کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: حق مہر کی کم از کم مقدار دس درہم ہے
حدیث نمبر: 38927
٣٨٩٢٧ - حدثنا هشيم عن عبد العزيز بن (صهيب) (١) عن أنس بن مالك أن النبي ﷺ أعتق صفية وتزوجها، قال: فقيل له: ما (أصدقها؟) (٢) قال: "أصدقها نفسها"، جعل عتقها صداقها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت صفیہ کو آزاد کیا اور پھر ان سے شادی کرلی۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ سے پوچھا گیا کہ آپ نے ان کو کیا مہر دیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ انہیں ان کی جان مہر میں دی تھی، یعنی ان کی آزادی کو حق مہر بنا لیا گیا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38927
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ صرح هشيم بالتحديث عند ابن الجوزي في التحقيق (١٧٣٩)، وأخرجه البخاري (٥١٦٩)، ومسلم (١٣٦٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38927، ترقيم محمد عوامة 37327)
حدیث نمبر: 38928
٣٨٩٢٨ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر بن محمد عن أبيه قال: قال علي: إن شاء أعتق (الرجل) (١) أم ولده وجعل عتقها مهرها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اگر آ دمی چاہے تو اپنی اُمّ ولد کو آزاد کر دے اور اس کی آزادی کو اس کا مہر شمار کرلے ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38928
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38928، ترقيم محمد عوامة 37328)
حدیث نمبر: 38929
٣٨٩٢٩ - حدثنا أبو أسامة عن يحيى بن سعيد قال: قال سعيد بن المسيب: من أعتق وليدته أو أم ولده وجعل ذلك لها صداقا، رأيت ذلك (جائزًا) (١) له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ جو آدمی اپنی لونڈی یا اُمّ ولد کو آزاد کر دے اور اسی آزادی کو اس کے لئے مہر بنا دے تو میں یہ کام اس کے لیے جائز سمجھتا ہوں۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : یہ نکاح (آزاد کردہ لونڈی کا) بھی مہر کے ساتھ جائز ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38929
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38929، ترقيم محمد عوامة 37329)