کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جب پانی دو قُلّے تک پہنچ جائے (تو اس کی طہارت اور نجاست کا بیان)
حدیث نمبر: 38847
٣٨٨٤٧ - حدثنا هشيم عن أيوب (١) أبي العلاء حدثنا قتادة عن أنس قال: قال النبي ﷺ: "من نسي صلاة أو نام عنها فكفارته أن يصليها إذا ذكرها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کو نماز پڑھنا بھول جائے یا وہ نماز کے وقت سویا رہ جائے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب اس آدمی کو نماز یا د آئے تو یہ نماز پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38847
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ صرح هشيم بالتحديث كما في تاريخ أصبهان (١/ ١٥٤)، أيوب أبو العلاء القصاب صدوق، وورد الخبر من طريق غيره، أخرجه البخاري (٥٩٧)، ومسلم (٦٨٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38847، ترقيم محمد عوامة 37248)
حدیث نمبر: 38848
٣٨٨٤٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن جامع بن شداد قال: سمعت (عبد الرحمن ابن أبي علقمة قال: سمعت) (١) عبد اللَّه بن مسعود قال: أقبلنا مع النبي ﷺ من الحديبية فذكروا أنهم نزلوا (دهاسا) (٢) من الأرض -يعني بالدهاس: الرمل- قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "من يكلونا؟ " قال: فقال بلال: أنا، فقال النبي ﷺ: "إذن ننم"، قال: فناموا حتى طلعت الشمس، قال: فاستيقظ أناس فيهم فلان وفلان (وفيهم) (٣) عمر بن الخطاب، قال: (فقلنا) (٤): اهضبوا -يعني تكلموا- قال: فاستيقظ النبي ﷺ فقال: "إفعلوا كما كنتم تفعلون" قال: ففعلنا قال: فقال: "كذلك لمن نام أو نسي" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ سے آ رہے تھے صحابہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک ریت کے ٹیلے پر اترے، ابن مسعود کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کون ہماری حفاظت کرے گا ؟ راوی کہتے ہیں کہ حضرت بلال نے کہا : میں کروں گا ! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر تو ہم سوتے ہیں راوی کہتے ہیں کہ سب لوگ سوئے رہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا، راوی کہتے ہیں : چند لوگ بیدار ہوگئے ، جن میں فلاں ، فلاں تھے اور انہی میں عمر بن خطاب بھی تھے ، کہتے ہیں کہ پھر ہم نے کہا : باتیں کرو، راوی کہتے ہیں کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بیدار ہوگئے اور آپ نے فرمایا : تم جیسے کرتے تھے ویسے ہی کرو، راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم نے کیا (یعنی نماز پڑھی) راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو کوئی نماز بھول جائے یا سویا رہے تو وہ ایسے ہی کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38848
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد الرحمن قال جماعة: بأنه صحابي، وذكره ابن حبان في الثقات، وروى عنه جمع من أهل العلم وأخرج له أبو داود، والحديث أخرجه أحمد (٤٤٢١)، وأبو داود (٤٤٧)، والنسائي في الكبرى (٨٨٥٣)، والبزار (٤٠٠/ كشف)، كما أخرجه ابن حبان (١٥٨٠)، وأبو يعلى (٥٠١٠)، والطبراني (١٠٣٤٩)، والطيالسي (٣٧٧)، والطحاوي ١/ ٤٦٥، والشاشي (٨٣٩)، والبيهقي ٢/ ٢١٨، والمزي ١٧/ ٢٩٢ في ترجمة عبد الرحمن بن علقمة الثقفي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38848، ترقيم محمد عوامة 37249)
حدیث نمبر: 38849
٣٨٨٤٩ - حدثنا الفضل بن دكين عن عبد الجبار ابن عباس (عن عون) (١) بن أبي جحيفة عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ للذين ناموا معه حتى طلعت الشمس فقال: "إنكم كنتم أمواتا نرد اللَّه إليكم أرواحكم، فمن نام عن صلاة أو نسي صلاة فليصلها إذا ذكرها (و) (٢) إذا استيقظ" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون بن ابی حجیفہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کو ارشاد فرمایا جو آپ کے ساتھ طلوع شمس تک سوئے رہے تھے، فرمایا : تم لوگ مردہ تھے پس اللہ نے تمہاری طرف تمہاری ارواح کو لوٹا دیا ہے، پس جو کوئی نماز کے وقت میں سویا رہ جائے یا نماز کو بھول جائے تو جب اس کو یہ نماز یاد آئے یا یہ جب نیند سے بیدار ہو تو نماز کو ادا کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38849
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد الجبار بن عباس صدوق، أخرجه أبو يعلى (٨٩٥)، والعقيلي ٣/ ٨٨، والطبراني ٢٢/ (٢٦٨)، وابن عدي ٥/ ١٩٦٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38849، ترقيم محمد عوامة 37250)
حدیث نمبر: 38850
٣٨٨٥٠ - حدثنا ابن فضيل عن أبي إسماعيل عن أبي حازم عن أبي هريرة قال: عرسنا مع النبي ﷺ ذات ليلة فلم نستيقظ حتى آذتنا الشمس، فقال النبي ﷺ: "ليأخذ كل رجل منكم برأس (راحلته) (١) ثم (يتنح) (٢) عن هذا المنزل"، ثم دعا بالماء فتوضأ فسجد سجدتين ثم أقيمت الصلاة فصلى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ہم نے ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑاؤ ڈالا تو ہم سورج کی شعائیں پڑنے پر بیدار ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے ہر ایک اپنے کجاوہ کے سرے کو پکڑ لے پھر اس جگہ سے ہٹ جائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو فرمایا اور دو سجدے ادا کئے پھر نماز کی اقامت کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : جب آدمی طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت بیدار ہو اور (اسی وقت) نماز پڑھے تو یہ اس کو کفایت نہیں کرے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الرد على أبي حنيفة / حدیث: 38850
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٦٨٥)، وأحمد (٩٥٣٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38850، ترقيم محمد عوامة 37251)