کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کی اذیت پہنچانے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ان سے تکالیف پہنچی ہیں ان کا بیان
حدیث نمبر: 39319
٣٩٣١٩ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا علي بن مسهر عن (الأجلح) (٢) عن الذيَّال بن حرملة عن جابر بن عبد اللَّه قال: اجتمعت قريش يوما فقالوا: انظروا أعلمكم بالسحر والكهانة والشعر، فليات هذا الرجل الذي فرق جماعتنا وشتت أمرنا وعاب ديننا فليكلمه ولينظر ماذا يرد عليه، فقالوا: ما نعلم أحدا غير عتبة بن ربيعة، فقالوا: أنت يا أبا الوليد، فأتاه عتبة (فقال) (٣): يا محمد أنت خير أم عبد اللَّه؟ فسكت رسول اللَّه ﷺ (ثم) (٤) [(قال) (٥): أنت خير أم عبد المطلب؟ فسكت رسول اللَّه ﷺ (٦)، فقال: (إن كنت تزعم) (٧) (أن هؤلاء خير منك فقد عبدوا الآلهة التي (عبتها) (٨)، وإن كنت تزعم) (٩) أنك خير منهم فتكلم حتى نسمع قولك، إنا واللَّه ⦗٣٦٢⦘ ما رأينا سخلة قط (أشأم) (١٠) على (قومه) (١١) منك، فرقت جماعتنا، وشتت أمرنا وعبت ديننا، وفضحتنا في العرب، حتى لقد طار فيهم أن في قريش ساحرا، [وأن في قريش كاهنا، واللَّه ما ننتظر إلا مثل صيحة الحبلى أن (يقوم) (١٢) بعضنا لبعض بالسيوف حتى (نتفانى) (١٣) أيها الرجل] (١٤)، إن كان إنما بك الباءة فاختر أي نساء قريش (ونزوجك) (١٥) عشرا، وإن فإن إنما بك الحاجة (جمعنا) (١٦) لك حتى تكون أغنى قريش رجلا واحدا، فقال رسول اللَّه صلى اللَّه عليه (١٧) وسلم: "أفرغت؟ " قال: نعم، فقرأ رسول اللَّه ﷺ: ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ (١٨) ﴿حم (١) تَنْزِيلٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ حتى بلغ: ﴿فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنْذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ﴾ [فصلت: ١ - ٢، ١٣] فقال (له) (١٩) عتبة: حسبك حسبك ما (عندك) (٢٠) غير هذا، قال: "لا"، فرجع إلى قريش فقالوا: ما وراءك؟ قال: ما تركت شيئا أرى أنكم تكلمونه به إلا وقد كلمته به، (فقالوا) (٢١): فهل أجابك؟ قال: نعم، قال: لا، والذي نصبها بنية (٢٢) ⦗٣٦٣⦘ أما فهمت شيئا مما قال: غير أنه أنذركم صاعقة مثل صاعقة عاد وثمود، قالوا: ويلك يكلمك رجل بالعربية لا تدري ما قال، (قال) (٢٣): (لا) (٢٤) واللَّه] (٢٥) ما فهمت شيئا مما قال: غير ذكر الصاعقة (٢٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن قریش اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا : اپنے میں سے سب سے زیادہ جادو، کہانت اور شعر بنانے والے کو دیکھو اور پھر وہ شخص اس آدمی کے پاس آئے جس نے ہماری جماعت میں تفریق ڈالی ہے اور ہمارے معاملہ کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار کردیا ہے اور ہمارے دین میں عیب نکالا ہے۔ پھر وہ شخص اس سے گفتگو کرے اور دیکھے کہ یہ اس کو کیا جواب دیتے ہیں۔ لوگوں نے کہا : مجھے عتبہ بن ربیعہ کے علاوہ کسی کے بارے میں علم نہیں ہے۔ لوگوں نے کہا : اے ابوالولید تم ہی ہو۔ پس یہ عتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! تم بہتر ہو یا عبد اللہ ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔ پھر اس نے کہا : تم بہتر ہو یا عبد المطلب ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر خاموش رہے۔ پھر عتبہ بولا : اگر تمہارا خیال یہ ہے کہ یہ لوگ تم سے بہتر ہیں تو تحقیق ان لوگوں نے تو ان معبودان کی عبادت کی ہے جن کو تم عیب دار کہتے ہو۔ اور اگر تمہارا خیال یہ ہے کہ تم ان سے بہتر ہو تو پھر تم بولو تاکہ ہم تمہاری سُن سکیں۔ ہم نے تو بخدا اپنی قوم پر تم سے زیادہ منحوس کوئی بکری کا بچہ (بھی) نہیں دیکھا۔ تم نے ہماری جمعیت میں تفریق ڈال دی ہے اور ہمارے معاملہ کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار کردیا ہے۔ اور ہمارے دین میں عیب نکالا ہے اور تم نے ہمیں عرب میں رسوا کردیا ہے حتی کہ یہ بات عرب میں گردش کر رہی ہے کہ قریش میں ایک جادوگر ہے اور قریش میں ایک کاہن ہے۔ بخدا ! ہم نہیں انتظار کر رہے مگر حاملہ کی چیخ کی مثل کا تاکہ ہم میں سے بعض ، بعض کے لئے تلواریں لے کر کھڑے ہوجائیں یہاں تک کہ ہم سب فنا ہوجائیں۔ اے آدمی ! اگر تجھے شوق مردانگی ہے تو تم قریش کی عورتوں میں سے جسے چاہو پسند کرلو۔ ہم تمہاری دس شادیاں کردیں گے اور اگر تمہیں کوئی (مالی) ضرورت ہے تو ہم تمہارے لئے (اتنا) جمع کردیں گے کہ تم سارے قریش میں سے اکیلے ہی سب سے زیادہ غنی ہو جاؤ گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم بات کرچکے ہو ؟ عتبہ نے کہا : ہاں ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قراءت فرمائی۔ بسم اللہ الرَّحْمَن الرحیم { حم تَنْزِیلٌ مِنَ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ } یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آیت تک پہنچے۔ { فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنْذَرْتُکُمْ صَاعِقَۃً مِثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَثَمُودَ } تو عتبہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا۔ بس کرو۔ بس کرو۔ اس کے سوا تمہارے پاس کچھ ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں ! عتبہ، قریش کے پاس واپس لوٹا۔ قریش نے پوچھا : تمہارے پیچھے (کی) کیا (خبر) ہے ؟ عتبہ نے کہا : میں نے کوئی چیز نہیں چھوڑی جس کے بارے میں میرا خیال ہو کہ تم نے ان سے اس کے بارے میں گفتگو کرنی ہے مگر یہ کہ میں نے ان سے اس کے بارے میں گفتگو کرلی ہے۔ قریش نے کہا۔ پھر کیا انہوں نے تمہیں جواب دیا ہے۔ عتبہ نے کہا : ہاں ! (پھر) عتبہ نے کہا : قسم اس ذات کی جس نے خانہ کعبہ کو نصب کیا ہے مجھے ان کی کہی ہوئی باتوں میں سے کچھ بھی سمجھ نہیں آیا ۔ صرف یہ بات (سمجھ آئی) کہ وہ تمہیں عاد اور ثمود کی کڑک سے ڈراتے ہیں۔ قریش نے کہا : تم ہلاک ہو جاؤ۔ ایک آدمی تمہارے ساتھ عربی میں گفتگو کرتا ہے اور تم نہیں جانتے کہ اس نے کیا کہا ہے ۔ عتبہ نے کہا۔ بخدا ! مجھے ان کی گفتوا میں سے کڑک کے سوا کچھ سمجھ نہیں آیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39319
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ الأجلح صدوق على الصحيح، والذيال ذكره ابن حبان في الثقات، وروى عنه جماعة، وأخرجه الحاكم ٢/ ٢٥٣، وعبد بن حميد (١١٢٣)، وأبو يعلي (١٨١٨)، وأبو نعيم في دلائل النبوة (٢٥٨)، وابن عساكر ٣٨/ ٢٤٢، ويحيى بن معين في تاريخه برواية الدوري ٣/ ٥٤، والبغوي في التفسير ٤/ ١١٠، والثعلبي ٨/ ٢٨٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39319، ترقيم محمد عوامة 37715)
حدیث نمبر: 39320
٣٩٣٢٠ - حدثنا علي بن مسهر عن محمد بن عمرو (عن) (١) أبي سلمة عن عمرو ابن (العاص) (٢) قال: ما رأيت قريشا أرادوا قتل النبي ﷺ إلا يوما ائتمروا به وهم جلوس في ظل الكعبة ورسول اللَّه صلى اللَّه عليه (٣) وسلم يصلي عند المقام، فقام إليه عقبة بن أبي معيط فجعل رداءه في عنقه ثم جذبه حتى وجب (لركبتيه) (٤) ساقطا، وتصايح الناس، فظنوا أنه مقتول، (فأقبل) (٥) أبو بكر يشتد حتى أخذ بضبعي رسول اللَّه صلى اللَّه عليه (٦) وسلم من ورائه وهو يقول: أتقتلون رجلا أن يقول ربي اللَّه، ثم انصرفوا عن النبي صلى اللَّه عليه (٧) وسلم، فقام رسول اللَّه ﷺ فصلى فلما قضى صلاته مر بهم وهم جلوس في ظل الكعبة، فقال: "يا معشر قريش، أما والذي نفس ⦗٣٦٤⦘ محمد بيده ما أرسلت إليكم إلا بالذبح"، وأشار بيده إلى حلقه، قال: فقال له أبو جهل: يا محمد ما كنت جهولا، قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "أنت منهم" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ میں نے قریش کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ کرتے (کبھی) نہیں دیکھا تھا۔ مگر ایک دن جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف سازش کر رہے تھے اور وہ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس نماز ادا فرما رہے تھے۔ پس عقبہ بن ابی معیط کھڑا ہوا اور اپنی چادر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردن میں ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھینچا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھٹنوں کے بل گرنے لگے۔ لوگوں نے شورو غل کیا تو لوگوں نے یہ گمان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقتول ہوگئے ہیں۔ حضرت ابوبکر سختی کے ساتھ آگے بڑھے یہاں تک کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بغلوں کے پیچھے سے پکڑ لیا اور فرمانے لگے۔ { أَتَقْتُلُونَ رَجُلاً أَنْ یَقُولَ رَبِّی اللَّہُ } پھر لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہٹ گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریش کے پاس سے گزرے جبکہ وہ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے گروہ قریش ! خبردار ! قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے۔ مجھے تمہاری طرف نہیں بھیجا گیا مگر ذبح کے ساتھ ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنے حلق کی طرف اشارہ فرمایا : راوی کہتے ہیں : ابو جہل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا : اے محمد ! تم تو جاہل نہیں تھے۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو بھی ان میں سے ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39320
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39320، ترقيم محمد عوامة 37716)
حدیث نمبر: 39321
٣٩٣٢١ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن داود عن عكرمة عن ابن عباس قال: مر أبو جهل فقال: ألم أنهك (فانتهره) (١) النبي ﷺ فقال له أبو جهل: لم (تنتهرني) (٢) يا محمد، واللَّه لقد علمت ما بها رجل أكبر (ناديا) (٣) مني، قال: فقال جبريل: فليدع ناديه، (قال) (٤)؛ فقال ابن عباس: واللَّه (٥) لو دعا ناديه لأخذته (زبانية) (٦) العذاب (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو جہل گزرا اور اس نے کہا۔ کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ڈانٹ پلا دی۔ ابو جہل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا : اے محمد ! تم مجھے کیوں ڈانٹتے ہو ؟ بخدا تمہیں معلوم ہے کہ قریش میں کوئی شخص مجھ سے بڑی مجلس والا نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت جبرائیل نے فرمایا : { فَلْیَدْعُ نَادِیَہُ } راوی کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ۔ بخدا اگر ابو جہل اپنی مجلس (والوں) کو بلاتا تو اس کو عذاب کے فرشتے زبانیہ پکڑ لیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39321
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ أبو خالد صدوق، وداود بن الحصين ثقة إلا في عكرمة، أخرجه أحمد (٢٣٢٢)، والترمذي (٣٣٤٩)، والنسائي في الكبرى (١١٦٨٤)، والطبري ٣٠/ ٢٥٥، والبيهقي ٢/ ١٩٢، والطبراني (١١٩٥٠)، والحاكم ٢/ ٤٨٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39321، ترقيم محمد عوامة 37717)
حدیث نمبر: 39322
٣٩٣٢٢ - حدثنا جعفر بن عون قال: أخبرنا سفيان عن أبي إسحاق عن عمرو ابن ميمون عن عبد اللَّه بن مسعود قال: كان النبي ﷺ يصلي في ظل الكعبة قال: فقال أبو جهل وناس من قريش، قال: ونحرت جزور في ناحية مكة، قال: فأرسلوا فجاؤا من سلاها فطرحوه عليه، قال: فجاءت فاطمة حتى ألقته عنه، قال: فكان ⦗٣٦٥⦘ (يستحب) (١) (ثلاثًا) (٢) يقول: "اللهم عليك بقريش، اللهم عليك بقريش، (اللهم عليك بقريش) (٣): بأبي جهل بن هشام وعتبة بن ربيعة وشيبة بن ربيعة والوليد بن عتبة وأمية بن خلف وعقبة بن أبي معيط"، قال: قال عبد اللَّه: (فلقد) (٤) رأيتهم قتلى في قليب بدر، قال أبو إسحاق: ونسيت السابع (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے سایہ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں ۔ ابو جہل اور قریش کے لوگوں نے کہا : اس وقت مکہ کے کسی محلہ میں اونٹ ذبح ہوا تھا۔ راوی کہتے ہیں ۔ انہوں نے (کسی کو) بھیجا پس یہ اونٹ کی اوجری لے کر آئے اور انہوں نے اس کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پھینک دیا ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت فاطمہ نے آ کر اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہٹایا ۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی ۔ اے اللہ ! قریش کو پکڑ ، اے اللہ ! قریش کو پکڑ۔ اے اللہ ! قریش کو پکڑ۔ ابو جہل بن ہشام کو۔ عتبہ بن ربیعہ کو۔ شبہہ بن ربیعہ کو۔ ولید بن عتبہ کو ، امیہ بن خلف کو اور عقبہ بن ابی معیط کو۔ راوی کہتے ہیں : کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان سب کو قلیب بدر میں مقتول حالت میں دیکھا ۔ ابو اسحاق کہتے ہیں کہ مجھے ساتویں آدمی کا نام بھول گیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39322
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ جعفر ثقة، أخرجه البخاري (٢٤٠)، ومسلم (١٧٩٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39322، ترقيم محمد عوامة 37718)
حدیث نمبر: 39323
٣٩٣٢٣ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا الأعمش قال: حدثنا عباد عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: لما أن مرض أبو طالب دخل عليه رهط من قريش فيهم أبو جهل قال: فقالوا: إن ابن أخيك يشتم آلهتنا ويفعل ويفعل (وبقول (ويقول)) (١) (٢)، فلو بعثت إليه فنهيته، فبعث إليه أو قال: جاء النبي ﷺ فدخل البيت (وبينه) (٣) وبين أبي طالب مجلس رجل، قال: فخشي أبو جهل إن جلس النبي ﷺ (٤) إلى جنب أبي طالب أن يكون أرق له عليه، فوثب فجلس (في) (٥) ذلك المجلس، ولم يجد النبي ﷺ (٦) مجلسا قرب عمه، فجلس عند الباب قال أبو طالب: أي ابن أخي ما بال قومك يشكونك؟ يزعمون (أنك) (٧) تشتم آلهتهم وتقول ⦗٣٦٦⦘ (وتقول) (٨) وتفعل وتفعل، قال: فأكثروا عليه من اللحو، قال: فتكلم النبي ﵊ فقال: "يا عم، إني أريدهم على كلمة واحدة يقولونها تدين لهم بها العرب، وتؤدي (إليهم) (٩) بها العجم الجزية"، قال: ففزعوا لكلمته ولقوله قال: فقال القوم: كلمة واحدة -نعم وأبيك- وعشرا، قال: وما هي قال: أبو طالب وأي كلمة هي يا ابن أخي قال: "لا إله إلا اللَّه"، قال: فقاموا فزعين ينفضون ثيابهم وهم يقولون: ﴿أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾، قال: وقرأ من هذا الموضع إلى قوله: ﴿لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ﴾ [ص: ٥، ٨] (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب ابو طالب کا مرض (الوفات) شروع ہوا تو ان کے پاس قریش کا ایک گروہ حاضر ہوا جن میں ابو جہل بھی تھا۔ راوی کہتے ہیں ۔ انہوں نے (ابو طالب سے) کہا۔ آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں کو گالیاں دیتا ہے۔ اور یہ یہ کرتا ہے اور یہ یہ کہتا ہے۔ اگر (اس کی طرف کسی کو) بھیج دیں اور اس کو منع کردیں (تو اچھا ہو) ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف (کسی کو) بھیجا۔ یا راوی کہتے ہیں کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور گھر میں داخل ہوئے۔ ابو طالب اور آپ کے درمیان ایک آدمی کی نشست کی جگہ تھی۔ راوی کہتے ہیں : ابو جہل کوا س بات کا خوف ہوا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ابو طالب کے پہلو میں بیٹھ گئے تو یہ چیز ابو طالب کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نرم کر دے گی۔ پس ابو جہل اچھل کر اس نشست پر بیٹھ گیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے چچا کے قریب کوئی نشست نہ ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازہ کے پاس ہی بیٹھ گئے۔ ابو طالب نے کہا ! اے بھتیجے ! کیا وجہ ہے کہ آپ کی قوم آپ کے بارے میں شکایت کررہی ہے ؟ ان کا خیال ہے کہ آپ ان کے معبودان کو برا بھلا کہتے ہیں اور یہ یہ کہتے ہیں اور یہ یہ کرتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں۔ قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خوب ملامت کی۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گفتگو کی اور فرمایا : اے چچا جان ! میں انہیں ایسے کلمہ پر بلانا چاہتا ہوں جس کو یہ کہہ لیں گے تو عرب ان کے لئے فرمانبردارہو جائیں گے اور عجم ان کی طرف اپنے جزیہ بھیجیں گے۔ راوی کہتے ہیں : قریش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سُن کر حیران ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے کہا : ایک کلمہ ! ہاں ! تیرے باپ کی قسم ! دس (کلمہ بھی ایسے کہلوا لو) وہ کیا کلمہ ہے ؟ ابو طالب نے پوچھا اے بھتیجے ! وہ کون سا کلمہ ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ۔ راوی بیان کرتے ہیں۔ سب قریشی گھبرا کر اٹھ گئے اور اپنے کپڑوں کو جھاڑنے لگے اور وہ کہہ رہے تھے۔ { أَجَعَلَ الآلِہَۃَ إِلَہًا وَاحِدًا ، إِنَّ ہَذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ} راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے۔ { لَمَّا یَذُوقُوا عَذَابِ } تک قراءت کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39323
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39323، ترقيم محمد عوامة 37719)
حدیث نمبر: 39324
٣٩٣٢٤ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا يزيد بن زياد قال: حدثنا أبو صخرة جامع بن شداد عن طارق المحاربي قال: رأيت رسول اللَّه صلى اللَّه عليه (١) وسلم بسوق ذي المجاز وأنا في بياعة أبيعها، قال: فمر وعليه جبة له حمراء وهو ينادي بأعلى صوته: "أيها الناس، قولوا: لا إله إلا اللَّه تفلحوا"، ورجل يتبعه بالحجارة، (قد) (٢) أدمى كعبيه وعرقوبيه، وهو يقول: يا أيها الناس لا تطيعوه فإنه كذاب، قال: قلت: من هذا؟ قالوا: هذا غلام بني عبد المطلب، قلت: فمن هذا ⦗٣٦٧⦘ الذي يتبعه يرميه (بالحجارة؟) (٣) قالوا: عمه عبد العزى وهو أبو لهب (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق محاربی بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا۔ اور میں وہاں کوئی چیز فروخت کرنے کے لئے گیا تھا۔ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (وہاں سے) گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سُرخ رنگ کا جُبہ تھا ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بآواز بلند یہ ندا کر رہے تھے۔ ” اے لوگو ! لا الہ الا اللّٰہ کہہ لو۔ تم کامیاب ہو جاؤ گے۔ “ اور ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پتھر لے کر آ رہا تھا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ٹخنے اور ایڑیوں کو خون آلود کردیا تھا اور وہ شخص کہہ رہا تھا۔ اے لوگو ! اس کے پیچھے نہ لگنا ! کیونکہ یہ جھوٹا ہے۔ راوی کہتے ہیں ۔ میں نے پوچھا ؟ یہ نوجوان کون ہے ؟ لوگوں نے کہا ۔ یہ بنی عبد المطلب کا لڑکا ہے۔ میں نے پوچھا : یہ آدمی کون ہے جو اس کے پیچھے پتھر مار رہا ہے ؟ لوگوں نے کہا۔ اس کا چچا عبدا لعزی ہے اور یہی ابو لہب ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39324
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه النسائي ٨/ ٥٥، و (٢٣١١)، وابن حبان (٦٥٦٢)، وابن خزيمة (١٥٩)، والبخاري في خلق أفعال العباد (٢٧)، والدارقطني ٣/ ٤٤، والحاكم ٢/ ٦١١، والطبراني (٨١٧٥)، والبيهقي ١/ ٧٦ و ٦/ ٤٠، وروى ابن ماجه (٢٦٧٠) بعضه، وذكره ابن أبي شيبة مطولًا في المسند (٨٢٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39324، ترقيم محمد عوامة 37720)
حدیث نمبر: 39325
٣٩٣٢٥ - حدثنا وكيع عن حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس قال: قال رسول اللَّه صلى اللَّه عليه (١) وسلم: " (لقد) (٢) (أوذيت) (٣) في اللَّه وما يؤذى أحد، ولقد (أخفت) (٤) في اللَّه وما يخاف أحد، ولقد أتت علي ثالثة من بين يوم وليلة (وما لي) (٥) ولبلال طعام يأكله ذو كبد إلا ما واراه إبط (بلال) (٦) " (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے اللہ (کی راہ) میں اتنی اذیت دی گئی ہے کہ کسی کو اتنی اذیت نہیں دی گئی اور مجھے اللہ (کے راستہ) میں اتنا خوف زدہ کیا گیا ہے کہ کسی کو اتنا خوف زدہ نہیں کیا گیا۔ اور تحقیق مجھ پر تین دن رات ایسے بھی آئے کہ میرے اور بلال کے لئے کھانے کی اتنی چیز بھی نہیں ہوتی تھی جس کو کوئی ذی روح کھا سکے مگر وہ مقدار جس کو بلال کی بغل چھپاتی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39325
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٢٢١٢)، والترمذي (٢٤٧٢)، وابن ماجه (١٥١)، وابن حبان (٦٥٦٠)، وأبو يعلي (٣٤٢٣)، وعبد بن حميد (١٣١٧)، والبيهقي في شعب الإيمان (١٦٣٢)، وأبو نعيم في دلائل النبوة (٣٥٣)، وأبو عوانة ٢/ ٣٩، والضياء في المختارة (١٦٣٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39325، ترقيم محمد عوامة 37721)
حدیث نمبر: 39326
٣٩٣٢٦ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن حجاج عن منذر عن ابن الحنفية (في قوله) (١): ﴿وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِهِمْ﴾ [العنكبوت: ١٣]: قال: كان أبو جهل وصناديد قريش يتلقون الناس إذا جاؤا إلى النبي صلى اللَّه عليه (٢) وسلم ⦗٣٦٨⦘ (يسلمون) (٣) فيقولون: إنه يحرم الخمر ويحرم الزنا (ويحرم) (٤) ما كانت تصنع العرب فارجعوا فنحن نحمل أوزاركم، فنزلت هذه الآية: ﴿وَلَيَحْمِلُنَّ (أَثْقَالَهُمْ) (٥)﴾ (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن الحنفیہ سے قول خداوندی { وَلَیَحْمِلُنَّ أَثْقَالَہُمْ وَأَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِہِمْ } کی تفسیر میں منقول ہے ۔ فرمایا : ابو جہل اور سردارانِ قریش لوگوں سے راستہ میں ملاقات کرتے جبکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اسلام لانے کے لئے حاضر ہوتے اور لوگوں سے کہتے۔ یہ خمر کو حرام قرار دیتا ہے اور زنا کو حرام قرار دیتا ہے ۔ جو چیزیں عرب کرتے تھے یہ انہیں حرام قرار دیتا ہے۔ پس تم لوٹ جاؤ۔ ہم تمہارے بوجھ کو اٹھائیں گے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ { وَلَیَحْمِلُنَّ أَثْقَالَہُمْ }
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39326
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ ابن الحنفية تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39326، ترقيم محمد عوامة 37722)
حدیث نمبر: 39327
٣٩٣٢٧ - حدثنا يزيد بن هارون عن حميد عن أنس أن النبي صلى اللَّه عليه (١) وسلم شُج في وجهه وكسرت رباعيته ورمي رمية على كتفه فجعل يمسح الدم عن وجهه ويقول: "كيف تفلح أمة فعلت هذا بنبيها وهو يدعوهم (إلى اللَّه) (٢) "، فأنزل اللَّه: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ﴾ [آل عمران: ١٢٨] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک میں زخم آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کے چار دانت شہید ہوگئے اور ایک تیر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے پر لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چہرے سے خون کو پونچھ رہے تھے اور فرما رہے تھے۔ وہ امت کس طرح کامیاب ہوسکتی ہے جس نے اپنے نبی کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا حالانکہ وہ نبی ان کو اللہ کی طرف بلاتا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { لَیْسَ لَک مِنَ الأَمْرِ شَیْئٌ ، أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ ، أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ }۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39327
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٩١)، وأحمد ٣/ ٩٩ (١١٩٧٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39327، ترقيم محمد عوامة 37723)
حدیث نمبر: 39328
٣٩٣٢٨ - حدثنا أبو أسامة حدثنا (مجالد) (١) عن عامر قال: قالت قريش لرسول اللَّه ﷺ: إن كنت نبيا كما تزعم فباعد جبلي مكة (أخشبيها) (٢) هذين (مسيرة) (٣) أربعة أيام أو خمسة، فإنها (ضيقة) (٤) حتى نزرع فيها ونرعى، ⦗٣٦٩⦘ وابعث لنا (آباءنا) (٥) من الموتى حتى يكلمونا ويخبرونا أنك نبي، واحملنا إلى الشام أو إلى اليمن أو إلى (الحيرة) (٦)، حتى نذهب ونجيء في ليلة كما زعمت أنك فعلته فأنزل اللَّه: ﴿وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى﴾ [الرعد: ٣١] (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر روایت کرتے ہیں کہ قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا : اگر تم نبی ہو ! جیسا کہ تمہارا خیال ہے تو پھر تم مکہ کے ان دو پہاڑوں کو ، جن پر پانی جمع نہیں رہتا، چار یا پانچ دن کی مسافت تک دور کردو ۔ کیونکہ یہ تنگ ہیں۔ تاکہ ہم اس میں کھیتی باڑی کریں اور ہم اس کو چراگاہ بنائیں۔ اور ہمارے فوت شدہ آباء کوا اٹھاؤ تاکہ وہ ہم سے باتیں کریں اور ہمیں بتائیں کہ آپ نبی ہیں۔ اور آپ ہمیں شام ، یمن اور حیرۃ کی طرف اٹھائیں تاکہ ہم ایک ہی رات میں آئیں اور جائیں۔ جیسا کہ آپ کا گمان ہے کہ آپ نے ایسا کیا ہے۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ ، أَوْ قُطِّعَتْ بِہِ الأَرْضُ ، أَوْ کُلِّمَ بِہِ الْمَوْتَی }۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39328
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ عامر تابعي، ومجالد ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39328، ترقيم محمد عوامة 37724)