حدیث نمبر: 39365
٣٩٣٦٥ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا (عبيد اللَّه) (٢) بن موسى قال: (أخبرنا) (٣) إسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي قرة الكندي عن سلمان قال: كنت ⦗٣٩٣⦘ من أبناء (أساورة) (٤) فارس وكنت في كُتّاب ومعي غلامان، وكانا إذا رجعا من (عند) (٥) معلمهما أتيا (قسا) (٦) (فدخلا) (٧) (عليه) (٨) (فدخلت) (٩) (معهما) (١٠)، فقال: ألم أنهكما أن تأتياني بأحد، قال: فجعلت أختلف (إليه) (١١) حتى (إذا) (١٢) (كنت) (١٣) أحب إليه منهما. قال: فقال لي: إذا سألك أهلك من حبسك؟ فقل: معلمي، وإذا سألك معلمك: من حبسك؟ فقل: أهلي، ثم إنه أراد أن يتحول، فقلت له: أنا أتحول معك، فتحولت معه فنزلنا قرية، فكانت امرأة تأتيه. فلما حضر قال (لي) (١٤): يا سلمان (احفر) (١٥) عند رأسي، (فحفرت) (١٦) عند رأسه فاستخرجت (جرة) (١٧) من دراهم، فقال لي: صبها على (صدري) (١٨)، (فصببتها على صدره) (١٩)، فكان يقول: ويل لاقتنائي، ثم إنه مات ⦗٣٩٤⦘ (فهممت) (٢٠) بالدراهم أن (آخذها) (٢١)، ثم إني ذكرت فتركتها. ثم إني آذنت (القسيسين) (٢٢) والرهبان [به فحضروه فقلت لهم: إنه قد ترك مالا، قال: فقام شباب في القرية فقالوا: هذا مال أبينا فأخذوه. قال: فقلت للرهبان] (٢٣) (أخبروني) (٢٤) برجل عالم أتبعه، قالوا: ما نعلم في الأرض رجلا أعلم من رجل بحمص، فانطلقت إليه فلقيته فقصصت عليه القصة، قال: فقال: أو (ما) (٢٥) جاء بك إلا (طلب) (٢٦) العلم، قلت: ما جاء بي إلا طلب العلم، قال: فإني لا أعلم اليوم في الأرض أعلم من رجل يأتي بيت المقدس كل سنة، إن انطلقت الآن وجدت حماره. قال: (فانطلقت) (٢٧) فإذا أنا بحماره على باب بيت المقدس، فجلست عنده وانطلق، فلم أره حتى الحول، فجاء فقلت له: يا عبد اللَّه ما صنعت بي؟ قال: وإنك لها هنا، قلت: نعم، قال: فإني واللَّه ما أعلم اليوم رجلا أعلم من رجل خرج بأرض (تيماء) (٢٨) (وإن) (٢٩) (تنطلق) (٣٠) الآن (توافقه) (٣١)، وفيه ثلاث آيات: ⦗٣٩٥⦘ يأكل الهدية ولا يأكل الصدقة، وعند غضروف كتفه اليمنى خاتم النبوة مثل بيضة الحمامة لونها لون جلده. قال: فانطلقت ترفعني أرض وتخفضني أخرى حتى مررت بقوم من الأعراب فاستعبدوني فباعوني حتى (اشترتني) (٣٢) امرأة بالمدينة، فسمعتهم يذكرون النبي ﷺ (٣٣) وكان (عزيزًا) (٣٤)، فقلت (لها) (٣٥): هبي لي يوما، قالت: نعم. فانطلقت فاحتطبت (حطبا) (٣٦) فبعته (وصنعت طعاما) (٣٧) فأتيت (به) (٣٨) النبي ﷺ وكان يسيرا فوضعته بين يديه، فقال: "ما هذا؟ " قلت: صدقة، قال: فقال لأصحابه: "كلوا"، ولم يأكل، قال: قلت: هذا من علامته، ثم مكثت ما شاء اللَّه أن أمكث ثم قلت لمولاتي: هبي لي يوما، قالت: نعم، فانطلقت فاحتطبت حطبا فبعته بأكثر من ذلك وصنعت به طعاما، فأتيت به النبي ﵇ (٣٩) وهو جالس بين أصحابه فوضعته بين يديه، قال: "ما هذا؟ " قلت: هدية، فوضع يده، وقال لأصحابه: "خذوا باسم اللَّه". وقمت خلفه، فوضع رداءه فإذا خاتم النبوة فقلت: أشهد أنك رسول اللَّه قال: "وما ذاك؟ " فحدثته عن الرجل ثم قلت: أيدخل الجنة يا رسول اللَّه فإنه ⦗٣٩٦⦘ حدثني أنك نبي قال: "لن يدخل الجنة إلا نفس مسلمة" (٤٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان بیان کرتے ہیں کہ میں فارس کے گھڑ سواروں کی اولاد میں سے تھا۔ اور میں ایک مکتب میں تھا اور میرے ساتھ دو لڑکے (اور) تھے۔ جب یہ دونوں لڑکے اپنے مُعلِّم (استاد) کے پا س سے واپس آئے تو ایک پادری کے پاس آئے اور اس پر داخل ہوئے۔ پس میں بھی ان کے ہمراہ اس پادری پر داخل ہوا۔ پادری نے کہا۔ کیا میں نے تم دونوں (لڑکوں) کو اس بات سے منع نہیں کیا تھا کہ تم میرے پاس کسی کو لے کر آؤ ؟ حضرت سلمان فرماتے ہیں : میں نے اس پادری کے پاس آنا جانا شروع کیا۔ یہاں تک کہ میں اس کو ان دونوں لڑکوں سے زیادہ محبوب ہوگیا۔ حضرت سلمان کہتے ہیں۔ پادری نے مجھے کہا : جب تجھ سے تیرے گھر والے سوال کریں کہ تمہیں کس نے روکے رکھا ؟ تو تم کہنا۔ میرے استاد نے۔ اور جب تم سے تمہارا استاد پوچھے۔ تمہیں کس نے روکے رکھا ؟ تو تم کہنا : میرے گھر والوں نے ۔ ٢۔ پھر اس پادری نے (وہاں سے) منتقل ہونے کا ارادہ کیا۔ تو میں نے اس پادری سے کہا۔ میں (بھی) آپ کے ساتھ نقل مکانی کروں گا۔ پس میں نے اس کے ہمراہ نقل مکانی کی اور ہم ایک بستی میں اترے۔ پس ایک عورت (وہاں پر) اس کے پاس آتی تھی۔ پھر جب اس پادری کی مرگ کا وقت قریب ہوا تو اس پادری نے مجھے کہا۔ اے سلمان ! میرے سر کے پاس گڑھا کھودو۔ میں نے اس کے پاس گڑھا کھودا تو درہموں کا ایک گھڑا نکلا۔ پادری نے مجھ سے کہا۔ اس گھڑے کو میرے سینہ پر انڈیل دو ۔ میں نے وہ گھڑا اس کے سینہ پر انڈیل دیا۔ پھر پادری کہنے لگا۔ ہلاکت ہو میری ذخیرہ اندوزی کی۔ پھر وہ پادری مرگیا۔ میں نے دراہم کو لینے کا ارادہ کیا۔ پھر مجھے اس کی بات یاد آئی تو میں نے دراہم کو چھوڑ دیا۔ پھر میں نے پادریوں اور عبادت گزاروں کو اس میت کی خبر دی تو وہ اس کے پاس حاضر ہوئے ۔ میں نے ان حاضرین سے کہا۔ یہ اس میت نے کچھ مال چھوڑا ہے۔ حضرت سلمان کہتے ہیں : بستی میں سے کچھ نوجوان کھڑے ہوگئے اور انہوں نے کہا : یہ تو ہمارے باپ کا مال ہے۔ پس انہوں نے وہ مال لے لیا۔ ٣۔ حضرت سلمان کہتے ہیں میں نے عبادت گزاروں سے کہا۔ مجھے کسی صاحب علم آدمی کا بتاؤ تاکہ میں اس کے پیچھے چلوں۔ انہوں نے جواب دیا۔ ہمیں روئے زمین پر حمص کے آدمی سے بڑا صاحب علم معلوم نہیں ہے۔ سو میں اس کی طرف چل دیا اور میں نے اس سے ملاقات کی۔ اور اس کو یہ سارا قصہ سُنایا۔ حضرت سلمان کہتے ہیں۔ اس نے کہا۔ کیا تمہیں صرف علم کی طلب (یہاں) لائی ہے ؟ میں نے جواباً کہا۔ مجھے صرف علم کی طلب ہی (یہاں) لائی ہے۔ اس نے کہا : میں تو آج روئے زمین پر اس ایک آدمی سے بڑا کسی کو عالم نہیں جانتا جو آدمی ہر سال بیت المقدس میں آتا ہے۔ اگر تم ابھی چل پڑو گے تو اس کے گدھے کو موجود پاؤ گے۔ حضرت سلمان کہتے ہیں۔ میں چل پڑا تو اچانک میں نے بیت المقدس کے دروازہ پر اس کے گدھے کو موجود پایا۔ پس میں اس کے پاس بیٹھ گیا اور وہ آدمی چل دیا۔ میں نے اس آدمی کو پورا سال نہیں دیکھا۔ پھر وہ آدمی آیا تو میں نے اس سے کہا : اے بندۂِ خدا ! تو نے میرے ساتھ کیا کیا ہے ؟ اس نے پوچھا : اور (کیا) تم یہیں پر (رہے) ہو ؟ میں نے جواب دیا : ہاں ! اس نے کہا : مجھے تو، بخدا ! اس آدمی سے بڑے عالم کا پتہ نہیں ہے جو کہ ارض تیماء میں ظاہر ہوا ہے۔ اگر تم ابھی چل پڑو گے تو تم اس کو پالو گے اور اس میں تین نشانیاں ہوں گی۔ وہ شخص ہدیہ کھائے گا۔ اور صدقہ نہیں کھائے گا۔ اور اس کے داہنے کندھے کی نرم ہڈی کے پاس مہر نبوت ہوگی۔ جو کہ کبوتری کے انڈے کے مشابہ ہوگی اور اس کا رنگ کھال والا ہوگا۔ ٤۔ حضرت سلمان کہتے ہیں : پس میں چلا درآنحالیکہ مجھے زمین کی پستی اور بلندی متاثر کرتی رہی۔ یہاں تک میں دیہاتی لوگوں کے پاس سے گزرا تو انہوں نے مجھے غلام بنا لیا پھر انہوں نے مجھے بیچ دیا۔ یہاں تک کہ مجھے مدینہ میں ایک عورت نے خرید لیا۔ میں نے لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے سُنا۔ زندگی بہت سخت گزر رہی تھی۔ میں نے اس عورت سے کہا : تم مجھے ایک دن ہدیہ کردو۔ اس نے کہا۔ ٹھیک ہے۔ میں چلا گیا اور لکڑیاں چُنی۔ اور ان کو فروخت کیا ۔ اور کھانا تیار کیا۔ پھر اس کھانے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا۔ وہ کھانا تھوڑا سا تھا۔ میں نے وہ کھانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ صدقہ ہے : کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا : کھاؤ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود تناول نہیں فرمایا : فرماتے ہیں۔ میں نے کہا : یہ اس شخص کی علامات میں سے ہے۔ ٥۔ پھر جتنی دیر اللہ نے چاہا ٹھہرا رہا پھر میں نے اپنی مالکن سے کہا۔ تم مجھے ایک دن ہدیہ کردو۔ اس نے کہا۔ ٹھیک ہے۔ میں چل پڑا اور لکڑیاں اکھٹی کیں اور انہیں پہلے سے زیادہ قیمت پر فروخت کیا اور