حدیث نمبر: 39105
٣٩١٠٥ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) عن مالك بن أنس عن إسحاق بن عبد اللَّه ابن أبي طلحة الأنصاري عن حميدة ابنة (عبيد) (٢) بن (رافع) (٣) عن كبشة ابنة كعب وكانت تحت بعض ولد أبي قتادة أنها صبت لأبي قتادة ماء يتوضأ به، فجاءت هرة تشرب فأصغى لها الإناء فجعلنا ننظر فقال: يا (ابنة) (٤) أخي تعجبين، قال رسول اللَّه ﷺ: "إنها ليست بنجس هي من الطوافين عليكم أو من الطوافات" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کبشہ بنت کعب سے روایت ہے یہ ابو قتادہ کی اولاد میں سے کسی کے حرم میں تھیں۔ کہ انہوں نے حضرت ابو قتادہ کے وضو کے لئے پانی بہایا۔ ایک بلی نے آکر پانی پینا شروع کیا۔ تو ابو قتادہ نے بلی کے لئے برتن جھکا دیا۔ میں دیکھنے لگ گئی تو انہوں نے فرمایا : اے بھتیجی ! آپ تعجب کرتی ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے۔ بلی نجس نہیں ہے۔ کیونکہ یہ تم پر بار بار آنے والوں یا بار بار آنے والیوں میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 39106
٣٩١٠٦ - حدثنا ابن عيينة عن أيوب عن عكرمة قال: كان أبو قتادة يدني الإناء من الهر فيلغ فيه ثم يتوضأ بسؤره (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ ابو قتادہ بلی کے لئے برتن جھکا دیتے تھے اور وہ اس میں منہ داخل کرتی تھی۔ پھر (بھی) آپ اس پانی سے وضو کرلیتے تھے۔
حدیث نمبر: 39107
٣٩١٠٧ - حدثنا ابن علية عن خالد عن عكرمة عن ابن عباس قال: الهر من متاع البيت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بلی گھر کا متاع (سامان) ہے۔
حدیث نمبر: 39108
٣٩١٠٨ - حدثنا شريك عن (الركين) (١) عن صفية ابنة داب قالت: سألت حسين بن علي عن الهر فقال: هي من أهل البيت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صفیہ بنت داب فرماتی ہیں کہ میں نے حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بلی کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : وہ گھر والوں میں سے ہے (یعنی اس میں کوئی حرج نہیں)
حدیث نمبر: 39109
٣٩١٠٩ - حدثنا البكراوي عن الجريري قال: ولغت هرة في طهور لأبي العلاء فتوضأ بفضلها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریری سے روایت ہے کہ بلی نے ابو العلاء کے پاک پانی میں منہ داخل کیا پھر انہوں نے بلی کے جھوٹے سے وضو کیا۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : وہ بلی کے جھوٹے کو مکروہ سمجھتے تھے۔