حدیث نمبر: 39008
٣٩٠٠٨ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري سمع سهل بن (سعد) (١) يقول: اطلع رجل من جحر في حجرة النبي ﷺ ومعه مِدْرى يحك به رأسه فقال: "لو أعلم أنك تنظر لطعنت به في عينيك، إنما الاستئذان من البصر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہل بن سعد فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجروں میں سے کسی حجرہ میں جھانکا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کنگھی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا سر کھجا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر مجھے علم ہوتا کہ تو دیکھ رہا ہے تو میں یہ تیری آنکھ میں دے مارتا۔ اجازت طلب کرنے کا تعلق دیکھنے ہی سے تو ہے۔
حدیث نمبر: 39009
٣٩٠٠٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن حميد عن أنس أن النبي ﷺ كان في بيته، فاطلع رجل من خلل الباب فسدد النبي ﷺ نحوه بمشقص فتأخر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر میں تھے کہ ایک آدمی نے دروازے کی سوراخوں میں جھانکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف کنگھی کے ساتھ (مارنے کے لئے) نشانہ بنایا تو وہ پیچھے ہٹ گیا۔
حدیث نمبر: 39010
٣٩٠١٠ - حدثنا خالد بن مخلد عن سليمان بن بلال عن سهيل عن أبيه عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لو أن رجلا اطلع على قوم بغير إذنهم حل لهم أن (يفقأوا) (١) عينه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی آدمی کسی قوم کو ان کی اجازت کے بغیر جھانکے تو ان کے لئے اس آدمی کی آنکھ پھوڑنا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 39011
٣٩٠١١ - ٣٩٠٦٤ - حدثنا ابن فضيل عن الأعمش عن أبي قيس (١) عبد الرحمن بن ثروان عن هزيل قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لو أن رجلا اطلع في دار قوم من كوة فرمي بنواة ففقأت عينه لبطلت" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہزیل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر کوئی آدمی لوگوں کے گھر میں روشندان سے جھانکے اور اس کی طرف گٹھلی پھینکی جائے ۔ اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو یہ زخم رائیگاں ہوگا۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : ضمان دیا جائے گا۔