کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا
حدیث نمبر: 39343
٣٩٣٤٣ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا وكيع بن الجراح قال: حدثنا شعبة عن عمرو بن مرة قال: أتيت إبراهيم فسألته فقال: أول من أسلم أبو بكر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مرہ روایت کرتے ہیں کہ میں ابراہیم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان سے پوچھا ؟ تو انہوں نے جواب دیا۔ سب سے پہلے ابوبکر اسلام لائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39343
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ إبراهيم النخعي تابعي، أخرجه الترمذي (٣٧٣٥)، وأحمد في العلل ٢/ ٢٥٣ وفي فضائل الصحابة (٢٦٥)، وابن عساكر ٣٠/ ٤٣، وابن الأثير في أسد الغابة ٤/ ١٠٢، والخلال في السنة (٥٢٢).٤ والآجري في الشريعة (١٢٥٢)، وابن جرير في التاريخ ١/ ٥٤٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39343، ترقيم محمد عوامة 37738)
حدیث نمبر: 39344
٣٩٣٤٤ - حدثنا شيخ لنا قال: أخبرنا مجالد عن عامر قال: سألت -أو سئل- ابن عباس أي الناس كان أول إسلاما؟ فقال: أما سمعت قول حسان بن ثابت: إذا تذكرت شجوا من أخي ثقة … فاذكر أخاك أبا بكر بما فعلا خير البرية أتقاها وأعدلها … (إلا) (١) النبي وأوفاها بما حملا والثاني التالي المحمود مشهده … وأول الناس منهم صدق الرسلا (٢)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا : یا فرمایا : ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا : کہ لوگوں میں سے سب سے پہلے اسلام کون لایا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا ۔ کیا تم نے حسان بن ثابت کا قول نہیں سُنا۔ : ” جب تجھے اپنے معتمد بھائی سے پہنچا ہو اغم یاد آئے ۔ تو تُو اپنے بھائی ابوبکر کے کئے ہوئے کو یاد کرنا ۔ جو کہ مخلوق میں سے بہترین ، سب سے بڑا متقی اور عادل ہے ۔ سوائے نبی کے، اور اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے والا ہے۔ اور دوسرا (صاحب ایمان) پیروکار ہے، اور اس کی گواہی پسندیدہ ہے ۔ اور لوگوں مں ر سے سب سے پہلے رسول کی تصدیق کرنے والا ہے۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39344
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39344، ترقيم محمد عوامة 37739)
حدیث نمبر: 39345
٣٩٣٤٥ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام بن عروة قال: أخبرني أبي قال: أسلم أبو بكر يوم أسلم وله أربعون ألف درهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ جس دن حضرت ابوبکر اسلام لائے تو ان کے پاس چالیس ہزار درہم تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39345
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عروة تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39345، ترقيم محمد عوامة 37740)
حدیث نمبر: 39346
٣٩٣٤٦ - حدثنا جرير عن منصور عن مجاهد قال: أول من أظهر الإسلام سبعة: رسول اللَّه ﷺ وأبو بكر وبلال وخباب وصهيب وعمار (وسمية) (١) أم عمار، فأما رسول اللَّه ﷺ فمنعه عمه، وأما أبو بكر فمنعه قومه، وأُخذ الآخرون فألبسوا أدراع الحديد ثم صهروهم في الشمس حتى بلغ الجهدُ منهم كلَّ مبلغ، فأعطوهم ما سألوا، فجاء إلى كل رجل منهم قومه بأنطاع الأَدَم فيها الماء فألقوهم فيها ثم حملوا بجوانبه إلا بلال، فلما كان (العشي) (٢) جاء أبو جهل فجعل يشتم سمية ويرفث: ثم طعنها فقتلها فهي أول شهيد استشهد في الإسلام إلا (بلال) (٣)، فإنه هانت عليه نفسه في اللَّه حتى ملوا فجعلوا في عنقه حبلا ثم أمروا صبيانهم فاشتدوا به بين أخشبي مكة وجعل يقول: أحد أحد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ شروع میں اسلام کا اظہار کرنے والے سات لوگ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت ابوبکر ، حضرت بلال ، حضرت خباب ، حضرت صہیب ، حضرت عمار ، ام عمار حضرت سمیہ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (کفار کے لئے) ان کے چچا مانع بن گئے اور حضرت ابوبکر کی طرف سے (کفار کے لئے) ان کی قوم مانع بن گئی اور دیگر لوگ پکڑ لئے گئے اور انہیں لوہے کی قمیصیں پہنائی گئیں۔ پھر کفار نے ان کو سورج میں تپنے کے لئے چھوڑ دیا ۔ حتی کہ ان کی مشقت انتہا درجہ کو پہنچ گئی تو انہوں نے سوال کیا ان کے سوال کو پورا کردیا۔ پس ان میں سے ہر آدمی کی قوم اس کے پاس آئی جس میں پانی تھا اور انہیں اس میں ڈال دیا۔ پھر اس کی اطراف سے اٹھا لیا۔ سوائے حضرت بلال کے۔ پھر جب رات ہوئی تو ابو جہل آیا اور حضرت سمیّہ کو سبّ و شتم کرنے لگا پھر ابو جہل نے ان کو نیزہ مارا اور قتل کردیا۔ پس یہ اسلام میں شہید ہونے والی پہلی شہیدہ ہیں۔ سو حضرت بلال نے اپنی جان کو اللہ کے لئے بےوقعت سمجھ لیا ۔ یہاں تک کہ مشرکین بےتاب ہوگئے اور انہوں نے آپ کی گردن میں رسی ڈال دی پھر مشرکین نے اپنے بچوں کو حکم دیا اور انہوں نے حضرت بلال کو مکہ کے پہاڑوں کے درمیان گھسیٹنا شروع کیا۔ اور حضرت بلال نے احدٌ احدٌ کہنا شروع کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39346
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ مجاهد تابعي، وأخرجه أحمد في فضائل الصحابة (٢٨٢)، وابن سعد في الطبقات ٣/ ٢٣٣، وأبو عروبة في الأوائل (٥٨)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٤٠، وابن عساكر ٢٤/ ٢٢٠، وابن أبي خيثمة في أخبار المكيين (٦٦)، وابن الأثير في أسد الغابة ٣/ ٣٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39346، ترقيم محمد عوامة 37741)
حدیث نمبر: 39347
٣٩٣٤٧ - حدثنا ابن عيينة عن منصور عن مجاهد مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے بھی ایسی روایت منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39347
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ مجاهد تابعي، وانظر: ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39347، ترقيم محمد عوامة 37742)
حدیث نمبر: 39348
٣٩٣٤٨ - حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي قال: أعطوهم ما سألوا ⦗٣٨٢⦘ إلا (خباب) (١)، فجعلوا يلصقون ظهره بالرضف حتى ذهب ماء (متنيه) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی کہتے ہیں کہ حضرت خباب کے سوا باقی نے جو سوال کیا اس کو انہوں نے پورا کردیا۔ تو مشرکین نے حضرت خباب کی پشت کو گرم پتھروں پر رکھ دیا یہاں تک کہ ان کی کمر کا پانی ختم ہوگیا۔ (شاید کمر کی چربی کا پگھلنا مراد ہے)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39348
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الشعبي تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39348، ترقيم محمد عوامة 37743)
حدیث نمبر: 39349
٣٩٣٤٩ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن إسماعيل عن قيس قال: اشترى أبو بكر -يعني بلالا- بخمسة (أواقي) (١) وهو مدفون بالحجارة، قالوا: لو (أبيت) (٢) إلا أوقية (لبعنا له) (٣) فقال: لو (أبيتم) (٤) إلا مائة أوقية لأخذته (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس کہتے ہیں کہ ابوبکر نے حضرت بلال کو پانچ اوقیہ کے عوض خریدا جبکہ وہ پتھروں کے نیچے دبے ہوئے تھے۔ مشرکین نے کہا کہ اگر آپ اس کو ایک اوقیہ پر خریدنے کے لئے تیار ہوجائیں تو ہم (تب بھی) یہ آپ کو بیچ دیں گے۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا : اگر تم سو اوقیہ پر بیچنے کے لئے تیار ہو جاؤ تو میں (تب بھی) ا س کو خریدوں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39349
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ قيس تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39349، ترقيم محمد عوامة 37744)
حدیث نمبر: 39350
٣٩٣٥٠ - حدثنا سفيان عن مسعر عن قيس عن طارق بن شهاب قال: كان خباب من المهاجرين وكان ممن يعذب في اللَّه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت خباب مہاجرین میں سے تھے اور ان افراد میں سے تھے جنہیں اللہ کے لئے عذاب دیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39350
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ طارق تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39350، ترقيم محمد عوامة 37745)
حدیث نمبر: 39351
٣٩٣٥١ - حدثنا ابن فضيل عن أبيه قال: سمعت كردوسا يقول: إلا أن خباب ابن الأرت أسلم (سادس) (١) ستة، كان له سدس من الإسلام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابن فضیل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے کردوس کو کہتے سُنا کہ حضرت خباب بن الارت چھٹے نمبر پر اسلام لائے اور آپ کا اسلام میں چھٹا حصہ تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39351
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ كردوس من تابعي التابعين.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39351، ترقيم محمد عوامة 37746)
حدیث نمبر: 39352
٣٩٣٥٢ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي إسحاق عن أبي ليلى الكندي قال: جاء خباب إلى عمر فقال: ادنه، فما أحد أحق بهذا المجلس منك إلا عمار، قال: فجعل خباب يريه آثارا في ظهره مما عذبه المشركون (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو لیلیٰ کندی کہتے ہیں کہ حضرت خباب ، حضرت عمر کے پاس تشریف لائے تو حضرت عمر نے فرمایا : قریب ہوجائیے کیونکہ میں اس نشست کا آپ سے زیادہ حق دار حضرت عمار کے سوا کسی کو نہیں پاتا ۔ راوی کہتے ہیں : پس حضرت خباب حضرت عمر کو مشرکین کی طرف سے دیئے گئے عذاب کے اپنی پشت پر اثرات دکھانے لگے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39352
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39352، ترقيم محمد عوامة 37747)
حدیث نمبر: 39353
٣٩٣٥٣ - حدثنا يحيى بن أبي بكير قال: حدثنا زائدة عن عاصم عن زر عن عبد اللَّه قال: أول من أظهر إسلامه سبعة: رسول اللَّه ﷺ وأبو بكر وعمار وأمه سمية وصهيب وبلال والمقداد، فأما رسول اللَّه ﷺ فمنعه اللَّه بعمه أبي طالب وأما أبو بكر فمنعه اللَّه بقومه، وأما سائرهم فأخذهم المشركون فألبسوهم أدراع الحديد وصهروهم في الشمس، فما منهم أحد إلا وأتاهم على ما أرادوا إلا (بلال) (١)، فإنه هانت عليه نفسه في اللَّه، وهان على قومه، فأعطوه الولدان فجعلوا يطوفون به في شعاب مكة وهو يقول: أحد أحد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ سب سے پہلے جنہوں نے اپنے اسلام کو ظاہر کیا وہ سات افراد تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت ابوبکر ، حضرت عمار ، ان کی والدہ حضرت سُمیّہ ، حضرت بلال ، حضرت صہیب حضرت مقداد ، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ان کے چچا ابو طالب کے ذریعہ (مشرکین سے) بچایا اور حضرت ابوبکر کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کے ذریعہ سے (مشرکین سے) بچایا۔ اور جو باقی حضرات تھے انہیں مشرکین نے پکڑ لیا اور انہیں مشرکین نے لوہے کی قمیضیں پہنا دیں اور انہیں سورج میں جلنے کے لئے چھوڑ دیا۔ پھر ان میں سے سوائے حضرت بلال کے کوئی نہیں تھا مگر یہ کہ اس نے مشرکین کے ارادہ کی موافقت کرلی۔ حضرت بلال نے اپنی جان کو اللہ کے لئے بےوقعت سمجھ لیا۔ اور یہ اپنی قوم پر بھی بےوقعت تھے۔ پس مشرکین نے حضرت بلال کو بچوں کے سپرد کردیا اور انہوں نے آپ کو گھاٹیوں میں پھرانا شروع کیا اور حضرت بلال کہتے جا رہے تھے۔ احدٌ احدٌ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39353
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عاصم ضعيف في زر، أخرجه أحمد (٣٨٣٢)، وابن ماجه (١٥٠)، وابن حبان (٧٠٨٣)، والشاشي (٦٤١)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٤٩، وابن عبد البر في الاستيعاب ١/ ١٤١، والبيهقي في الدلائل ٢/ ٢٨١، والحاكم ٣/ ٢٨٤، والبزار (١٨٤٥)، والهيثم بن كليب (٦٤١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39353، ترقيم محمد عوامة 37748)