حدیث نمبر: 39259
٣٩٢٥٩ - حدثنا هشيم أخبرنا أبو الزبير عن نافع بن جبير عن أبي عبيدة عن عبد اللَّه قال: شغل النبي ﷺ المشركون يوم الخندق عن أربع صلوات، قال: فأمر بلالا فأذن (وأقام) (١) فصلى الظهر، ثم أقام فصلى العصر، ثم أقام فصلى المغرب، ثم أقام فصلى العشاء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خندق کے دن مشرکین نے چار نمازوں سے مشغول (بجنگ) کئے رکھا۔ راوی کہتے ہیں : پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال کو حکم دیا۔ انہوں نے اذان کہی اور اقامت کہی اور ظہر کی نماز پڑھی پھر انہوں نے اقامت کہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی پھر انہوں نے اقامت کہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھی پھر انہوں نے اقامت کہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 39260
٣٩٢٦٠ - حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا ابن أبي ذئب عن المقبري عن عبد الرحمن ابن أبي سعيد الخدري (عن) (١) أبيه قال: حبسنا يوم الخندق عن الظهر والعصر (والمغرب) (٢) والعشاء، حتى كفينا ذلك، وذلك قول اللَّه ﵎: ﴿وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ (وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا) (٣)﴾ [الأحزاب: ٢٥]، فقام (رسول) (٤) اللَّه ﷺ فأمر (بلالًا) (٥) فأقام فصلى الظهر كما كان يصليها قبل ذلك، ثم أقام (٦)، فصلى العصر كما كان يصليها قبل ذلك، (ثم أقام المغرب فصلاها كما كان ⦗٣٣٣⦘ يصليها قبل ذلك، ثم أقام العشاء فصلاها كما كان يصليها قبل ذلك) (٧)، وذلك قبل أن ينزل: ﴿فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا﴾ [البقرة: ٢٣٩] (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابو سعید خدری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہمیں خندق کے دن ظہر، عصر ، مغرب اور عشاء سے روکے رکھا گیا (یعنی مشرکین نے روک رکھا) یہاں تک کہ ہماری اس بارے میں کفایت کردی گئی اور اس بارے میں ارشاد خداوندی ہے۔ { وَکَفَی اللَّہُ الْمُؤْمِنِینَ الْقِتَالَ وَکَانَ اللَّہُ قَوِیًّا عَزِیزًا } پس رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر ادا کی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پہلے ظہر پڑھا کرتے تھے۔ پھر حضرت بلال نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔ پھر حضرت بلال نے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب ادا کی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پہلے مغرب پڑھتے تھے۔ پھر حضرت بلال نے عشاء کے لئے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی جس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پہلے عشاء پڑھا کرتے تھے۔ اور یہ واقعہ { فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً ، أَوْ رُکْبَانًا } کے اترنے سے پہلے کا ہے۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : جب آدمی کی کئی نمازیں فوت ہوجائیں تو ان میں سے کسی کے لئے اذان کہی جائے گی اور نہ اقامت کہی جائے گی۔