حدیث نمبر: 39358
٣٩٣٥٨ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا (سليمان) (٢) ابن المغيرة قال: حدثنا حميد بن هلال قال: حدثنا عبد اللَّه بن الصامت عن أبي ذر قال: خرجنا من قومنا غفار أنا وأخي أنيس وأمنا، وكانوا يحلون الشهر الحرام، فانطلقنا حتى نزلنا على خال لنا ذي مال وذي هيئة (طيبة) (٣). قال: (فأكرمنا خالنا وأحسن إلينا فحسدنا قومه فقالوا: إنك إذا خرجت من أهلك خالف إليهم أنيس) (٤)، قال: فجاء خالنا (فنثى) (٥) علينا ما قيل له، قال: قلت: أما ما مضى من معروفك فقد كدرته ولا جماع لك فيما بعد، قال: فقربنا صرمتنا فاحتملنا عليها، قال: وغطى رأسه فجعل يبكي. قال: فانطلقنا حتى نزلنا بحضرة مكة، قال: فنافر أنيس عن صرمتنا وعن ⦗٣٨٦⦘ (مثلها) (٦) قال: فأتيا الكاهن فخير أنيس، قال: فأتانا أنيس بصرمتنا ومثلها معها. قال: (٧) وقد صليت يا ابن أخي قبل أن ألقى رسول اللَّه ﷺ ثلاث سنين، قال: قلت: لمن؟ قال: للَّه، قال: قلت: فأين كنت توجه؟ قال: حيث وجهني اللَّه، أصلي عشاء حتى إذا كان آخر الليل ألقيت كأني خفاء حتى (تعلوني) (٨) الشمس. قال: قال أنيس: (إن) (٩) لي حاجة بمكة فاكفني حتى آتيك، قال: (فانطلق) (١٠) فراث علي، ثم أتاني فقلت: ما حبسك؟ قال: لقيت رجلا بمكة على دينك يزعم أن اللَّه أرسله، قال: قلت: فما يقول الناس له؟ قال: يزعمون أنه ساحر وأنه كاهن وأنه شاعر، قال أنيس: فواللَّه لقد سمعت قول الكهنة فما هو بقولهم، ولقد وضعت (قوله) (١١) على أقراء (الشعر) (١٢) فلا يلتئم على لسان أحد أنه (شعر) (١٣)، واللَّه إنه لصادق وإنهم لكاذبون، وكان أنيس شاعرا، قال: قلت: اكفني أذهب فأنظر، قال: (نعم) (١٤) وكن من أهل مكة على حذر، فإنهم قد شنفوا له وتجهموا له. قال: فانطلقت حتى قدمت مكة، قال: فتضيفت رجلا منهم، قال: قلت: أين الذي تدعونه الصابئ؟ قال: فأشار إليّ، قال: الصابئ، قال: فمال ⦗٣٨٧⦘ علي أهل الوادي بكل مدرة وعظم حتى خررت مغشيا عليّ، قال: فارتفعت حين ارتفعت وكأني نصب أحمر. قال: فأتيت زمزم فغسلت عني الدماء وشربت من مائها، قال: فبينما أهل مكة في ليلة قمراء أضحيان إذ ضرب اللَّه على (أصمختهم) (١٥)، قال: فما يطوف بالبيت أحد منهم غير امرأتين، قال: فأتتا عليّ وهما تدعوان إسافا ونائلة، قلت: انكحا (أحدهما) (١٦) الأخرى، قال: فما ثناهما ذلك عن قولهما، قال: (فأتتا) (١٧) عليَّ فقلت: (هَنٌ) (١٨) مثل (الخشبة) (١٩) غير (أني) (٢٠) لم أُكْنِ، قال: فانطلقتا (تولولان) (٢١) وتقولان: لو كان هاهنا أحد من أنفارنا. قال: فاستقبلهما رسول اللَّه ﷺ وأبو بكر وهما هابطان من الجبل، قال: ما لكما؟ قالتا: الصابئ بين الكعبة وأستارها، (قالا) (٢٢): ما قال لكما؟ قالتا: قال لنا كلمة تملأ الفم. قال: وجاء رسول اللَّه ﷺ حتى انتهى إلى الحَجَر فاستلمه هو وصاحبه، قال: وطاف بالبيت ثم صلى صلاته. قال: فأتيته حين قضى صلاته، قال: فكنت أول من حياه بتحية (السلام) (٢٣)، قال: "وعليك ورحمة اللَّه ممن أنت؟ " قلت: من غفار، قال: فأهوى بيده نحو رأسه، قال: قلت في نفسي: كره أني انتميت إلى غفار. ⦗٣٨٨⦘ قال: فذهبت آخذ بيده، (قال) (٢٤): (فقدعني) (٢٥) صاحبه، وكان أعلم به مني، فرفع رأسه فقال،: "متى كنت هاهنا؟ " قلت: قد كنت هاهنا منذ عشر من بين يوم وليلة، قال: "فمن كان يطعمك؟ " قال: قلت: ما كان لي طعام غير ماء زمزم فسمنت حتى تكسرت عُكَن بطني، وما وجدت على كبدي سخفةَ جوع، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إنها مباركة إنها طعام طعم"، قال: فقال صاحبه: ائذن لي في إطعامه الليلة. فانطلق رسول اللَّه ﷺ وأبو بكر (وانطلقت) (٢٦) (معهما) (٢٧) قال: ففتح أبو بكر بابا فقبض إلي من زبيب الطائف، قال: فذلك أول طعام أكلته بها. قال: فلبثت (ما لبثت) (٢٨) أو غبرت ثم لقيت رسول اللَّه ﷺ، (فقال رسول اللَّه ﷺ) (٢٩): "إني قد وجهت إلى أرض ذات نخل -ولا أحسبها إلا يثرب- فهل أنت مبلغ عني قومك، لعل اللَّه أن ينفعهم بك، وأن يأجرك فيهم"، قلت: نعم. (٣٠) فانطلقت حتى أتيت أنيسا فقال: ما صنعت؟ قلت: صنعت أني أسلمت وصدقت، قال أنيس: وما بي رغبة عن دينك، إني قد أسلمت وصدقت، قال: (فأتينا) (٣١) أمنا، (فقالت) (٣٢): ما بي رغبة عن دينكما، فإني قد أسلمت وصدقت، ⦗٣٨٩⦘ قال: فاحتملنا حتى أتينا قومنا غفارا قال: فأسلم بعضهم قبل أن يقدم رسول اللَّه ﷺ المدينة، (قال) (٣٣): وكان يؤمهم إيماء بن (رحضة) (٣٤) وكان سيدهم، قال: وقال بقيتهم: إذا قدم رسول اللَّه ﷺ أسلمنا. قال: فقدم رسول اللَّه ﷺ المدينة فأسلم بقيتهم، قال: وجاءت أسلم فقالوا: إخواننا نسلم على الذي أسلموا عليه، قال: فأسلموا، (قال) (٣٥): فقال رسول اللَّه ﷺ: "غفار غفر اللَّه لها، وأسلم سالمها اللَّه" (٣٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر بیان فرماتے ہیں کہ میں، میرا بھائی اُنیس اور میری والدہ ہم اپنی قوم غفار سے نکلے ۔ قوم والے حرمت والے مہینوں کو حلال سمجھتے تھے۔ پس ہم چل دیئے یہاں تک کہ ہم اپنے ایک مالدار اور اچھی حالت والے ماموں کے ہاں اترے۔ فرماتے ہیں : انہوں نے ہمارا اکرام کیا اور ہمارے ساتھ اچھا معاملہ کیا۔ ان کی قوم ہم سے حسد کرنے لگی اور انہوں نے کہا۔ اگر تم اپنے اہل خانہ سے نکلو تو انیس ان کے ساتھ تمہارے (معاملہ کے) برخلاف معاملہ کرے گا۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ پس ہمارے ماموں ہمارے پاس آئے اور جو انہیں کہا گیا تھا انہوں نے وہ ہمیں بیان کردیا۔ ابو ذر کہتے ہیں : میں نے کہا : آپ نے پہلے جو اچھا کام کیا تھا (اکرام اور احسان) آپ نے (اب) اس کو مکدر کردیا ہے (ہم) آپ کے پاس اب کے بعد جمع نہیں ہوں گے۔ فرماتے ہیں کہ ہم اپنے اونٹوں کے قریب ہوئے اور ہم ان پر سوار ہوگئے۔ ابو ذر کہتے ہیں ۔ انہوں نے (ماموں نے) اپنا سر ڈھانپ لیا اور رونا شروع کردیا۔ ٢۔ ابو ذر کہتے ہیں : ہم چلتے رہے یہاں تک کہ ہم شہر مکہ میں آ کر اترے۔ ابو ذر کہتے ہیں ۔ پس انیس نے اپنے اونٹوں کے گلہ اور ویسے ہی دوسرے اونٹوں کے گلہ کے درمیان مفاخرت کی۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ پھر وہ دونوں (اُنیس اور دوسرے گلہ کا مالک) ایک کاہن کے پاس گئے تو اس نے انیس کو درست قرار دیا۔ فرماتے ہیں کہ پھر انیس ہمارے پاس اپنے اونٹوں کا گلہ اور اسی جیسا ایک اور گلہ لے کر آئے۔ ٣۔ ابو ذر فرماتے ہیں : اے بھتیجے ! تحققی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ملاقات کرنے سے تین سال قبل نماز پڑھی ہے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ (آپ نے) کس کے لئے نماز پڑھی ؟ انہوں نے فرمایا : اللہ کے لئے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : آپ کس طرف رُخ کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : جس طرف اللہ تعالیٰ میرا رُخ فرما دیتے میں عشاء پڑھ لیتا۔ یہاں تک کہ جب رات کا آخری حصہ ہوتا تو میں یوں پایا جاتا جیسا کہ میں چادر ہوں یہاں تک کہ مجھ پر سورج بلند ہوتا۔ ٤۔ ابو ذر فرماتے ہیں کہ (مجھے) اُنیس نے کہا : مجھے مکہ میں کام ہے پس تم میرے واپس آنے تک میری ذمہ داریاں نبھاؤ۔ فرماتے ہیں : پس وہ چلے گئے اور انہوں نے دیر کردی۔ میرے پاس آئے اور میں نے کہا : تمہیں کس چیز نے روکے رکھا ؟ انہوں نے کہا : میں نے مکہ میں ایک آدمی سے ملاقات کی ہے جو تیرے (والے) دین پر ہے اور اس کا خیال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رسول بنایا ہے۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا : لوگ انہیں کیا کہتے ہیں ؟ اُنیس نے کہا : لوگوں کا گمان یہ ہے کہ وہ جادو گر ہے، وہ کاہن ہے، اور وہ شاعر ہے۔ اُنیس نے کہا : بخدا ! میں نے کاہنوں کا کلام سُنا (ہوا) ہے لیکن وہ (کلام) کاہنوں کا کلام نہیں ہے۔ اور میں نے ان کے کلام کو شعر کی انواع میں رکھ کر دیکھا ہے تو وہ کسی کی زبان سے (بھی) شعر کے طور پر اداء ہونا مشکل ہے۔ بخدا ! وہ آدمی سچا ہے اور لوگ جھوٹے ہیں ۔ حضرت انیس شاعر (بھی) تھے۔ ٥۔ ابو ذر کہتے ہیں : میں نے کہا : تم میری جگہ کفایت (ذمہ داری) کرو۔ میں جا کر دیکھتا ہوں۔ بھائی نے کہا : ٹھیک ہے۔ لیکن اہل مکہ سے بچ کر رہنا کیونکہ وہ اس آدمی کو ناپسند کرتے ہیں اور ان کے ساتھ بد کلامی سے پیش آتے ہیں ابو ذر فرماتے ہیں ۔ میں چل دیا یہاں تک کہ میں مکہ میں پہنچا۔ فرماتے ہیں۔ میں ان میں سے ایک آدمی کے پاس مہمان بن گیا۔ فرماتے ہیں میں نے پوچھا : وہ شخص کہاں ہے جس کو تم صابی کہہ کر پکارتے ہو۔ ابو ذر فرماتے ہیں : اس نے (لوگوں کو) میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ (پکڑو اس) صابی کو۔ ابو ذر فرماتے ہیں کہ پس اہل وادی نے مجھ پر مٹی کے ڈھیلے اور لوہے وغیرہ ہر چیز کے ساتھ برس پڑے یہاں تک کہ میں بےہوش ہر کر گرپڑا۔ فرماتے ہیں : پس جب مجھ سے اٹھا گیا۔ میں اٹھا۔ تو (مجھے یوں لگا) گویا کہ میں سُرخ تصویر ہوں۔ ابو ذر فرماتے ہیں۔ پس میں زمزم کے پاس آیا اور میں نے خود سے خون کو دھویا اور مائِ زمزم کو پیا۔ ٦۔ ابو ذر کہتے ہیں؛: پس ایک روشن و صاف چاندنی رات کو اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ پر نیند طاری کردی۔ فرماتے ہیں : اہل مکّہ میں سے دو عورتوں کے سوا کوئی بیت اللہ کا طواف کرنے نہ آیا۔ ابو ذر کہتے ہیں : وہ دونوں عورتیں میرے پاس آئیں جبکہ وہ اساف اور نائلہ کو پکار رہی تھیں۔ میں نے کہا : ان دونوں میں سے ایک کا نکاح دوسرے سے کردو۔ فرماتے ہیں : یہ بات (بھی) انہیں ان کی گفتگو سے نہ روک سکی ۔ فرماتے ہیں : پھر دو نوں میرے پاس آئیں تو میں نے کہا : لکڑی کی طرح ہیں۔ یہ بات میں نے صاف صاف کہہ دی۔ ابو ذر کہتے ہیں : پس وہ دونوں عورتیں چل پڑیں۔ چیخ و پکار کرتی ہوئی کہتی جا رہی تھیں۔ اگر یہاں پر ہماری قوم میں سے کوئی ہوتا تو … ٧۔ ابو ذر کہتے ہیں : ان عورتوں کو آگے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر ملے جبکہ یہ عورتی