کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: بُدوِّ صلاح (آفت سے مامون ہونے) سے پہلے پھل کی بیع کا بیان
حدیث نمبر: 38959
٣٨٩٥٩ - حدثنا ابن إدريس عن عبيد اللَّه بن (عمر) (١) عن نافع عن ابن عمر قال: عرضت على النبي ﷺ يوم أحد وأنا ابن أربع عشرة (فاستصغرني) (٢)، وعرضت عليه يوم الخندق وأنا ابن خمس عشرة فأجازني (٣). - قال نافع: فحدثت به عمر بن عبد العزيز، قال: فقال: هذا حد بين الصغير والكبير، قال: فكتب إلى عماله أن يفرضوا لابن خمس عشرة في المقاتلة ولابن أربع عشرة في الذرية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ مجھے احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ میں اس وقت چودہ سال کا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے چھوٹا سمجھا اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں خندق کے دن پیش کیا گیا۔ میری عمر اس وقت پندرہ سال تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔ حضرت نافع فرماتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث عمر بن عبد العزیز کو بیان کی۔ راوی کہتے ہیں : انہوں نے فرمایا : یہی چھوٹے بڑے میں حد ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے گورنروں کو لکھا کہ پندرہ سال والے کو مقاتلین میں شمار کرو اور چودہ سال والے کو بچوں میں شمار کرو۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ لڑکی پر اٹھارہ سال یا سترہ سال تک پہنچنے تک کچھ بھی (لازم) نہیں ہے۔