حدیث نمبر: 38960
٣٨٩٦٠ - حدثنا ابن علية عن عبد الرحمن بن إسحاق عن الزهري عن سعيد ابن المسيب أن النبي ﷺ أمر عتاب بن أسيد أن يخرص العنب كما يخرص النخل فيؤدي زكاته زبيبا كما تؤدى زكاة النخل تمرًا، فتلك سنة النبي ﷺ في النخل والعنب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عتاب بن اسید کو کھجوروں کا تخمینہ لگانے کی طرح انگوروں کا تخمینہ لگانے کا حکم دیا۔ پس انگوروں کی زکوۃ کشمش کی شکل میں اور خرما کی زکوۃ کھجوروں کی شکل میں ادا کی جائے گی۔ کھجوروں اور انگوروں کے بارے میں یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سُنت ہے۔
حدیث نمبر: 38961
٣٨٩٦١ - حدثنا حفص عن الشيباني عن الشعبي أن النبي ﷺ بعث عبد اللَّه بن رواحة إلى أهل اليمن فخرص عليهم النخل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبد اللہ بن رواحہ کو اہل یمن کی طرف بھیجا تو انہوں نے ان پر کھجوروں میں تخمینہ لگانا مقرر کیا۔
حدیث نمبر: 38962
٣٨٩٦٢ - حدثنا أبو داود عن شعبة (عن) (١) خبيب بن عبد الرحمن قال: سمعت عبد الرحمن بن (مسعود) (٢) يقول: جاء سهل بن أبي (حثمة) (٣) إلي فجلسنا فحدث أن النبي ﷺ قال: "إذا خرصتم فخذوا ودعوا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمان بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ سہل بن ابی حثمہ ہماری مجلس میں آئے اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم تخمینہ لگاؤ تو (کچھ) لے لو اور (کچھ) چھوڑ دو ۔
حدیث نمبر: 38963
٣٨٩٦٣ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن أبي الزبير عن جابر أنه سمعه يقول: خرصها ابن رواحة -يعني خيبر- أربعين ألف وسق، وزعم أن اليهود لما خيرهم بن رواحة أخذوا التمر وعليهم عشرون ألف وسق (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ابن رواحہ نے خیبر کی کھجوروں کا تخمینہ چالیس ہزار وسق لگایا۔ اور ان کو یہ گمان تھا کہ جب ابن رواحہ نے یہودیوں کو اختیار دیا تو انہوں نے کھجوریں لے لیں اور ان پر بیس ہزار وسق تھے۔
حدیث نمبر: 38964
٣٨٩٦٤ - حدثنا أبو خالد عن يحيى بن سعيد عن بشير بن يسار أن عمر كان يبعث أبا (حثمة) (١) خارصا للنخل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بشیر بن یسار بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر ، ابو حثمہ کو کھجوروں کا تخمینہ لگانے کے لئے بھیجتے تھے۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : وہ تخمینہ لگانے کی رائے نہیں رکھتے تھے۔