کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اللہ کے خوف سے رونے کا بیان
حدیث نمبر: 38420
٣٨٤٢٠ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد قال: أصابت بني إسرائيل مجاعة، فمر رجل على (رجل) (١) فقال: وددت أن هذا الرمل دقيق (لي) (٢) فأطعمه بني إسرائيل، قال (٣): فأعطي (على) (٤) نيته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن ابی خالد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کو ایک مرتبہ بھوک نے ستایا۔ ایک آدمی دوسرے کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ یہ صحرا آٹا بن جائے اور میں تمام بنی اسرائیل کو کھانا کھلاؤں تو اللہ تعالیٰ نے اس کی نیت پر اس کو اجر عطا کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38420
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38420، ترقيم محمد عوامة 36830)
حدیث نمبر: 38421
٣٨٤٢١ - حدثنا وكيع عن المسعودي عن سعيد بن أبي بردة قال: كان يقال: الحكمة ضالة المؤمن يأخذها إذا وجدها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن ابی بردہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کہا جاتا ہے کہ حکمت کی بات مومن کا گم شدہ سامان ہے جس جگہ پا لیتا ہے اس کو حاصل کرلیتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38421
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38421، ترقيم محمد عوامة 36831)
حدیث نمبر: 38422
٣٨٤٢٢ - [حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن جريج قال: ﴿اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ﴾ [الأنبياء: ١]، قال: ما يوعدون] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُہُمْ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جس چیز کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38422
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38422، ترقيم محمد عوامة 36832)
حدیث نمبر: 38423
٣٨٤٢٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن سفيان قال: الزهد في الدنيا قصر الأمل، وليس (بلبس) (١) الصوف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دنیا میں زہد امیدوں کو کم کرنے سے ہے تا کہ اون کے کپڑے پہننا۔ اور یہ بات بھی مذکور ہے کہ اوزاعی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں زہد تعریف کو چھوڑ دینا ہے فرمایا کرتے تھے کہ تو آخرت کے لیے عمل کر یہ ارادہ نہ کر کہ لوگ تیری اس عمل پر تعریف کریں گے۔ اور زہری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں زہد اس وقت تک ہے کہ جب تک حرام تیرے صبر پر غالب نہ آجائے اور حلال تیرے شکر پر غالب نہ آجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38423
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38423، ترقيم محمد عوامة 36833)
حدیث نمبر: 38424
٣٨٤٢٤ - وذكر أن الأوزاعي كان يقول: الزهد في الدنيا ترك المحمدة، يقول: تعمل العمل لا (تريد) (١) أن يحمدك الناس عليه.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38424
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38424، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 38425
٣٨٤٢٥ - وذكر أن الزهري كان يقول: الزهد في الدنيا ما لم يغلب الحرام صبرك، وما لم يغلب الحلال شكرك.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38425
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38425، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 38426
٣٨٤٢٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن زيد (عن أيوب) (١) قال: كان ينبغي للعالم أن يضع التراب على رأسه تواضعا للَّه.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ عالم کے لیے مناسب ہے کہ عاجزی کے طور پر اپنے سر پر مٹی ڈالے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38426
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38426، ترقيم محمد عوامة 36834)
حدیث نمبر: 38427
٣٨٤٢٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت قال: عندي من الرخص رخص لو حدثتكم بها لاتَّكَلْتُم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ میرے پاس رخصت سے متعلقہ ایسی احادیث ہیں کہ اگر میں تم کو بیان کردوں تو تم عمل میں سست ہوجاؤ گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38427
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38427، ترقيم محمد عوامة 36835)
حدیث نمبر: 38428
٣٨٤٢٨ - حدثنا إسحاق بن (١) سليمان عن ثابت قال: كان رجال من ⦗١٠٢⦘ بني عدي قد أدركت بعضهم إن كان أحدهم ليصلي حتى ما (يأتي) (٢) فراشه إلا حبوا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ میں نے بنی عدی کے بعض ایسے آدمیوں کو بھی دیکھا ہے کہ ان میں کوئی اس وقت تک نماز پڑھتا رہتا تھا جب تک کہ گھسٹ کر بستر تک آسکتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38428
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38428، ترقيم محمد عوامة 36836)
حدیث نمبر: 38429
٣٨٤٢٩ - حدثنا إسحاق (١) بن سليمان عن أبي سنان عن عبد اللَّه بن مالك قال: إن (للَّه) (٢) في الأرض (آنية) (٣) لا يقبل منها إلا (الصلب (الرقيق)) (٤) (٥) الصافي، قال: (الصلب) (٦) في طاعة اللَّه، الرقيق عند ذكر اللَّه، (الصافي) (٧) النقي من الدرن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مالک فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے زمین میں بعض برتن ایسے ہیں جن میں سے اللہ صرف سخت، نرم اور صاف کو قبول فرماتا ہے۔ یعنی جو اس کی اطاعت میں سخت ہوں۔ اس کے ذکر کے وقت نرم ہوں اور میل کچیل سے صاف ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38429
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38429، ترقيم محمد عوامة 36837)
حدیث نمبر: 38430
٣٨٤٣٠ - حدثنا إسحاق بن منصور عن محمد بن مسلم عن عثمان بن عبد اللَّه ابن أوس قال: كان نبي من الأنبياء يقول: اللهم احفظني بما تحفظ به الصبي، قال: فأبكاني.
مولانا محمد اویس سرور
عثمان بن عبداللہ بن اوس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبیوں میں ایک نبی یوں دعا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میری اس طرح حفاظت فرما کہ جس طرح بچے کی حفاظت کی جاتی ہے۔ فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات سے رونا آگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38430
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38430، ترقيم محمد عوامة 36838)
حدیث نمبر: 38431
٣٨٤٣١ - حدثنا سعيد بن شرحبيل قال: أخبرنا ليث بن سعد عن يحيى بن سعيد عن أبي أيوب قال: من أراد أن يعظم حلمه ويكثر علمه فليجلس في غير مجلس عشيرته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوایوب فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا حلم بڑھ جائے اور اس کا عمل زیادہ ہو تو اس کو چاہیے کہ اپنے قبیلہ کے علاوہ کسی کے پاس بیٹھا کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38431
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38431، ترقيم محمد عوامة 36839)
حدیث نمبر: 38432
٣٨٤٣٢ - حدثنا وكيع عن أبي صالح عن الأعمش قال: إن كنا لنحضر الجنازة فما ندري من نعزي من وجد القوم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ ہم لوگ جنازوں پر جایا کرتے تھے لیکن قوم کی حالت کی وجہ سے ہم کو یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ تعزیت کس سے کریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38432
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38432، ترقيم محمد عوامة 36840)
حدیث نمبر: 38433
٣٨٤٣٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا أشرس أبو شيبان قال: حدثنا ثابت البناني قال: لقد كنا نتبع الجنازة فما نرى حول السرير إلا متقنعا (باكيا) (١) أو متفكرا، كأنما على رؤوسهم الطير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت بنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم جنازوں کے پیچھے جایا کرتے تھے۔ پس ہم تختہ کے اردگرد صرف سروں پر چادر اوڑھ کر رونے والوں کو ہی دیکھتے تھے یا کوئی بہت غمگین۔ گویا کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38433
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38433، ترقيم محمد عوامة 36841)
حدیث نمبر: 38434
٣٨٤٣٤ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن أبي قلابة قال: التقى رجلان في السوق فقال أحدهما لصاحبه: يا أخي تعال ندعو اللَّه ونستغفره في غفلة الناس لعله يغفر لنا، ففعلا فقضى لأحدهما أنه مات قبل صاحبه، فأتاه في المنام فقال: يا أخي (أشعرت) (١) أن اللَّه غفر لنا (عشية) (٢) التقينا في السوق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی قلابہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی بازار میں ایک دوسرے سے ملے تو ایک نے کہا کہ اے میرے بھائی آؤ اللہ سے دعا و استغفار کرتے ہیں لوگوں کی غفلت میں ہوسکتا ہے ہماری بخشش ہوجائے تو انہوں نے اسی طرح کیا۔ پھر ان میں سے ایک کے متعلق فیصلہ کیا گیا اور وہ اپنے دوسرے ساتھی سے پہلے فوت ہوگیا۔ پھر وہ دوسرے کو خواب میں آیا اور کہا کہ اے میرے بھائی کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری اس رات بخشش کردی تھی جس رات ہم بازار میں ملے تھے ؟ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38434
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38434، ترقيم محمد عوامة 36842)
حدیث نمبر: 38435
٣٨٤٣٥ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن أبي زينب قال: من (أتى) (١) السوق لا يأتيها إلا ليذكر اللَّه فيها غفر له بعدد من فيها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی زینب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص بازار میں صرف اللہ کا ذکر کرنے کے لیے آتا ہے اس کے لیے بازار میں موجود تمام افراد کے بقدر مغفرت کردی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38435
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38435، ترقيم محمد عوامة 36843)
حدیث نمبر: 38436
٣٨٤٣٦ - حدثنا (حماد) (١) بن معقل عن مالك بن (دينار) (٢) قال: أبكاني الحجاج في مسجدكم هذا وهو يخطب، فسمعته يقول: امرؤ (زود) (٣) نفسه، امرؤ وعظ نفسه، امرؤ لم (يأتمن) (٤) نفسه على نفسه، (امرؤ) (٥) أخذ (من نفسه لنفسه) (٦) امرؤ كان للسانه وقلبه زاجر من اللَّه، (قال) (٧): فأبكاني.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ کو حجاج نے اس مسجد میں رلا دیا جب وہ خطبہ دے رہا تھا میں نے سنا کہ وہ کہہ رہا تھا کہ بعض لوگ اپنے کو زاد راہ بناتے ہیں اور بعض لوگ اپنے نفس کو نصیحت کرتے ہیں اور بعض لوگ اپنے نفس کو اپنے لیے امین نہ سمجھتے اور بعض لوگ اپنے لیے اپنے نفس میں حصہ بچا لیتے ہیں اور بعض لوگوں کا نفس ان کے دل اور زبان کو اللہ سے روکتا یعنی ڈراتا ہے۔ فرمایا کہ مجھے اس سے رونا آگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38436
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38436، ترقيم محمد عوامة 36844)
حدیث نمبر: 38437
٣٨٤٣٧ - حدثنا وكيع عن أبيه عن رجل من أهل الشام يكنى أبا عبد اللَّه قال: أتيت طاوسا فاستأذنت عليه فخرج إليّ (شيخ) (١) كبير ظننت أنه طاوس، قلت: أنت طاوس، قال: أنا ابنه، قلت: لئن كنت ابنه (لقد) (٢) خرف أبوك، قال: يقول هو: إن العالم لا يخرف، قال: قلت استأذن لي على أبيك قال: فاستأذن لي، فدخلت عليه فقال الشيخ: (سل) (٣) وأوجز، فقلت: (إن أوجزت لي) (٤) أوجزت لك، فقال: لا (تسأل) (٥) أنا أعلمك في مجلسك هذا القرآن والتوراة والإنجيل، خف اللَّه مخافة حتى لا يكون أحد أخوف عندك منه، (وارجه) (٦) رجاء هو أشد من خوفك إياه، وأحب للناس ما تحب لنفسك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوعبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں طاؤس رحمہ اللہ کے پاس آیا پھر میں ان کے پاس جانے کی اجازت طلب کی تو میرے پاس ایک بہت بوڑھا شخص آیا میں سمجھا کہ یہی طاؤس ہیں میں نے سوال کیا کہ آپ ہی طاؤس ہیں ؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں میں تو ان کا بیٹا ہوں۔ میں نے کہا کہ اگر تو ان کا بیٹا ہے تو پھر تو تیرے والد صاحب کا ذہن خراب ہوچکا ہوگا۔ اس نے جواب دیا کہ والد صاحب فرماتے ہیں کہ عالم کی عقل خراب نہیں ہوتی۔ فرماتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا کہ اپنے والد صاحب سے میرے لیے اجازت طلب کرو۔ فرماتے ہیں کہ مجھ کو اجازت مل گئی۔ پس میں ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ پوچھو اور جلدی اور مختصر کلام کرو۔ میں نے کہا کہ اگر آپ جلدی کلام کرتے چلیں گے تو میں بھی مختصر کلام کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ تو سوال نہ کر میں تجھ کو اس مجلس میں قرآن، تورات، انجیل کی تعلیم دیے دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈر کہ اس کے علاوہ کسی کا بھی خوف تجھے نہ رہے۔ اس کے خوف سے زیادہ تو اس سے امید رکھ اور لوگوں کے لیے وہی پسند کر جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38437
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38437، ترقيم محمد عوامة 36845)
حدیث نمبر: 38438
٣٨٤٣٨ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن أبي (حرة) (١) قال: كان الحسن يحب المداومة في العمل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی حرہ رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ حسن رضی اللہ عنہ عمل میں مداومت کو پسند کرتے تھے۔ ابی حرہ کہتے ہیں کہ محمد نے پوچھا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک آدمی ایک رات نشاط اور انبساط سے عبادت کرے اور دوسری رات سستی سے کرے ؟ تو انہوں نے اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38438
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38438، ترقيم محمد عوامة 36846)
حدیث نمبر: 38439
٣٨٤٣٩ - قال: وقال محمد: أرأيت إن نشط ليلة وكسل ليلة فلم ير به بأسًا.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38439
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38439، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 38440
٣٨٤٤٠ - حدثنا (محمد بن) (١) عبد اللَّه بن الزبير عن (ابن) (٢) أبي رواد قال: حدثني أبو سعيد عن زيد بن أرقم قال: اعبد اللَّه كأنك تراه، فإن كنت لا تراه فإنه ⦗١٠٥⦘ يراك، واحسب [نفسك في الموتى، واتق دعوة المظلوم فإنها مستجابة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ اللہ کی عبادت اس طرح کر جیسے کہ تو اسے دیکھ رہا ہے۔ پس اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ ہی رہا ہے اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کر اور مظلوم کی بددعا سے بچ اس لیے کہ وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38440
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو سعيد صدوق، روى عنه جماعة، وذكره ابن حبان في الثقات، وقال ابن حجر: "مقبول"، وأخرجه ابن المبارك في الزهد (٢٢٢)، وورد الخبر مرفوعًا، أخرجه أبو نعيم في الحلية ١٨/ ٢٠٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38440، ترقيم محمد عوامة 36847)
حدیث نمبر: 38441
٣٨٤٤١ - حدثنا يونس بن محمد عن حماد بن زيد عن أيوب] (١) عن أبي قلابة عن أبي (مسلم) (٢) الخولاني قال: العلماء ثلاثة: رجل عاش بعلمه وعاش به الناس معه، ورجل عاش بعلمه ولم يعش (به) (٣) (معه) (٤) أحد غيره، ورجل عاش الناس بعلمه وأهلك نفسه (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی مسلم خولانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علماء تین قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ کہ اس نے خود بھی اپنے علم سے جلا حاصل کی اور لوگوں نے بھی نفع اٹھایا اور دوسرے وہ کہ اس نے تو نفع اٹھایا لیکن لوگوں نے نفع نہیں اٹھایا اور تیسرے وہ علماء ہیں کہ لوگوں نے ان سے نفع حاصل کیا لیکن وہ خود ہلاک ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38441
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38441، ترقيم محمد عوامة 36848)
حدیث نمبر: 38442
٣٨٤٤٢ - [حدثنا عفان قال: حدثنا ((زريط) (١) بن أبي زريط) (٢) قال: سمعت الحسن يقول: يا ابن آدم ضع قدمك على أرضك واعلم أنها بعد قليل قبرك] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زریک بن ابی زریک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حسن رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اے ابن آدم ! اپنے قدم اپنی زمین پر رکھ اور یہ بات ذہن نشین کرلے کہ کچھ مدت کے بعد یہی تیری قبر ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38442
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38442، ترقيم محمد عوامة 36849)
حدیث نمبر: 38443
٣٨٤٤٣ - حدثنا عفان قال: حدثنا ((زريط) (١) بن أبي زريط) (٢) قال: سمعت ⦗١٠٦⦘ الحسن وهو يقول: يا ابن آدم إنك (ناظر) (٣) إلى عملك (فزن) (٤) خيره وشره، ولا (تحقر) (٥) شيئا من الخير وإن هو صغر، فإنك إذا (رأيته) (٦) سرك مكانه، ولا (تحقر) (٧) شيئا من الشر فإنك إذا رأيته ساءك مكانه، رحم اللَّه (عبدا) (٨) (كسب) (٩) طيبا وأنفق (قصدا) (١٠) ووجه فضلا، (وجهوا) (١١) هذه الفضول حيث وجهها اللَّه، وضعوها حيث أمر بها اللَّه أن توضع، فإن من قبلكم كانوا يشترون أنفسهم بالفضل (من اللَّه، وإن) (١٢) هذا الموت قد أضر بالدنيا ففضحها، فواللَّه ما وجد بعد (ذو) (١٣) لب فرحا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم ! تو اپنے عمل کو دیکھ رہا ہے پس اس میں سے اچھے اور برے کا وزن کرکے دیکھ لے اور کسی بھی بھلائی کو حقیر نہ سمجھ اگرچہ وہ چھوٹی سی ہی کیوں نہ ہو اس لیے کہ جب تو اس کے مرتبہ کو دیکھے گا تو خوش ہوگا اور کسی بھی حقیر گناہ کو حقیر نہ سمجھ کیونکہ جب تو اس کے مقام کو دیکھے گا تو برا محسوس کرے گا اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائیں کہ جس نے حلال طریقہ سے مال کمایا اور میانہ روی سے خرچ کیا اور زائد کو لوٹا دیا۔ اس زائد کو اسی جگہ لوٹایا کرو جہاں اللہ نے لوٹایا ہے اور اس کو اسی جگہ رکھو جہاں اللہ نے رکھنے کا حکم دیا ہے۔ پس تحقیق تم سے قبل لوگوں نے اللہ کے فضل کے بدلہ میں اپنی جانوں کو بیچ دیا تھا اور یہ موت دنیا کے بہت زیادہ قریب ہوئی۔ پس اس نے دنیا کو ذلیل کردیا اللہ کی قسم کسی جاندار نے بھی اس کے بعد خوشی نہیں دیکھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38443
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38443، ترقيم محمد عوامة 36850)
حدیث نمبر: 38444
٣٨٤٤٤ - حدثنا أبو داود عن سفيان عن أبي سنان عن (ابن) (١) أبي الهذيل عن أبي (العبيدين) (٢) قال: إن ضنوا عليك (بالمفلطحة) (٣) فخذ رغيفك ورد نهرك وأمسك عليك دينك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی العبیدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر لوگ تجھے بیلنے سے پیس دیں پھر بھی اپنا حصہ لے اور اپنے حق کا مطالبہ کر اور اپنے دین کو بھی محفوظ رکھ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38444
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38444، ترقيم محمد عوامة 36851)
حدیث نمبر: 38445
٣٨٤٤٥ - حدثنا أبو أسامة عن سفيان عن أبي حازم عن المنهال قال: قال علي: حرام على كل نفس أن (تخرج) (١) من الدنيا حتى تعلم إلى أين مصيرها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہر نفس پر دنیا کو چھوڑنا حرام ہے جب تک کہ وہ یہ نہ جان لے کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38445
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38445، ترقيم محمد عوامة 36852)
حدیث نمبر: 38446
٣٨٤٤٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا مبارك (١) قال: حدثنا بكر عن عدي بن أرطأة عن رجل كان من صدر هذه الأمة قال: كانوا إذا أثنوا عليه فسمع ذلك قال: اللهم لا تؤاخذني بما يقولون، واغفر لي ما لا يعلمون (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن ارطاۃ رحمہ اللہ اس امت کے کسی ابتدائی آدمی کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ لوگ جب ان کی تعریف کرتے تھے تو انہوں نے سن لیا تو دعا کی کہ اے اللہ ! جو یہ کہتے ہیں کہ میرا اس میں مواخذہ نہ کرنا اور جو یہ نہیں جانتے وہ معاف کردینا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38446
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ مبارك هو ابن فضالة صدوق، وعدي روى عنه جماعة، وذكره ابن حبان في الثقات، وقال الدارقطني: "يحتج به"، وفي المصادر تصريح بأن القائل صحابي، وأخرجه أحمد في الزهد ص ٢٠٥، والبخاري في الأدب المفرد (٧٦١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38446، ترقيم محمد عوامة 36853)
حدیث نمبر: 38447
٣٨٤٤٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا مبارك عن الحسن بن عمرو الفقيمي عن منذر الثوري عن محمد بن علي بن (الحنفية) (١) قال: ليس بحكيم من لم يعاشر بالمعروف (من) (٢) لم يجد (من معاشرته) (٣) (بدا) (٤) (حتى) (٥) يجعل اللَّه (له) (٦) فرجا ومخرجا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہابن حنیفہ فرماتے ہیں جو نیکی والی زندگی نہ گزارے وہ عقلمند نہیں ہے اور جو کوئی چارہ کار نہیں پاتا تو اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ اور کشادگی پیدا فرما دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38447
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38447، ترقيم محمد عوامة 36854)
حدیث نمبر: 38448
٣٨٤٤٨ - حدثنا عفان (قال) (١): حدثنا بشر بن مفضل قال: حدثنا عمارة بن ⦗١٠٨⦘ غزية عن عاصم بن (عمر) (٢) (بن) (٣) قتادة عن (محهود) (٤) بن لبيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن اللَّه إذا أحب عبدا حماه الدنيا كما يظل أحدكم يحمي سقيمه الماء" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ e کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ جس سے محبت کرتے ہیں اس کو دنیا سے اسی طرح بچاتے ہیں جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے کسی بیمار کو پانی سے بچاتا ہے۔ ترمذی ٢٠٣٦۔ احمد ٤٢٧
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38448
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٣٦٢٢)، والترمذي (٢٠٣٦)، وابن حبان (٦٦٩)، والحاكم ٤/ ٢٠٨، والبخاري في التاريخ ٧/ ١٨٥، وابن أبي الدنيا في ذم الدنيا (٣٨)، وعبد اللَّه في زوائد الزهد ص ١١، والطبراني ١٩/ (١٧)، والبغوي (٤٠٦٥)، والبيهقي في الشعب (١٠٤٤٨)، وابن الأثير في أسد الغابة ٤/ ٣٩١، وأبو يعلى (٦٨٦٥)، والقضاعي في مسند الشهاب (١٣٩٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38448، ترقيم محمد عوامة 36855)
حدیث نمبر: 38449
٣٨٤٤٩ - حدثنا عباد عن شعبة عن حصين عن هلال بن يساف قال: ليس (بأس) (١) للمؤمن من أن يخلو وحده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین رحمہ اللہ ہلال بن یساف سے روایت کرتے ہیں کہ مومن کو تنہائی سے زیادہ کوئی چیز اچھی نہیں لگتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38449
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38449، ترقيم محمد عوامة 36856)
حدیث نمبر: 38450
٣٨٤٥٠ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن مالك بن مغول قال: قال عبد اللَّه: الدنيا دار من لا دار له، ومال من لا مال له، ولها يعمل من لا عقل له (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ دنیا اس کا گھر ہے کہ جس کا کوئی گھر نہیں اور اس کا مال ہے کہ جس کا کوئی مال نہیں اور اس دنیا کے لیے وہی شخص عمل کرتا ہے جس میں عقل نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38450
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38450، ترقيم محمد عوامة 36857)
حدیث نمبر: 38451
٣٨٤٥١ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن عبيد اللَّه بن سعيد الجعفي قال: قال عيسى ابن مريم (١): بيتي (المسجد) (٢) وطيبي الماء، (وإدامي) (٣) الجوع، وشعاري الخوف، ودابتي (رجلي) (٤)، ومصطلاي في الشتاء: مشارق الصيف، وسراجي ⦗١٠٩⦘ بالليل القمر، وجلسائي الزمنى والمساكين، وأُمسي وليس لي شيء، (وأصبح) (٥) وليس لي شيء، وأنا بخير، فمن أغنى مني؟
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ میرا گھر مسجد ہے اور میری خوشبو پانی ہے اور میرا سالن بھوک ہے اور میرا شعار خوفِ خدا ہے اور میری سواری میرے پاؤں ہیں۔ اور گرمیوں میں جس جگہ سورج نکلتا ہے وہی میری سردیوں میں تاپنے کی جگہ ہے۔ اور میرا چراغ چاند ہے اور میرے اہل مجلس کمزور اور مسکین ہیں اور میں شام اس حالت میں کرتا ہوں کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی اور میں صبح اس حالت میں کرتا ہوں میرے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی اور بالکل ٹھیک ہوں تو پھر مجھ سے زیادہ غنی کون ہوسکتا ہے ؟ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38451
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38451، ترقيم محمد عوامة 36858)
حدیث نمبر: 38452
٣٨٤٥٢ - حدثنا (هشيم) (١) عن إسماعيل عن حبيب بن أبي ثابت أن ناسا من أصحاب النبي ﷺ قالوا: (يا رسول) (٢) اللَّه إنا نعمل أعمالا في السر فنسمع الناس يتحدثون بها فيعجبنا أن نذكر بخير؟ فقال: "لكم أجران: أجر السر وأجر العلانية" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب بن ابی ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ہم کوئی کام چھپ کر کرتے ہیں پھر ہم لوگوں کو اس کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے سنتے ہیں تو ہم کو ہمارا بھلائی میں ذکر کیا جانا اچھا محسوس ہوتا ہے ؟ تو آپ e نے جواب دیا کہ تمہارے لیے دو اجر ہیں ایک پوشیدہ کا اجر اور ایک علانیہ کا اجر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38452
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ حبيب تابعي، أخرجه وكيع في الزهد (٢٤٥)، وأبو عبيد في الغريب ٢/ ٣، وهناد في الزهد (٨٨٠)، وورد متصلًا من حديث أبي هريرة، أخرجه الترمذي (٢٣٨٤)، وابن ماجه (٤٢٢٦)، وابن حبان (٣٧٥)، والبغوي (٤١٤١)، والطيالسي (٢٤٣٣)، والذهبي في تذكرة الحفاظ ٢/ ٧٥٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38452، ترقيم محمد عوامة 36859)
حدیث نمبر: 38453
٣٨٤٥٣ - حدثنا (هشيم) (١) قال: أخبرنا يونس بن عبيد قال: حدثنا (الحسن) (٢) أن رجلين من أصحاب رسول اللَّه ﷺ مات أحدهما قبل صاحبه بجمعة ففضلوا الذي مات وكان في أنفسهم أفضل من الآخر، فذكر ذلك لرسول اللَّه ﷺ فقال: "أليس بقي الآخر بعد الأول جمعة، صلى كذا وكذا صلاة"، قال: فكأنه فضل (الباقي) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صحابیوں میں سے ایک دوسرے سے ایک جمعہ پہلے فوت ہوگیا تو لوگوں نے مرنے والے کو فضیلت دی۔ ان کے ذہنوں میں تھا کہ یہ دوسرے سے بہتر ہے۔ پھر یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ کیا دوسرا اول سے ایک جمعہ زیادہ نہیں زندہ رہا اور اس نے اتنی اتنی نمازیں زیادہ پڑھیں۔ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے کو اس اوّل پر ترجیح دے رہے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38453
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحسن تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38453، ترقيم محمد عوامة 36860)
حدیث نمبر: 38454
٣٨٤٥٤ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه بن الزبير قال: حدثنا محمد بن خالد الضبي ⦗١١٠⦘ عن شيخ عن أبي الدرداء (أنه) (١) قال: (تعوذوا) (٢) باللَّه من خشوع النفاق، قال: قيل: يا أبا الدرداء (و) (٣) ما خشوع النفاق؟ قال: أن ترى الجسد (خاشعا) (٤) والقلب ليس بخاشع (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے منافقت والے خشوع سے پناہ مانگو۔ سوال کیا گیا کہ اے ابودرداء خشوع میں منافقت کیا چیز ہے ؟ تو جواب دیا کہ تو دیکھے کہ جسم میں تو خشوع ہے لیکن دل میں خشوع نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38454
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38454، ترقيم محمد عوامة 36861)
حدیث نمبر: 38455
٣٨٤٥٥ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي قال: حدثنا حسن عن أبيه عن زيد العمي قال: لما قيل لداود (١): قد غفر لك، قال: فكيف (لي) (٢) بالرجل؟ قال: قيل له: (نستوهبك) (٣) منه فيهبك لنا، فإنها (لترجى) (٤) في الدين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید عمی فرماتے ہیں کہ جب حضرت داؤد علیہ السلام سے کہا گیا کہ آپ کی مغفرت کردی گئی تو انہوں نے کہا کہ اس آدمی کا کیا ہوگا۔ ان سے کہا گیا کہ ہم نے آپ کو اس سے طلب کیا تو اس نے آپ کو ہمیں دے دیا۔ یہ دنیا میں زیادہ قابل امید ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38455
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38455، ترقيم محمد عوامة 36862)
حدیث نمبر: 38456
٣٨٤٥٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا أبان بن يزيد العطار قال: حدثنا قتادة قال: (حدثنا) (١) أبو العالية الرياحي عن (حديث سهل بن) (٢) حنظلة (العبشمي) (٣) أنه قال: ما اجتمع قوم يذكرون اللَّه إلا نادى مناد من السماء: قوموا مغفورا لكم، قد بدلت سيئاتكم حسنات (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہل بن حنظلہ عبسی فرماتے ہیں کہ جب بھی کوئی قوم اللہ کے ذکر کے لیے اکٹھی ہوتی ہے تو آسمان سے ایک منادی آواز دیتا ہے کہ اٹھو تمہاری مغفرت کردی گئی اور تمہاری غلطیوں کو اچھائیوں سے تبدیل کردیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38456
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد في الزهد ص ٢٠٥، والطبراني (٦٠٣٩)، والبيهقي في الشعب (٦٩٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38456، ترقيم محمد عوامة 36863)
حدیث نمبر: 38457
٣٨٤٥٧ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه بن الزبير قال: حدثنا عبد العزيز بن أبي رواد عن عبد اللَّه بن عبيد بن عمير قال: كان يقال: العلم ضالة المؤمن، يغدو في طلبه، فإذا أصاب منه شيئا (حواه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عبید بن عمیر کا ارشاد ہے کہ کہا جاتا تھا کہ علم مومن کا گمشدہ سامان ہے۔ یہ اس کی طلب میں صبح نکلتا ہے اور جب کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے تو جمع کرلیتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38457
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38457، ترقيم محمد عوامة 36864)
حدیث نمبر: 38458
٣٨٤٥٨ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي قال: حدثنا عبد العزيز بن أبي رواد أن أصحاب النبي ﷺ ظهر فيهم المزاح والضحك فأنزل اللَّه تعالى: ﴿أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ﴾ [الحديد: ١٦]، إلى آخر الآية (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالعزیز ابی رواد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصحابِ پیغمبر ﷺ کی عادات میں کچھ مزاح اور ہنسی ظاہر ہونے لگی تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { أَلَمْ یَأْنِ لِلَّذِینَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُہُمْ لِذِکْرِ اللہِ } آخر آیت تک۔ ” کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آگیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے ڈر جائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38458
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38458، ترقيم محمد عوامة 36865)
حدیث نمبر: 38459
٣٨٤٥٩ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه قال: حدثنا ابن أبي راود أن قوما صحبوا عمر ابن عبد العزيز فقال: عليكم بتقوى اللَّه وحده لا شريك له، وإياي والمزاح، فإنه (يجر) (١) القبيح ويورث الضغينة، وتجالسوا بالقرآن وتحدثوا (به) (٢)، فإن ثقل عليكم (فحديث) (٣) من حديث الرجال، (سيروا) (٤) باسم اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی رواد فرماتے ہیں کہ ایک قوم عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی مصاحب ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ صرف ایک اللہ سے ڈرو جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور اپنے کو مزاح سے بچاؤ، اس لیے کہ یہ مزاح قبیح باتیں پیدا کرتا ہے اور کینہ پیدا کرتا ہے۔ اور قرآن کی مجالس لگایا کرو اور اس ہی سے متعلقہ باتیں کیا کرو۔ پھر اگر تم کو بوجھل محسوس ہو تو لوگوں کی باتوں میں کوئی بات کرلیا کرو۔ اللہ کے نام کے ساتھ زمین پر چلو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38459
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38459، ترقيم محمد عوامة 36866)