حدیث نمبر: 39293
٣٩٢٩٣ - (حدثنا أبو عبد الرحمن بقي بن مخلد قال: حدثنا أبو بكر عبد اللَّه بن محمد بن أبي شيبة العبسي قال) (١): حدثنا أبو أسامة (٢) عن محمد بن إسماعيل (٣) قال: حدثني سعيد بن جبير قال: أقبل أبو يكسوم صاحب الحبشة ومعه الفيل، فلما انتهى إلى الحرم برك الفيل (فأبى) (٤) أن يدخل الحرم، قال: فإذا وجه راجعا أسرع راجعًا، وإذا أريد على الحرم (أبى) (٥)، فأُرسل عليهم طير صغار بيض في أفواهها حجارة (أمثال) (٦) الحمص، لا (تقع) (٧) على أحد إلا هلك (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جُبیر بیان فرماتے ہیں کہ حبشہ کا امیر ابو یکسوم آیا اور اس کے ساتھ ہاتھی (بھی) تھے۔ پس جب وہ حرم تک پہنچا تو (اس کا) ہاتھی بیٹھ گیا اور اس نے حرم میں داخل ہونے سے انکار کردیا۔ راوی کہتے ہیں جب ابو یکسوم ہاتھی واپسی کے لئے متوجہ کرتا تو ہاتھی خوب تیز رفتار واپس چلتا اور جب حرم کا ارادہ کیا جاتا تو ہاتھی انکار دیتا۔ پس ان پر سفید رنگ کے چھوٹے چھوٹے پرندے بھیجے گئے جن کے منہ میں چنوں کے برابر پتھر تھے وہ پتھر جس پر بھی گرتے اس کو ہلاک کردیتے۔
حدیث نمبر: 39294
٣٩٢٩٤ - قال أبو أسامة: فحدثني أبو (مكين) (١) عن عكرمة قال: فأظلتهم من السماء فلما جعلهم اللَّه كعصف مأكول أرسل اللَّه غيثا فسأل بهم حتى ذهب بهم إلى البحر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ ان پرندوں نے لوگوں پر آسمان سے سایہ کردیا۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے ان کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ایک سیلاب بھیجا۔ وہ سیلاب ان کو بہا کرلے گیا یہاں تک کہ وہ سیلاب انہیں سمندر میں لے گیا۔
حدیث نمبر: 39295
٣٩٢٩٥ - حدثنا وكيع عن بن عون عن ابن سيرين عن ابن عباس ﴿طَيْرًا أَبَابِيلَ﴾ قال: كان لها خراطيم كخراطيم الطير، وأكف كأكف الكلاب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے { طَیْرًا أَبَابِیلَ } کی تفسیر میں فرمایا۔ ان کے ناک پرندوں کے ناک کی طرح تھے اور ان کی ہتھیلیاں کتوں کی ہتھیلیوں کی طرح تھیں۔
حدیث نمبر: 39296
٣٩٢٩٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الأعمش عن أبي سفيان عن عبيد بن عمير قال: طير سود تحمل الحجارة بمناقيرها وأظافيرها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ یہ سیاہ رنگ کے پرندے تھے جنہوں نے اپنی چونچوں اور پنجوں میں پتھر اٹھائے ہوئے تھے۔
حدیث نمبر: 39297
٣٩٢٩٧ - حدثنا الحسن بن موسى عن شيبان عن يحيى قال: أخبرني أبو سلمة أن أبا هريرة أخبره أن رسول اللَّه ﷺ ركب (راحلته) (١) فخطب فقال: "إن اللَّه حبس عن مكة الفيل، وسلط عليهم رسوله والمؤمنين" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو ہاتھیوں (والوں) سے روکے (محفوظ) رکھا اور اس مکہ پر اپنے رسول کو اور اہل ایمان کو تسلط عطا فرمایا۔
حدیث نمبر: 39298
٣٩٢٩٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن عبيد بن عمير قال: لما أراد اللَّه أن يهلك أصحاب الفيل بعث عليهم طيرا أنشئت من البحر أمثال الخطاطيف، كل طير منها يحمل ثلاثة أحجار مجزعة: حجرين في رجليه وحجرا في منقاره، قال: فجاءت حتى صفت على رؤوسهم ثم صاحت فألقت ما في أرجلها ومناقيرها، فما يقع على رأس رجل إلا خرج من دبره، ولا يقع على شيء من جسده إلا خرج (١) من الجانب الآخر قال: وبعث اللَّه ريحا شديدة (٢) فضربت الحجارة فزادتها شدة قال: فأهلكوا جميعا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اصحاب الفیل کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ان پرندوں کو بھیجا جن کو سمندر سے نکالا گیا تھا اور وہ ابابیلوں کے مشابہ تھے۔ ان میں سے ہر ایک پرندہ سفید و سیاہ رنگ کے تین پتھر اٹھائے ہوا تھا۔ دو پتھر اس کے پاؤں میں تھے اور ایک پتھر اس کی چونچ میں ۔ راوی کہتے ہیں ۔ پس وہ پرندے آئے یہاں تک کہ انہوں نے اصحاب الفیل کے سروں پر صفیں بنالیں۔ پھر انہوں نے آواز نکالی اور جو پتھر ان کے پنجوں اور چونچوں میں تھے وہ انہوں نے پھینک دیے۔ پس کوئی پتھر کسی آدمی کے سر پر نہیں گرتا تھا مگر یہ کہ اس کی دبر سے خارج ہوتا۔ اور آدمی کے جسم کے کسی حصہ پر نہیں لگتا تھا مگر یہ کہ دوسری جانب سے نکل آتا تھا۔ راوی کہتے ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تیز آندھی بھیجی اس نے (بھی) پتھر مارے پس پتھروں کی شدت بڑھ گئی۔ راوی کہتے ہیں۔ پس وہ تمام لوگ ہلاک کردیئے گئے۔