کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بارے میں آنے والی روایات کا بیان
حدیث نمبر: 39312
٣٩٣١٢ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا عفان قال: حدثنا وهيب قال: حدثنا خالد الحذاء عن عبد اللَّه بن شقيق أن رجلا سأل النبي ﷺ متى كنت نبيًا؟ قال: "كنت نبيا وآدم بين الروح والجسد" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شقیق روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا۔ آپ کب سے نبی (بنائے گئے) ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوابًا فرمایا : میں نبی تھا جبکہ آدم روح اور جسد کے درمیان تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39312
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، عبد اللَّه بن شقيق تابعي، وأخرجه أحمد (١٦٦٢٣)، والحاكم ٢/ ٦٠٨، والطبراني ٢٠/ (٨٣٤)، وابن أبي عاصم في السنة (٤١٠)، والآجري في الشريعة ص ٤١٦، وأبو نعيم في الحلية ٩/ ٥٣، وابن قانع في معجم الصحابة ٣/ ١٣٠، وابن سعد ٧/ ٦٠، والطحاوي في شرح المشكل (٥٩٧٧)، والبيهقي في الدلائل ١/ ٨٤، وابن الأثير في أسد الغابة ٨/ ٢٨٥، والمزي ١٤/ ٣٦٠، والذهبي في معجم شيوخه ٢/ ١٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39312، ترقيم محمد عوامة 37708)
حدیث نمبر: 39313
٣٩٣١٣ - حدثنا علي بن مسهر عن أبي إسحاق الشيباني عن عبد اللَّه بن شداد ابن الهاد قال: نزل (جبريل) (١) على رسول اللَّه ﷺ (فغمه) (٢) ثم قال (٣): اقرأ، قال: "وما اقرأ؟ "، قال: (فغمه) (٤)، ثم قال (له) (٥): اقرأ، قال: "وما اقرأ؟ "، قال: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾، فأتى خديجة فأخبرها بالذي رأى، فأتت ورقة بن نوفل ⦗٣٥٧⦘ فذكرت ذلك له، فقال لها: هل رأى زوجك صاحبه في حضر؟ قالت: نعم، قال: فإن زوجك نبي (و) (٦) سيصيبه من أمته بلاء (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شداد بن الہاد سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت جبرائیل تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھانپ لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا : پڑھو ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں کیا پڑھوں ؟ راوی کہتے ہیں ۔ جبرائیل نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھانپ لیا اور کہا : پڑھو ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں کیا پڑھوں ؟ جبرائیل نے کہا : { اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ } آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت خدیجہ کے پاس تشریف لائے اور جو کچھ دیکھا تھا۔ اس کی حضرت خدیجہ کو خبر دی۔ وہ ورقہ بن نوفل کے پاس حاضر ہوئیں اور ان کے سامنے یہ بات ذکر کی۔ ورقہ نے خدیجہ سے کہا : کیا تمہارے شوہر نے اپنے اس ساتھی کو حضر میں دیکھا ہے ؟ خدیجہ نے کہا : ہاں ! ورقہ نے کہا : پھر (تو) تیرا شوہر نبی ہے اور ان کو عنقریب اپنی امت کی طرف سے آزمائش آئے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39313
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عبد اللَّه بن شداد لم تثبت له رواية عن النبي ﷺ، أخرجه ابن بشكوال ١/ ٣٢٠، وابن جرير ٣٠/ ٢٥٢، وفي التاريخ ١/ ٥٣٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39313، ترقيم محمد عوامة 37709)
حدیث نمبر: 39314
٣٩٣١٤ - حدثنا عبيد اللَّه قال: (أخبرنا) (١) إسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي (ميسرة) (٢) أن رسول اللَّه ﷺ كان إذا برز سمع من يناديه: يا محمد، فإذا سمع الصوت انطلق هاربا فأتى خديجة فذكر ذلك لها فقال: "يا خديجة قد خشيت أن يكون قد خالط عقلي شيء إني إذا برزت أسمع من (يناديني) (٣) فلا أرى شيئا فأنطلق هاربا فإذا هو عندي يناديني"، فقالت: ما كان اللَّه ليفعل بك ذلك، إنك ما (علمت) (٤) (تصدق) (٥) الحديث وتؤدي الأمانة وتصل الرحم، فما كان (اللَّه) (٦) ليفعل بك ذلك، فأسرت ذلك إلى أبي بكر -وكان نديما له في الجاهلية- فأخذ أبو بكر بيده، فانطلق به إلى ورقة فقال: وما ذاك؟ فحدثه بما حدثته خديجة، فأتى ورقة فذكر ذلك له، فقال ورقة: هل ترى شيئًا؟ قال: "لا، ولكني إذا برزت سمعت النداء، (فلا أرى شيئا فأنطلق هاربا فإذا هو عندي"، قال: فلا تفعل) (٧)، فإذا سمعت النداء فأثبت حتى تسمع ما يقول لك، فلما برز سمع النداء: يا محمد، قال: "لبيك"، قال: ⦗٣٥٨⦘ (قل) (٨): أشهد أن لا إله إلا اللَّه وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، ثم قال له: قل: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (٢) الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (٣) (مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ) (٩)﴾ حتى فرغ من فاتحة الكتاب، ثم أتى ورقة، فذكر ذلك له، فقال له ورقة: أبشر ثم أبشر (ثم أبشر) (١٠)، فإني أشهد أنك الرسول الذي بشر به عيسى ﵇ (١١) (برسول) (١٢) يأتي من بعدي اسمه أحمد، فأنا أشهد أنك (أنت) (١٣) أحمد، وأنا أشهد أنك محمد، وأنا أشهد أنك رسول اللَّه، وليوشك أن تؤمر بالقتال، ولئن أمرت بالقتال (وأنا حي) (١٤) لأقاتلن معك، فمات ورقة فقال رسول اللَّه ﷺ: " (رأيت) (١٥) القس في الجنة عليه ثياب خضر" (١٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو میسرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کھلی جگہ میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آواز دینے والے کو سنتے جو آپ کو آواز دیتا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ آواز سنتے تو آپ دوڑتے ہوئے چلنے لگتے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت خدیجہ کے پاس تشریف لائے اور ان کے سامنے یہ بات ذکر کی اور فرمایا : اے خدیجہ ! مجھے ڈر لگتا ہے کہ میری عقل میں کوئی چیز خلط ہوگئی ہے۔ میں جب کھلی جگہ کی طرف نکلتا ہوں تو میں کسی منادی کو سنتا ہوں لیکن مجھے کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی پس میں دوڑا ہوا چلا آیا۔ ناگہاں وہ منادی میرے ساتھ ہی تھا اور وہ مجھے آواز دے رہا تھا۔ حضرت خدیجہ نے عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا نہیں کرے گا۔ آپ کو جتنا میں جانتی ہوں تو آپ سچ بات کی تصدیق کرتے ہیں اور امانت کو ادا کرتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ایسا نہیں کرے گا۔ حضرت خدیجہ نے یہ بات خفیہ طور پر حضرت ابوبکر سے بیان کردی۔ ابوبکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جاہلیت کے زمانہ میں دوست تھے۔ حضرت ابوبکر نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ورقہ کے پاس لے گئے۔ ورقہ نے پوچھا : کیا بات ہے ؟ آپ نے وہ ساری بات بیان کی جو حضرت خدیجہ نے آپ کو بتائی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ورقہ کے پاس آئے اور یہ واقعہ ذکر کیا ہے۔ ورقہ نے پوچھا ؟ آپ نے کچھ دیکھا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں ! لیکن جب میں باہر نکلتا ہوں تو ایک آواز سنتا ہوں اور مجھے کوئی چیز دکھائی نہیں دی تو میں دوڑا ہوا چلا پس ناگہاں وہ منادی میرے ساتھ ہی تھا۔ ورقہ نے کہا : آپ (ایسا) نہ کریں۔ پس جب آپ آواز سنیں تو رُک جائیں یہاں تک کہ جو بات وہ آپ سے کہتا ہے اس کو سُن لیں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھلی جگہ کی طرف نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آواز سُنی : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں حاضر ! منادی نے کہا : کہیے ! میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ پھر منادی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا { الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ، الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ، مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ } فاتحہ شریف کے آخر تک پڑھایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ورقہ کے پاس تشریف لائے اور اس کے سامنے یہ بات ذکر کی تو ورقہ نے کہا : تمہیں بشارت ہو پھر تمہیں بشارت ہو پھر تمہیں بشارت ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ہی وہی رسول ہیں جن کی بشارت عیسیٰ نے دی تھی۔ (فرمایا تھا) ایسا رسول جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا۔ پس میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ احمد ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ محمد ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اور قریب ہے کہ آپ کو قتال (جہاد) کا حکم دیا جائے اور اگر آپ کو قتال کا حکم دیا گیا اور میں زندہ ہوا تو البتہ ضرو ر بالضرور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں قتال کروں گا۔ پھر (اس کے بعد) ورقہ فوت ہوگئے ۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں نے اس عیسائی عالم کو جنت کے اندر سبز کپڑوں میں دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39314
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو ميسرة عمر بن شرحبيل تابعي مخضرم، وأخرجه الثعلبي في التفسير ١٠/ ٢٤٤، وابن إسحاق في السيرة (١٥٧)، والبيهقي في دلائل النبوة ٢/ ١٦٤، والآجري في الشريعة (٩٧٣)، وابن عساكر ٦٣/ ٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39314، ترقيم محمد عوامة 37710)
حدیث نمبر: 39315
٣٩٣١٥ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن الحسن قال: (ابتعث) (١) اللَّه النبي ﷺ (٢) مرة لإدخال رجل الجنة، قال: فمر على (كنيسة) (٣) ⦗٣٥٩⦘ من كنائس اليهود فدخل إليهم وهم يقرؤون سِفْرَهُمْ، فلما رأوه أطبقوا السفر وخرجوا، (و) (٤) في ناحية من الكنيسة رجل يموت قال: فجاء إليه فقال: إنما منعهم أن (يقرؤا) (٥) أنك أتيتهم وهم يقرؤن (نعت) (٦) نبي هو نعتك، ثم جاء إلى السفر ففتحه ثم قرأ فقال: أشهد أن لا إله إلا اللَّه وأن محمدا رسول اللَّه ﷺ، (ثم قبض فقال رسول اللَّه ﷺ) (٧): "دونكم أخاكم"، (قال) (٨): فغسلوه وكفنوه وحنطوه ثم صلى عليه (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک آدمی کو جنت میں داخل کرنے کے لئے بھیجا۔ راوی کہتے ہیں : پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہود کی عبادت گاہوں میں سے ایک عبادت گاہ کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اس وقت وہ لوگ اپنی کتاب پڑھ رہے تھے۔ جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو کتاب کو بند کردیا اور باہر نکل گئے۔ عبادت گاہ کے ایک کونہ میں ایک آدمی مر نے کے قریب پڑا ہوا تھا ۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آدمی کے پاس تشریف لائے تو اس آدمی نے عرض کیا۔ ان لوگوں (یہود) کو پڑھنے سے اس بات نے منع کیا ہے کہ آپ ان کے پاس تشریف لائے ہیں اور یہ لوگ (اس وقت) ایک نبی کی صفات پڑھ رہے تھے۔ جو کہ آپ ہی ہیں۔ پھر وہ آدمی کتاب کے پاس آیا ۔ اس کو کھولا اور پڑھا تو کہا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ پھر اس آدمی کی روح قبض ہوگئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’؛ اپنے بھائی کو سنبھالو۔ راوی کہتے ہیں : پھر صحابہ نے اس کو غسل دیا اور کفن دیا اور حنوط لگایا پھر اس پر جنازہ پڑھا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39315
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ الحسن تابعي، وعطاء اختلط.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39315، ترقيم محمد عوامة 37711)
حدیث نمبر: 39316
٣٩٣١٦ - حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس أن رسول اللَّه ﷺ أتاه (جبريل) (١) وهو يلعب مع الغلمان، فأخذه فصرعه فشق عن قلبه، فاستخرج القلب ثم استخرج علقة منه فقال: هذا حظ الشيطان منك، ثم غسله في (طست) (٢) من ذهب بماء زمزم، ثم لأمه ثم أعاده في مكانه، قال: وجاء الغلمان يسعون إلى أمه -يعني: (ظئره) (٣)، (فقالوا) (٤): إن محمدا (٥) - قد قتل، (قال) (٦): ⦗٣٦٠⦘ فاستقبلوه وهو منتقع اللون، قال أنس: لقد كنت أرى أثر (المخيط) (٧) في صدره (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت جبرائیل آئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ جبرائیل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکڑا اور زمین پر لٹا دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سینہ مبارک شق کیا اور قلب مبارک کو باہر نکالا پھر قلب مبارک سے ایک لوتھڑا نکالا اور فرمایا۔ یہ آپ کے (دل میں) سے شیطان کا حصہ ہے۔ پھر جبرائیل نے دل کو ایک سونے کے طشت میں ماء زمزم سے دھویا پھر جبرائیل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل کو سیا پھر اس کو اس کی جگہ میں واپس رکھ دیا۔ راوی کہتے ہیں : بچے دوڑتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امی، دائی، کے پاس آئے اور کہا : محمد قتل کردیئے گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ بدلا ہوا تھا ۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ میں سُوئی کے اثرات دیکھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39316
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٦٢)، وأحمد ٣/ ١٤٩ (١٢٥٢٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39316، ترقيم محمد عوامة 37712)
حدیث نمبر: 39317
٣٩٣١٧ - حدثنا (أبو أسامة عن) (١) محمد بن أبي حفصة عن الزهري عن أبي سلمة عن جابر (قال) (٢): احتبس الوحي عن النبي ﷺ (٣) في أول أمره، وحبب إليه الخلاء، (فجعل) (٤) يخلو في حراء، فبينما هو مقبل من حراء قال: "إذا أنا (بحس) (٥) فوقي فرفعت رأسي، فإذا أنا بشيء على كرسي، فلما رأيته (جئثت) (٦) إلى الأرض وأتيت (أهلي) (٧) بسرعة فقلت: (دثروني) (٨) (دثروني) (٩) فأتاني جبريل (١٠) فجعل يقول: ﴿يَاأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ (١) قُمْ فَأَنْذِرْ (٢) وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ (٣) وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ (٤) وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾ " (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شروع شروع میں وحی بند ہوگئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خلوت محبوب ہوگئی پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حِرا میں خلوت گزین ہوجاتے۔ پس اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حرا کے سامنے تھے ، فرمایا : جب میں نے اپنے اوپر سے ہلکی آواز سُنی تو میں نے اپنا سر اٹھایا ۔ تو مجھے اچانک کرسی پر کوئی چیز دکھائی دی پس جب میں نے اسے دیکھا تو گھبرا کر زمین کی طرف دیکھا اور میں اپنے گھر والوں کے پاس جلدی جلدی آیا اور میں نے کہا۔ مجھے کمبل اوڑھا دو ، مجھے کمبل اوڑھا دو ۔ پھر میرے پاس جبرائیل آئے اور انہوں نے کہنا شروع کیا : { یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ ، قُمْ فَأَنْذِرْ ، وَرَبَّک فَکَبِّرْ ، وَثِیَابَک فَطَہِّرْ ، وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ }۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39317
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن أبي حفصة صدوق على الصحيح، والحديث أخرجه البخاري (٤٩٢٢)، ومسلم (١٦١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39317، ترقيم محمد عوامة 37713)
حدیث نمبر: 39318
٣٩٣١٨ - حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى عن داود عن عكرمة في قوله: ﴿يَاأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ﴾ قال: دثرت هذا الأمر فقم به، وقوله: ﴿يَاأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ﴾ قال: زملت هذا الأمر فقم به (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے قول خداوندی { یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ } کے بارے میں منقول ہے فرمایا : تجھے یہ معاملہ اوڑھا دیا گیا ہے پس تو اس کو لے کر کھڑا ہوجا۔ اور قول خداوندی { یَا أَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ } کے بارے میں منقول ہے کہ تمہیں یہ معاملہ لپیٹ دیا گیا ہے پس تم اس کو لے کر کھڑے ہو جاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39318
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عكرمة تابعي، والخبر أخرجه ابن جرير في التفسير ٢٩/ ١٤٤، وورد من طريق عكرمة عن ابن عباس عند الحاكم ٢/ ٥٤٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39318، ترقيم محمد عوامة 37714)