حدیث نمبر: 39367
٣٩٣٦٧ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا الفضل بن دكين قال: (حدثنا) (٢) يونس بن أبي إسحاق عن المغيرة بن (شبيل) (٣) بن عوف عن جرير بن عبد اللَّه قال: لما أن دنوت من المدينة أنخت راحلتي ثم حللت (عيبتي) (٤) ولبست حلتي، فدخلت ورسول اللَّه ﷺ يخطب (فسلمت على النبي ﷺ) (٥)، فرماني الناس بالحَدَق، قال: فقلت لجليس لي: يا عبد اللَّه هل ذكر رسول اللَّه ﷺ من أمري شيئا؟ قال: نعم، ذكرك بأحسن الذكر، قال: بينما رسول اللَّه ﷺ يخطب إذ عرض له في خطبته فقال: "إنه سيدخل عليكم من هذا الفج أو من هذا الباب من خير ذي يمن، إلا وإن على وجهه مسحة ملك"، قال جرير: فحمدت اللَّه على ما أبلاني (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریربن عبد اللہ سے روایت ہے : فرماتے ہیں : جب میں مدینہ کے قریب آیا تو میں نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھر میں نے اپنا معمولی لباس اتارا اور اپنی عمدہ پوشاک پہنی اور میں اندر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا۔ تو لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کردیا۔ فرماتے ہیں : میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا : اے اللہ کے بندے ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے معاملہ میں کسی بات کا ذکر فرمایا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہارا بہت اچھا ذکر کیا ہے۔ فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اس دوران ارشاد فرمایا : بلاشبہ عنقریب تم پر اس طرف سے ، یا فرمایا : اس دروازہ سے یمن والوں میں بہترین شخص داخل ہوگا۔ خبردار ! اس کے چہرے پر شاہی اثرات ہوں گے۔ حضرت جریر فرماتے ہیں۔ پس میں نے اللہ کی تعریف کی اس بات پر جس کے ساتھ اللہ نے آزمایا۔