حدیث نمبر: 38891
٣٨٨٩١ - حدثنا عيسى بن يونس عن عمر بن سعيد بن أبي حسين قال: حدثنا ابن أبي مليكة قال: حدثنا عقبة بن الحارث قالت: زوجت ابنة (أبي) (١) إهاب (التميمي) (٢) فلما كانت صبيحة (ملكها) (٣) جاءت مولاة لأهل مكة فقالت: إني قد أرضعتكما، فركب عقبة (إلى النبي ﷺ بالمدينة فذكر له ذلك، وقال: سألت أهل الجارية فأنكروا، فقال: "وكيف) (٤) وقد قيل"، ففارقها ونكحت غيره (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن حارث سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو اہاب تمیمی کی بیٹی سے شادی کی، پس جب اس کی روانگی کی صبح تھی تو اہل مکہ کی ایک آزاد کردہ لونڈی آئی تو اس نے کہا۔ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا تھا۔ اور پھر حضرت عقبہ سوار ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مدینہ میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ کیا اور (یہ بھی) کہا کہ میں نے لڑکی والوں سے پوچھا ہے تو انہوں نے انکار کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ جب کہہ دیا گیا ہے تو انکار کیسا ؟ پس آپ نے ان سے جدائی کرلی اور انہوں نے کسی اور سے نکاح کرلیا۔
حدیث نمبر: 38892
٣٨٨٩٢ - حدثنا معتمر عن محمد بن عثيم عن محمد بن عبد الرحمن بن البيلماني عن أبيه عن ابن عمر قال: سئل النبي ﷺ ما يجوز في الرضاعة من الشهود؟ ⦗٢٣٤⦘ قال: "رجل أو امرأة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ رضاعت میں کتنے گواہوں کی گواہی جائز ہوتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایک آدمی یا ایک عورت۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : زیادہ کی گواہی جائز ہے کم کی نہیں۔