حدیث نمبر: 39359
٣٩٣٥٩ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا يحيى بن يعلى الأسلمي عن عبد اللَّه ابن المؤمل عن أبي الزبير عن جابر قال: كان أول إسلام عمر قال: قال: ضرب أختي المخاض ليلا فأخرجت من البيت فدخلت في أستار الكعبة في ليلة قارة، قال: فجاء النبي ﵊ (٢) فدخل الحجر وعليه نعلاه، فصلى ما شاء (اللَّه) (٣) ثم انصرف، قال: فسمعت شيئا لم أسمع مثله، (فخرجت) (٤) فاتبعته فقال: "من هذا؟ " فقلت: عمر، قال: "يا عمر ما تتركني ⦗٣٩٠⦘ (نهارا ولا ليلا؟) (٥) "، قال: فخشيت أن يدعو علي، قال: فقلت: أشهد أن لا إله إلا اللَّه وأنك رسول اللَّه، قال: فقال: "يا عمر استره"، قال: فقلت: والذي بعثك بالحق لأعلننه كما أعلنت الشرك (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے کہ حضرت عمر کے اسلام کا اوّل (زمانہ) تھا۔ فرماتے ہیں۔ حضرت عمر بیان کرتے ہیں۔ ایک رات میری بہن کو اونٹنی نے مارا تو مجھے گھر سے نکال دیا گیا۔ پس میں ایک ٹھنڈی رات کو کعبہ کے پردوں میں داخل ہوا۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور آپ حجر اسود پر داخل ہوئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوتے پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی جتنی دیر اللہ تعالیٰ نے چاہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس مڑے۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ میں نے ایسی شئی سُنی جس کی مثل میں نے (پہلے) نہیں سُنی تھی۔ پس میں نکلا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ہو لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ عمر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عمر ! تو مجھے دن کو چھوڑتا ہے اور نہ ہی رات کو ۔ حضرت عمر کہتے ہیں : مجھے اس بات کا خوف ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے لئے بد دعا کردیں گے۔ فرماتے ہیں : میں نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بلاشبہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ فرماتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عمر ! اس کو چھپاؤ۔ فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ قسم اس ذات کی ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ البتہ میں ضرور بالضرور اس کا یوں ہی اعلان کروں گا جیسا کہ میں نے شرک کا اعلان کیا تھا۔
حدیث نمبر: 39360
٣٩٣٦٠ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن حصين عن هلال بن (يساف) (١) قال: أسلم عمر بن الخطاب بعد أربعين رجلًا (وإحدى) (٢) (عشرة) (٣) امرأة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہلال بن یساف سے روایت ہے کہ حضرت عمر چالیس مردوں اور گیارہ عورتوں کے بعد اسلام لائے تھے۔