حدیث نمبر: 38882
٣٨٨٨٢ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري سمع سهل بن سعد: شهد المتلاعنين على عهد النبي ﷺ فرق بينهما قال: (يا رسول) (١) اللَّه كذبت عليها إن أنا (أمسكتها) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری سے منقول ہے کہ انہوں نے سہل بن سعد کو کہتے سُنا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں لعان کرنے والے میاں بیوی کے واقعہ پر حاضر تھے جن کے درمیان (بعد میں) جدائی کردی گئی تھی۔ شوہر نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر میں اپنی بیوی کو اپنے پاس ٹھہرائے رکھوں تو (گویا) میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے۔
حدیث نمبر: 38883
٣٨٨٨٣ - حدثنا يزيد عن عباد بن منصور عن عكرمة عن ابن عباس قال: فرق النبي ﷺ بينهما (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کردی تھی۔
حدیث نمبر: 38884
٣٨٨٨٤ - حدثنا ابن نمير وأبو أسامة عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر قال: لاعن النبي ﷺ بين رجل من الأنصار وامرأته ففرق بينهما (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کے ایک آدمی اور اس کی بیوی کے درمیان کروایا پھر آپ نے ان دونوں کے درمیان تفریق کردی۔
حدیث نمبر: 38885
٣٨٨٨٥ - حدثنا ابن نمير عن عبد الملك عن سعيد بن جبير عن ابن عمر أن النبي ﷺ فرق بينهما (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی کے درمیان تفریق کردی تھی۔
حدیث نمبر: 38886
٣٨٨٨٦ - حدثنا سفيان بن عيينة عن عمرو عن سعيد بن جبير عن ابن عمر أن النبي ﷺ فرق بين المتلاعنين، فقال: يا رسول اللَّه مالي؟ فقال: "لا مال لك أن كنت صادقا فبما استحللت من فرجها، وإن كنت كاذبا فذاك أبعد لك منها" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو لعان کرنے والوں میں جدائی کردی تو شوہر نے کہا : یا رسول اللہ ! میرا مال ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تیرا مال نہیں ہے۔ (اس لئے کہ) اگر تو سچا ہے تو پھر تو نے ا س کی فرج کو کس کے عوض حلال سمجھ رکھا تھا ؟ (ظاہر ہے کہ مال ہی کے عوض حلت پیدا ہوئی تھی) اور اگر تو جھوٹا ہے تو پھر بطریقِ اولی تجھے مال نہیں ملے گا۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : جب شوہر اپنی تکذیب کر دے تو عورت سے شادی کرسکتا ہے۔