٤٤٥)، والبيهقي ٣/ ٢٥٦، وابن هشام في السيرة ٢/ ٦١٩، وابن أبي عصام في الآحاد (٢٠٣١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39397، ترقيم محمد عوامة 37791)
حدیث نمبر: 39398
٣٩٣٩٨ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا إسماعيل عن قيس قال: بعث رسول اللَّه ﷺ عمرا على جيش ذات السلاسل إلى لخم و (جذام) (١) ومسانف الشام، قال: وكان في أصحابه قلة، قال: فقال (لهم) (٢) عمرو: لا يوقدن أحد منكم نارا، فشق ذلك عليهم، فكلموا أبا بكر أن يكلم عمرًا فكلمه فقال: لا يوقد أحد نارا إلا ألقيته فيها، فقابل العدو فظهر عليهم واستباح عسكرهم، فقال (له) (٣) الناس: ألا نتبعهم؟ فقال: لا، إني أخشى أن يكون لهم وراء هذه الجبال مادة يقتطعون (بها) (٤) المسلمين (٥)، (فشكوه) (٦) (إلى) (٧) النبي ﷺ حين رجعوا فقال: "صدقوا يا عمرو"، (قال) (٨): كان ⦗٤١٦⦘ في أصحابي قلة فخشيت أن يرغب العدو في قتلهم، فلما أظهرني اللَّه عليهم قالوا: اتبعهم؟ قلت: أخشى أن (تكون) (٩) لهم وراء هذه الجبال مادة يقتطعون بها المسلمين، قال: (فكان) (١٠) النبي ﷺ حمد أمره (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذات السلاسل کے لشکر کو لخم، جذام اور مسایف شام کی طرف حضرت عمرو کی امارت میں روانہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں۔ ان کے ساتھیوں کی قلت تھی۔ راوی کہتے ہیں ۔ حضرت عمرو نے لوگوں سے کہا۔ تم میں سے کوئی شخص آگ روشن نہ کرے۔ یہ بات لوگوں کو بہت شاق گزری تو لوگوں نے حضرت ابوبکر سے بات کی۔ کہ وہ حضرت عمرو سے بات کریں۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عمرو سے اس کے بارے میں بات کی تو آپ نے فرمایا : جو شخص آگ روشن کرے گا تو میں اس شخص کو اسی آگ میں دھکیل دوں گا۔ پھر حضرت عمرو نے دشمن سے لڑائی کی تو ان پر غلبہ پایا اور ان کے لشکر کی جڑ اکھاڑ ڈالی۔ لوگوں نے پوچھا : کیا ہم دشمن کا پیچھا نہ کریں ؟ حضرت عمرو نے فرمایا : نہیں ! مجھے اس بات کا خوف ہے کہ کہیں اس پہاڑ کے پیچھے ان کی کمک موجود نہ ہو۔ جس کے ذریعہ سے وہ مسلمانوں کو ٹکڑے کردیں ۔ جب لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں واپس لوٹے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت عمرو کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : اے عمرو ! یہ سچ کہہ رہے ہیں ؟ حضرت عمرو نے عرض کیا۔ میرے ساتھیوں کی قلّت تھی۔ مجھے یہ ڈر ہوا کہ دشمن ان میں ان کی قلت کی وجہ سے رغبت کرے گا (اس لئے آگ جلانے سے منع کیا) پس جب اللہ تعالیٰ نے مجھے ان پر غلبہ عطا کیا تو ان لوگوں نے کہا۔ ان کا پیچھا کرو۔ میں نے کہا؛ مجھے یہ خوف ہے کہ اس پہاڑ کی اوٹ میں دشمن کی کمک موجود ہوگی جو مسلمانوں کے ٹکڑے کر دے گی۔ راوی کہتے ہیں ۔ گویا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمرو کی بات کی تعریف فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39398
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ قيس تابعي، وقد ورد الخبر من طريق قيس عن عمرو بن العاص، أخرجه ابن حبان (٤٥٤٠)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٨٠٤)، وابن عساكر ٢/ ٢٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39398، ترقيم محمد عوامة 37792)
حدیث نمبر: 39399
٣٩٣٩٩ - (حدثنا) (١) أبو أسامة قال: حدثنا إسماعيل عن (قيس) (٢) أن النبي ﷺ قال لبلال: "أجهزت الركب -أو الرهط- البجليين؟ "، قال: لا، قال: "فجهزهم وابدأ بالأحمسيين قبل (القسريين) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال سے پوچھا : کیا تم نے سواروں کو یا گروہ کو سامان سفر دے دیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا۔ نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ پھر تم انہیں سامان دو اور پختہ مذہب لوگوں جو جبری لوگوں سے پہلے شروع کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39399
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ قيس تابعي، وأخرجه أحمد في فضائل الصحابة (١٦٦٨)، وقد ورد بنحوه من حديث طارق بن شهاب أخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (٢٥٣٧)، والطبراني (٨٢١١)، والضياء في المختارة ٨/ (١٢٥)، وأحمد في المسند ٤/ ٣١٥ (١٨٨٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39399، ترقيم محمد عوامة 37793)
حدیث نمبر: 39400
٣٩٤٠٠ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: (أخبرنا) (١) إسرائيل عن أبي إسحاق عن الشعبي أن رسول اللَّه ﷺ كتب إلى رِعْية السحيمي بكتاب (٢)، فأخذ كتاب رسول اللَّه ﷺ فرقع به دلوه، فبعث رسول اللَّه ﷺ سرية فأخذوا أهله وماله، وأفلت رعية على فرس له عريانا ليس عليه شيء، فأتى ابنته وكانت متزوجة في بني هلال، قال: وكانوا أسلموا فأسلمت معهم، وكانوا دعوه إلى الإسلام قال: فأتى ابنته ⦗٤١٧⦘ وكان يجلس القوم بفناء بيتها، فأتى البيت من وراء ظهره، فلما رأته ابنته عريانا ألقت عليه ثوبا، قالت: مالك؟ قال: كل الشر، ما تُرك لي أهل ولا مال، قال: أين بعلك؟ قالت: في الإبل، قال: فأتاه فأخبره، قال: خذ راحلتي برحلها ونزودك من اللبن، قال: لا حاجة لي فيه، ولكن أعطني قعود الراعي وإداوة من ماء، فإني أبا در (٣) محمدا (٤) لا يقسم أهلي ومالي، فانطلق وعليه ثوب إذا غطى به رأسه خرجت إسته، وإذا غطى به إسته خرج رأسُه، فانطلق حتى دخل المدينة ليلا، فكان (بحذاء) (٥) رسول اللَّه ﷺ، (فلما صلى رسول اللَّه ﷺ) (٦) الفجر قال له: يا رسول اللَّه ابسط يدك فلأبايعك، فبسط رسول اللَّه ﷺ يده فلما ذهب رعية ليمسح عليها قبضها رسول اللَّه ﷺ، ثم قال (له رعية) (٧): يا رسول اللَّه ابسط يدك (فلأبايعك، قال: فبسط رسول اللَّه ﷺ يده، فلما ذهب ريعه ليمسح عليها) (٨)، قال: ومن أنت؟ قال: رعية السحيمي، قال: فأخذ رسول اللَّه ﷺ بعضده فرفعها، ثم قال: "أيها الناس هذا رعية السحيمي الذي (كتبت) (٩) إليه فأخذ كتابي فرقع به دلوه، فأسلم"، ثم قال: يا رسول اللَّه أهلي ومالي؟ (١٠) فقال رسول اللَّه ﷺ: "أما مالك فقد قُسم بين المسلمين، وأما أهلك فانظر من قدرت عليه منهم"، قال: فخرجت فإذا ابن لي قد عوف الراحلة وإذا هو قائم عندها، فأتيت رسول اللَّه ﷺ فقلت: هذا ابني فأرسل ⦗٤١٨⦘ معي بلالا، فقال: "انطلق معه فسله أبوك هو؟ فإن قال: نعم، فادفعه إليه"، قال: فأتاه بلال فقال: أبوك هو؟ فقال: نعم، فدفعه إليه، قال: فأتى بلال النبي ﷺ فقالوا: واللَّه ما رأيت (وأحدا) (١١) منهما مستعبرا إلى صاحبه فقال رسول اللَّه ﷺ ذلك جفاء (الأعراب) (١٢) (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے روایت ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رعی السحیمی کی طرف ایک خط لکھا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط پکڑا اور اس سے اپنے ڈول کو سی لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا۔ انہوں نے (جا کر) اس کے اہل و عیال اور مال پر قبضہ کرلیا۔ اور رعیہ اپنے ایک گھوڑے پر ننگی حال میں جبکہ اس پر کچھ بھی نہیں تھا سوار ہوا۔ پس یہ اپنی بیٹی کے پاس آیا۔ اور اس کی یہ بیٹی بنی ہلال میں متزوج تھی۔ راوی کہتے ہیں۔ یہ اپنی بیٹی کے پاس آیا۔ اور اس کی بیٹی کے گھر کے صحن میں لوگوں کی مجلس سجتی تھی۔ تو یہ گھر کی پشت کی طرف سے آیا۔ جب اس کو اس کی بیٹی نے عریاں حالت میں دیکھا تو اس نے اس پر کپڑا پھینک دیا۔ اور پوچھا ۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ رعیہ نے جواب دیا۔ مکمل شر واقع ہوگیا ہے۔ میرے لئے میرے اہل اور مال نہیں چھوڑا گیا۔ پھر رعیہ نے پوچھا۔ تیرا شوہر کیا ں ہے ؟ بیٹی نے جواب دیا۔ اونٹوں میں۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر اس کا شوہر آیا اور رعیہ نے اس کو ساری بات بتائی۔ اس نے کہا : یہ میری سواری کجاوہ سمیت لے لو اور میں قوت میں تمہیں دودھ بھی دیتا ہوں ؟ رعیہ نے کہا۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے لیکن تم مجھے ایک جوان اونٹ اور پانی کا برتن دے دو تاکہ میں جلدی سے محمد کے پاس پہنچوں کہ کہیں وہ میرے اہل و عیال اور مال کو تقسیم نہ کر دے۔ پس وہ اس حالت میں وہاں سے چلا کہ اس پر ایک کپڑا تھا۔ جب وہ اس کپڑے سے اپنا سر ڈھانپتا تھا تو اس کی سرین کھل جاتی تھی۔ اور جب وہ اپنی سرین کو ڈھانپتا تھا تو اس کا سر کھل جاتا تھا۔ پس یہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ رات کے وقت یہ مدینہ میں داخل ہوا۔ پھر یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محاذات میں پہنچ گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی نماز پڑھ چکے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا۔ یا رسول اللہ ! اپنا ہاتھ پھیلائیں تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کروں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک پھیلایا۔ پس جب رعیہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک پر اپنا ہاتھ رکھنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو واپس کھینچ لیا۔ رعیہ نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اپنا ہاتھ پھیلائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ تم کون ہو ؟ اس نے جواب دیا۔ رعیۃ السُّحَیمی ہوں۔ راوی کہتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی کلائی سے پکڑ کر اس کی کلائی کو بلند کیا پھر فرمایا : اے لوگو ! یہ رعیۃ السُحیمی ہے جس کی طرف میں نے خط لکھا تو اس نے میرا خط لے کر اس سے اپنا ڈول سی لیا اب اسلام لے آیا ہے۔ پھر رعیہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے اہل و عیال اور میرا مال ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تیرا مال تو مسلمانوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ اور تیرے اہل و عیال۔ پس ان میں سے تو جس پر قادر ہو ان کو دیکھ لو (مل جائیں گے) رعیہ کہتے ہیں۔ میں باہر آیا تو میرا بیٹا جو کہ کجاوہ پہچان چکا تھا۔ وہ کجاوے کے پاس کھڑا ہوا تھا۔ پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کای۔ یہ میرا بیٹا ہے۔ پھر میرے ساتھ حضرت بلال کو بھیجا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کے ساتھ چلے جاؤ اور اس لڑکے سے پوچھو۔ تمہارا والد یہی ہے ؟ پس اگر وہ کہے : ہاں ! تو وہ لڑکا اس کو دے دو ۔ راوی کہتے ہیں ۔ حضرت بلال اس جوان کے پاس آئے اور اس سے پوچھا : تمہارا باپ یہی ہے ؟ نوجوان نے جواب دیا : ہاں ! حضرت بلال نے وہ جوان رعیہ کے حوالہ کردیا۔ راوی کہتے ہیں ۔ حضرت بلال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : بخدا ! میں نے ان دونوں میں سے کسی ایک کو اپنے ساتھی کے دیدار پر روتے ہوئے نہیں دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہی تو اہل دیہات کا اکھڑ پن ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39400
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الشعبي تابعي، أخرجه أحمد (٢٢٤٦٦)، وابن قانع ١/ ٢١٥، والطبراني (٤٦٣٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39400، ترقيم محمد عوامة 37794)