حدیث نمبر: 38866
٣٨٨٦٦ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن نافع عن ابن عمر قال: أصاب عمر (أرضا) (١) بخيبر فأتى النبي ﷺ فسأله عنها فقال: أصبت أرضا بخيبر لم أصب مالا قط عندي أنفس منه، فما تأمرنا فقال: "إن (شئت) (٢) حبست أصلها، وتصدقت بها"، قال: فتصدق بها عمر غير أنه لا يباع أصلها ولا يوهب ولا يورث، فتصدق بها في الفقراء والقربى وفي الرقاب وفي سبيل اللَّه وابن السبيل والضيف، لا جناح على من وليها أن يأكل منها بالمعروف، أو يطعم صديقا غير متمول فيه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر کو خیبر میں ایک زمین ملی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس زمین کی بابت سوال کیا، اور کہا کہ مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی کہ میرے خیال میں اس سے زیادہ بہترین مال مجھے کبھی نہیں ملا۔ آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تو چاہے تو اس کے عین کو روک لے اور اس کو (یعنی اس کے نفع کو) صدقہ کر دے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے اس کو صدقہ کردیا۔ لیکن یہ فرق باقی تھا کہ اس کے عین کو نہ بیچا گیا اور نہ ہدیہ ہوا۔ اور نہ ہی اس میں وراثت چلی ، پس حضرت عمر نے اس (کے نفع) کو فقراء ، قرابت داروں ، غلاموں کی آزادی ، فی سبیل اللہ، مسافروں اور مہمانوں پر صدقہ کردیا، جو آدمی کا وقف کا ولی ہو تو اس کو وقف میں سے خود بقدر ضرورت کھانا یا اپنے غیر متمول دوست کو کھلانے میں کچھ حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 38867
٣٨٨٦٧ - حدثنا ابن عيينة عن ابن طاوس عن أبيه ألم تر أن حجرا المدري أخبرني أن في صدقة النبي ﷺ: يأكل منها أهلها بالمعروف غير المنكر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن طاؤس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حجر مدری نے مجھے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقہ (کی زمین) سے آپ کے گھر والے بقدر ضرورت بہتر طریقہ کے ساتھ کھاتے تھے۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : ورثاء کو وقف واپس لینے کا حق ہوتا ہے۔