حدیث نمبر: 38930
٣٨٩٣٠ - حدثنا هشيم أخبرنا يعلى بن عطاء قال: حدثني (جابر) (١) بن الأسود عن أبيه قال: شهدت مع النبي ﷺ حجته، قال: فصليت معه صلاة الصبح في مسجد الخيف، فلما قضى صلاته وانحرف إذا هو برجلين في آخر القوم لم يصليا معه، فقال: علي بهما، فأتي بهما ترعد فرائصهما فقال: "ما منعكما أن تصليا معنا؟ " قالا: (يا رسول) (٢) اللَّه (كنا) (٣) قد صلينا في رحالنا، قال: "فلا تفعلا، إذا صليتما في رحالكما ثم أتيتما مسجد (جماعة) (٤) فصليا معهم فإنها لكما نافلة" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن اسود اپنے والد سے روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ کے حج میں شریک ہوا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز مسجدِ خف میں پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز پڑھ چکے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رُخ مبارک موڑا تو لوگوں کے اخیر میں دو آدمی بیٹھے تھے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : انہیں میرے پا س لاؤ۔ پس ان دونوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا ا س حال میں کہ ان پر کپکپی طاری تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ تم لوگوں کو ہمارے ساتھ نماز ادا کرنے سے کس چیز نے روکے رکھا ؟ انہوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم نے اپنے کجاو وں میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : آئندہ ایسا مت کرو۔ جب تم اپنے کجاو وں میں نماز پڑھ لو پھر تم مسجد کی طرف آؤ۔ تو تم لوگوں کے ساتھ (جماعت میں) نماز پڑھو۔ کیونکہ یہ تمہارے لئے نفل ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 38931
٣٨٩٣١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن زيد بن أسلم عن (بسر) (١) أو بشر بن محجن (الدئلي) (٢) عن أبيه عن النبي ﷺ بنحوه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بشر یا بُسر بن محجن اپنے والد سے ایسی ہی مذکورہ بالا روایت نقل کرتے ہیں۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : فجر کی نماز کا (امام کے ساتھ) اعادہ نہیں کیا جائے گا۔