کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: فجر کی نماز کے بعد نماز طواف کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 39206
٣٩٢٠٦ - حدثنا عبد اللَّه بن المبارك عن سعيد بن يزيد قال: سمعت خالد بن أبي عمران يحدث عن حنش عن فضالة بن عبيد قال: أتى (النبي) (١) ﷺ يوم خيبر بقلادة فيها خرز معلقة بذهب ابتاعها رجل بسبعة دنانير، أو بتسعة دنانير، فأتى النبي ﷺ فذكر ذلك له فقال: "لا، حتى (تميز) ما بينهما" (٢)، قال: إنما أردت الحجارة، قال: "لا، حتى (تميز) (٣) ما بينهما"، قال: فرده حتى ميز (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضالہ بن عبید فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں خیبر کے دن ایک ہار لایا گیا جس میں سونے کے ساتھ لٹکے ہوئے موتی تھے۔ اس ہار کو ایک آدمی نے سات یا نو دیناروں کے عوض خریدا۔ پس یہ ہار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا اور اس کی خریداری کا تذکرہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں ! یہاں تک کہ دونوں کو جُدا جُدا کردیا جائے۔ کسی نے عرض کیا۔ آپ کا ارادہ پتھر کے بارے میں ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں ! یہاں تک کہ یہ دونوں جُدا جُدا ہوں۔ راوی کہتے ہیں اس نے یہ ہار واپس کردیا یہاں تک کہ (انہیں) جُدا کردیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39206
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٥٩١)، وأحمد (٢٣٩٦٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39206، ترقيم محمد عوامة 37602)
حدیث نمبر: 39207
٣٩٢٠٧ - حدثنا وكيع عن محمد بن عبد اللَّه عن أبي قلابة عن أنس قال: أتانا كتاب عمر ونحن بأرض فارس: ألا تبيعوا السيوف فيها حلقة فضة بدرهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم فارس کے علاقہ میں تھے تو ہمیں حضرت عمر کا خط پہنچا۔ خبردار چاندی کے حلقہ والی تلواروں کو دراہم کے عوض نہ بیچو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39207
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مالك في المدونة ٨/ ٤١٥، وعبد الرزاق (١٤٣٥٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39207، ترقيم محمد عوامة 37603)
حدیث نمبر: 39208
٣٩٢٠٨ - حدثنا وكيع عن زكريا عن الشعبي قال: سئل شريح عن طوق من ذهب فيه فصوص، قال: تنزع الفصوص ثم (يباع) (١) الذهب وزنا بوزن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ شریح سے سونے کے طوق کے بارے میں پوچھا گیا جس میں نگینے بھی ہوں ؟ انہوں نے فرمایا ۔ نگینوں کو جُدا کردیا جائے گا پھر سونے کو برابر سرابر بیچ دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39208
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39208، ترقيم محمد عوامة 37604)
حدیث نمبر: 39209
٣٩٢٠٩ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن محمد كان يكره شراء السيف المحلى إلا بعرض.
مولانا محمد اویس سرور
محمد کے بارے میں منقول ہے کہ وہ محلّٰی (زیور سے مزین) تلوار کو سامان کے عوض کے علاوہ بیچنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39209
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39209، ترقيم محمد عوامة 37605)
حدیث نمبر: 39210
٣٩٢١٠ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أنه فإن يكره شراء السيف المحلى (بفضة) (١)، ويقول: اشتره بذهب يدا بيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری کے بارے میں منقول ہے کہ وہ مزین تلوار کو چاندی کے عوض بیچنے کو مکروہ سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ مزین تلوار (سونے کے زیور والی) کو سونے کے عوض نقد خریدو۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ آدمی اس کو دراہم کے عوض خریدے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39210
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39210، ترقيم محمد عوامة 37606)