کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو باتیں محدثین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم و سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مقام ہجرت کے بارے میں کہی ہیں اور آنے والوں کے آنے کے بارے میں
حدیث نمبر: 39368
٣٩٣٦٨ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام بن عروة عن أبيه وفاطمة عن أسماء قالت: صنعت سفرة النبي ﷺ في بيت أبي بكر حين أراد أن يهاجر إلى المدينة، قالت: فلم نجد لسفرته ولا لسقائه ما نربطهما به، فقلت لأبي بكر: واللَّه ما أجد شيئا أربط به إلا نطاقي، (قالت: فقال) (٢): شقيه باثنين، فاربطي بواحد السقاء وبالآخر السفرة، فلذلك سُميتُ ذات النطاقين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسمائ بیان فرماتی ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ فرمایا تو میں نے ابوبکر کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے توشہ دان تیار کیا۔ بیان کرتی ہیں کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توشہ دان اور پانی کی مشک کے لئے کوئی چیز نہیں ملی جس سے ہم ان دونوں کو باندھتے۔ میں نے ابوبکر سے کہا : بخدا ! مجھے باندھنے کے لئے کوئی چیز (رسی وغیرہ) نہیں ملتی سوائے اپنے پٹکے کے۔ فرماتی ہیں : سیدنا صدیق اکبر نے فرمایا : اسی (پٹکے) کو دو حصوں میں پھاڑ لو۔ اور ایک کے ذریعہ سے پانی کی مشک کو باندھ دو اور دوسرے سے توشہ دان کو۔ اسی وجہ سے حضرت اسمائ کا نام ذات النطاقین معروف ہوگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39368
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩٧٩)، ومسلم (٢٥٤٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39368، ترقيم محمد عوامة 37763)
حدیث نمبر: 39369
٣٩٣٦٩ - حدثنا أبو أسامة عن بن عون عن عمير بن إسحاق قال: لما خرج رسول اللَّه ﷺ وأبو بكر -يعني إلى المدينة- تبعهما سراقة بن مالك فلما أتاهما قال: هذان فرا من قريش لو رددت على قريش فرها، قال: فعطف فرسه عليهما فساخت الفرس، فقال: ادعو اللَّه أن يخرجها ولا أقرُبكما، قال: (فخرجت) (١) (فعادت) (٢) حتى فعل ذلك مرتين أو ثلاثًا، قال: فكف، ثم قال: هلما إلى الزاد (والحملان) (٣) فقالا: لا نريد ولا حاجة لنا في ذلك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن اسحاق روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر مدینہ کی طرف نکلے تو سراقہ بن مالک بھی ان کے پیچھے ہو لیا ۔ پس جب ان کے پاس آیا تو کہنے لگا۔ یہی دو شخص قریش کو مطلوب ہیں۔ کاش میں قریش کو ان کے مطلوبہ افراد واپس لوٹا دوں۔ راوی کہتے ہیں : اس نے اپنا گھوڑا ان دو حضرات کی طرف دوڑایا تو گھوڑا زمین میں دھنس گیا۔ سراقہ نے کہا۔ آپ دونوں اللہ سے دعا کریں کہ وہ گھوڑے کو باہر نکال دے۔ میں آپ لوگوں کے قریب نہیں آؤں گا۔ راوی کہتے ہیں : پس گھوڑا باہر نکل گیا۔ تو سراقہ نے پھر پہلے والی حرکت کی ۔ حتی کہ یہ دو یا تین مرتبہ ہوا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر سراقہ رُک گیا۔ پھر کہنے لگا۔ آپ آئیں۔ یہ توشہ اور سواری لے لیں۔ انہوں نے جواب دیا۔ ہمارا ارادہ نہیں ہے اور ہمیں اس کی ضرورت بھی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39369
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عمير تابعي، وأخرجه ابن سعد ١/ ٢٣٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39369، ترقيم محمد عوامة 37764)
حدیث نمبر: 39370
٣٩٣٧٠ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: أخبرنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن البراء بن عازب قال: اشترى أبو بكر من (عازب) (١) (رحلا) (٢) بثلاثة عشر ⦗٤٠٠⦘ درهما فقال أبو بكر لعازب: مر البراء فليحمله إلى رحلي، فقال له عازب: (لا) (٣)، حتى (تحدثنا) (٤) كيف صنعت أنت ورسول اللَّه ﷺ حيث خرجتما والمشركون يطلبونكما. قال: رحلنا من مكة فاحيينا ليلتنا ويومنا حتى أظهرنا، وقام قائم الظهيرة فرميت ببصري هل أرى من ظل نأوي إليه، فإذا أنا بصخرة فانتهينا إليها، (فإذا) (٥) بقية ظل لها، فنظرت (بقية) (٦) ظل (لها) (٧) فسويته ثم فرشت لرسول اللَّه ﷺ (فيه) (٨) فروة، ثم قلت: اضطجع يا رسول اللَّه فاضطجع. ثم ذهبت أنقض ما حولي هل أرى من الطلب أحدا، فإذا انا براعي غنم يسوق غنمه إلى الصخرة، يريد منها الذي أريد فسألته فقلت: لمن أنت يا غلام؟ فقال: لرجل من قريش، قال: فسماه فعرفته، فقلت: هل في غنمك من لبن؟ قال: نعم، قلت: هل أنت (٩) (حالب لي) (١٠) قال: نعم. قال: فأمرته فاعتقل شاة من غنمه فأمرته أن ينفض ضرعها من الغبار، ثم أمرته أن ينفض كفيه، فقال: هكذا، فضرب إحدى يديه بالأخرى، فحلب كثبة من لبن، ومعي لرسول اللَّه ﷺ إداوة على فمها خرقة، فصببت على اللبن حتى برد أسفله. ⦗٤٠١⦘ فأتيت رسول اللَّه ﷺ فوافقته قد استيقظ فقلت: اشرب يا رسول اللَّه، فشرب رسول اللَّه ﷺ حتى رضيت. ثم قلت: أنى الرحيل يا رسول اللَّه، فارتحلنا والقوم يطلبوننا، فلم يدركنا أحد منهم غير سراقة بن مالك بن (جعشم) (١١) على فرس له، فقلت: هذا الطلب قد لحقنا يا رسول اللَّه (١٢) وبكيت فقال: "ما يبكيك؟ " فقلت: أما واللَّه ما على نفسي أبكي ولكني أبكي عليك، قال: فدعا عليه رسول اللَّه ﷺ فقال: "اللهم اكفناه بما شئت"، قال: فساخت به فرسه في الأرض إلى بطنها، فوثب عنها ثم قال: يا محمد قد علمت أن هذا عملك، فادع اللَّه أن ينجيني مما أنا فيه، فواللَّه لأُعَمِّينّ على من ورائي من الطلب، وهذه كنانتي فخذ سهما منهما فإنك ستمر على إبلي وغنمي بمكان كذا وكذا فخذ منها حاجتك، فقال رسول اللَّه ﷺ: "لا حاجة لنا في إبلك". وانصرف عن رسول اللَّه ﷺ (ودعا له رسول اللَّه ﷺ) (١٣)، وانطلق راجعا إلى أصحابه، ومضى رسول اللَّه ﷺ وأنا معه حتى قدمنا المدينة ليلا، فتنازعه القوم: أيهم ينزل عليه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إني أنزل الليلة على بني النجار أخوال عبد المطلب، أكرمهم بذلك"، فخرج الناس حتى دخل المدينة، وفي الطريق وعلى البيوت الغلمان والخدم (١٤) جاء محمد (١٥) جاء رسول اللَّه، فلما أصبح انطلق فنزل حيث (أمره) (١٦) (اللَّه) (١٧). ⦗٤٠٢⦘ (١٨) وكان رسول اللَّه ﷺ قد صلى نحو بيت المقدس ستة عشر شهرا أو سبعة عشر شهرا، وكان رسول اللَّه ﷺ يحب أن يوجه نحو الكعبة فأنزل اللَّه: ﴿قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ [البقرة: ١٤٤]، قال: فوُجّه نحو الكعبة، وقال السفهاء من الناس: ﴿مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ [البقرة: ١٤٢]. قال: وصلى مع النبي ﵊ (١٩) رجل ثم خرج بعد ما صلى، فمر على قوم من الأنصار وهم ركوع في صلاة العصر نحو بيت المقدس فقال: هو يشهد أنه صلى مع النبي ﷺ، وأنه قد وُجّه نحو الكعبة، قال: فانحرف القوم حتى وجهوا نحو الكعبة. قال البراء: وكان نزل علينا من المهاجرين مصعب بن عمير أخو بني عبد الدار بن قصي، فقلنا له: ما فعل رسول اللَّه ﷺ؟ (فقال) (٢٠): هو ومكانه وأصحابه على أثري، ثم أتانا (بعده) (٢١) عمرو بن أم مكتوم أخو بني فهر الأعمى، فقلنا له: ما فعل من (وراءك) (٢٢) رسول اللَّه (٢٣) وأصحابه؟ فقال: هم على أثري. ثم أتانا (بعده عمار بن ياسر وسعد بن أبي وقاص وعبد اللَّه بن مسعود وبلال، ثم أتانا) (٢٤) عمر بن الخطاب من بعدهم في عشربن راكبا، ثم أتانا بعدهم ⦗٤٠٣⦘ رسول اللَّه ﷺ وأبو بكر معه، فلم يقدم علينا حتى قرأتُ سورا من سور المفصل، ثم خرجنا حتى نتلقى العير فوجدناهم قد حَذِروا (٢٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر نے حضرت عازب سے ایک سامانِ سفر تیرہ درہموں میں خریدا۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عازب سے کہا۔ آپ براء کو حکم دیں کہ وہ اس کو میرے کجاوہ تک اٹھا کرلے آئے۔ حضرت عازب نے حضرت صدیق اکبر سے کہا۔ نہیں ! یہاں تک کہ آپ ہمیں بتائیں کہ آپ نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا کیا تھا۔ جب آپ لوگ نکلے تھے اور مشرکین تمہیں تلاش کر رہے تھے۔ ٢۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا : ہم نے مکہ سے کوچ کیا تو ہم ایک رات اور دن جاگ کر چلتے رہے یہاں تک کہ ہمیں دوپہر ہوگئی اور زوال کا وقت ہوگیا۔ میں نے نظر دوڑائی کہ کیا مجھے کوئی سایہ دکھائی دیتا ہے جس کی طرف ہم ٹھکانہ پکڑیں تو اچانک مجھے ایک چٹان دکھائی دی پس ہم اس کی طرف پہنچے ۔ اس کا کچھ سایہ باقی تھا۔ میں نے اس کے بقیہ سایہ کو دیکھا اور اس (کی جگہ) کو درست کیا پھر میں نے اس سایہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے چمڑا بچھایا۔ پھر میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! لیٹ جائیے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیٹ گئے۔ پھر میں نے اپنے ارد گرد میں دیکھ بھال شروع کردی کہ کیا مجھے کوئی متلاشی دکھائی دیتا ہے تو اچانک مجھے ایک چرواہا دکھائی دیا جو اپنی بکریوں کو اسی چٹان کی طرف ہانک رہا تھا۔ اس کا چٹان سے وہی مقصد تھا جو میرا مقصود تھا۔ میں نے اس سے پوچھا : میں نے کہا : اے لڑکے ! تم کس کے ہو ؟ اس نے جواب دیا۔ قریش کے ایک آدمی کا۔ ابوبکر فرماتے ہیں۔ اس غلام نے آدمی کا نام لیا تو میں اس کو پہچان گیا۔ ٣۔ میں نے پوچھا : کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے ؟ اس نے جواب دیا : ہاں ! میں نے کہا : کیا تم میرے لئے دودھ نکال دو گے ؟ اس نے کہا : ہاں ! حضرت ابوبکر کہتے ہیں : میں نے اس کو حکم دیا تو اس نے ایک بکری اپنی بکریوں میں سے قابو کرلی۔ پھر میں نے اس کو بکری کے تھنوں سے غبار جھاڑنے کا حکم دیا۔ پھر میں نے اس کو حکم دیا کہ وہ اپنی ہتھیلیوں کو جھاڑے ۔ اس نے کہا : یوں ؟ پھر اس نے اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے کو مارا پھر اس نے تھوڑا سا دودھ دوہا۔ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے پانی کا ایک برتن تھا جس کے منہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا۔ میں نے دودھ پر بہا دیا یہاں تک کہ وہ نیچے سے ٹھنڈا ہوگیا۔ پھر میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوچکے تھے۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! نوش فرمائیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرمایا یہاں تک کہ میں خوش ہوگیا۔ ٤۔ پھر میں نے عرض کیا۔ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا ! کوچ کرنے کا وقت آگیا ہے۔ پھر ہم نے کوچ کیا حالانکہ لوگ ہماری تلاش میں تھے۔ ان لوگوں میں سے سراقہ بن مالک بن جعشم کے سوا ہمیں کسی نے نہیں پایا۔ وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھا۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ متلاشی ہم تک پہنچ گیا ہے۔ اور میں (یہ کہہ کر) رو پڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہیں کیا بات رلا رہی ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ بخدا ! میں اپنی جان (کے خوف سے) نہیں رو رہا لیکن مجھے آپ (کی جان) پر رونا آ رہا ہے۔ ابوبکر فرماتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سراقہ کے لئے بد دعا فرمائی اور کہا۔ اے اللہ ! تو اس کو ہماری طرف سے جس طرح تو چاہے ۔ کافی ہوجا۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں۔ پس سراقہ کا گھوڑا پیٹ تک زمین میں دھنس گیا ۔ سراقہ نے گھوڑے سے چھلانگ لگائی ۔ پھر اس نے کہا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے معلوم ہے کہ یہ آپ ہی کا کام ہے۔ پس آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے اس مصیبت سے نجات دے دے۔ بخدا ! میں اپنے پچھلے متلاشیوں پر (اس بات کو) ضرور پوشیدہ رکھوں گا۔ اور یہ میرا ترکش ہے آپ اس میں سے تیر لے لیں۔ اور آپ عنقریب فلاں جگہ پر میرے اونٹ اور بکریوں پر سے گزریں گے آپ ان میں سے بھی اپنی ضرورت کا لے لیجئے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہمیں تیرے اونٹوں کی ضرورت نہیں ۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے واپس مڑا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لئے دعا فرمائی۔ سراقہ واپس اپنے ساتھیوں میں چلا گیا۔ ٥۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے رہے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ یہاں تک کہ ہم رات کے وقت مدینہ میں پہنچے۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں جھگڑا شروع کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس کے گھر میں اتریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آج کی رات میں بنی نجار میں اتروں گا جو کہ عبد المطلب کے ماموں ہ
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39370
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٦١٥)، ومسلم (٢٠٠٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39370، ترقيم محمد عوامة 37765)
حدیث نمبر: 39371
٣٩٣٧١ - حدثنا عفان قال: حدثنا شعبة عن أبي إسحاق قال: سمعت البراء يقول: أول من قدم علينا من أصحاب رسول اللَّه ﷺ مصعب بن عمير وابن أم مكتوم، فجعلا يقرئان الناس القرآن، ثم جاء عمار وبلال وسعد، ثم جاء عمر بن الخطاب في عشرين راكبا، ثم جاء رسول اللَّه ﷺ، (قال) (١): فما رأيت أهل المدينة فرحوا بشيء قط فرحهم به، قال: فما قدم حتى قرأت: ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ في (سور) (٢) من المفصل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت براء کو کہتے سُنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس مصعب بن عمیر اور ابن ام مکتوم تشریف لائے اور ان دونوں نے لوگوں کو قرآن پڑھانا شروع کیا۔ پھر حضرت عمار ، بلال اور سعد تشریف لائے پھر حضرت عمر بن خطاب بیس سواروں کی جمعیت میں تشریف لائے۔ پھر رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے۔ راوی کہتے ہیں۔ میں نے اہل مدینہ کو اس بات سے زیادہ کسی چیز پر فرحاں و شاداں نہیں دیکھا۔ براء کہتے ہیں ۔ (ابھی) کوئی ایک بھی صحابی نہیں آیا تھا اور میں نے { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی } مفصل سورتوں میں پڑھ لی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39371
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٩٤١)، وأحمد (١٨٥١٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39371، ترقيم محمد عوامة 37766)
حدیث نمبر: 39372
٣٩٣٧٢ - حدثنا أسود بن عامر قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن الحسن (أن) (١) سراقة بن مالك (المدلجي) (٢) حدثهم أن قريشا جعلت في رسول اللَّه ﷺ وأبي بكر أربعين أوقية، قال: فبينما أنا جالس إذ جاءني رجل فقال: إن الرجلين اللذين جعلت ((قريش) (٣) فيهما) (٤) ما جعلتْ قريبٌ منك؛ بمكان كذا وكذا، فأتيت فرسي وهو في (الرعي) (٥) فنفرت به ثم أخذت رمحي، قال: فركبته، قال: فجعلت أجر الرمح مخافة أن يشركني فيهما أهل الماء قال: فلما رأيتهما قال أبو بكر: هذا باغ ⦗٤٠٤⦘ يبغينا، فالتفت إلي النبي ﷺ فقال: "اللهم اكفناه بما شئت"، قال: قال (فوحل) (٦) فرسي وإني لفي جلد من الأرض، فوقعت على حجر (فانقلبت) (٧)، فقلت: ادع الذي فعل بفرسي ما أرى أن (يخلصه) (٨)، وعاهده أن لا يعصيه، قال: فدعا له، فخُلّص الفرس، فقال رسول اللَّه ﷺ: " (أواهبه) (٩) أنت لي؟ " فقلت: نعم، فقال: (فهاهنا) (١٠) قال (١١): (فعمّ) (١٢) عنا الناس، وأخذ رسول اللَّه ﷺ طريق الساحل مما يلي البحر، قال: فكنت أول النهار لهم طالبا وآخر النهار لهم مسلحة، وقال لي: "إذا استقررنا بالمدينة فإن رأيت أن تأتينا فأتنا"، قال: فلما قدم المدينة وظهر على أهل بدر وأحد وأسلم الناس ومن حولهم، قال (سراقة) (١٣): بلغني (أنه) (١٤) يريد أن يبعث خالد بن الوليد إلى بني مدلج، قال: فأتيته فقلت له: أنشدك النعمة، فقال القوم: مه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "دعوه"، فقال رسول اللَّه ﷺ: "ما تريد؟ " فقلت: بلغني أنك تريد أن تبعث خالد بن الوليد إلى قومي، فأنا أحب أن توادعهم، فإن أسلم قومهم أسلموا معهم، وإن لم يسلموا لم تخشن صدور قومهم عليهم، فأخذ رسول اللَّه ﷺ بيد خالد بن الوليد فقال له: "اذهب معه فاصنع ما أراد"، فذهب إلى بني مدلج، فأخذوا عليهم أن لا يعينوا على رسول اللَّه ﷺ، فإن أسلمت قريش أسلموا معهم فأنزل اللَّه: ﴿وَدُّوا ⦗٤٠٥⦘ لَوْ تَكْفُرُونَ (كَمَا كَفَرُوا) (١٥)﴾ حتى بلغ: ﴿إِلَّا الَّذِينَ يَصِلُونَ إِلَى قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ أَوْ جَاءُوكُمْ حَصِرَتْ صُدُورُهُمْ أَنْ يُقَاتِلُوكُمْ أَوْ يُقَاتِلُوا قَوْمَهُمْ (١٦) وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَيْكُمْ فَلَقَاتَلُوكُمْ﴾ [النساء: ٨٩، ٩٠] (١٧).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے کہ سراقہ بن مالک المدلجی نے لوگوں کو بیان کیا کہ قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر کے متعلق چالیس اوقیہ مقرر فرمائی ۔ کہتے ہیں ۔ میں بیٹھا ہوا تھا کہ اس دوران ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے کہا۔ وہ آدمی جن کے بارے میں قریش نے اپنا اعلانِ (انعام) کیا ہے ۔ تمہارے قریب ہیں۔ فلاں جگہ پر، کہتے ہیں ۔ میں اپنے گھوڑے کے پاس آیا اور گھوڑا چَر رہا تھا۔ میں اس کو لے کر دوڑا پھر میں نے اپنے نیزے کو پکڑا۔ کہتے ہیں : میں اس پر سوار ہوگیا۔ اور میں نے اس ڈر سے نیزے کو کھینچنا شروع کیا کہ کہیں ان دونوں کے بارے میں میرے ساتھ کوئی شریک نہ ہوجائے۔ فرماتے ہیں۔ پس جب میں نے ان دونوں کو دیکھ لیا تو حضرت ابوبکر نے فرمایا : یہ متلاشی ہے جو ہیں ہ تلاش کر رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے اللہ ! جس طرح تو چاہتا ہے اس کو ہمارے طرف سے کافی ہوجا۔ سراقہ کہتے ہیں۔ میرا گھوڑا زمین میں دھنس گیا حالانکہ میں سخت زمین میں تھا۔ اور میں ایک پتھر پر گرا اور پلٹی کھائی تو میں نے عرض کیا۔ آپ اس ہستی سے دعا کریں جس نے میرے گھوڑے کے ساتھ جو کیا ہے میں اس کو دیکھ رہا ہوں۔ کہ وہ اس کو یہاں سے نکال دے۔ کہتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سراقہ کے لئے دُعا کی تو گھوڑا باہر آگیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم یہ مجھے ہدیہ کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا۔ جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پس یہاں ہی رہو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لوگوں سے ہماری حالت کو مخفی رکھنا۔ ٢۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سمندر کے ساتھ ساحل کا راستہ پکڑ لیا۔ کہتے ہیں ۔ میں دن کے آغاز میں ان کا متلاشی تھا اور دن کے آخر میں ان کا محافظ تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا : جب ہم مدینہ کو اپنا سفر بنالیں تو اگر تمہاری رائے ہو تو ہمارے پاس آنا۔ سراقہ کہتے ہیں ۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اور اہل بدر، اہل احد پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غلبہ حاصل ہوا۔ لوگ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد والوں نے اسلام قبول کرلیا۔ سراقہ کہتے ہیں۔ مجھے یہ بات پہنچی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنی مدلج کی طرف حضرت خالد بن الولید کو بھیجنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا۔ میں آپ کو انعام (کا وعدہ) یاد دلاتا ہوں لوگ کہنے لگے۔ رک جاؤ ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کو چھوڑ دو ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہارا کیا ارادہ ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ میری قوم کی طرف خالد بن ولید کو بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اور مجھے یہ بات محبوب ہے کہ آپ ان کے ساتھ عہد و پیمان کرلیں۔ پھر اگر ان کی قوم ایمان لے آئی تو وہ بھی ایمان لے آئیں گے۔ اور اگر ان کی قوم ایمان نہ لائی تو پھر ان پر ان کی قوم کے دل سخت نہیں ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید کا ہاتھ پکڑا اور ان سے فرمایا : اس کے ساتھ جاؤ اور جو یہ چاہتا ہے وہی معاملہ کرو۔ ٣۔ پس حضرت خالد بن ولید بنی مدلج کی طرف تشریف لے گئے اور ان سے یہ پیمان لیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف مدد نہیں کریں گے۔ اگر قریش اسلام لے آئے تو وہ بھی ان کے ساتھ اسلام لے آئیں گے۔ (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں۔ { وَدُّوا لَوْ تَکْفُرُونَ کَمَا کَفَرُوا …حَتَّی بَلَغَ … إِلاَّ الَّذِینَ یَصِلُونَ إِلَی قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِیثَاقٌ ، أَوْ جَاؤُوکُمْ حَصِرَتْ صُدُورُہُمْ أَنْ یُقَاتِلُوکُمْ ، أَوْ یُقَاتِلُوا قَوْمَہُمْ ، وَلَوْ شَائَ اللَّہُ لَسَلَّطَہُمْ عَلَیْکُمْ فَلَقَاتَلُوکُمْ }۔ حسن فرماتے ہیں ۔ وہ لوگ جن کے بارے میں حصرت صدورھم کہا گیا وہ بنو مدلج ہیں۔ جو شخص بنی مدلج کے پاس پہنچ گیا سو وہ بھی ان کے جیسے معاہدہ میں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39372
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ علي بن زيد ضعيف، وأهل الحديث على أن الحسن لم يسمع من سراقة، وأخرجه البخاري (٣٩٠٦)، وأحمد (١٧٥٩١) من حديث عبد الرحمن بن مالك المدلجي عن أبيه عن أخيه سراقة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39372، ترقيم محمد عوامة 37767)
حدیث نمبر: 39373
٣٩٣٧٣ - قال الحسن: فالذين حصرت صدورهم بنو مدلج، فمن وصل إلى بني مدلج من غيرهم كان في مثل عهدهم.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39373
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39373، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 39374
٣٩٣٧٤ - حدثنا عفان قال: حدثنا همام قال: أخبرنا ثابت عن أنس أن أبا بكر حدثه قال: قلت للنبي ﷺ ونحن في الغار: لو أن أحدهم ينظر إلى قدميه لأبصرنا تحت قدميه قال: "يا أبا بكر، ما ظنك باثنين اللَّه ثالثهما" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر نے ان سے بیان کیا کہ جب ہم غار میں تھے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا۔ اگر ان لوگوں میں سے کوئی بھی اپنے قدموں کی طرف نظر کرے تو البتہ ہمیں اپنے قدموں کے نیچے پالے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابوبکر ! تیرا ان دو آدمیوں کے بارے میں کیا گمان ہے جن کا تیسرا خدا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39374
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣١٥٣)، ومسلم (٢٣٨١)، وأحمد (١١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39374، ترقيم محمد عوامة 37768)
حدیث نمبر: 39375
٣٩٣٧٥ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام عن أبيه أن عبد اللَّه بن أبي بكر كان الذي يختلف بالطعام إلى النبي ﷺ وأبي بكر وهما في الغار (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن ابوبکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر کے پاس کھانا لے کر جایا کرتے تھے جبکہ وہ دونوں غار میں تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39375
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عروة تابعي، وأخرجه الحاكم ٣/ ٤٧٧، وابن سعد ٣/ ١٧٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39375، ترقيم محمد عوامة 37769)
حدیث نمبر: 39376
٣٩٣٧٦ - حدثنا شبابة عن ورقاء عن ابن أبي نجيح عن مجاهد في قوله: ﴿إِلَّا (تَنْصُرُوهُ) (١)﴾ [التوبة: ٤٠]، ثم ذكر ما كان من أول شأنه حين بعث يقول. فاللَّه فاعل ذلك به ناصره كما نصره ثاني اثنين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے {إِلاَّ تَنْصُرُوہُ } کی تفسیر کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اول وقت کی حالت کا ذکر فرمایا۔ اور کہا : اللہ پاک ان کی مدد کرے گا۔ اللہ اس کا مددگار ہے جس طرح دو میں سے دوسرے نے اس کی مدد کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39376
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ مجاهد تابعي، أخرجه ابن أبي حاتم في التفسير ٦/ ١٧٩٨ (١٠٠٣٦)، وابن جرير ١٠/ ١٣٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39376، ترقيم محمد عوامة 37770)
حدیث نمبر: 39377
٣٩٣٧٧ - حدثنا وكيع عن شريك عن إبراهيم بن مهاجر عن مجاهد قال: مكث أبو بكر مع النبي ﷺ في الغار (ثلاثًا) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے منقول ہے کہ حضرت ابوبکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ غار میں تین (دن) ٹھہرے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39377
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ مجاهد تابعي، وأخرجه ابن جرير ١٠/ ١٣٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39377، ترقيم محمد عوامة 37771)
حدیث نمبر: 39378
٣٩٣٧٨ - حدثنا وكيع عن نافع بن عمر عن رجل عن أبي بكر أنهما لما انتهيا (إلى الغار) (١) قال: إذا (جحر) (٢) قال: فألقمه أبو بكر (٣) رجله فقال: يا رسول اللَّه إن كانت لدغة أو لسعة كانت بي (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر سے روایت ہے کہ جب یہ دونوں ( نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ابوبکر ) غار کے پاس پہنچے۔ فرماتے ہیں : وہاں پر سوراخ تھے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابوبکر نے اس سوراخ میں اپنی ایڑی کو داخل کرلیا۔ اور فرمایا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اگر کوئی ڈسنے یا ڈنک مارنے والا ہو تو مجھے ملے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39378
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39378، ترقيم محمد عوامة 37772)
حدیث نمبر: 39379
٣٩٣٧٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسرائيل عن (سماك) (١) عن (سعيد) (٢) بن جبير عن ابن عباس: ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾ [آل عمران: ١١٠] قال: هم الذين هاجروا مع محمد ﷺ إلى المدينة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما { کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ مدینہ کی طرف ہجرت کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39379
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سماك صدوق، أخرجه عبد الرزاق في التفسير ١/ ١٣٠، وأحمد (٤٦٣)، وابن جرير في التفسير ٤/ ٤٣، والنسائي (١١٠٧٢)، والحاكم ٢/ ٢٩٤، والضياء في المختارة ١٠/ (١٨٣)، والطبراني (١٢٣٠٣)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٣٩)، والحارث (٧٠٧/ بغية)، والصيداوي في معجم الشيوخ (٨٤)، وابن عساكر ٢٥/ ٣٢٦، والخطيب في الموضح ٢/ ٤٤١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39379، ترقيم محمد عوامة 37773)
حدیث نمبر: 39380
٣٩٣٨٠ - حدثنا وكيع عن موسى بن عُليّ بن رباح عن أبيه قال: سمعت مسلمة بن مخلد يقول: ولدت حين قدم النبي ﷺ وقبض وأنا ابن (عشر) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلمہ بن مخلَّد فرماتے ہیں ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میری ولادت ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو میں دس سال کا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39380
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (٢٨٦٥)، والطبراني ١٩ (١٠٦٠)، وأبو يعلى في الكبير كما في المطالب (٤٠٩٣)، وابن عساكر ٥٨/ ٦٠، والخطيب في الكفاية ص ٥٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39380، ترقيم محمد عوامة 37774)
حدیث نمبر: 39381
٣٩٣٨١ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري سمع أنسا يقول قدم رسول اللَّه ﷺ المدينة وأنا ابن عشر، وقبض وأنا ابن عشرين، وكن أمهاتي يحتثنني على خدمته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو میں دس سال کا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو میں بیس سال کا تھا اور میری مائیں مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39381
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٠٢٩)، وأحمد ٣/ ١١٠، وبنحوه البخاري (٥١٦٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39381، ترقيم محمد عوامة 37775)
حدیث نمبر: 39382
٣٩٣٨٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ لما هاجر إلى المدينة هو وأبو بكر وعامر بن فهيرة قال: استقبلتهم هدية طلحة إلى أبي بكر في الطريق فيها ثياب بيض فدخل رسول اللَّه ﷺ وأبو بكر فيها المدينة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت ابوبکر صدیق اور عامر بن فہیرہ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ کہتے ہیں : تو حضرت طلحہ کا ہدیہ راستہ میں حضرت ابوبکر کو ملا جس میں سفید کپڑے تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر ان کپڑوں میں مدینہ میں داخل ہوئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39382
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عروة تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39382، ترقيم محمد عوامة 37776)
حدیث نمبر: 39383
٣٩٣٨٣ - حدثنا خالد بن مخلد عن علي بن مسهر عن هشام بن عروة عن أبيه عن أسماء ابنة أبي بكر أنها هاجرت إلى رسول اللَّه ﷺ وهي حبلى بعبد اللَّه بن الزبير، فوضعته بقُباء فلم ترضعه حتى أتت به النبي ﷺ، فأخذه فوضعه في حجره فطلبوا تمرة ليحنكوه حتى وجدوها فحنكوه، فكان أولَ شيء دخل بطنه (ريقُ) (١) رسول اللَّه ﷺ وسماه عبد اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسما بنت ابی بکر روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اس حالت میں ہجرت کی کہ وہ عبد اللہ بن زبیر کو حمل میں اٹھائے ہوئے تھی۔ پس قباء کے مقام پر یہ حمل وضع ہوا۔ تو انہوں نے نومولود کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچنے تک دودھ پلایا، یہاں تک کہ اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پکڑا اور اسے اپنی گود مبارک میں رکھا۔ لوگوں نے کھجور کی تلاش شروع کی۔ تاکہ اس کو تحنیک دے سکیں۔ پس سب سے پہلی شئی جو ان کے پیٹ میں داخل ہوئی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تھوک تھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نام عبد اللہ رکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39383
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ خالد صدوق، والخبر أخرجه البخاري (٣٩٠٩)، ومسلم (٢١٤٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39383، ترقيم محمد عوامة 37777)
حدیث نمبر: 39384
٣٩٣٨٤ - حدثنا جعفر بن عون عن أبي العميس عن الحسن بن سعد عن عبد الرحمن بن عبد اللَّه قال: قال عبد اللَّه: إن أول من هاجر من هذه الأمة (غلامان) (١) من قريش (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمان بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں۔ اس امت میں سب سے پہلے ہجرت کرنے والے دو قریشی نوجوان تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39384
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ سمع عبد الرحمن من أبيه على الصحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39384، ترقيم محمد عوامة 37778)
حدیث نمبر: 39385
٣٩٣٨٥ - حدثنا أبو أسامة عن أبي هلال عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: قلت له: ما فرق ما بين المهاجرين الأولين والآخرين؟ قال: فرق ما بينهما القبلتان، فمن صلى مع رسول اللَّه ﷺ القبلتين فهو من المهاجرين الأولين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ، سعید بن مسیب کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا : پہلے مہاجرین اور بعد کے مہاجرین میں حدِ فاصل کیا بات ہے ؟ انہوں نے جواب دیا۔ ان دونوں کے درمیان حدِ فاصل دو قبلے ہیں۔ پس جس آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ دونوں قبلوں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی تو وہ مہاجرین اولین میں سے ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39385
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39385، ترقيم محمد عوامة 37779)
حدیث نمبر: 39386
٣٩٣٨٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا ثابت عن أنس أن أبا بكر كان رديف النبي ﷺ من مكة إلى المدينة، وكان أبو بكر يختلف إلى الشام، فكان يعرف وكان النبي ﵊ لا يعرف، فكانوا يقولون: يا أبا بكر من هذا الغلام بيهت يديك؟ قال: (هاد) (١) يهديني السبيل، قال: فلما دنوا من المدينة نزلا الحرة و (بعثا) (٢) إلى الأنصار فجاؤوا، قال: فشهدته يوم دخل المدينة فما رأيت يوما كان أحسن ولا أضوأ من يوم دخل علينا فيه، وشهدت يوم مات فما رأيت يوما كان أقبح ولا أظلم من يوم مات فيه ﷺ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر ، مکہ سے لے کر مدینہ تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ردیف تھے۔ اور حضرت ابوبکر شام کی طرف آیا جایا کرتے تھے۔ تو آپ پہچانے جاتے تھے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہچانے نہیں جاتے تھے۔ تو لوگ پوچھتے تھے۔ اے ابوبکر ! آپ کے آگے یہ نوجوان کون ہیں ؟ حضرت ابوبکر فرماتے ۔ یہ رہبر ہیں مجھے راستہ دکھاتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ پس جب دونوں مدینہ کے قریب پہنچے۔ دونوں حرہ میں اترے۔ انصار کی طرف کسی کو بھیجا گیا تو وہ بھی تشریف لے آئے۔ حضرت انس کہتے ہیں۔ میں نے اس دن میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں داخل ہوئے تھے۔ تو میں نے کوئی دن اس دن سے زیادہ خوبصورت اور روشن نہیں دیکھا جس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے۔ اور پھر جس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی میں تب بھی حاضر تھا تو میں نے کوئی دن اس دن سے زیادہ بُرا اور اندھیرے والا نہیں دیکھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39386
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٤٠٦٣)، وأخرج بعضه ابن ماجه (١٦٣١)، والترمذي (٣٦١٨)، وابن حبان (٦٦٣٤)، والحاكم ٣/ ٥٧، والدارمي (٨٨)، وأبو يعلى (٣٢٩٦)، والبغوي (٣٨٣٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39386، ترقيم محمد عوامة 37780)