کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: معراج کی احادیث، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسراء کروایا گیا
حدیث نمبر: 39329
٣٩٣٢٩ - (حدثنا أبو بكر) (١) قال: حدثنا الحسن بن موسى (بن) (٢) الأشيب قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا ثابت عن أنس أن رسول اللَّه ﷺ قال: "أتيت بالبراق وهو دابة أبيض فوق الحمار ودون البغل، يضع (حافره) (٣) عند منتهى طرفه، فركبته فسار بي حتى أتيت بيت المقدس فربطت الدابة بالحلقة التي (كان) (٤) (يربط) (٥) بها الأنبياء ﵈ (٦)، ثم دخلت فصليت فيه ركعتين، ثم خرجت فجاءني جبريل بإناء من خمر وإناء من لبن فاخترت اللبن، فقال (جبريل) (٧): أصبت الفطرة، ⦗٣٧٠⦘ قال: ثم عرج بنا إلى السماء (الدنيا) (٨) فاستفتح جبريل فقيل: من أنت؟ (فقال) (٩): جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد (١٠)، فقيل: وقد أرسل إليه؟ فقال: قد أُرسل (إليه) (١١)، ففتح لنا فإذا أنا بآدم فرحب ودعا لي بخير، ثم عرج بنا إلى السماء الثانية فاستفتح جبريل فقيل: (و) (١٢) من أنت؟ قال: جبريل، فقيل: ومن معك؟ قال: محمد (١٣)، فقيل: وقد أُرسل إليه؟ (قال) (١٤): قد أرسل إليه، (ففتح) (١٥) لنا فإذا أنا (بابني) (١٦) الخالة: (يحيى) (١٧) وعيسى فرحبا ودعوا لي بخير، ثم عرج بنا إلى السماء الثالثة فاستفتح جبريل فقيل: (١٨) من أنت؟ (فقال) (١٩): جبريل، فقيل: ومن معك؟ قال: محمد (٢٠)، (قالوا) (٢١): وقد أرسل إليه؟ قال: (قد) (٢٢) أرسل إليه، ففتح لنا فإذا أنا [بيوسف وإذا هو قد أعطي شطر الحسن، (فرحب) (٢٣) ودعا لي بخير، ثم عرج بنا ⦗٣٧١⦘ إلى السماء الرابعة فاستفتح جبريل فقيل: (٢٤) من أنت؟ (فقال) (٢٥): جبريل، فقيل: ومن معك؟ قال: محمد ﷺ، فقيل: وقد أرسل إليه؟ فقال: قد أرسل إليه، ففتح لنا فإذا (أنا) (٢٦)] (٢٧) بإدريس (٢٨) فرحب ودعا لي بخير، ثم قال: يقول اللَّه: ﴿وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا﴾ [مريم: ٥٧]، ثم عرج بنا إلى السماء الخامسة (فاستفتح جبريل) (٢٩) فقيل: من أنت؟ (قال) (٣٠): جبريل، فقيل: ومن معك؟ (فقال) (٣١): محمد (٣٢)، (فقيل) (٣٣): وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه، ففتح لنا فإذا أنا بهارون فرحب بي (ودعا لي) (٣٤) بخير، ثم عرج بنا إلى السماء السادسة فاستفتح جبريل فقيل: من أنت؟ قال: جبريل، فقيل: ومن معك؟ قال: محمد، فقيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه، (ففتح لنا) (٣٥) فإذا أنا بموسى (٣٦) فرحب ودعا لي بخير، ثم عرج بنا إلى السماء السابعة فاستفتح جبريل (فقيل) (٣٧): من أنت؟ (قال) (٣٨): جبريل، ⦗٣٧٢⦘ (فقيل) (٣٩): ومن معك؟ قال: محمد، فقيل: (وقد) (٤٠) بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه، ففتح (لنا) (٤١) فإذا أنا (بإبراهيم) (٤٢)، وإذا هو (مستند) (٤٣) إلى البيت المعمور، وإذا هو يدخله كل يوم سبعون ألف ملك لا يعودون إليه، ثم ذهب بي إلى (سدرة) (٤٤) المنتهى فإذا ورقها كآذان الفيلة وإذا ثمرها أمثال القلال، فلما غشيها من أمر اللَّه ما غشيها تغيرت، فما أحد من خلق اللَّه يستطيع أن يصفها من حسنها، قال: فأوحى اللَّه إليَّ ما أوحى، وفرض عليَّ في كل يوم (وليلة) (٤٥) خمسين صلاة، فنزلت حتى انتهيت إلى موسى فقال: ما فرض ربك على أمتك؟ قال: قلت: خمسين صلاة في كل يوم وليلة، فقال: ارجع إلى ربك (فاسأله) (٤٦) التخفيف فإن أمتك لا تطيق ذلك، فإني قد بلوت بني إسرائيل وخبرتهم، قال: فرجعت إلى ربي (فقلت) (٤٧) له: رب خفف (عن) (٤٨) أمتي فحط عني خمسا فرجعت إلى موسى فقال: ما فعلت؟ فقلت: حط عني خمسا، قال: (إن) (٤٩) أمتك لا تطيق ذلك، فارجع إلى ربك (فاسأله) (٥٠) التخفيف (لأمتك) (٥١)، فلم أزل أرجع بين ربي وبين ⦗٣٧٣⦘ (موسى ﵇ (٥٢) فيحط عني خمسا خمسا حتى قال. يا محمد هي خمس صلوات في كل يوم وليلة، بكل صلاة (عشر) (٥٣)، فتلك خمسون صلاة، ومن هم بحسنة فلم يعملها كتبت له حسنة، فإن عملها كتبت (له) (٥٤) عشرا، ومن هم بسيئة ولم يعملها (لم) (٥٥) تكتب له شيئًا، فإن عملها كتبت (٥٦) سيئة واحدة، فنزلت حتى انتهيت إلى موسى (٥٧) فأخبرته، فقال: ارجع إلى ربك (فاسأله) (٥٨) التخفيف لأمتك، فإن أمتك لا تطيق ذلك فقال رسول اللَّه ﷺ: لقد رجعت إلى ربي حتى (استحييت) (٥٩) (٦٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :” میرے پاس براق کو لایا گیا۔ یہ ایک سفید جانور تھا۔ گدھے سے اونچا اور خچر سے چھوٹا تھا۔ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں نظر پڑتی تھی۔ پس میں اس پر سوار ہوا اور یہ جانور مجھے لے کر چلا یہاں تک کہ مں چ بیت المقدس میں پہنچا۔ اور میں نے جانور کو اس حلقہ کے ساتھ باندھا جس حلقہ کے ساتھ انبیاء باندھا کرتے تھے۔ پھر میں بیت المقدس میں داخل ہوا اور میں نے وہاں دو رکعات نماز پڑھی پھر میں وہاں سے نکلا تو جبرائیل میرے پاس ایک برتن شراب کا اور ایک برتن دودھ کا لائے۔ میں نے دودھ کا انتخاب کرلیا۔ تو جبرائیل نے کہا۔ آپ نے فطرت سلیمہ کے مطابق درست کام کیا ہے۔ ٢۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : پھر ہمیں آسمان دنیا پر لے جایا گیا۔ اور جبرائیل نے دروازہ کھولنے کا کہا : پوچھا گیا :ـ تم کون ہو ؟ جبرائیل نے کہا : جبرائیل ہوں۔ پوچھا گیا۔ اور آپ کے ساتھ کون ہے ؟ جبرائیل نے کہا۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پوچھا گیا ۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا ؟ جبرائیل نے کہا۔ تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔ تو ناگہاں میں آدم سے ملا ۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے خیر کی دعا کی۔ پھر ہمیں دوسرے آسمان کی طرف چڑھایا گیا۔ جبرائیل نے دروازہ کھولنے کا کہا۔ پوچھا گیا۔ تم کون ہو ؟ جبرائیل نے کہا : جبرائیل ۔ پوچھا گیا : آپ کے ساتھ کون ہے ؟ جبرائیل نے کہا۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پوچھا گیا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا ؟ جبرائیل نے کہا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔ تو ناگہاں میں اپنے دو خالہ زاد یحییٰ اور عیسیٰ سے ملا۔ ان دونوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی۔ ٣۔ پھر ہمیں تیسرے آسمان کی طرف چڑھایا گیا۔ جبرائیل نے دروازہ کھولنے کا کہا۔ تو پوچھا گیا ۔ تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا : جبرائیل ! پھر پوچھا گیا۔ آپ کے ساتھ کون ہے ؟ جبرائیل نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! فرشتوں نے پوچھا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا ؟ جبرائیل نے کہا۔ تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پس ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔ پس اچانک میں یوسف سے ملا ۔ اور انہیں تو حسن کا ایک بڑا حصہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعاء خیر کی۔ پھر ہمیں چوتھے آسمان پر لے جایا گیا تو جبرائیل نے دروازہ کھولنے کا کہا۔ پوچھا گیا ۔ تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا۔ جبرائیل ہوں۔ پوچھا گیا۔ تمہارے ساتھ کون ہے ؟ جبرائیل نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! فرشتوں نے کہا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا ؟ جبرائیل نے کہا : تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے (دروازہ) کھول دیا گیا تو اچانک میری حضرت ادریس سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ ورفعناہُ مکاناً علیًا۔ ٤۔ پھر ہمیں پانچویں آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔ جبرائیل نے (دروازہ) کھولنے کا کہا۔ پوچھا گیا۔ تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا : جبرائیل ہوں۔ پوچھا گیا : اور آپ کے ساتھ کون ہے ؟ انہوں نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہیں۔ پوچھا گیا ۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا ؟ جبرائیل نے کہا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے (دروازہ) کھول دیا گیا۔ پس اچانک میری ملاقات حضرت ہارون سے ہوئی ۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی۔ پھر ہمیں چھٹے آسمان کی طرف چڑھایا گیا۔ جبرائیل نے (دروازہ) کھولنے کا کہا تو پوچھا گیا ۔ تم کون ہو ؟ انہوں نے جواب دیا۔ جبرائیل ہوں۔ پوچھا گا ۔ اور آپ کے ساتھ کون ہے ؟ انہوں نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ پوچھا گیا ۔ (کیا) ان کی طرف بھیجا گیا تھا ؟ جبرائیل نے کہا۔ تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے (دروازہ) کھول دیا گیا ۔ تو اچانک میری ملاقات حضرت موسیٰ سے ہوئی انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی۔ ٥۔ پھر ہمیں ساتویں آسمان کی طرف اٹھا یا گیا۔ پس جبرائیل نے (دروازہ) کھولنے کا کہا تو پوچھا گیا۔ تم کون ہو ؟ انہوں نے جواب دیا۔ جبرائیل ہوں۔ پھر پوچھا گیا۔ اور آپ کے ساتھ کون ہے ؟ نہوں نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ پھر پوچھا گیا۔ (کیا) ان کی طرف بھیجا گیا تھا ؟ جبرائیل نے کہا۔ تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے (دروازہ) کھول دیا گیا تو اچانک میں ابراہیم سے ملا ۔ اور وہ بیت المعمور کے ساتھ ٹیک لگاکر بیٹھے ہوئے تھے۔ اور (یہ وہ جگہ ہے کہ جب) اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جو پھر دوبارہ نہیں آئیں گے۔ ٦۔ پھر مجھے سدرۃ المنتہٰی پر لے جایا گیا۔ پس اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے اور ا
حدیث نمبر: 39330
٣٩٣٣٠ - حدثنا أبو أسامة عن سعيد عن قتادة عن أنس بن مالك (عن مالك) (١) ابن صعصعة عن النبي ﷺ بنحو منه أو شبيه به (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن صعصہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے مثل یا اسے مشابہ بیان کرتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 39331
٣٩٣٣١ - حدثنا هوذة بن خليفة قال: حدثنا عوف (عن) (١) زرارة بن أوفى قال: قال ابن عباس: قال رسول اللَّه ﷺ: "لما كان ليلة أسري بي أصبحت بمكة ⦗٣٧٤⦘ قال: (فظعت) (٢) بأمري وعرفت أن الناس مكذبي"، فقعد رسول اللَّه ﷺ معتزلا حزينا، فمر به أبو جهل فجاء حتى جلس إليه فقال كالمستهزئ: هل كان من شيء؟ قال: "نعم"، قال: وما هو؟ قال: "أسري بي الليلة"، قال: إلى أين؟ قال: "إلى بيت المقدس"، قال: ثم أصبحت بين أظهرنا؟ قال: "نعم"، فلم (يُره) (٣) أنه يكذبه مخافة أن يجحد الحديث إن دعا قومه إليه، قال: أتحدث قومك ما حدثتني إن دعوتهم إليك؟ قال: "نعم"، قال: هيا معشر بني كعب بن لؤي هلم، قال: فتنفضت المجالس فجاؤوا حتى جلسوا إليهما، فقال: حدث قومك ما حدثتني، قال رسول اللَّه ﷺ: "إني أسري بي الليلة"، قالوا: إلى أين؟ قال: "إلى بيت المقدس"، قالوا: ثم أصبحت بين (ظهرانينا؟) (٤) قال: "نعم"، قال: فمن بين مصفق ومن بين واضع (يده) (٥) على رأسه متعجبا (للكذب) (٦) زعم، وقالوا: أتستطيع أن تنعت لنا المسجد؟ قال: وفي القوم من سافر إلى ذلك البلد ورأى المسجد، قال رسول اللَّه ﷺ: "فذهبت أنعت لهم، فما زلت أنعت (وأنعتُ) (٧) حتى التبس علي بعض النعت، فجيء بالمسجد وأنا أنظر إليه حتى وضع دون دار عقيل أو دار عقال، (فنعته) (٨) وأنا أنظر إليه"، فقال القوم: أما النعت فواللَّه لقد أصاب (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زرارہ بن اوفی روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس رات کو مجھے اسراء کروایا گیا میں نے (اس کی) صبح مکہ میں کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں ۔ میں اپنے معاملہ (معراج) کی وجہ سے گھبرایا ہوا تھا اور میں جانتا تھا کہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علیحدہ اور غمگین ہو کر بیٹھ گئے تو ابو جہل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور استہزاء کرنے والے کی طرح پوچھا : کیا کچھ (نئی) بات ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں ابو جہل نے پوچھا : کیا بات ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے آج کی رات سیر کروائی گئی ہے۔ ابو جہل نے پوچھا : کہاں کی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیت المقدس کی طرف۔ ابو جہل نے کہا۔ پھر (سیر کے بعد) آپ نے صبح ہمارے درمیان کی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! ابو جہل کی رائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب کی نہ ہوئی۔ اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم کو بلائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کا انکار نہ کردیں۔ ابو جہل نے کہا۔ اگر میں تمہاری قوم کو تمہاری طرف بلاؤں تو کیا تم انہیں بھی وہ بات بیان کروگے جو تم نے مجھے بیان کی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! ابو جہل نے کہا : اے بنی کعب بن لوی کی جماعتو ! آ جاؤ۔ راوی کہتے ہیں۔ پس تمام لوگ آگئے یہاں تک کہ لوگ ان دونوں کے پاس بیٹھ گئے۔ تو ابو جہل نے کہا۔ جو بات آپ نے مجھے بیان کی تھی وہ بات اپنی قوم کے سامنے بیان کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے آج کی رات سیر کروائی گئی ہے۔ لوگوں نے پوچھا : کہاں کی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیت المقدس کی۔ لوگوں نے کہا۔ پھر آپ نے صبح ہمارے درمیان کی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! راوی کہتے ہیں : کچھ لوگ، تالیاں بجانے لگے اور کچھ لوگوں نے اس بات کو جھوٹ سمجھ کر تعجب کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو اپنے سر پر رکھ لیا۔ اور کہا : کیا آپ ہمارے لئے مسجد (اقصیٰ ) کی نعت (صفت) بیان کرسکتے ہیں ؟ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں میں افراد بھی تھے جنہوں نے اس شہر کا سفر کیا تھا اور مسجد اقصیٰ کو دیکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔ پس میں نے ان کے لئے (مسجد کی) صفت بیان کرنا شروع کی۔ اور میں مسلسل صفت بیان کرتا رہا۔ یہاں تک کہ بعض اوصافِ مسجد مجھ پر ملتبس ہوگئے تو مسجد کو (سامنے) لایا گیا اور میں مسجد کو دیکھنے لگا۔ یہاں تک کہ مسجد کو دارعقیل یا دارعقال سے پرے رکھ دیا گیا۔ پس میں نے مسجد کی نعت (صفت) بیان کی جبکہ میں مسجد کی طرف دیکھ رہا تھا۔ لوگوں نے کہا ۔ (مسجد کی) صفت تو بخدا بالکل درست (بیان کی) ہے۔
حدیث نمبر: 39332
٣٩٣٣٢ - حدثنا عفان (قال) (١): حدثنا حماد بن سلمة عن عاصم عن زر عن حذيفة بن اليمان أن رسول اللَّه ﷺ أتي بالبراق وهو دابة أبيض طويل، يضع (حافره) (٢) عند منتهى طرفه، قال: فلم يزايل ظهره هو وجبريل حتى أتيا بيت المقدس، وفتحت (لهما) (٣) أبواب السماء، (ورأى) (٤) الجنة والنار (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زر، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس براق لائی گئی۔ یہ ایک طویل سفید رنگ کا جانور تھا جو منتہی نظر پر قدم رکھتا تھا۔ راوی کہتے ہیں : پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جبرائیل اس کی پشت پر سوار رہے یہاں تک کہ دونوں بیت المقدس پہنچ گئے اور ان کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے گئے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنت اور جہنم کو دیکھا۔ راوی کہتے ہیں : حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز ادا نہیں کی۔ حضرت زر کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا۔ کیوں نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی ہے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے گنجے ! تیرا نام کیا ہے ؟ میں تیری شکل سے واقف ہوں لیکن تیرے نام سے واقف نہیں ہوں ؟ حضرت زر کہتے ہیں ۔ میں نے جواباً کہا : زر بن حبیش۔ راوی کہتے ہیں ۔ اس نے کہا : ارشاد خداوندی ہے۔ { سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَی بِعَبْدِہِ لَیْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إلَی الْمَسْجِدِ الأَقْصَی الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا ، إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ } حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (وہاں) نماز پڑھتے ہوئے پایا ہے ؟ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت المقدس میں نماز پڑھتے تو ہم (بھی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھتے جیسا کہ ہم مسجد حرام میں نماز پڑھتے ہیں۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانور کو اس کڑے کے ساتھ باندھا جس کے ساتھ انبیاء باندھا کرتے تھے ؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا خوف تھا کہ وہ چلا جائے گا حالانکہ اس کو تو اللہ تعالیٰ لائے تھے ؟
حدیث نمبر: 39333
٣٩٣٣٣ - قال: وقال حذيفة: ولم يصل في بيت المقدس، قال زر: (فقلت) (١): بل قد صلى، قال حذيفة: ما اسمك يا أصلع؟ فإني أعرف وجهك ولا أدري ما اسمك؟ قال: (قلت) (٢): زر بن حبيش، قال: فقال: وما يدريك وهل تجده صلى؟ قال: (قلت) (٣): يقول اللَّه (٤): ﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى (الَّذِي) (٥) بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾، قال: وهل تجده صلى؟ إنه لو صلى فيه صلينا (فيه) (٦) كما نصلي ⦗٣٧٦⦘ في المسجد الحرام، وقيل لحذيفة: وربط الدابة (بالحلقة) (٧) التي تربط بها (الأنبياء؟) (٨) فقال حذيفة: أو كان يخاف أن تذهب وقد أتاه اللَّه بها (٩).
حدیث نمبر: 39334
٣٩٣٣٤ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد في جدعان عن أبي الصلت عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (رأيت) (١) ليلة أسري بي لما انتهينا إلى السماء السابعة فنظرت فوقي، فإذا أنا برعد وبرق وصواعق، قال: وأتيت على قوم بطونهم كالبيوت فيها الحيات ترى من خارج بطونهم، فقلت: من هؤلاء يا جبريل؟ قال: هؤلاء أكلة الربا، فلما نزلت إلى السماء الدنيا نظرت أسفل (شيء) (٢) فإذا (برهج) (٣) ودخان وأصوات، فقلت: ما هذا يا جبريل؟ قال: هذه الشياطين (يَحرِفون) (٤) على أعين بني آدم، (لا يتفكروا) (٥) في ملكوت السماوات والأرض، ولولا (ذاك) (٦) لرأوا العجائب" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس رات مجھے سیر کروائی گئی ۔ میں نے دیکھا کہ جب ہم ساتویں آسمان تک پہنچے تو میں نے اپنے اوپر کو نظر اٹھائی تو مجھے گرج، بجلی اور کڑک دکھائی دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں ایک گروہ کے پاس آیا ان کے پیٹ گردنوں کی طرح تھے اور ان میں سانپ تھے جو باہر سے نظر آ رہے تھے۔ میں نے پوچھا : اے جبرائیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ جبرائیل نے کہا : یہ سود خور لوگ ہیں۔ پھر جب میں آسمان دنیا کی طرف اترا تو میں نے نیچے دیکھا۔ مجھے گرد، دھواں اور آوازیں سنائی دیں۔ میں نے پوچھاـ: اے جبرائیل ! یہ کیا ہے ؟ جبرائیل نے کہا : یہ شیاطین ہیں جو بنی آدم کی آنکھوں کو فریب دیتے ہیں۔ وہ آسمانوں اور زمین کی نشانیوں میں تفکر نہیں کرتے۔ اگر یہ چیزیں نہ ہوتیں تو بنی آدم کو عجائبات دکھائی دیتے۔
حدیث نمبر: 39335
٣٩٣٣٥ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: (أخبرنا) (١) سليمان التيمي وثابت البناني عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ أتيت على موسى ليلة أسري بي عند الكثيب الأحمر، وهو قائم يصلي في قبره (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس رات مجھے سیر کروائی گئی ۔ اس رات میں سُرخ ٹیلے کے پاس حضرت موسیٰ پر سے گزرا تو وہ اپنی قبر مبارک میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔
حدیث نمبر: 39336
٣٩٣٣٦ - حدثنا وكيع عن حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أنس بن مالك قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "مررت ليلة أسري بي على قوم (تقرض) (١) شفاههم بمقاريض من نار، (فقلت) (٢): من هولاء؟ قيل: هؤلاء خطباء من أهل الدنيا ممن (كانوا) (٣) (يأمرون) (٤) الناس بالبر وينسون (أنفسهم) (٥) وهم يتلون الكتاب أفلا (يعقلون) (٦) " (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس رات مجھے سیر کروائی گئی اس رات میں ایک ایسی قوم پر سے گزرا جن کے ہونٹوں کو جہنم کی قینچیوں سے کاٹا جا رہا تھا۔ میں نے پوچھا : یہ کون لوگ ہیں ؟ بتایا گیا کہ یہ اہل دنیا کے وہ خطیب ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم کرتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے۔ اور کتاب کی تلاوت کرتے تھے۔ کیا یہ لوگ عقل نہیں رکھتے ؟
حدیث نمبر: 39337
٣٩٣٣٧ - حدثنا علي بن مسهر عن أبي إسحاق الشيباني عن عبد اللَّه بن شداد قال: لما أسري بالنبي ﷺ أتي بدابة فوق الحمار (و) (١) دون البغل، يضع (حافره) (٢) ⦗٣٧٨⦘ عند منتهى طرفه، يقال له: براق، فمر رسول اللَّه ﷺ بعير للمشركين فَنَفَرَتْ فقالوا: يا هؤلاء ما هذا؟ قالوا: ما نرى شيئا ما هذه إلا ريح، حتى (أتى) (٣) بيت المقدس فأتي بإناءين في واحد خمر وفي الآخر لبن، فأخذ النبي ﷺ اللبن فقال له (جبريل) (٤): هديت وهديت أمتك-، ثم (سار) (٥) إلى (مصر) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شداد سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رات کو سیر کروائی گئی تو ایک گدھے سے بڑا ، خچر سے چھوٹا ایک جانور لایا گیا۔ وہ اپنی منتہی نظر پر اپنا قدم رکھتا تھا۔ اس کو براق کہا جاتا تھا۔ پس اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرکین کے اونٹوں کے قافلے کے پاس سے گزرے تو وہ بدک گئے مشرکین نے کہا : یارو ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا۔ ہمیں تو کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ یہ تو فقط ہوا ہے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت المقدس پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو برتن لائے گئے۔ ایک میں شراب تھی اور دوسرے میں دودھ تھا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دودھ (والا برتن) پکڑ لیا تو جبرائیل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہا۔ آپ کی راہ راست کی طرف راہنمائی کی گئی ہے اور آپ کی امت کو درست راہنمائی کی گئی ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہر کی طرف چلے۔
حدیث نمبر: 39338
٣٩٣٣٨ - حدثنا أبو خالد (الأحمر) (١) عن حميد عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لما انتهيت إلى السدرة إذا ورقها مثل آذان الفيلة وإذا نبقها أمثال القلال، فلما غشيها من أمر اللَّه ما (غشي) (٢) تحولت (فذكر) (٣) الياقوت" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضر ت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب میں سدرۃ کے پاس پہنچا تو (میں نے دیکھا کہ) اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے اور اس کے بیر مٹکوں کی طرح تھے پس جب اس کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح ڈھانپ لیا تو وہ بدل گئی پس مجھے یاقوت یاد آگیا۔
حدیث نمبر: 39339
٣٩٣٣٩ - حدثنا ابن يمان عن سفيان عن سلمة بن كهيل عن غزوان قال: سدرة المنتهى صُبْرُ الجنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت غزوان سے روایت ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ جنت کا وسط ہے۔
حدیث نمبر: 39340
٣٩٣٤٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سلمة بن كهيل عن الحسن العرني عن (هزيل) (١) بن شرحبيل عن عبد اللَّه في قوله: ﴿سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى﴾ قال: صُبْرُ الجنةِ، ⦗٣٧٩⦘ يعني: وسطها، عليها (فضول) (٢) السندس والإستبرق (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ ارشاد خداوندی۔ سدرۃ المنتہیٰ کے بارے میں فرماتے ہیں ۔ یہ جنت کا وسط ہے۔ اور اس پر ریشم اور نفیس قسم کے پردے ہیں۔
حدیث نمبر: 39341
٣٩٣٤١ - حدثنا أبو خالد عن يحيى بن (ميسرة عن) (١) عمرو بن مرة عن كعب قال: ﴿عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى﴾ ينتهي إليها أمر كل نبي وملك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب سے روایت ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ وہ مقام ہے جہاں پر ہر نبی اور فرشتہ کا معاملہ منتہی ہوتا ہے۔