حدیث نمبر: 38950
٣٨٩٥٠ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سالم عن ابن عمر قال: نهى النبي ﷺ عن بيع الثمر حتى يبدو صلاحه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھل کو بُدوِّ صلاح سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے (بدو صلاح کا مفہوم چند احادیث کے بعد والی حدیث میں مرفوعاً بیان ہوگا) ۔
حدیث نمبر: 38951
٣٨٩٥١ - [حدثنا ابن عيينة عن ابن جريج عن عطاء عن جابر قال: نهى النبي ﷺ عن بيع (التمر) (١) حتى يبدو صلاحها] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بُدوِّ صلاح سے قبل پھلوں کی بیع کرنے سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 38952
٣٨٩٥٢ - حدثنا أبو الأحوص عن (زيد) (١) بن جبير قال: (سأل) (٢) رجل ابن ⦗٢٥١⦘ عمر عن شراء الثمر فقال: نهى النبي ﷺ عن بيع (الثمر) (٣) حتى يبدو صلاحها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن جبیر سے منقول ہے کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پھلوں کی خریداری سے بابت سوال کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بُدوِّ صلاح سے قبل پھلوں کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 38953
٣٨٩٥٣ - حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن (يزيد) (١) بن (خمير) (٢) عن مولى لقريش قال: سمعت أبا هريرة يحدث معاوية أن النبي ﷺ نهى عن بيع الثمرة حتى تحرز من كل عارض (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ ، حضرت معاویہ کو بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ عارض (مصیبت) سے محفوظ ہوجائیں۔
حدیث نمبر: 38954
٣٨٩٥٤ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن عطية عن أبي سعيد قال: نهى النبي ﷺ عن بيع الثمرة حتى يبدو صلاحها، قالوا: وما بدو صلاحها؟ قالت: تذهب عاهاتها ويخلص طيبها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدو صلاح سے پہلے پھلوں کی بیع کو منع فرمایا ہے۔ لوگوں نے پوچھا۔ پھلوں کی بُدوِّ صلاح کیا ہے ؟ انہوں نے ارشاد فرمایا : پھلوں کی آفات ختم ہوجائیں اور اس میں میوہ خلاصی پا جائے۔ (یعنی عادتاً آفات کا وقت گزر جائے اور حفاظت کا وقت شروع ہوجائے)
حدیث نمبر: 38955
٣٨٩٥٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن أبي البختري قال: سألت ابن عباس عن بيع النخل فقال: نهى النبي ﷺ عن بيع النخل حتى يأكل منه أو يؤكل منه وحتى يوزن، قلت: وما يوزن؟ فقال رجل عنده: حتى يحرز (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الجری فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کھجوروں کی بیع کے متعلق سوال کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجوروں کی بیع سے منع کیا یہاں تک کہ آدمی اس میں سے کھائے یا (فرمایا) وہ کھائی جاسکے۔ اور یہاں تک کہ وہ وزن کی جاسکے۔ میں نے پوچھا۔ اس کے وزن کئے جانے سے کیا مراد ہے ؟ تو ان کے پاس بیٹھے ایک آدمی نے جواب دیا : یہاں تک کہ وہ محفوظ ہوجائے۔
حدیث نمبر: 38956
٣٨٩٥٦ - حدثنا سهل بن يوسف عن حميد عن أنس قال: نهى النبي ﷺ عن بيع ثمر النخل حتى يزهو، فقيل لأنس: ما زَهْوُه؟ قال: يحمر أو يصفر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کے پھل کو فروخت کرنے سے منع کیا یہاں تک اس کی نشوو نما ہوجائے۔ حضرت انس سے پوچھا گیا کہ اس کی نشو و نما کیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : وہ سُرخ یا پیلا ہوجائے۔
حدیث نمبر: 38957
٣٨٩٥٧ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر قال: حدثنا القاسم ومكحول عن أبي أمامة أن النبي ﷺ (نهى) (١) عن بيع الثمرة حتى يبدو صلاحها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بد و صلاح سے قبل پھلوں کی بیع کرنے سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 38958
٣٨٩٥٨ - حدثنا يعلى بن عبيد حدثنا فضيل بن غزوان عن ابن أبي (نُعم) (١) عن أبي هريرة أن رسول اللَّه ﷺ نهى عن بيع الثمرة حتى يبدو صلاحها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدو صلاح سے قبل پھلوں کی فروخت سے منع فرمایا ہے۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ اس کو کچا بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور یہ بات حدیث کے خلاف ہے۔