حدیث نمبر: 39282
٣٩٢٨٢ - حدثنا وكيع عن شعبة عن محمد بن زياد عن أبي هريرة أن رسول اللَّه ﷺ رأى الحسن بن علي أخذ تمرة من الصدقة فلاكها في فيه، فقال (النبي) (١) ﷺ: "كخ كخٍ، إنا لا تحل لنا الصدقة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے صدقہ کی ایک کھجور پکڑی اور اس کو انہوں نے اپنے منہ میں ڈال لیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ کَخْ کَخْ (یعنی باہر نکالو) ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 39283
٣٩٢٨٣ - حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم عن بن أبي رافع أن النبي ﷺ بعث رجلا من بني مخزوم على الصدقة، فأراد أبو رافع أن يتبعه، فسأل النبي ﷺ فقال: "أما علمت أنا لا تحل لنا الصدقة، وأن مولى القوم من أنفسهم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رافع روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی مخزوم میں سے ایک آدمی کو صدقہ (کی وصولی) پر بھیجا۔ ابو رافع نے ان کے پیچھے جانے کا ارادہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے اور بیشک لوگوں کا غلام انہیں میں سے (شمار) ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 39284
٣٩٢٨٤ - حدثنا الحسن بن موسى حدثنا زهير عن عبد اللَّه بن عيسى عن أبيه عن جده عن أبي ليلى قال: كنت عند رسول اللَّه ﷺ فقام فدخل بيت الصدقة فدخل معه الغلام -يعني حسنا (أو) (١) حسينا- فأخذ تمرة فجعلها في فيه، فاستخرجها النبي ﷺ وقال: "إن الصدقة لا تحل لنا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور صدقہ کے کمرہ میں داخل ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک بچہ، حضرت حسن یا حضرت حسین بھی داخل ہوگیا۔ پس اس بچہ نے ایک کھجور پکڑ لی اور اسے اپنے منہ میں ڈال لیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو باہر نکلوایا اور فرمایا ۔ بلاشبہ ہمارے لیئے صدقہ حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 39285
٣٩٢٨٥ - حدثنا الفضل بن دكين حدثنا (معرف) (١) (حدثتني) (٢) حفصة ابنة (طلق) (٣) امرأة من الحي سنة تسعين عن (جدي) (٤) أبي (عَميرة) (٥) رشيد بن مالك قال: كنت عند النبي ﷺ جالسا ذات يوم، فجاء رجل بطبق عليه تمر، فقال: "ما هذا؟ صدقة أم هدية؟ " فقال الرجل: بل صدقة، فقدمها إلى القوم، والحسن (متعفر) (٦) بين يديه فأخذ تمرة فجعلها في (فيه) (٧)، فنظر رسول اللَّه ﷺ إليه، فأدخل إصبعه في فيه ثم قال بها، ثم قال: "إنا آل محمد (٨) لا نأكل الصدقة" (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمیرہ رشید بن مالک روایت کرتے ہیں کہ میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک آدمی طبق لے کر حاضر ہوا جس میں کھجوریں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ یہ کیا ہے ؟ صدقہ ہے یا ہدیہ ؟ اس آدمی نے عرض کیا (ہدیہ نہیں ہے) بلکہ صدقہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کھجوروں کا طبق لوگوں کی طرف بڑھا دیا۔ حسن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے مٹی میں لوٹ رہے تھے تو انہوں نے ایک کھجور پکڑی اور اس کو اپنے منہ میں ڈال لیا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف دیکھ لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلی مبارک ان کے منہ میں داخل کی اور اس کو باہر نکال لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ بلاشبہ ہم آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صدقہ نہیں کھاتے۔
حدیث نمبر: 39286
٣٩٢٨٦ - (١) حدثنا وكيع عن محمد بن شريك عن أبي مليكة أن خالد بن سعيد ابن (العاص) (٢) بعث إلى عائشة ببقرة فردتها وقالت: إنا آل محمد (٣) لا نأكل الصدقة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ روایت کرتے ہیں کہ خالد بن سعید بن العاص نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف ایک گائے بھیجی تو انہوں نے واپس بھیج دی اور فرمایا۔ ہم آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صدقہ نہیں کھاتے۔
حدیث نمبر: 39287
٣٩٢٨٧ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) عن حسين بن واقد قال: حدثني عبد اللَّه بن بريدة عن أبيه أن سلمان لما قدم المدينة أتى رسول اللَّه ﷺ بهدية على طبق فوضعها بين يديه فقال: "ما هذا؟ " فذكره بطوله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت سلمان فارسی مدینہ میں آئے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک طبق بطور ہدیہ لائے اور انہوں نے اس طبق کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ یہ کیا ہے ؟ راوی نے آگے مکمل حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 39288
٣٩٢٨٨ - حدثنا يحيى بن آدم عن حماد بن سلمة عن قتادة عن أنس أن النبي ﷺ وجد تمرة فقال: "لولا أن تكوني من الصدقة لأكلتكِ" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک کھجور ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تو صدقہ کی نہ ہوتی تو میں تجھے کھا لیتا۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : بنی ہاشم کے موالی وغیرہ کے لئے صدقہ حلال ہے۔