حدیث نمبر: 39186
٣٩١٨٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن هشام بن إسحاق (بن) (١) عبد اللَّه بن كنانة عن أبيه قال، أرسلني أمير من الأمراء إلى ابن عباس أسأله عن الاستسقاء، فقال ابن عباس: ما منعه أن يسألني؟ خرج النبي ﷺ متواضعا متبذلا متخشعا متضرعا مترسلا، (فصلى) (٢) ركعتين كما يصلي في العيد، ولم يخطب (خطبكم) (٣) (هذه) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن اسحق بن عبد اللہ بن کنانہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے گورنروں میں سے ایک گورنر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس استسقاء سے متعلق سوال کرنے کے لئے بھیجا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : امیر کو مجھ سے سوال کرنے سے کس چیز نے روکا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تواضع، مسکنت، خشوع، عاجزی، اور ترسل (آہستہ چلنا) کی حالت میں نکلے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید کی نماز کی طرح سے دو رکعات پڑھیں اور تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ ارشاد نہیں فرمایا۔
حدیث نمبر: 39187
٣٩١٨٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق قال: خرجنا مع عبد اللَّه بن يزيد الأنصاري نستسقي فصلى ركعتين وخلفه زيد بن أرقم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ہم عبد اللہ بن یزید کے ہمراہ استسقاء کے لئے نکلے ۔ انہوں نے دو رکعات پڑھائی اور ان کے پیچھے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ (بھی) تھے۔
حدیث نمبر: 39188
٣٩١٨٨ - حدثنا معن بن عيسى عن محمد بن هلال أنه شهد عمر بن عبد العزيز في الاستسقاء بدأ الصلاة قبل الخطبة، قال: واستسقى (فحول) (١) رداءه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن ہلال بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت عمر بن عبد العزیز کے ساتھ استسقاء میں حاضر ہوئے تو انہوں نے خطبہ سے قبل نماز کا آغاز کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے استسقاء کیا اور اپنی چادر کو الٹ دیا۔
حدیث نمبر: 39189
٣٩١٨٩ - حدثنا شبابة بن سوار عن ابن أبي (ذئب) (١) عن الزهري عن عباد بن تميم عن عبد اللَّه بن زيد وكان من أصحاب النبي ﷺ أنه رأى النبي ﷺ يوم خرج يستسقي فحول إلى الناس ظهره يدعو، واستقبل القبلة ثم حول رداءه ثم صلى ركعتين وقرأ فيهما وجهر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن زید جو کہ صحابی رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں ، سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس دن دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم استسقاء کے لئے نکلے تھے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پشت لوگوں کی طرف پھیری اور قبلہ رُخ ہو کر دعا فرمائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر کو الٹا کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعات نماز پڑھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان رکعات میں قراءت کی اور جہر کیا۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : استسقاء کی نماز کو جماعت سے نہیں پڑھا جائے گا اور نہ ہی اس میں خطبہ دیا جائے گا۔