حدیث نمبر: 39366
٣٩٣٦٦ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا (حسين) (٢) بن محمد قال: (أخبرنا) (٣) جرير بن حازم عن محمد بن سيرين عن أبي عبيدة بن حذيفة أن رجلا قال: قلت أسأل عن حديث (٤) عدي بن حاتم وأنا في ناحية الكوفة، فأكون أنا الذي أسمعه منه، فأتيته فقلت: أتعرفني؟ قال: نعم، أنت فلان بن فلان وسماه باسمه، (قلت) (٥): حدثني قال: بُعث النبي ﵊ (٦) فكرهتُه أشد ما كرهت شيئا قط فانطلقت حتى أنزل أقصى (أهل) (٧) العرب مما (يلي) (٨) الروم، ⦗٣٩٧⦘ فكرهت مكاني أشد مما كرهت (مكاني) (٩) الأول، فقلت: لآتين هذا الرجل فإن كان كاذبا لا يضرني، وإن كان صادقا لا يخفى عليَّ، فقدمت المدينة فاستشرفني الناس وقالوا: جاء عدي بن حاتم فقال: النبي ﷺ: "يا عدي بن حاتم أسلم تسلم"، قلت: إني من أهل دين، قال: "أنا أعلم بدينك منك"، قال: قلت: أنت أعلم بديني مني؟ قال: "نعم، أنا أعلم بدينك منك"، قلت: أنت أعلم بديني مني؟ قال: "نعم"، (قال) (١٠): "ألست ركوسيا؟ " قلت: بلى، قال: "أولست (ترأس) (١١) قومك؟ " قلت: بلى، قال: "أو لست تأخذ المرباع"، قلت: بلى، قال: "ذلك لا يحل (لك) (١٢) في دينك"، قال: فتواضعت من نفسي، قال: "يا عدي بن حاتم أسلم تسلم، فإني ما أظن أو أحسب أنه يمنعك من أن تسلم إلا خَصَاصةُ من ترى حولي، وإنك ترى الناس علينا إلبا واحدا ويدا واحدة، فهل أتيت الحيرة"، قلت: لا، وقد علمتُ مكانَها، قال: "يوشك الظعينة أن (ترحل) (١٣) من الحيرة حتى تطوف بالبيت بغير جوار، (ولتفتحن) (١٤) عليكم كنوز كسرى بن هرمز (١٥) "، قالها ثلاثًا، يوشك أن يُهِمّ الرجل من يقبل صدقته، (فلقد) (١٦). رأيت الظعينة تخرج من الحيرة تطوف بالبيت بغير جوار، ولقد كنت في أول خيل أغارت على المدائن، (ولتجيء) (١٧) الثالثة إنه ⦗٣٩٨⦘ لقول رسول اللَّه ﷺ (قاله لي) (١٨) (١٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ بن حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی کہتا ہے۔ میں نے کہا میں عدی بن حاتم کی خبر کے بارے میں پوچھتا ہوں اور میں کوفہ کی ایک بستی میں تھا تاکہ میں اس بات کو خود ان سے سننے والا ہو جاؤں۔ پس میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کاس۔ کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں ؟ انہوں نے جواب میں کہا : ہاں ! تم فلاں بن فلاں ہو۔ اور نام لے کر بتایا۔ میں نے کہا : آپ مجھے بات بیان کریں۔ انہوں نے فرمایا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو مجھے یہ بات اس قدر ناپسند گزری کہ جتنا میں نے کسی چیز کو (کبھی) ناپسند کیا تھا۔ پس میں چل دیا۔ یہاں تک کہ میں اہل عرب کے آخری حصہ پر، جو روم سے ملحق ہے، جا کر اترا۔ پھر مجھے اپنی وہ جگہ پہلی جگہ سے بھی زیادہ ناپسند ہوگئی۔ تو میں نے کہا : میں ضرور بالضرور اس آدمی کے پاس جاؤں گا۔ پس اگر وہ جھوٹا ہے تو وہ مجھے نقصان نہیں پہنچا پائے گا۔ اور اگر وہ سچا ہے تو پھر مجھ پر واضح ہوجائے گا۔ ٢۔ پس میں مدینہ میں حاضر ہوا۔ لوگوں نے میری طرف اہتمام سے دیکھا اور کہنے لگے۔ عدی بن حاتم آگیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عدی ! اسلام لے آؤ ، سلامتی پا جاؤ گے۔ میں نے عرض کیا۔ میں بھی ایک دین والا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں تیرے دین کا تجھ سے زیادہ عالم ہوں۔ فرماتے ہیں : میں نے کہا : آپ میرے دین کے مجھ سے (بھی) زیادہ جاننے والے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! میں تیرے دین کا تجھ سے زیادہ جاننے والا ہوں۔ میں نے (دوبارہ) عرض کیا۔ آپ میرے دین کے مجھ سے بھی زیادہ جاننے والے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! (پھر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم رکوسی (عیسائیت اور صائبیت کے مابین مذہب) نہیں ہو ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اپنی قوم کے سردار نہیں ہو ؟ میں نے کہا۔ کیوں نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم ایک ربع نہیں وصول کرتے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ تمہارے دین میں تمہارے لئے حلال نہیں ہے۔ عدی کہتے ہیں : میں اندر ہی اندر خود کو گھٹیا سمجھتا رہا۔ ٣۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عدی بن حاتم ! اسلام لے آؤ سلامتی پا جاؤ گے۔ میرا خیال یا میرا گمان یہی ہے کہ تمہیں اسلام لانے سے صرف یہ بات مانع ہے کہ تم میرے ارد گرد فقراء کو دیکھ رہے ہو۔ اور تم ہمارے خلاف لوگوں کو متحد اور متفق پاتے ہو۔ کیا تم حیرہ میں گئے ہو ؟ میں نے عرض کیا : نہیں ! لیکن مجھے اس کی جگہ معلوم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قریب ہے وہ وقت کہ ایک مسار عورت حیرہ سے بغیر کسی ہمسفر کے روانہ ہو کر بیت اللہ کا طواف کرے گی۔ اور البتہ ضرور بالضرور تم پر کسریٰ بن ہرمز کے خزانے کھول دیئے جائیں گے۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ دہرائی۔ قریب ہے وہ وقت کہ آدمی ایسے شخص کو ڈھونڈے گا جو اس کی زکوۃ قبول کرلے گا۔ ٤۔ پس تحقیق میں (عدی) نے مسافر عورت کو دیکھا کہ وہ ہمسفر کے بغیر حیرہ سے نکل کر بیت اللہ کا طواف کرنے کو آئی۔ اور تحقیق میں مدائن پر لشکر کشی کرنے والے گھڑ سواروں میں تھا۔ اور البتہ تیری بات کا وقت (بھی) آجائے گا۔ کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ارشاد فرمائی تھی۔