کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ان باتوں کا بیان جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے قبل دیکھا
حدیث نمبر: 39299
٣٩٢٩٩ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا (مجالد) (٢) قال: حدثنا عامر قال: انطلق عمر إلى يهود فقال: أنشدكم (اللَّه) (٣) الذي أنزل التوراة على موسى هل تجدون محمدا (٤) في كتبكم؟ قالوا: نعم، قال: فما يمنعكم أن تتبعوه؟ (فقالوا) (٥): إن اللَّه لم يبعث رسولا إلا كان له من الملائكة (كفل) (٦)، (وإن) (٧) جبرائيل (كفل) (٨) محمد (٩)، وهو الذي يأتيه، وهو عدونا من بين الملائكة، وميكائيل سلمنا، فلو كان ميكائيل هو الذي (يأتيه) (١٠) أسلمنا، قال: (فإني) (١١) أنشدكم باللَّه الذي أنزل التوراة على موسى ما منزلتهما من رب العالمين؟ قالوا: جبرائيل عن يمينه وميكائيل عن يساره، قال عمر: فإني (أشهد) (١٢) ما (يتنزلان) (١٣) إلا بإذن اللَّه، وما كان ميكائيل ⦗٣٤٨⦘ (ليسالم) (١٤) عدو جبرئيل، وما كان جبرئيل (ليسالم) (١٥) عدو ميكائيل فبينما هو عندهم إذ جاء النبي ﷺ فقالوا: هذا (صاحبك) (١٦) يا ابن الخطاب؟ فقام إليه فأتاه وقد أُنزل عليه: ﴿قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّه﴾ إلى قوله: ﴿فَإِنَّ اللَّهَ عَدُوٌّ لِلْكَافِرِينَ﴾ [البقرة: ٩٧، ٩٨] (١٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر یہود کے پاس گئے اور کہا میں تمہیں اس خدا کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ پر تورات اتاری۔ کیا تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (کی صفات) کو اپنی کتابوں میں پاتے ہو ؟ یہود نے کہا ۔ ہاں ۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ پھر تمہیں ان کی اتباع کرنے سے کیا شئی روکتی ہے ؟ یہود نے کہا : اللہ تعالیٰ نے کوئی رسول مبعوث نہیں فرمایا مگر یہ کہ فرشتوں میں سے اس کا کوئی ساتھی ہوتا ہے۔ اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھی جبرائیل ہے اور وہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا ہے۔ اور فرشتوں میں سے یہ ہمارے دشمن ہیں۔ اور میکائیل سے ہماری مصالحت ہے ۔ پس اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس میکائیل آیا کرتے تو ہم اسلام لے آتے۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ میں تمہیں اس خدا کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ پر تورات نازل کی ہے۔ ان دونوں فرشتوں کی رب العالمین کے ہاں کیا قدر ومنزلت ہے ؟ یہود نے کہا۔ جبرائیل اللہ تعالیٰ کے دائیں طرف ہے اور میکائیل اللہ تعالیٰ کے بائیں طرف ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ پس بیشک میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ دونوں فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے نازل ہوتے ہیں ۔ اور میکائیل ایسا نہیں ہے جو جبرائیل کے دشمنوں سے مصالحت رکھتا ہو اور نہ ہی جبرائیل ایسا ہے کہ وہ میکائیل کے دشمنوں سے مصالحت رکھتا ہو۔ حضرت عمر ، یہود کے پاس ہی موجود تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو یہود نے کہا۔ یہ تمہارے ساتھی ہیں۔ اے ابن خطاب ! پس حضرت عمر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے درآنحالیکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیات نازل ہوچکی تھیں۔ { مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِیلَ فَإِنَّہُ نَزَّلَہُ عَلَی قَلْبِکَ بِإِذْنِ اللہِ …إِلَی قَوْلِہِ… فَإِنَّ اللَّہَ عَدُوٌّ لِلْکَافِرِینَ }۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39299
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ عامر تابعي، ومجالد ضعيف، أخرجه ابن أبي حاتم (٩٦٠)، وابن جرير في التفسير ١/ ٤٣٣ و ٤٣٥، وابن شبه (١٤٦٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39299، ترقيم محمد عوامة 37695)
حدیث نمبر: 39300
٣٩٣٠٠ - حدثنا (قُراد) (١) أبو نوح قال: (أخبرنا) (٢) يونس (بن) (٣) أبي إسحاق عن أبي بكر بن أبي موسى (عن أبيه) (٤) قال: خرج أبو طالب إلى الشام وخرج معه رسول اللَّه صلى اللَّه وعليه (وسلم) (٥) وأشياخ من قريش، فلما أشرفوا على الراهب هبطوا فحلوا رحالهم، (فخرج) (٦) إليهم الراهب، وكانوا قبل ذلك يمرون به فلا يخرج إليهم ولا يلتفت، قال: فهم يحلون رحالهم فجعل يتخللهم حتى جاء فأخذ بيد رسول اللَّه ﷺ فقال: هذا سيد العالين، هذا رسول رب العالمين، هذا (يبعثه) (٧) ⦗٣٤٩⦘ اللَّه رحمة للعالمين، فقال له أشياخ من قريش: ما (علمك؟) (٨) قال: إنكم (٩) حين أشرفتم من العقبة لم (تبق شجرة) (١٠) ولا (حجر) (١١) إلا خر ساجدا، ولا (يسجدون) (١٢) إلا لنبي، وإني لأعرفه بخاتم النبوة أسفل من غضروف كتفه مثل التفاحة، ثم رجع (ووضع) (١٣) لهم طعاما، فلما أتاهم به وكان هو في (رعية) (١٤) (الإبل) (١٥) قال: أرسلوا إليه، فأقبل وعليه غمامة تظله، قال: انظروا إليه عليه غمامة تظله، فلما دنا (من) (١٦) القوم وجدهم قد سبقوا إلى فيء الشجرة (١٧)، (فلما جلس مال فيء الشجرة عليه، فقال: انظروا إلى فيء الشجرة) (١٨) (مال) (١٩) عليه، قال: فبينما هو قائم عليهم وهو يناشدهم أن لا (يذهبوا) (٢٠) به إلى الروم، (فإن الروم) (٢١) لو رأوه عرفوه بالصفة فقتلوه، فالتفت فإذا هو بتسعة نفر قد أقبلوا من الروم فاستقبلهم، فقال (٢٢): ما جاء ⦗٣٥٠⦘ بكم؟ (قالوا) (٢٣): جئنا أن هذا النبي خارج في هذا الشهر، فلم يبق في طريق إلا قد بعث إليه ناس، وإنا أخبرنا خبره فبعثنا إلى طريقك هذا، فقال (لهم) (٢٤): ما خلفتم خلفكم أحدا هو خير منكم؟ قالوا: (لا) (٢٥)، إنما (أخبرنا) (٢٦) خبره (٢٧) لطريقك هذا، قال: أفرأيتم أمرا أراد اللَّه أن يقضيه (٢٨) (هل) (٢٩) يستطيع أحد من الناس رده؟ قالوا: لا، قال (٣٠): (فبايعوه) (٣١) وأقاموا معه، فأتاهم فقال: أنشدكم باللَّه أيكم وليه؟ قال أبو طالب: أنا، فلم يزل يناشده حتى رده أبو طالب وبعث معه أبو بكر (بلالا) (٣٢) وزوده الراهب من الكعك والزيت (٣٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن ابو موسیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابو طالب شام کی طرف نکلے۔ اور ان کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قریش کے چند بڑی عمر کے لوگ تھے۔ پس جب یہ لوگ راہب کے پاس پہنچے۔ انہوں نے پڑاؤ ڈالا اور یہ اپنی سواری سے اترے۔ تو راہب ان کی طرف آیا۔ اور اس سے پہلے یہ لوگ راہب کے پاس سے گزرتے تھے لیکن وہ ان کی طرف نہیں آتا تھا اور نہ ہی ان کی طرف توجہ کرتا تھا۔ راوی کہتے ہیں : یہ لوگ اپنی سواریوں سے اتر رہے تھے تو راہب نے ان کے درمیان پھرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ راہب نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا۔ یہ جہانوں کے سردار ہیں اور یہ جہانوں کے پروردگار کے رسول ہیں۔ اور ان کو اللہ تعالیٰ نے رحمۃ للعالمین بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔ قریش کے لوگوں نے راہب سے کہا۔ تمہیں کیا علم ہے ؟ اس نے کہا ۔ جب تم لوگ گھاٹی سے بلند ہوئے تو کوئی درخت اور پتھر باقی نہیں رہا مگر یہ کہ اس نے جھک کر سجدہ کیا۔ اور یہ چیزیں انبیاء ہی کو سجدہ کرتی ہیں اور میں ان کو مہر نبوت کی وجہ سے پہچانتا ہوں جو مہر ان کے کندھے کی نرم ہڈی کے نیچے مثل سیب کے ہے۔ ٢۔ پھر راہب لوٹا اور اس نے ان (قافلہ والوں) کے لئے کھانا تیار کیا ۔ پس جب وہ قافلہ والوں کے پاس کھانا لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹوں کی حفاظت پر (مامور) تھے۔ راہب نے کہا۔ ان کی طرف (کوئی آدمی) بھیجو۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک بادل سایہ کیے ہوئے تھا۔ راہب نے کہا۔ تم انہیں دیکھو ! ان پر ایک بادل ہے جس نے ان پر سایہ کیا ہوا ہے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے قریب پہنچے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے ہی درخت کے سایہ میں تھے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے تو درخت کا سایہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف مائل ہوگیا۔ راہب نے کہا۔ تم درخت کے سایہ کی طرف دیکھو وہ (بھی) ان کی طرف جھک گیا ہے۔ ٣۔ راوی کہتے ہیں : جب راہب قافلہ والوں کے پاس کھڑا تھا اور ان سے مطالبہ کر رہا تھا کہ قافلے والے ان کو روم لے کر نہ جائیں۔ کیونکہ رومی لوگ انہیں دیکھ لیں گے تو انہیں (ان کی) صفات کی وجہ سے پہچان جائیں گے اور انہیں قتل کردیں گے۔ اس دوران اس نے مڑ کر دیکھا تو نو (٩) افراد کا گروہ جو کہ روم سے آیا تھا ، موجود تھا۔ راہب نے ان کی طرف رُخ پھیرا اور پوچھا۔ تمہیں کیا چیز یہاں لائی ہے ؟ انہوں نے کہا : ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ یہ نبی اسی شہر سے نکلے گا۔ پس کوئی راستہ باقی نہیں رہا مگر یہ کہ اس کی طرف لوگوں کو بھیج دیا گیا ہے۔ اور ہمیں اس کے متعلق خبر دی گئی ہے اور ہمیں تمہارے اس راستہ کی طرف بھیجا گیا ہے۔ راہب نے ان افراد سے کہا۔ تم لوگوں نے اپنے پیچھے کسی کو خود سے بہتر چھوڑا ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ! ہمیں تو ان کی خبر کے بارے میں آپ کے راستہ کی طرف ہی مطلع کیا گیا ہے۔ راہب نے کہا : تم مجھے اس معاملہ کے بارے میں خبر دو جس کو اللہ تعالیٰ نے پورا کرنے کا ارادہ کرلیا ہے تو کیا لوگوں میں سے کوئی اس کو رد کرنے کی طاقت رکھتا ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ! راوی کہتے ہیں : پس ان لوگوں نے راہب کی بات مان لی اور اسی کے پاس ٹھہر گئے۔ ٤۔ پھر راہب قافلہ والوں کے پاس آیا اور کہا : میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں ! اس (بچہ) کا ولی کون ہے ؟ ابو طالب نے کہا : میں ان کا ولی ہوں۔ پس راہب مسلسل ابو طالب سے مطالبہ کرتا رہا یہاں تک کہ ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واپس کردیا اور حضرت ابوبکر نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت بلال کو بھیجا۔ راہب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زاد راہ کے لئے کیک اور زیتون پیش کیے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39300
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39300، ترقيم محمد عوامة 37696)
حدیث نمبر: 39301
٣٩٣٠١ - حدثنا ابن (فضيل) (١) عن عطاء عن سعيد عن ابن عباس أنه لم (تكن) (٢) قبيلة من الجن إلا ولهم مقاعد للسمع، قال: فكان إذا نزل الوحي ⦗٣٥١⦘ سمعت الملائكة صوتا كصوت الحديدة ألقيتها على الصفا، قال: فإذا سمعته الملائكة خروا سجدا فلم يرفعوا رؤوسهم حتى ينزل، فإذا نزل قال بعضهم لبعض: ماذا قال ربكم؟ فإن كان مما يكون في السماء قالوا: الحق وهو العلي الكبير، فإن كان مما يكون في الأرض [من أمر (الغيب) (٣) أو موت أو شيء مما يكون في الأرض] (٤) تكلموا به (فقالوا) (٥): يكون كذا كذا، فتسمعه الشياطين فينزلونه على أوليائهم، فلما بعث اللَّه محمدا ﷺ (٦) دحروا بالنجوم، فكان أول من علم بها ثقيف، فكان ذو الغنم منهم ينطلق إلى غنمه فيذبح كل يوم شاة، وذو الإبل ينحر كل يوم بعيرا، فأسرع الناس في أموالهم، فقال بعضهم لبعض: لا تفعلوا، فإن كانت النجوم التي يهتدى بها وإلا فإنه أمر حدث، (فنظروا) (٧) فإذا النجوم التي يهتدى بها كما هي، لم يرم منها بشيء فكفوا، وصرف اللَّه الجن فسمعوا القرآن، فلما حضروه قالوا: أنصتوا، قال: وانطلقت الشياطين إلى إبليس (فأخبروه) (٨) فقال: هذا (حدث) (٩) حدث في الأرض، فأتوني من كل أرض بتربة، فلما أتوه بتربة تهامة قال: هاهنا الحدث (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جنات کا کوئی قبیلہ نہیں تھا مگر یہ کہ ان کے لئے (آسمانی باتیں) سُننے کے لئے نشستیں تھیں۔ فرماتے ہیں : پس جب وحی نازل ہوتی تو فرشتے ایسی آواز سنتے جیسے اس لوہے کی آواز ہوتی ہے جس کو آپ صاف پتھر پر پھینکیں۔ فرماتے ہیں : پس جب فرشتے یہ آواز سنتے تو سجدہ میں گرپڑتے۔ وحی کے نازل ہونے تک وہ اپنے سر نہ اٹھاتے۔ پھر جب وحی نازل ہو چکتی تو بعض فرشتے ، بعض فرشتوں سے کہتے۔ تمہارے رب نے کیا کہا ہے ؟ پس اگر وحی کسی آسمانی معاملہ میں ہوتی تو فرشتے کہتے۔ حق کہا ہے اور وہ ذات بلند اور بڑی ہے اور اگر وحی کسی زمینی معاملہ میں۔ غیبی امر یا موت یا کوئی بھی زمینی معاملہ، ہوتی تو فرشتے باہم گفتگو کرتے اور کہتے کہ یوں یُوں ہوگا۔ ان باتوں کو شیاطین سُن لیتے اور پھر یہ باتیں اپنے اولیاء (دوستوں) کو آ کر کہتے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمایا تو شیاطین کو ستاروں کے ذریعہ ہلاک کیا گیا۔ سب سے پہلے جس کو اس بات کا (ستارے گرنے کا) علم ہوا وہ (قبیلہ) ثقیف تھا۔ پس ان میں سے بکریوں والا اپنی بکریوں کے پاس جاتا اور ہر روز ایک بکری ذبح کردیتا۔ اور اونٹوں والا ہر روز ایک اونٹ ذبح کردیتا۔ پس لوگوں نے اپنے میں جلدی کرنا شروع کی ۔ تو ان میں سے بعض نے بعض سے کہا۔ (ایسا) نہ کرو۔ اگر تو یہ راہنمائی والے ستارے ہیں (تو پھر ٹھیک) وگرنہ یہ کوئی نئے حادثہ کی وجہ سے ہے۔ پس لوگوں نے دیکھا تو راہنمائی والے ستارے تو ویسے ہی تھے۔ ان میں سے کچھ بھی نہیں پھنکاک گیا تھا۔ لوگ رُک گئے۔ اور اللہ تعالیٰ نے جنات کو پھیرا اور انہوں نے قرآن کو سُنا۔ پس جب جنات (تلاوت) قرآن پر حاضر ہوئے تو انہوں نے کہا۔ خاموش ہو جاؤ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ شیاطین ، ابلیس کے پاس گئے اور جا کر اس کو خبر دی اس نے کہا : زمین میں یہی واقعہ رونما ہوا ہے۔ پس تم میرے پاس ہر زمین کی مٹی لاؤ۔ شیاطین جب ابلیس کے پاس تہامہ کی مٹی لائے تو اس نے کہا ۔ یہیں پر یہ نیا واقعہ رونما ہوا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39301
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ ابن فضيل روى عن عطاء بعد اختلاطه، وأخرجه ابن جرير في التفسير ٢٣/ ٣٨، والمروزي في تعظيم الصلاة (١٩)، وأبو نعيم في دلائل النبوة (٦٧٧)، والبيهقي في دلائل النبوة ٢/ ٢٤٠، وابن عساكر ٤/ ٣٩٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39301، ترقيم محمد عوامة 37697)
حدیث نمبر: 39302
٣٩٣٠٢ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس وأبو أسامة وغندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن سلمة عن صفوان بن عسال قال: قال يهودي لصاحبه: اذهب بنا إلى (هذا) (١) النبي، (قال) (٢): فقال (صاحبه) (٣): لا (تقل) (٤) نبي، فإنه لو سمعك كان له أربع (أعين) (٥)، قال: فأتيا رسول اللَّه ﷺ فسألاه عن تسع آيات بينات فقال: "لا تشركوا باللَّه شيئا، ولا تزنوا ولا تسرقوا، ولا تقتلوا النفس التي حرم اللَّه إلا بالحق، ولا تمشوا ببريء إلى (ذي) (٦) سلطان فيقتله، ولا تسحروا، ولا تأكلوا الربا، ولا تقذفوا المحصنة، ولا تولوا للفرار يوم الزحف، وعليكم خاصة يهود: (لا) (٧) تعدوا في السبت"، قال: فقبلوا يديه ورجليه وقالوا: نشهد أنك نبي (٨) (حق) (٩)، قال: "فما يمنعكم أن تتبعوني؟ " قالوا: إن داود دعا: لا يزال في ذربته نبي، وإنا نخاف أن تقتلنا يهود (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صفوان بن عسال روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا۔ ہمیں اس نبی کے پاس لے چلو ! اس کے ساتھی نے کہا : نہیں ! نبی مت کہو کیونکہ اگر انہوں نے تجھے سُن لیا تو ان کی چار آنکھیں ہوجائیں گی۔ راوی کہتے ہیں : وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نو کھلی نشانیوں کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور زنا نہ کرو اور چوری نہ کرو اور اس جان کو قتل نہ کرو جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے مگر حق کی وجہ سے ۔ اور کسی قوت والے کے پاس بےگناہ کی چغلی نہ کرو کہ وہ اس بےگناہ کو قتل کر دے اور جادو نہ کرو۔ اور سود نہ کھاؤ۔ اور پاکدامن عورت پر تہمت زنی مت کرو اور جنگ کے دن بھاگنے کے لئے پیٹھ مت پھیرو۔ اور اے خواص یہود تم پر یہ بھی لازم ہے کہ ہفتہ کے دن میں تعدی نہ کرو۔ راوی کہتے ہیں : یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ، پاؤں چومے اور عرض کرنے لگے۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نبی برحق ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں کو میری اتباع سے کیا چیز مانع ہے ؟ کہنے لگے : داؤد نے دعا مانگی تھی کہ ان کی ذریت میں مسلسل نبوت رہے ۔ اور ہمیں اس بات کا خوف ہے کہ ہمیں یہودی قتل کردیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39302
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد اللَّه بن سلمة صدوق، أخرجه أحمد (١٨٠٩٢)، وابن ماجه (٣٧٠٥)، والترمذي (٣١٤٤)، والنسائي ٧/ ١١١، والحاكم ١/ ٩، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٤٦٦)، وابن جرير في التفسير ١٥/ ١٧٢، والطيالسي (١١٦٤)، والطحاوي ٣/ ٢١٥، والطبرني (٧٣٩٦)، وأبو نعيم في الحلية ٥/ ٩٧، والبيهقي ١٤/ ١٨٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39302، ترقيم محمد عوامة 37698)