حدیث نمبر: 39025
٣٩٠٢٥ - حدثنا عبدة عن هشام بين عروة عن أبيه عن عائشة قال: خرجنا مع النبي ﷺ في حجة الوداع موافين لهلال ذي الحجة، فقال النبي ﷺ: "من أراد منكم أن يهل بعمرة فليهل، فإني لولا أني أهديت لأهللت بعمرة"، قالت: فكان من القوم من أهل بعمرة، ومنهم من أهل بحج، قالت: فكنت أنا ممن أهل بعمرة، قالت: فخرجنا حتى قدمنا مكة فأدركني يوم عرفة وأنا حائض لم أحل من عمرتي، فشكوت ذلك إلى النبي ﷺ فقال: "دعي عمرتك، وانقضي رأسك، وامتشطي وأهلي بالحج"، قالت: ففعلت، فلما كانت ليلة (الحصبة) (١) وقد قضى اللَّه حجنا أرسل معي عبد الرحمن بن أبي بكر فأردفني وخرج (بي) (٢) إلى التنعيم، فأهللت بعمرة، فقضى اللَّه حجنا وعمرتنا، لم يكن في ذلك هدي ولا صدقة ولا صوم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ذی الحجہ کے چاند پر حجۃ الوداع میں نکلے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے جو کوئی عمرہ کے لئے تلبیہ کہنا چاہتا ہو تو وہ تلبیہ کہہ لے۔ کیونکہ اگر میں ہدی کا جانور ساتھ نہ لایا ہوتا تو میں بھی عمرے کے لئے تلبیہ کہتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قوم میں سے کچھ نے عمرے کے لئے تلبیہ کہا اور بعض نے حج کے لئے تلبیہ کہا۔ فرماتی ہیں مں ب عمرہ کا تلبیہ کہنے والوں میں تھی ۔ فرماتی ہیں کہ ہم چلے یہاں تک کہ مکہ آپہنچے۔ مجھ پر یوم عرفہ اس حالت میں آیا کہ میں حائضہ تھی۔ اور اپنے عمرہ سے بھی حلال نہیں ہوئی تھی۔ میں نے اس بات کی شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنے عمرے کو چھوڑ دو اور اپنا سر کھول لو اور کنگھی کرلو اور حج کے لئے تلبیہ کہہ لو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے یہ کام کیا پس جب ایام تشریق کے بعد والی رات آئی اور اللہ تعالیٰ نے ہمارا حج مکمل فرما دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ساتھ عبد الرحمان بن ابی بکر کو بھیجا۔ انہوں نے مجھے اپنے ہمراہ لیا اور مجھے تنعیم کی طرف لے کر نکل گئے۔ پھر میں نے عمرہ کے لئے تلبیہ کہا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ہمارا حج اور عمرہ پورا فرمایا۔ اس میں ہدی، صدقہ اور روزہ (کچھ بھی) نہیں تھا۔
حدیث نمبر: 39026
٣٩٠٢٦ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن ابن أبي نجيح عن مجاهد (و) (١) عطاء قال: سألتهما عن امرأة قدمت مكة بعمرة فحاضت (فخشيت) (٢) أن يفوتها الحج؟ فقالا: تهل بالحج وتمضي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی نجیح ، مجاہد اور عطاء کے بارے میں روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے ان دونوں سے اس عورت کے بارے میں پوچھا جو مکہ میں عمرہ کے لئے آئے اور حائضہ ہوجائے ۔ اور اس کو حج کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو ؟ تو ان دونوں نے فرمایا : یہ عورت حج کا تلبیہ کہہ لے گی اور اس کو پورا کرے گی۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : عورت حج کو چھوڑ دے گی اور اس پر دَم واجب ہوگا اور عمرہ کی جگہ عمرہ ادا کرنا ہوگا۔