کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ہدی (حج کی قربانی) میں سے کھانے کا بیان
حدیث نمبر: 39097
٣٩٠٩٧ - حدثنا جرير عن منصور عن مجاهد قال: كان صفوان بن أمية من الطلقاء فأتى رسول اللَّه ﷺ فأناخ راحلته ووضع رداءه عليها ثم تنحى ليقضي الحاجة، فجاء رجل فسرق رداءه فأخذه فأتى به النبي ﷺ فأمر به أن تقطع يده، قال: يا رسول اللَّه، تقطعه في رداء، أنا أهبه له قال: "فهلا قبل أن تأتيني به" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ صفوان بن امیہ طلقاء میں سے تھے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی سواری کو بٹھایا اور اپنی چادر کو اس پر رکھ دیا۔ پھر قضائے حاجت کے لئے ایک طرف ہوگئے۔ پس ایک آدمی آیا اور ان کی چادر چوری کرلی۔ انہوں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کے ہاتھ کو کاٹنے کا حکم ارشاد فرمایا : صفوان نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ! ایک چادر (کی چوری) میں آپ اس کا ہاتھ کاٹ رہے ہیں ؟ میں یہ چادر اس کو ہدیہ کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کو میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ اس کو ہدیہ کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39097
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ مجاهد تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39097، ترقيم محمد عوامة 37493)
حدیث نمبر: 39098
٣٩٠٩٨ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن طاوس قال: قيل لصفوان بن أمية وهو بأعلى مكة: لا دين لمن لم يهاجر، فقال: واللَّه لا أصل إلى أهلي حتى، (آتي) (١) المدينة، فأتى المدينة فنزل على العباس فاضطجع في المسجد وخميصته تحت رأسه، فجاء سارق فسرقها من تحت رأسه، فأتى به النبي ﷺ فقال: إن هذا سارق، فأمر به فقطع فقال: هي له، فقال: ⦗٢٩١⦘ "فهلا قبل أن تأتيني به" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ صفوان بن امیہ کہ کہا گیا جبکہ وہ مکہ کے اونچے علاقہ میں تھا کہ جو ہجرت نہ کرے اس کا دین نہیں ہے۔ اس نے کہا : بخدا میں اپنے گھر والوں کے پاس نہیں پہنچوں گا یہاں تک کہ میں مدینہ آؤں۔ پس وہ مدینہ میں آئے اور حضرت عباس کے پاس اترے اور مسجد میں لیٹے اور ان کی چادر ان کے سر کے نیچے تھی۔ ایک چور آیا اور اس نے ان کے سر کے نیچے سے چادر چُرا لی۔ صفوان اس کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یہ چور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹا گیا۔ صفوان نے کہا۔ یہ چادر اس کے لئے ہدیہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کو میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ اس طرح (ہدیہ) کردیا۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : جب مالک چور کو مسروقہ سامان ہدیہ کرے تو چور سے حد ساقط ہوجاتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39098
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ طاوس تابعي، أخرجه أحمد (١٥٣٠٦)، والنسائي ٧/ ١٤٥، والطحاوي في شرح المشكل (٢٣٨٧)، والبيهقي ٨/ ٢٦٧، والطبراني (٧٣٣٨)، ومالك ٢/ ٨٣٤، والشافعي في المسند ٢/ ٨٤، وابن ماجه (٢٥٩٥)، وابن عبد البر في التمهيد ١١/ ٢١٦، وأصله عند مسلم (٢٣١٣)، وأحمد (١٥٣٠٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39098، ترقيم محمد عوامة 37494)