کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اونٹوں کے پیشاب کو پینے کا بیان
حدیث نمبر: 38973
٣٨٩٧٣ - حدثنا ابن نمير عن عثمان بن حكيم عن عامر بن سعد عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إني أحرم ما بين لابتي المدينة: أن تقطع عضاهها أو يقتل صيدها"، وقال: "المدينة خير لهم لو كانوا يعلمون" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک میں مدینہ کے دونوں سنگریزوں کے درمیان کو حرام قرار دیتا ہوں اس بات سے کہ اس کا درخت کاٹا جائے یا اس کے شکار کو قتل کیا جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مدینہ لوگوں کے لئے بہتر ہے اگر لوگ اس بات کو جانتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38973
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٣٦٣)، وأحمد (١٥٧٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38973، ترقيم محمد عوامة 37373)
حدیث نمبر: 38974
٣٨٩٧٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن أبيه قال: خطبنا علي فقال: من زعم أن عندنا شيئا نقرؤه إلا كتاب اللَّه وهذه الصحيفة (صحيفة) (١) فيها أسنان الإبل وأشياء من الجراحات (٢)، قال: وفيها قال رسول اللَّه ﷺ: "حرم ما بين عير إلى ثور" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ مرتضیٰ نے ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا : جو کوئی گمان کرتا ہے کہ ہمارے پاس کوئی چیز ہے جس کو ہم پڑھتے ہیں سوائے کتاب اللہ کے اور اس صحیفہ کے۔ اس صحیفہ میں اونٹ کے دانت تھے اور زخموں کے بارے میں کچھ احکام تھے۔ (تو اس کا گمان غلط ہے) راوی کہتے ہیں کہ اس میں یہ بات بھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مدینہ مقام عیر سے مقام ثور تک حرم ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38974
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣١٧٢)، ومسلم (١٣٧٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38974، ترقيم محمد عوامة 37374)
حدیث نمبر: 38975
٣٨٩٧٥ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن (يسير) (١) بن (عمرو) (٢) عن سهل بن حنيف قال: أومأ النبي ﷺ إلى (المدينة) (٣) فقال: "إنها حرام آمن" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہل بن حُنیف روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : یہ مامون حرم ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38975
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٣٧٥)، وأحمد (١٥٩٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38975، ترقيم محمد عوامة 37375)
حدیث نمبر: 38976
٣٨٩٧٦ - حدثنا ابن علية عن عبد الرحمن بن إسحاق عن الزهري عن سعيد ابن المسيب قال: قال أبو هريرة: حرم رسول اللَّه ﷺ ما بين لابتيها -يريد المدينة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے ، یعنی مدینہ کے، دونوں سنگریزوں کے مابین کو حرم قرار دیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ اگر میں (یہاں پر) ہرن ٹھہرا پاؤں تو میں اس کو بھی خوف زدہ نہیں کروں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38976
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد الرحمن بن إسحاق المدني صدوق، وأخرجه البخاري (١٨٧٣)، ومسلم (١٣٧٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38976، ترقيم محمد عوامة 37376)
حدیث نمبر: 38977
٣٨٩٧٧ - قال أبو هريرة: لو وجدت الظباء ساكنة ما ذعرتها (١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38977
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد الرحمن بن إسحاق المدني صدوق، أخرجه أحمد ٢/ ٤٨٧ (١٠٣٢٢)، ومسلم (١٣٧٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38977، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 38978
٣٨٩٧٨ - حدثنا أبو أسامة عن عبيد اللَّه بن عمر عن سعيد بن أبي سعيد عن أبي هريرة قال: قال النبي ﷺ: "إن اللَّه حرم على لساني ما بين لابتي المدينة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری زبان سے مدینہ کے دونوں سنگریزوں کے درمیان کو حرم بنادیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38978
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٨٦٩)، وأحمد ٢/ ٢٨٦ (٧٨٣١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38978، ترقيم محمد عوامة 37377)
حدیث نمبر: 38979
٣٨٩٧٩ - حدثنا أبو أسامة عن الوليد بن كثير قال: حدثني شرحبيل أبو (سعد) (١) أنه دخل (الأسواف) (٢) فصاد بها نهسا -يعني طائرا- فدخل عليه زيد بن ثابت وهو معه فعرك أذنه وقال: خل سبيله، لا أم لك أما علمت أن النبي ﷺ حرم ما بين لابتيها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شرحبیل ابو سعد بیان فرماتے ہیں کہ وہ اسواف میں داخل ہوئے (وہاں پر) انہوں نے ایک پرندہ شکار کیا ۔ (اس دوران) ان کے پاس زید بن ثابت تشریف لائے۔ وہ پرندہ ابو سعد کے پاس تھا۔ حضرت زید نے ابو سعد کے کان کو مسلا اور فرمایا۔ تیری ماں نہ ہو ! اس کا راستہ چھوڑ دے۔ کیا تجھے معلوم نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کے دونوں سنگریزوں کے مابین کو حرام قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38979
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف شرحبيل، أخرجه أحمد (٢١٥٧٦)، ومالك ٢/ ٨٩٠، وعبد الرزاق (١٧١٤٨)، والطبراني (٤٩١١)، والبيهقي ٥/ ١٩٩، والذهبي في سير أعلام النبلاء ٢/ ٤٣٠، والبغوي في الجعديات (٢٨١٤)، والطحاوي ٤/ ١٩٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38979، ترقيم محمد عوامة 37378)
حدیث نمبر: 38980
٣٨٩٨٠ - حدثنا أبو أسامة عن الوليد بن كثير عن سعيد بن عبد الرحمن بن أبي سعيد الخدري أن عبد الرحمن حدثه عن أبيه عن أبي سعيد أنه سمع النبي ﷺ يقول: "إني حرمت ما بين لابتي المدينة كما حرم إبراهيم مكة"، قال: ثم كان أبو سعيد يجد أحدنا في يده الطير قد أخذه فيفكه من يده فيرسله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمان اپنے والد ابو سعید سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سُنا کہ میں مدینہ کے دونوں سنگریزوں کے درمیان کو حرم قرار دیتا ہوں جیسا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ ابو سعید اگر ہم میں سے کسی کے ہاتھ پرندہ پکڑا ہوا دیکھتے تو اس کو اس کے ہاتھ سے روک لیتے پھر پرندہ کو چھڑوا دیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38980
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٣٧٤)، وأحمد (١١٢٧٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38980، ترقيم محمد عوامة 37379)
حدیث نمبر: 38981
٣٨٩٨١ - حدثنا يزيد بن هارون عن عاصم الأحول قال: سألت أنس بن مالك أحرم النبي ﷺ المدينة؟ قال: نعم، هي حرام حرمها اللَّه ورسوله: "لا يختلى خلاها فمن فعل ذلك فعليه لعنة اللَّه والملائكة والناس أجمعين" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم احول فرماتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کو حرم قرار دیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ! یہ حرم ہے اس کو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قابل احترام ٹھہرایا ہے ۔ اس کا گھاس (بھی) نہیں کاٹا جائے گا۔ جو شخص ایسا کرے (گھاس کاٹے) تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38981
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٨٦٧)، ومسلم (١٣٦٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38981، ترقيم محمد عوامة 37380)
حدیث نمبر: 38982
٣٨٩٨٢ - حدثنا ابن أبي (غنية) (١) عن داود بن عيسى عن الحسن قال: أخبرني ابن عباس أنه سمع النبي ﷺ يقول: "اللهم إني حرمت المدينة بما حرمت به مكة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما خبر دیتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے سُنا۔ اے اللہ ! میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں جیسا کہ آپ نے مکہ کو حرم قرار دیا ہے۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : اس آدمی پر کچھ بھی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38982
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38982، ترقيم محمد عوامة 37381)