کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: عورت نے عُمرہ کے لئے تلبیہ کہہ دیا اور پھر اس کو حیض آ جائے
حدیث نمبر: 39027
٣٩٠٢٧ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "التسبيح للرجال، والتصفيق للنساء" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے۔ مردوں کے لئے تسبیح کہنا ہے اور عورتوں کے لئے تالی بجانا ہے (یعنی امام کے بھولنے پر یا د دہانی کے لئے)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39027
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٢٠٣)، ومسلم (٤٢٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39027، ترقيم محمد عوامة 37426)
حدیث نمبر: 39028
٣٩٠٢٨ - حدثنا هشيم عن الجريري عن أبي نضرة عن أبي هريرة قال: صلى النبي ﷺ بالناس ذات يوم فلما قام ليكبر قال: "إن أنساني الشيطان شيئا من صلاتي فالتسبيح للرجال والتصفيق للنساء" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تکبیر کہنے کے لئے کھڑے ہوئے تو فرمایا : اگر شیطان مجھے نماز میں سے کچھ بھلا دے تو مردوں کے لئے تسبیح اور عورتوں کے لئے تالی بجانا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39028
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39028، ترقيم محمد عوامة 37427)
حدیث نمبر: 39029
٣٩٠٢٩ - حدثنا هشيم عن عبد الحميد (عن) (١) ابن جعفر عن أبي حازم عن سهل بن سعد عن النبي ﷺ قال: "التسبيح للرجال والتصفيق للنساء" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مردوں کے لئے تسبیح کہنا اور عورتوں کے لئے تالی بجانا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39029
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عبد الحميد، أخرجه الطبراني (٥٨٥٤)، وقد أخرج نحوه البخاري (١٢٠٤)، ومسلم (٤٢١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39029، ترقيم محمد عوامة 37428)
حدیث نمبر: 39030
٣٩٠٣٠ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي الزبير عن جابر قال: التسبيح (في الصلاة للرجال) (١)، والتصفيق للنساء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے منقول ہے کہ نماز میں مردوں کے لئے تسبیح کہنا ہے اور عورتوں کے لئے تالی بجانا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39030
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وورد مرفوعًا عند أحمد (١٤٦٥٤)، والبزار (٥٧٣/ كشف)، وأبي يعلى (٢١٧٢)، والطبراني في الأوسط (٥٢١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39030، ترقيم محمد عوامة 37429)
حدیث نمبر: 39031
٣٩٠٣١ - حدثنا ابن فضيل عن يزيد قال: استأذنتُ على عبد الرحمن بن أبي ليلى وهو يصلي فسبح بالغلام ففتح لي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید فرماتے ہیں کہ میں نے عبد الرحمان بن ابی لیلیٰ سے (گھر میں داخلے کی) اجازت طلب کی اور وہ نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے غلام کو تسبیح کہی۔ پس اس نے میرے لئے روزہ کھولا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39031
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39031، ترقيم محمد عوامة 37430)
حدیث نمبر: 39032
٣٩٠٣٢ - حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن قال: استأذن رجل على جابر بن عبد اللَّه فسبح فدخل فجلس حتى انصرف (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے (داخلے کی) اجازت طلب کی ۔ تو انہوں نے تسبیح پڑھی۔ وہ آدمی اندر آ کر بیٹھ گیا یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہوگئے۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : وہ فرمایا کرتے تھے ۔ کہ نمازی ایسا نہیں کرے گا۔ اور وہ اس کو مکروہ خیال کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 39032
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39032، ترقيم محمد عوامة 37431)