کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: بغیر ولی کے نکاح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 38873
٣٨٨٧٣ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عبيد اللَّه عن ابن عباس أن سعد بن عبادة استفتى النبي ﷺ في نذر كان على أمه، وتوفيت قبل أن تقضيه فقال: "اقضه عنها" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس نذر کے بارے میں سوال کیا جو ان کی والدہ پر لازم تھی اور وہ اس کو پورا کرنے سے پہلے ہی وفات پا گئی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس نذر کو تم ان کی طرف سے پورا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38873
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٦٩٨)، ومسلم (١٦٣٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38873، ترقيم محمد عوامة 37273)
حدیث نمبر: 38874
٣٨٨٧٤ - حدثنا ابن نمير عن عبد اللَّه ابن عطاء عن ابن بريدة عن أبيه قال: كنت جالسا عند النبي ﷺ إذ جاءته امرأة فقالت: إنه كان على أمي صوم شهرين (أفأصوم) (١) عنها؟ قال: "صومي عنها، (أرأيت لو كان) (٢) على أمك دين (قضيته) (٣)، أكان يجزئ عنها؟ " قالت: بلى قال: "فصومي (عنها) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن بریدہ ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت حاضر ہوئی اور اس نے کہا۔ میری والدہ پر دو ماہ کے روزے (لازم) تھے۔ کیا میں ان کی طرف سے یہ روزے رکھ سکتی ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم ان کی طرف سے روزے رکھو۔ تو بتاؤ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا اور تم اس کو ادا کرتی تو کیا یہ کافی ہوجاتا ؟ انہوں نے عرض کیا : کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پس پھر تم ان کی طرف سے روزے رکھو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38874
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١١٤٩)، وأحمد (٢٣٠٣٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38874، ترقيم محمد عوامة 37274)
حدیث نمبر: 38875
٣٨٨٧٥ - حدثنا عبد الرحيم عن محمد بن كريب (عن كريب) (١) عن ابن عباس عن سنان بن عبد اللَّه (الجهني) (٢) أنه حدثته عمته أنها أتت النبي ﷺ (فقالت: يا رسول اللَّه إن أمي توفيت وعليها مشي إلى الكعبة نذرا) (٣)، فقال النبي ﷺ: "أتستطيعين تمشين عنها؟ " قالت: نعم قال: "فامشي عن أمك"، قالت: أو يجزئ ذلك عنها؟ قال: "نعم" قال: "أرأيت لو كان عليها دين قضيته هل كان يقبل (منها؟) (٤) " قالت: نعم، فقال النبي ﷺ: " (فدين) (٥) اللَّه أحق" (٦)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سنان بن عبد اللہ جہنی بیان کرتے ہیں کہ انہیں ان کی پھوپھی نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! میری والدہ اس حال میں وفات پا گئی ہیں کہ ان پر مکہ کی طرف پیدل آنے کی نذر لازم تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس کی طرف سے مکہ کی طرف پیدل آسکتی ہو ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر تم ان کی طرف سے چل کر مکہ آؤ۔ سائلہ نے پوچھا : کیا یہ ان کی طرف سے کفایت کر جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! اور فرمایا : تم بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا اور تم اس کو ادا کرتی تو کیا یہ تمہاری والدہ کی طرف سے قبول کرلیا جاتا ؟ انہوں نے عرض کیا۔ جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ زیادہ حق دار ہے ۔ (کہ اس کا حق ادا کیا جائے) ۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : یہ چیز میت کو کفایت نہیں کرے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38875
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف محمد بن كريب، أخرجه البخاري في التاريخ ٤/ ١٦١، وأبو يعلى كما في المطالب (١٧٨٦)، وابن عدي ١٣/ ٢٧٧، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٢٩٥)، وبنحوه أخرجه أحمد ١/ ٢٧٩ (٢٥١٨)، وابن خزيمة (٣٠٣٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38875، ترقيم محمد عوامة 37275)