حدیث نمبر: 38887
٣٨٨٨٧ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري قال: سمعت أنس بن مالك يقول: سقط النبي ﷺ عن فرس فجحش شقه الأيمن فدخلنا عليه نعوده، فحضرت الصلاة فصلى بنا قاعدا وصلينا وراءه (قيامًا) (١)، فلما قضى الصلاة قال: "إنما جعل الإمام ليؤتم به، فإذا كبر فكبروا، وإذا ركع فاركعوا، (وإذا سجد فاسجدوا) (٢)، وإذا رفع فارفعوا وإذا قال: سمع اللَّه لمن حمده فقولوا: اللهم ربنا ولك الحمد، وإن صلى قاعدا فصلوا قعودا أجمعون" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری سے منقول ہے کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سُنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھوڑے سے گرپڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائیں جانب میں رگڑ آگئی۔ ہم آپ کی عیادت کے لئے آپ کے پاس حاضر ہوئے اس دوران نماز کا وقت آگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں بیٹھ کر نماز پڑھی۔ پس جب نماز پوری ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ امام اس لیے متعین کیا جاتا ہے تاکہ اس کی اقتدا کی جائے۔ پس جب امام تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو۔ اور جب رکوع کرے تو تم رکوع کرو۔ اور جب امام سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو۔ اور جب امام سر اٹھائے تو تم سر اٹھاؤ۔ اور جب امام سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم اللَّہُمَّ رَبَّنَا وَلَک الْحَمْدُ کہو۔ اور اگر امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حدیث نمبر: 38888
٣٨٨٨٨ - حدثنا عبدة عن هشام عن أبيه عن عائشة قالت: اشتكى النبي ﷺ فدخل عليه ناس من أصحابه يعودونه، فصلى النبي ﷺ جالسا فصلوا بصلاته قيامًا، فأشار إليهم أن: اجلسوا فجلسوا فلما انصرف قال: "إنما جعل الإمام ليؤتم به، فإذا ركع فاركعوا، وإذا رفع فارفعوا، وإذا صلى جالسا فصلوا جلوسًا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی بیماری لاحق ہوگئی تو صحابہ کرام میں سے کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عیادت کرنے کے لئے حاضر ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھی جبکہ ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ فرمایا۔ پس وہ لوگ بیٹھ گئے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوگئے تو ارشاد فرمایا۔ امام اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے ۔ پس جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ۔ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حدیث نمبر: 38889
٣٨٨٨٩ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال: صرع رسول اللَّه ﷺ عن فرس له، فوقع على جذع فانفكت قدمه، قال: فدخلنا عليه نعوده وهو يصلي في مشربة لعائشة جالسًا، فصلينا بصلاته ونحن قيام، فأومأ إلينا أن اجلسوا، فلما صلى قال: "إنما جعل الإمام ليؤتم به، فإذا صلى قائما فصلوا قياما، وإذا صلى جالسا فصلوا جلوسا، ولا تقوموا وهو جالس كما تفعل أهل فارس بعظمائها" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھوڑے سے گرپڑے اور کھجور کے تنے پر گرے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک سوج گئے۔ راوی کہتے ہیں : ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عیادت کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مشربہ میں بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی درآنحالیکہ ہم کھڑے تھے پھر ہم دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں کھڑے ہو کر نماز پر ھنا شروع کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ فرمایا۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ چکے تو ارشاد فرمایا : امام اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، سو جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب و ہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ امام بیٹھا ہو تو تم کھڑے نہ ہو جیسا کہ اہل فارس اپنے بڑوں کے ساتھ کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 38890
٣٨٨٩٠ - حدثنا أبو خالد عن محمد بن عجلان عن زيد بن أسلم عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال: النبي ﷺ: "إنما جعل الإمام ليؤتم به، فإذا كبر فكبروا، وإذا قرأ فأنصتوا، وإذا قال: ﴿عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾! فقولوا: آمين، وإذا ركع فاركعوا، وإذا قال: سمع اللَّه لمن حمده، فقولوا: اللهم ربنا ولك الحمد، وإذا سجد فاسجدوا، وإذا صلى جالسا فصلوا جلوسا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : امام اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، پس جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب امام قراءت کرے تو تم خاموش رہو، اور جب امام { غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ ، وَلاَ الضَّالِّینَ } کہے تو تم آمین کہو۔ اور جب امام رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب امام سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم کہو۔ اللَّہُمَّ رَبَّنَا وَلَک الْحَمْدُ اور جب امام سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو ۔ اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بیٹھ کر نماز پڑھو۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : امام بیٹھا ہو تو اس کی اقتدا (میں بیٹھنا) درست نہیں ہے۔