حدیث نمبر: 38876
٣٨٨٧٦ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن (عبيد اللَّه) (١) عن أبي هريرة وزيد بن خالد وشبل أنهم كانوا عند النبي ﷺ فقام رجل فقال: أنشدك اللَّه ألا قضيت بيننا بكتاب اللَّه، (فقال خصمه وكان أفقه منه: اقض بيننا بكتاب اللَّه) (٢) وأذن لي حتى أقول، قال: "قل"، قال: إن ابني كان عسيفا على (هذا) (٣)، وإنه زنى بامرأته، فافتديت منه بمائة ⦗٢٢٩⦘ شاة وخادم، فسألت رجالًا من أهل العلم فأخبرت أن على ابني جلد مائة وتغريب عام، وأن على امرأة هذا الرجم، فقال النبي ﷺ: "والذي نفسي بيده لأقضين بينكما بكتاب اللَّه المائة (شاة) (٤) والخادم رد عليك، وعلى ابنك جلد مائة وتغريب عام، واغد يا أنيس على (امرأة) (٥) هذا فإن اعترفت فارجمها" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ ، زید بن خالد اور شبل سے روایت کرتے ہیں کہ یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر تھے۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا : میں آپ کو خدا کی قسم دیتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرمائیں۔ (اتنے میں) اس آدمی کے خصم نے کہا : اور وہ پہلے سے زیادہ سمجھ دار لگ رہا تھا۔ آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے ذریعہ فیصلہ فرما دیں۔ اور مجھے بولنے کی اجازت عنایت فرما دیں۔ آپ نے فرمایا : بول ! اس آدمی نے کہا : میرا ایک بیٹا اس کے ہاں ملازم تھا۔ اور اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زناء کرلیا۔ تو میں نے اس کے فدیہ میں سو بکریاں اور ایک خادم دیا۔ پھر میں اہل علم لوگوں سے پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑوں کی سزا اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور اس کی بیوی پر سنگساری کا حکم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ میں ضرور بالضرور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے ذریعہ سے فیصلہ کروں گا۔ سو بکریاں اور خادم تمہیں واپس ملیں گے اور تیرے بیٹے پر سو کوڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے۔ اور (فرمایا) اے انیس ! تم اس کی بیوی کے پاس جاؤ، پس اگر وہ اقرار کرلے تو تم اس کو سنگسار کردو۔
حدیث نمبر: 38877
٣٨٨٧٧ - حدثنا شبابة بن سوار عن شعبة عن قتادة عن الحسن عن حطان بن عبد اللَّه عن عبادة بن الصامت عن النبي ﷺ قال: "خذوا عني، قد جعل اللَّه لهن سبيلا: البكر بالبكر، والثيب بالثيب، (البكر) (١) يجلد وينفى والثيب يجلد ويرجم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبادہ بن صامت روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھ سے (یہ حکم) لے لو تحقیق اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے راستہ بنایا ہے۔ بےنکاحی عورت، بےنکاح مرد کے ساتھ زنا کرے اور شادی شدہ مرد، شادی شدہ عورت کے ساتھ زنا کرے تو باکرہ (بےنکاحوں) کو کوڑے اور جلا وطن کی سزا، اور شادی شدہ کو کوڑے اور سنگساری کی سزا دی جائے گی۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : جلا وطن نہیں کیا جائے گا۔