کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: مسروق کا سارق کو ہدیہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 39099
٣٩٠٩٩ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن عجلان عن نافع عن ابن عمر أنه صلى على راحلته وأوتر عليها قال: وكان النبي ﷺ يفعله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے اپنی سواری پر نماز پڑھی اور اس پر وتر ادا فرمائے اور ارشاد فرمایا : کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی یہ عمل کیا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39099
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن عجلان صدوق، وأخرجه البخاري (١٠٩٨)، ومسلم (٧٠٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39099، ترقيم محمد عوامة 37495)
حدیث نمبر: 39100
٣٩١٠٠ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن عباد (بن) (١) منصور عن عكرمة عن ابن عباس أنه أوتر وقال: الوتر على الراحلة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے وتر پڑھے اور فرمایا : وتر سواری پر (ہو سکتے) ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39100
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عباد بن منصور، وورد نحوه مرفوعًا، أخرجه ابن ماجه (١٢٠١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39100، ترقيم محمد عوامة 37496)
حدیث نمبر: 39101
٣٩١٠١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ثوير عن أبيه أن عليا كان يوتر على راحلته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثویر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہاپنی سواری پر نماز وتر ادا کرلیتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39101
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ثوير.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39101، ترقيم محمد عوامة 37497)
حدیث نمبر: 39102
٣٩١٠٢ - [حدثنا ابن أبي عدي عن أشعث قال: كان الحسن لا يرى بأسا أن يوتر الرجل على راحلته] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حسن اس بات میں کوئی حرج نہیں دیکھتے تھے کہ آدمی اپنی سواری پر ہی وتر پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39102
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39102، ترقيم محمد عوامة 37498)
حدیث نمبر: 39103
٣٩١٠٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن يحيى بن سعيد عن عمر (بن) (١) (نافع) (٢) أن أباه فإن يوتر على البعير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن نافع بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد اونٹ پر وتر پڑھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39103
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39103، ترقيم محمد عوامة 37499)
حدیث نمبر: 39104
٣٩١٠٤ - حدثنا عمرو ين محمد عن ابن أبي (رواد) (١) عن موسى بن عقبة قال: صحبت سالما فتخلفت عنه بالطريق فقال: ما خلفك؟ فقلت: أوترت، قال: فهلا على راحلتك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن عقبہ روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت سالم کے ساتھ تھا۔ پس میں ان سے راستہ میں پیچھے رہ گیا۔ تو انہوں نے پوچھا : تمہیں کس شئی نے پیچھے چھوڑ دیا تھا ؟ میں نے عرض کیا۔ میں وتر پڑھ رہا تھا انہوں نے فرمایا : تم نے اپنی سواری پر کیوں نہیں پڑھے ؟ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : سواری پر وتر پڑھنا آدمی کو کفایت نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39104
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39104، ترقيم محمد عوامة 37500)