حدیث نمبر: 38965
٣٨٩٦٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة قالت: قال النبي ﷺ: "أطيب ما أكل الرجل من كسبه، وولده من كسبه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آدمی سب سے پاکیزہ جو کھاتا ہے وہ اپنی کمائی (کامال) ہے اور آدمی کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے۔
حدیث نمبر: 38966
٣٨٩٦٦ - حدثنا ابن أبي زائدة عن الأعمش عن عمارة بن عمير (عن عمته) (١) عن عائشة قالت: قال النبي ﷺ: "إن أطيب ما أكتم من كسبكم، ⦗٢٥٥⦘ وإن أولادكم من كسبكم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم جو کچھ کھاتے ہو اس میں سے پاکیزہ مال تمہاری کمائی والا مال ہے اور تمہاری اولادیں بھی تمہاری کمائی ہیں۔
حدیث نمبر: 38967
٣٨٩٦٧ - حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى (١) عن الشعبي قال: جاء رجل من الأنصار إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه إن أبي غصبني مالي؟ فقال: "أنت ومالك لأبيك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں ایک انصاری ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے باپ نے میرا مال غصب کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔
حدیث نمبر: 38968
٣٨٩٦٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن محمد بن المنكدر قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه إن لي مالا ولأبي مال؟ قال: "أنت ومالك لأبيك" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن منکدر روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے پاس بھی مال ہے اور میرے والد کے پاس بھی مال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔
حدیث نمبر: 38969
٣٨٩٦٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن إبراهيم بن عبد الأعلى عن سويد بن غفلة عن عائشة قالت: يأكل الرجل من مال ولده ما شاء، ولا يأكل الولد من مال والده إلا بإذنه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آدمی اپنی اولاد کے مال میں سے جتنا چاہے کھا سکتا ہے اور اولاد اپنے والد کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر نہیں کھا سکتی۔
حدیث نمبر: 38970
٣٨٩٧٠ - حدثنا أبو خالد عن حجاج عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: إن أبي (اجتاح) (١) مالي قال: "أنت ومالك لأبيك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ میرا والد میرے مال کا محتاج ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : باپ اگر محتاج ہو تو اولاد کے مال میں سے لے سکتا ہے اور خود پر خرچ کرسکتا ہے وگرنہ نہیں۔