کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: زانی اور زانیہ کو جلاوطن کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 38878
٣٨٨٧٨ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن (عبيد اللَّه) (١) عن أم قيس ابنة محصن قالت: دخلت بابن لي على النبي ﷺ لم يأكل الطعام، فبال عليه فدعا بماء فرشه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محصن کی بیٹی ام قیس بیان کرتی ہیں ۔ میں اپنا ایک بیٹا جو کھانا نہیں کھاتا تھا لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو بچے نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیشاب کردیا۔ پس آپ نے پانی منگوایا اور پیشاب پر چھڑک دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38878
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٢٣)، ومسلم (٢٨٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38878، ترقيم محمد عوامة 37278)
حدیث نمبر: 38879
٣٨٨٧٩ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن سماك عن قابوس بن المخارق عن لبابة بنت الحارث قالت: بال الحسين بن علي على النبي ﷺ فقلت: أعطني ثوبك والبس غيره، فقال: "إنما ينضح من بول الذكر، ويغسل من بول الأنثى" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لبابہ بنت الحارث بیان کرتی ہیں کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیشاب کردیا تو میں نے عرض کیا۔ یہ کپڑے مجھے دے دیں (تا کہ دھو دوں) آپ کوئی اور پہن لیں۔ آپ نے فرمایا : بچے کے پیشاب پر چھینٹیں ماری جاتی ہیں اور بچی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38879
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مضطرب؛ اضطرب سماك في إسناد هذا الحديث فرواه بأوجه مختلفة، أخرجه أحمد (٢٦٨٧٥)، وأبو داود (٣٧٥)، وابن ماجه (٥٢٢)، وابن خزيمة (٢٨٢)، والحاكم ١/ ١٦٦، وعبد الرزاق (١٤٨٧)، وابن سعد ٨/ ٢٧٩، وأبو يعلى (٧٠٧٤)، والطحاوي ١/ ٩٢، والطبراني ٢٥/ (٤٠)، والبيهقي ٢/ ٤١٤، والبغوي (٢٩٥)، وأبو نعيم في أخبار أصبهان ١/ ٤٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38879، ترقيم محمد عوامة 37279)
حدیث نمبر: 38880
٣٨٨٨٠ - حدثنا وكيع عن هشام عن أبيه عن عائشة أن النبي ﷺ أتى بصبي فبال عليه فاتبعه الماء ولم يغسله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں ایک بچہ لایا گیا ۔ اس نے آپ پر پیشاب کردیا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر پانی گرا دیا اور اس کو دھویا نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38880
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٢٢)، ومسلم (٢٨٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38880، ترقيم محمد عوامة 37280)
حدیث نمبر: 38881
٣٨٨٨١ - حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى عن (عيسى عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن) (١) (جده أبي ليلى) (٢) قال: كنا عند النبي ﷺ جلوسا، فجاء (الحسين) (٣) بن علي يحبو حتى (جلس) (٤) على صدره (فبال عليه) (٥)، قال: فابتدرناه لنأخذه، فقال النبي ﷺ: "ابني ابني"، ثم دعا بماء فصبه عليه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو لیلیٰ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سرکتے ہوئے آئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ اطہر پر بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیشاب کردیا۔ راوی کہتے ہیں ہم نے جلدی سے آگے بڑھ کر حضرت حسین کو پکڑنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرا بیٹا ! میرا بیٹا ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوایا اور اس پر بہا دیا۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : اسے دھویا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38881
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى سيء الحفظ، أخرجه أحمد (١٩٠٥٦)، والطحاوي ١/ ٩٤، والطبراني (٦٤٢٤)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢١٥١)، والدولابي ١/ ٥١، والدارمي (١٦٤٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38881، ترقيم محمد عوامة 37281)