کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو شخص کسی کی زمین میں کاشتکاری کرے اس کا بیان
حدیث نمبر: 39054
٣٩٠٥٤ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سعيد وحرام (بن سعد) (١) أن ناقة للبراء ابن عازب دخلت حائطا فأفسدت عليهم، فقضى النبي ﷺ أن حفظ الأموال على أهلها بالنهار، وأن على أهل الماشية ما أصابت الماشية بالليل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید اور حرام بن سعد سے روایت ہے کہ حضرت براء بن عازب کی اونٹنی ایک باغ میں چلی گئی اور ان لوگوں کا نقصان کردیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ مال والوں پر حفاظت کی ذمہ داری دن کے وقت ہے اور جانور والوں پر رات کے وقت جانور کے کئے ہوئے نقصان کی ادائیگی لازم ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39054
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ سعيد وحرام تابعيان، أخرجه أحمد (٢٣٦٩١)، ومالك ٢/ ٧٤٧، والشافعي في المسند ٢/ ١٠٧، وابن الجارود (٧٩٦)، والطحاوي ٣/ ٢٠٣، والدارقطني ٣/ ١٥٦، والبيهقي ٨/ ٢٧٩، وابن عبد البر في التمهيد ١١/ ٨٩، وأخرجه عن حرام عن أبيه: أبو داود (٣٥٦٩)، وابن حبان (٦٠٠٨)، وعبد الرزاق (١٨٤٣٧)، وانظر: ما بعده.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39054، ترقيم محمد عوامة 37453)
حدیث نمبر: 39055
٣٩٠٥٥ - حدثنا معاوية بن هشام عن سفيان عن عبد اللَّه بن عيسى عن الزهري عن حرام بن محيصة عن البراء أن ناقة لآل البراء أفسدت شيئا، فقضى النبي ﷺ أن حفظ الأموال على أهلها بالنهار، وضمن أهل الماشية ما أفسدت ماشيتهم بالليل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء سے روایت ہے کہ آل براء کی ایک اونٹنی نے کچھ نقصان کردیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ مال والوں پر مال کی حفاظت کی ذمہ داری دن کے وقت ہے اور جانوروں والے اس نقصان کے ضامن ہوں گے جو ان کے جانور رات کو کریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39055
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39055، ترقيم محمد عوامة 37454)
حدیث نمبر: 39056
٣٩٠٥٦ - حدثنا ابن عيينة عن أيوب عن محمد وعن ابن أبي خالد عن الشعبي أن شاة أكلت عجينا -وقال الآخر: غزلا- نهارا، فأبطله (١) وقرأ: ﴿إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ [الأنبياء: ٧٨]، وقال في حديث ابن أبي خالد: إنما كان النفش بالليل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی کے بارے میں منقول ہے کہ ایک بکری نے آٹا کھالیا۔ اور دوسرا راوی کہتا ہے کہ سوت کھالیا، تو شعبی نے اس کو رائیگاں ٹھہرایا اور یہ آیت پڑھی : {إِذْ نَفَشَتْ فِیہِ غَنَمُ الْقَوْمِ }۔ اور ابن ابی خالد کی حدیث میں کہا ہے کہ نفش (چرنا) تو رات کو ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39056
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39056، ترقيم محمد عوامة 37455)
حدیث نمبر: 39057
٣٩٠٥٧ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن طاوس عن الشعبي أن شاة دخلت على نساج فأفسدت غزله فلم يضمن الشعبي ما (أفسدت) (١) بالنهار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی کے بارے میں منقول ہے کہ ایک بکری ، جو لا ہے پر داخل ہوئی اور اس کے سوت کو خراب کردیا تو شعبی نے دن کے وقت ہونے والے نقصان کا کوئی ضمان نہیں بنایا۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : یہ ضامن ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39057
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39057، ترقيم محمد عوامة 37456)