حدیث نمبر: 39093
٣٩٠٩٣ - حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى عن عطاء (١) عن عبد الكريم عن معاذ ابن (سعوة) (٢) عن سنان بن سلمة أن النبي ﷺ قال: "له في الهدي التطوع: لا ⦗٢٨٩⦘ يأكل، فإن أكل غرم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سنان بن سلمہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو نفلی ہدی کے بارے میں فرمایا تھا کہ اس کو نہیں کھایا جائے گا۔ اگر اس کو کھالیا تو تاوان دینا ہوگا۔
حدیث نمبر: 39094
٣٩٠٩٤ - حدثنا حفص عن ليث عن مجاهد عن عمر قال: من (أهدى) (١) هديا تطوعا فعطب نحره دون الحرم لم يأكل منه، وإن أكل منه فعليه البدل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ جو شخص نفلی ہدی کو چلائے پھر وہ ہدی ہلاک ہوجائے (حرم تک نہ جاسکے) تو اس کو حرم سے پہلے ہی نحر کر دے اور اس میں سے نہ کھائے اگر اس میں سے کھالیا تو اس پر بدل ہے۔
حدیث نمبر: 39095
٣٩٠٩٥ - حدثنا ابن علية عن أبي (التياح) (١) عن موسى بن سلمة عن ابن عباس أن النبي ﷺ بعث (بثماني) (٢) عشرة بدنة مع رجل، وأمره فيها (بأمره) (٣)، فانطلق ثم رجع إليه فقال: أرأيت (إن) (٤) أزحف (٥) علينا منها شيء، قال: "انحرها ثم اغمس نعلها في دمها، ثم اجعلها على (صفحتها) (٦) ولا تأكل منها أنت ولا (أحد) (٧) من أهل رفقتك" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کے ہمراہ دس عدد بدنہ کو بھیجا اور ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حکم بتایا وہ آدمی چلا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آیا اور اس نے کہا۔ اگر ان میں سے کوئی جانور بگڑ جائے تو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا؛ اس کو نحر کردینا اور پھر اس کے پاؤں کو اس کے خون میں ڈبو دینا پھر اس کے اس کو چمڑے پر مار دو تم اور تمہارے رفقاء میں سے کوئی بھی اس میں سے نہ کھائے۔
حدیث نمبر: 39096
٣٩٠٩٦ - حدثنا وكيع عن هشام عن أبيه عن ناجية الخزاعي قال: قلت يا رسول اللَّه، كيف نصنع بما عطب من البدن؟ قال: "انحره واغمس نعله في دمه وخل بين الناس وبينه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ناجیہ خزاعی روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! جو بدنہ بگڑ جائے تو ہم اس کے ساتھ کیا کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کو نحر کردو۔ اور اس کے پاؤں کو اس کے خون میں ڈبو دو ۔ اور یہ جانور لوگوں کے لئے چھوڑ دو تاکہ لوگ اس کو کھالیں۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : اس جانور سے رفقاء کے گھر والے کھا سکتے ہیں۔