کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: والد کا اپنی اولاد کے مال میں سے اپنی ذات پر خرچ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 38971
٣٨٩٧١ - حدثنا هشيم عن عبد العزيز بن صهيب عن أنس بن مالك قال: قدم ناس من عرينة المدينة (فاجتووها) (١) فقال لهم النبي ﷺ: "إن شئتم أن تخرجوا إلى إبل الصدقة فتشربوا من أبوالها وألبانها فافعلوا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیا ن فرماتے ہیں کہ عرینہ سے کچھ لوگ مدینہ میں حاضر ہوئے ۔ تو انہیں مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا : اگر تم صدقہ کے اونٹوں کی طرف نکلنا اور ان کا دودھ اور پیشاب پینا چاہتے ہو تو ایسا کرلو۔
حدیث نمبر: 38972
٣٨٩٧٢ - حدثنا ابن عيينة عن حجاج بن أبي عثمان قال: حدثنا أبو رجاء مولى أبي قلابة عن أبي قلابة عن أنس أن نفرا من عكل ثمانية قدموا على النبي ﷺ فبايعوه على الإسلام فاستوخموا الأرض وسقمت أجسامهم، فشكوا ذلك إلى النبي ﷺ فقال: "ألا تخرجون مع راعينا في إبله فتصيبوا من أبوالها وألبانها"، قالوا: بلى، فخرجوا فشربوا من أبوالها وألبانها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ عکل سے آٹھ افراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی ۔ انہیں مدینہ کی زمین موافق نہ آئی اور ان کے جسم بیمار ہوگئے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم ہمارے چرواہے کے ساتھ اس کے اونٹوں میں نہیں چلے جاتے تاکہ تم اونٹوں کے پیشاب اور دودھ پیو ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ! پس وہ لوگ چلے گئے اور انہوں نے اونٹوں کے دودھ اور پیشاب کو پیا۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : وہ اونٹوں کے پیشاب کو مکروہ جانتے تھے۔