حدیث نمبر: 38460
٣٨٤٦٠ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي عن سفيان عن هشام عن أبيه عن عائشة أنها كتبت إلى معاوية: أوصيك بتقوى اللَّه، فإنك (إن) (١) اتقيت اللَّه كفاك الناس، (وإن) (٢) اتقيت الناس لم يغنوا عنك من اللَّه شيئا، ⦗١١٢⦘ فعليك بتقوى اللَّه، (أما بعد) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے معاویہ کی طرف خط بھیجا کہ میں تم کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتی ہوں۔ اس لیے اگر تو اللہ سے ڈرے گا تو وہ لوگوں سے تیری کفایت کرے گا اور اگر تو لوگوں سے ڈرے گا تو وہ تیری اللہ سے کفایت نہیں کرسکیں گے۔ پس تیرے اوپر اللہ کا ڈر لازم ہے۔ ” اما بعد “
حدیث نمبر: 38461
٣٨٤٦١ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن (الحسن) (١) عن عبد اللَّه بن (عمر) (٢) قال: ما تجرع عبد جرعة أفضل عند اللَّه أجرا من جرعة كظمها للَّه ابتغاء وجه اللَّه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی آدمی نے بھی اجر کے اعتبار سے اللہ کے ہاں اس شخص سے زیادہ بہتر گھونٹ نہیں پیا کہ جس نے صرف اللہ کی رضا کے لیے اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے غصہ پی لیا ہو۔
حدیث نمبر: 38462
٣٨٤٦٢ - حدثنا عبد الأعلى عن برد عن سليمان بن موسى قال: لا تعلم (للدنيا) (١)، ولا تفقه للرياء، ولا تكونن ضحاكا من غير عُجْبٍ، ولا (مشاء) (٢) في غير (أرب) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن موسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دنیا کے لیے تعلیم مت سیکھ اور ریا کاری کے لیے فقہ مت حاصل کر۔ اور ہرگز بغیر کسی تعجب کے مت ہنس اور نہ ہی بغیر کسی ضرورت کے سفر کر۔
حدیث نمبر: 38463
٣٨٤٦٣ - حدثنا الفضل بن دكين عن صالح بن (رستم) (١) عن ابن أبي مليكة قال: صحبت ابن عباس من مكة إلى المدينة ومن المدينة إلى مكة، فكان إذا نزل منزلا قام شطر الليل فأكثر في ذلك (النشيج) (٢)، قلت: وما النشيج؟ قال: ⦗١١٣⦘ (النحيب) (٣) (البكاء) (٤)، ويقرأ: ﴿وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ﴾ [ق: ١٩] (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ سے مدینہ اور مدینہ سے مکہ کا سفر کیا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما جب بھی کسی جگہ پڑاؤ کرتے تو رات کو قیام فرماتے اور اس میں بہت روتے۔ میں نے سوال کیا کہ یہ آواز کیسی ہوتی تھی ؟ جواب دیا کہ رونے، دھونے کی آواز ہوتی تھی اور قرآن پاک کی آیت { وَجَائَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِکَ مَا کُنْت مِنْہُ تَحِیدُ } تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 38464
٣٨٤٦٤ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي قال: حدثنا إسرائيل عن (أبي) (١) حصين عن خيثمة قال: كان عيسى بن مريم (٢) ويحيى (ابني) (٣) خالة، وكان عيسى يلبس الصوف، وكان يحيى يلبس الوبر، ولم يكن لواحد منهما دينار ولا درهم، ولا عبد ولا أمة، ولا مأوى يأويان إليه، أينما (جنهما) (٤) الليل أويا، فلما (أرادا) (٥) أن يفترقا قال له (يحيى) (٦): أوصني، قال: لا تغضب، قال: لا أستطيع إلا أن أغضب، قال: لا (تقتن) (٧) مالا، (قال) (٨): أما هذا فعسى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خثیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم i اور یحییٰ علیہ السلام دونوں خالہ زاد تھے اور عیسیٰ علیہ السلام اون کا کپڑا پہنتے تھے اور یحییٰ علیہ السلام اونٹ کی کھال کا کپڑا پہنتے تھے اور ان میں سے کسی کے پاس بھی نہ کوئی درہم ہوتا تھا اور نہ ہی دینار ہوتا تھا اور نہ ہی کوئی غلام ہوتا تھا اور نہ ہی کوئی باندی ہوتی تھی اور نہ ہی کوئی ایسا ٹھکانہ ہوتا تھا کہ جہاں وہ پناہ گزین ہوسکیں۔ جس جگہ بھی رات ہوجاتی وہیں ٹھہر جاتے۔ پھر جب جدا ہونے کا ارادہ کرتے تو عیسیٰ علیہ السلام کو یحییٰ عرض کرتے کہ مجھے کوئی وصیت کردیں تو وہ کہتے کہ غصہ مت کرنا تو یحییٰ علیہ السلام کہتے کہ میں غصہ کرنے پر قابو نہیں کرسکتا تو عیسیٰ علیہ السلام کہتے کہ مال کو جمع مت کرنا تو یحییٰ علیہ السلام جواب دیتے کہ البتہ یہ کام آسان ہے۔
حدیث نمبر: 38465
٣٨٤٦٥ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا أبو هلال عن قتادة في قول اللَّه (تعالى) (١): ﴿بِكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ﴾ [الصافات: ٤٥]، قال: كأس من خمر جارية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے قرآن پاک کی آیت { وَکَأْسٍ مِنْ مَعِینٍ } کی تفسیر میں منقول ہے کہ یہ گلاس بہتی ہوئی شراب سے پر ہوں گے۔
حدیث نمبر: 38466
٣٨٤٦٦ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا سعيد بن زيد قال: حدثنا سعيد ابن إياس الجُريري قال: حدثنا أبو العلاء أن رجلا من أصحاب النبي ﷺ أدركته الوفاة فجعل يقول: وَالهَفَاه! والهفاه! فقيل (له) (١): (لم) (٢) تَلَهَّف؟ فقال: إني سألت رسول اللَّه ﷺ، قلت: ما يكفيني من الدنيا؟ قال: خادم ومركب، فلا أنا سكت فلم أسأله ولا أنا حين سألته انتهيت إلى قوله، وأصبت من الدنيا وفي يدي ما في يدي وجاءني الموت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالعلاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی کی وفات کا وقت قریب آیا تو کہنے لگا کہ ہائے افسوس، ہائے افسوس۔ ان سے پوچھا گیا آپ کس بات پر افسوس کررہے ہیں تو اس نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ مجھ کو دنیا میں کیا چیز کافی ہوگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ایک غلام اور ایک سواری۔ پس نہ تو میں خاموش ہی رہا کہ سوال نہ کرتا اور نہ جس وقت میں نے سوال کیا اس پر عمل کیا اور میں نے دنیا حاصل کی اور میری ملک میں اتنا اتنا مال ہے اور مجھ کو موت نے آن گھیرا ہے۔
حدیث نمبر: 38467
٣٨٤٦٧ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا شيبان عن ليث عن مجاهد قال: (آية) (١) أنزلت في هذه (الأمة) (٢): ﴿(٣) قُلْ أَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرٍ مِنْ (ذَلِكُمْ) (٤)﴾ [آل عمران: ١٥]، قال عمر: الآن يا رب (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس امت کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی { قل أَؤُنَبِّئُکُمْ بِخَیْرٍ مِنْ ذَلِکُمْ } تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے اللہ اس وقت۔
حدیث نمبر: 38468
٣٨٤٦٨ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا سعيد بن زيد أخو حماد بن زيد قال: حدثنا عثمان (الشحام) (١) قال: حدثنا محمد بن واسع قال: قدمت (من) (٢) مكة فإذا على الخندق قنطرة، فأُخذتُ فانطُلق بي إلى مروان (بن) (٣) المهلب وهو ⦗١١٥⦘ أمير على البصرة، فرحب بي (وقال) (٤): حاجتك (يا أبا) (٥) عبد اللَّه، (قلت) (٦): حاجتي إن استطعت أن (تكون) (٧) كما قال أخو بني عدي، قال: ومن أخو بني عدي؟ (قال) (٨): العلاء بن زياد، قال: اسُتعمل صديق له مرة على عمل، فكتب إليه: أما بعد فإن استطعت أن لا تبيت إلا وظهرك خفيف، وبطنك خميص، وكفك نقية من دماء المسلمين وأموالهم، فإنك إن فعلت ذلك لم يكن عليك سبيل ﴿إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ﴾ [الشورى: ٤٢] الآية، قال مروان: صدق (و) (٩) اللَّه ونصح، ثم قال: حاجتك يا أبا عبد اللَّه؟ قلت: حاجتي أن تلحقني بأهلي، قال: فقال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن واسع فرماتے ہیں کہ میں مکہ سے آیا تو راستہ میں خندق پر ایک پل تھا میں اس پل پر چل پڑا۔ وہ پل مجھے مروان بن مہلب کے پاس لے گیا جو بصرہ کے امیر تھے۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور فرمایا اے عبداللہ آپ کی کوئی حاجت ہو ؟ میں نے کہا کہ میری حاجت یہ ہے کہ اسی طرح ہوجاؤں کہ جس طرح بنی عدی کے بھائی نے کہا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ بنی عدی کے بھائی کون ہیں ؟ تو میں نے جواب دیا کہ ” علاء بن یزید “ ہیں۔ علاء بن یزید نے کہا ہے کہ ان کے کسی دوست کو کسی کام پر عامل مقرر کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ” اما بعد “ اگر تو طاقت رکھے کہ تو رات اس حالت میں گزارے کہ تیری کمر ہلکی ہو اور تیرا پیٹ خالی ہو اور تیری ہتھیلیاں مسلمانوں کے خون اور اموال سے پاک ہوں تو اگر تو نے یہ کام کرلیا تو تجھ پر کوئی راستہ نہیں۔ راستہ تو ان لوگوں پر ہے کہ جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں زیادتی کرتے ہیں۔ مروان نے کہا کہ بالکل سچ فرمایا اور نصیحت کی۔ پھر مروان نے پوچھا کہ آپ کی کوئی ضرورت ہے ابوعبداللہ ؟ تو میں نے کہا کہ میری ضرورت یہ ہے کہ تو مجھے میرے گھر والوں سے ملا دے۔ تو اس نے جواب دیا کہ کیوں نہیں۔
حدیث نمبر: 38469
٣٨٤٦٩ - حدثنا وكيع عن أبي اليسع عن علقمة بن مرثد عن ابن سابط قال: إن في الجنة لشجرة لم يخلق اللَّه من صوت حسن إلا وهو في (جذمها) (١) تلذذهم وتنعمهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سابط رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ اللہ نے تمام اچھی آوازیں اس ہی کی جڑ سے پیدا کی ہیں جو جنتیوں کو محظوظ کرے گا اور آسودہ کرے گا۔
حدیث نمبر: 38470
٣٨٤٧٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن الحسن (١) أن ثلاثة علماء اجتمعوا فقالوا لأحدهم: ما أملك؟ قال: (ما) (٢) يأتي ⦗١١٦⦘ عليَّ شهر إلا ظننت أني (أموت) (٣) (فيه) (٤)، قالوا: إن هذا (الأمل) (٥)، فقالوا للآخر: ما أملك؟ قال: ما تأتي عليَّ جمعة إلا ظننت أني أموت فيها، قالوا للثالث: وما أملك؟ قال: وما أملُ من نفسه بيد غيره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ تین علماء اکٹھے ہوئے تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ تیری امید کتنی ہے ؟ تو ایک نے جواب دیا کہ میرا خیال ہے کہ میں ایک مہینہ زندہ رہ سکوں پھر مر جاؤں گا۔ تو انہوں نے کہا کہ یہ تو بڑی امید ہے۔ پھر دوسرے سے پوچھا کہ تجھے کتنی امید ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ میرا خیال ہے کہ میں ایک جمعہ تک رہ سکوں گا پھر مر جاؤں گا۔ انہوں نے تیسرے سے سوال کیا کہ تیری کیا امید ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ اس شخص کو کیا امید ہوسکتی ہے کہ جس کی جان ہی کسی دوسرے کے پاس ہو ؟ “
حدیث نمبر: 38471
٣٨٤٧١ - حدثنا عفان قال: حدثنا بشر بن مفضل عن يونس عن الحسن قال: كان يضرب مثل ابن آدم مثل رجل حضرته الوفاة، (فحضر) (١) أهله وعمله فقال لأهله: امنعوني، قالوا: إنما (٢) (نمنعك) (٣) من أمر الدنيا، فأما هذا فلا [نستطيع أن نمنعك منه، فقال لماله: أنت تمنعني، قال: (إني) (٤) كنت (زينا) (٥) زينت في الدنيا، أما هذا فلا] (٦) أستطيع أن أمنعك منه، قال: (فوثب) (٧) عمله فقال: أنا صاحبك الذي أدخل معك قبرك، وأزول معك حيثما زلت، قال: أما واللَّه لو شعرتُ لكنتَ آثَرَ الثلاثة عندي، قال: (قال) (٨) الحسن: (فالآن) (٩) (فآثروه) (١٠) على ما سواه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ ابن آدم کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جس کی موت کا وقت قریب آگیا تو اس کے اہل و عیال اور اس کا مال اور عمل اس کے پاس آئے تو اس نے اپنے اہل و عیال سے کہا کہ اس موت کو مجھ سے دور کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو دنیا کے امور میں سے منع کرسکتے ہیں لیکن اس موت کو نہیں روک سکتے۔ پھر اس نے اپنے مال سے کہا کہ مجھ سے اس کو دور کرو تو اس نے جواب دیا کہ میں تو تیری صرف دنیا ہی کی زینت تھا لیکن اس امر کو میں تجھ سے دور نہیں کرسکتا۔ پھر اس کے عمل نے اس کو بھروسہ دلایا کہ میں ہی تیرا وہ ساتھی ہوں کہ تیرے ساتھ قبر میں داخل ہوجاؤں گا اور جس جگہ بھی تو جائے گا میں تیرے ساتھ ہوں گا تو اس آدمی نے کہا کہ کاش میں پہلے یہ بات مان لیتا کہ تو میرے نزدیک ان سب سے زیادہ مؤثر ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابھی ہی سے اس کو دوسروں پر ترجیح دو ۔
حدیث نمبر: 38472
٣٨٤٧٢ - حدثنا حفص عن (أشعث) (١) عن كردوس الثعلبي قال: مكتوب في التوراة: اتقِ تُوقَه، إنما التوقِّي (بالتقوى) (٢) ارحموا ترحموا، توبوا (يتب) (٣) عليكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کردوس ثعلبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تورات میں یہ بات لکھی ہے کہ اللہ سے ڈرو بچ جاؤ گے۔ کیونکہ بچاؤ صرف تقویٰ میں ہی ہے۔ رحم کرو تم پر بھی رحم کیا جائے گا۔ توبہ کرو تمہاری توبہ قبول کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 38473
٣٨٤٧٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا الجريري عن أبي نضرة أن رجلا (دخل) (١) الجنة فرأى مملوكه فوقه مثل الكوكب، فقال: واللَّه يا رب إن هذا (لمملوكي) (٢) في الدنيا، فما أنزله هذه المنزلة؟ قال: كان هذا أحسن عملا منك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی نضرہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی پر میں داخل ہوا تو اس نے اپنے غلام کو اپنے سے اوپر ستارے کی طرح دیکھا تو اس نے سوال کیا کہ اے اللہ یہ تو میرا دنیا میں غلام تھا اس کو اس مرتبہ پر کس نے پہنچا دیا تو اللہ نے جواب دیا کہ اس کے عمل تجھ سے اچھے تھے۔
حدیث نمبر: 38474
٣٨٤٧٤ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن مالك بن مغول عن أبي حصين قال: لو رأيتَ (الذي) (١) رأيتُ لاحترقت كبدك عليهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حصین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر تم وہ دیکھو جو میں نے دیکھا ہے تو تمہارا جگر جل کر راکھ ہوجائے۔ ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا : اگر رات مجھ پر طویل ہوجائے حتیٰ کہ میں صبح کرلوں تو میں اس چیز کو دیکھوں گا۔
حدیث نمبر: 38475
٣٨٤٧٥ - وقال إبراهيم: إن كان الليل ليطول عليَّ حتى أصبح (وأراه) (١).
حدیث نمبر: 38476
٣٨٤٧٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا أبو موسى (التميمي) (١) قال: توفيت النَّوارُ امرأة الفرزدق فخرج في جنازتها وجوه أهل البصرة، وخرج فيها الحسن، فقال الحسن للفرزدق: ما أعددت لهذا اليوم يا (أبا) (٢) فراس ⦗١١٨⦘ (قال) (٣): شهادة أن لا إله إلا اللَّه منذ ثمانين سنة، قال: فلما دُفنتْ قام على قبرها فقال: أخاف وراء القبر إن لم (يعافني) (٤) … أشد من القبر التهابا وأضيقا إذا جاءني يوم القيامة قائد … عنيف وسواق يسوق الفرزدقا لقد خاب من أولاد (آدم) (٥) من مشى … إلى النار مغلول القلادة أزرقا [(تم) (٦) كتاب الزهد والحمد للَّه (٧) رب العالمين] (٨)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوموسیٰ تیمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” نوار “ فرزدق کی بیوی کا انتقال ہوگیا تو اس کے جنازہ میں بصرہ کے بہت سے لوگ چلے۔ اور ان میں حسن رحمہ اللہ بھی تھے۔ حسن رحمہ اللہ نے فرزدق سے پوچھا کہ اے ابو فراس تو نے اس دن کے لیے کیا تیار کر رکھا ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ اسی ” ٨٠“ سال سے اس بات کی گواہی کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ جب اس کی بیوی کو قبر میں دفن کردیا گیا تو فرزدق اس کی قبر پر کھڑا ہوگیا اور یہ شعر پڑھے : ١۔ اگر مجھ سے عافیت والا معاملہ نہ ہوا تو قبر کے بعد قبر سے بھی زیادہ آگ اور تنگی سے میں ڈرتا ہوں۔ ٢۔ کہ جب بروز قیامت ایک سخت ہانکنے والا اور ایک قائد فرزدق کو ہانک رہے ہوں گے۔ ٣۔ اولادِ دارم میں سے وہ شخص برباد ہوگیا کہ جس کو اندھا کرکے، طوق پہنا کر جہنم کی طرف لے جایا گیا۔