کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: خریداری میں وکالت کا بیان
حدیث نمبر: 39049
٣٩٠٤٩ - حدثنا أبو معاوية ووكيع عن الأعمش عن عمارة بن عمير عن أبي معمر عن أبي (مسعود) (١) قال: قال النبي ﷺ: "لا تجزئ صلاة لا يقيم الرجل صلبه فيها في الركوع والسجود" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مسعود فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ نماز کفایت نہیں کرتی جس کے رکوع، سجود میں آدمی اپنی پشت (مکمل) سیدھی نہ کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39049
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٧١٠٣)، والترمذي (٢٦٥)، والنسائي ٢/ ١٨٣، وابن ماجه (٨٧٠)، وابن خزيمة (٥٩١)، وابن حبان (١٨٩٢)، وعبد الرزاق (٢٨٥٦)، والحميدي (٤٥٤)، والدارمي ١/ ٣٠٤، وابن الجارود (١٩٥)، وأبو عوانة ٢/ ١٠٤، والطحاوي في شرح المشكل (٢٠٦)، والطبراني ١٧/ (٥٧٨)، والدارقطني ١/ ٣٤٨، وأبو نعيم في الحلية ٨/ ١١٦، والبيهقي ٢/ ٨٨، والبغوي (٦١٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39049، ترقيم محمد عوامة 37448)
حدیث نمبر: 39050
٣٩٠٥٠ - حدثنا أبو خالد عن ابن عجلان عن علي بن يحيى بن خلاد عن أبيه عن عمه وكان بدريا قال: كنا جلوسا مع النبي ﷺ إذ دخل رجل يصلي، فصلى صلاة خفيفة لا يتم ركوعا ولا سجودا، ورسول اللَّه ﷺ يرمقه ولا يشعر، فصلى ثم جاء فسلم على النبي ﷺ فرد عليه النبي ﷺ فقال: "أعد، فإنك لم تصل"، ففعل ⦗٢٧٧⦘ ذلك ثلاثًا، كل ذلك يقول: "أعد، فإنك لم تصل" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن یحییٰ بن خلاد اپنے والد سے ، اپنے چچا سے جو کہ بدری تھے، روایت بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی نماز پڑھنے کے لئے داخل ہوا ۔ پس اس نے ہلکی سی (یعنی تیز تیز) نماز پڑھی۔ نہ رکوع پورا کیا اور نہ سجدہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو دیکھ رہے تھے اور اس کو پتہ نہ تھا۔ پس اس نے (یونہی) نماز پڑھی اور حاضر ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا اور فرمایا (نماز کا) اعادہ کرو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ اس آدمی نے تین مرتبہ یہ کام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر مرتبہ فرماتے (نماز کا) اعادہ کرو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39050
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد وابن عجلان صدوقان، أخرجه أحمد (١٨٩٩٧)، والنسائي ٢/ ١٩٣، وابن حبان (١٧٨٧)، والشافعي في الأم ١/ ٨٨، والبخاري في القراءة خلف الإمام (١١٢)، والطبراني (٤٥٢٤)، وابن أبي عاصم (١٩٧٦)، والطحاوي في شرح المشكل (٢٢٤٥)، كما أخرجه بنحوه أبو داود (٨٦١)، والترمذي (٣٠٢)، وابن ماجه (٤٦٠)، وابن خزيمة (٥٤٥)، والحاكم ١/ ٢٤٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39050، ترقيم محمد عوامة 37449)
حدیث نمبر: 39051
٣٩٠٥١ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن المسور بن مخرمة أنه رأى رجلا لا يتم ركوعه ولا سجوده فقال له: أعد، فأبى فلم يدعه حتى أعاد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسور بن مخرمہ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنا رکوع، سجدہ پورا نہیں کر رہا تھا۔ تو انہوں نے اس کو کہا۔ دوبارہ پڑھو ! اس آدمی نے انکار کیا۔ تو انہوں نے اس کو تب تک نہیں چھوڑا جب تک اس نے اعادہ نہیں کیا۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : اس کو یہ نماز کفایت کر جائے گی لیکن اس نے بُرا کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39051
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف علي بن زيد بن جدعان.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39051، ترقيم محمد عوامة 37450)