حدیث نمبر: 39190
٣٩١٩٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الرحمن بن الحارث بن عياش بن أبي ربيعة عن حكيم بن حكيم بن عباد بن (حنيف) (١) عن نافع بن جبير بن مطعم عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أمني جبرئيل عند البيت مرتين، فصلى بي العشاء حين غاب الشفق وصلى بي من (الغد) (٢) العشاء ثلث الليل الأول، وقال: ⦗٣١١⦘ هذا الوقت وقت النبيين قبلك، الوقت بين هذين الوقتين" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جبرائیل نے مجھے بیت اللہ کے پاس دو مرتبہ امامت کروائی ہے۔ پس جب شفق غائب ہوگیا تو انہوں نے مجھے عشاء کی نماز پڑھائی۔ اور اگلے دن انہوں نے مجھے رات کے پہلے ثلث پر عشاء کی نماز پڑھائی اور فرمایا : یہ وقت (نماز) آپ سے پہلے انبیاء کا وقت (نماز) ہے۔ اور انہی دو (مقررہ) اوقات کے درمیان (عشاء کا) وقت ہے۔
حدیث نمبر: 39191
٣٩١٩١ - حدثنا وكيع عن (بدر) (١) (بن عثمان) (٢) سمعه من أبي بكر بن أبي موسى عن أبيه (أن) (٣) سائلا أتى النبي ﷺ فسأله عن مواقيت الصلاة، فلم يرد عليه شيئًا، ثم أمر بلالا فأقام العشاء الآخرة عند سقوط الشفق ثم صلى من الغد العشاء ثلث الليل ثم قال: "أين السائل عن الوقت؟ ما بين هذين الوقتين وقت" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابوبکر بن ا بو موسیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک سائل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے نمازوں کے اوقات کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال کو حکم دیا تو انہوں نے نماز عشاء کے لئے غروب شفق کے وقت امامت کہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اگلے روز عشاء کی نماز تہائی رات کو ادا فرمائی۔ پھر فرمایا اوقات کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ ان دو (مقررہ) اوقات کے درمیان (عشاء کا) وقت ہے۔
حدیث نمبر: 39192
٣٩١٩٢ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) عن خارجة بن عبد اللَّه بن سليمان بن زيد ابن ثابت قال: حدثني حسين بن بشير بن سليمان (٢) عن أبيه قال: [دخلت أنا ومحمد ابن علي (على) (٣) جابر بن عبد اللَّه فقلنا له: حدثنا كيف كانت الصلاة مع النبي ﷺ؟ فقال] (٤): صلى بنا النبي ﷺ العشاء حين غاب الشفق، ثم صلى بنا من الغد ⦗٣١٢⦘ (العشاء) (٥) حين ذهب (ثلث) (٦) الليل (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسین بن بشیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں اور محمد بن علی رضی اللہ عنہ ، حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے ہاں داخل ہوئے۔ ہم نے ان سے پوچھا۔ آپ ہمیں بتائیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نماز کس طرح ادا کی جاتی تھی ؟ آپ نے فرمایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں عشاء کی نماز شفق کے غائب ہونے پر پڑھائی۔ پھر اگلے روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز عشاء کی رات کے ایک تہائی گزرنے پر پڑھائی۔
حدیث نمبر: 39193
٣٩١٩٣ - حدثنا أبو أسامة عن (عبيد اللَّه) (١) (عن نافع) (٢) عن صفية ابنة أبي عبيد أن عمر بن الخطاب كتب إلى أمراء الأجناد يوقت لهم (الصلاة) (٣)، قال: صلوا صلاة العشاء إذا غاب الشفق، فإن شغلتم فما بينكم وبين أن يذهب ثلث الليل، ولا تشاغلوا عن الصلاة، فمن رقد بعد ذلك فلا أرقد اللَّه عينه -يقولها ثلاث مرار (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صفیۃ بنت ابی عبید بیان فرماتی ہیں کہ عمر بن خطاب نے لشکروں کے امیروں کی طرف ایک خط میں نماز کے اوقات لکھے۔ آپ نے فرمایا : عشاء کی نماز پڑھو، جبکہ شفق غائب ہوجائے پس اگر تمہیں کوئی مشغولیت ہو تو پھر تمہارے اور تہائی رات کے درمیان (وقت) ہے اور تم خود کو نماز کے حق میں مشغول ظاہر نہ کرو۔ جو شخص اس کے بعد سو جائے تو پس اللہ اس کی آنکھوں کو نیند نہ عطا کرے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔
حدیث نمبر: 39194
٣٩١٩٤ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال. وقت العشاء إلى ربع الليل.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے منقول ہے ۔ فرماتے ہیں کہ عشاء کا وقت چوتھائی رات تک ہے ۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے۔