کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اللہ کے خوف سے رونے کا بیان
حدیث نمبر: 38380
٣٨٣٨٠ - قال: وقال الحسن: الإيمانَ الإيمانَ، فإنه من كان مؤمنا فإن له عند اللَّه شفعاء مشفعين.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38380
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38380، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 38381
٣٨٣٨١ - حدثنا أبو أسامة عن أبي الأشهب عن الحسن قال: من قال قولا حسنا، وعمل عملا حسنا، فخذوا عنه، ومن قال قولا حسنا، وعمل عملا سيئًا، فلا تأخذوا عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اچھی بات کرے اور اس کا عمل اچھا ہو اس سے بات قبول کرو اور جو شخص اچھی بات کرے اور عمل برا ہو تو اس سے بات کو قبول نہ کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38381
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38381، ترقيم محمد عوامة 36791)
حدیث نمبر: 38382
٣٨٣٨٢ - حدثنا أبو أسامة عن أبي الأشهب قال: قال الحسن: إن من النفاق اختلافَ اللسان والقلب، واختلاف السر والعلانية، واختلاف الدخول والخروج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ منافقت میں سے ہے دل اور زبان کا اختلاف اور ظاہر اور پوشیدہ کا اختلاف اور اندر اور باہر کا اختلاف۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38382
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38382، ترقيم محمد عوامة 36792)
حدیث نمبر: 38383
٣٨٣٨٣ - حدثنا أبو أسامة عن أبي هلال قال: حدثنا حفص (الضبعي) (١) قال: قال عبد اللَّه بن أبي مليكة (٢): قال عمر: يا (عم) (٣) حدثنا عن الموت! قال: نعم يا أمير المؤمنين (غصن) (٤) كثير الشوك أدخل في جوف رجل، فأخذت كل شوكة بعرق، ثم ⦗٩٠⦘ جذبه رجل شديد الجذب (فأخذ) (٥) ما أخذ و (أبقى) (٦) ما (أبقى) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کعب رضی اللہ عنہ سے عرض کی کہ اے کعب ہمیں موت کے بارے میں کچھ بتائیں تو انہوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں اے امیر المومنین ! یہ تو ٹہنی کی مثل ہے کہ جس کے بہت سے کانٹے ہوں جس کو کسی آدمی کے پیٹ میں داخل کردیا جائے اور ہر کانٹا رگ میں پیوست ہوجائے۔ پھر کوئی آدمی اس کو زور سے کھینچے اور جو نکال لے وہ تو نکال لے اور جو رہ جائے وہ رہ جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38383
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38383، ترقيم محمد عوامة 36793)
حدیث نمبر: 38384
٣٨٣٨٤ - حدثنا محمد بن مصعب قال: حدثنا الأوزاعي عن حسان بن عطية قال: بلغني أن اللَّه ﵎ يقول يوم القيامة: يا بني آدم إنا قد أنصتنا لكم منذ (خلقتكم) (١) إلى يومكم هذا، فأنصتوا لنا (نقرأ) (٢) أعمالكم عليكم، فمن وجد خيرا فليحمد اللَّه (٣)، ومن وجد شرا فلا يلومن إلا نفسه، فإنما هي أعمالكم نردها عليكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسان بن عطیہ رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ قیامت کے دن فرمائیں گے کہ اے ابن آدم ! جب سے ہم نے تم کو پیدا کیا ہے ہم تمہارے بارے میں خاموش رہے۔ پس آج تم خاموش رہو اور ہم تمہارے اعمال نامے کو سنائیں گے جو شخص اچھا اعمال نامہ دیکھے وہ اللہ کی تعریف کرے اور جو شخص برا اعمال نامہ دیکھے وہ صرف اپنے آپ کو ہی ملامت کرے۔ کیونکہ یہ تو تمہارے ہی اعمال نامے ہیں جو ہم تم کو واپس کررہے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38384
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38384، ترقيم محمد عوامة 36794)
حدیث نمبر: 38385
٣٨٣٨٥ - حدثنا محمد بن مصعب قال: حدثنا أبو بكر عن ضمرة أن أبا ريحانة [استأذن صاحب (مسلحته) (١) أن يأتي أهله فقال: يا (أبا) (٢) ريحانة!] (٣) كم تريد أن أؤجلك؟ قال: ليلة، فلما قدم أتى المسجد فلم (يزل) (٤) يصلي حتى أصبح ثم (دعا) (٥) (بدابته) (٦) متوجها إلى (مسلحته) (٧) فقالوا: يا (أبا) (٨) ريحانة! أما ⦗٩١⦘ استأذنت إلى أهلك؟ فقال: إنما أجلني (أميري) (٩) ليلة، فلا أكذب ولا أخلف، قال: فانصرف إلى (مسلحته) (١٠) ولم يأت أهله، وكان منزل أبي ريحانة بيت المقدس (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوریحانہ رحمہ اللہ نے اپنے توپ والے رفیق سے گھر جانے کی اجازت مانگی۔ اس نے کہا کہ اے ابوریحانہ آپ کب تک واپس آجائیں گے۔ انہوں نے جو ابد یا کہ ایک رات میں۔ پھر جب آئے تو مسجد میں چلے گئے اور صبح تک نماز پڑھتے رہے۔ پھر اپنی سواری منگوائی اور توپ خانے کی طرف چل دئیے۔ لوگوں نے کہا کہ اے ابوریحانہ کیا آپ نے اپنے گھر جانے کی اجازت نہیں لی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا کہ مجھ کو میرے امیر نے صرف ایک رات کی اجازت دی تھی۔ پس نہ تو میں جھوٹ بولتا ہوں اور نہ ہی وعدہ خلافی کرتا ہوں۔ راوی فرماتے ہیں کہ وہ اپنے توپ خانہ کی طرف چل نکلے اور اپنے گھر والوں کے پاس نہیں گئے اور ابوریحانہ کی منزل اس وقت بیت المقدس تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38385
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ أبو بكر هو ابن أبي مريم ضعيف، أخرجه ابن المبارك في الزهد (٨٧٧)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٣٢١)، وابن عساكر ٢٣/ ٢٠٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38385، ترقيم محمد عوامة 36795)
حدیث نمبر: 38386
٣٨٣٨٦ - حدثنا محمد بن مصعب (قال) (١): حدثنا الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير أن عبد اللَّه بن سلام (صك) (٢) غلاما له (صكة) (٣) فجعل يبكي ويقول: اقتص مني، ويقول الغلام: لا أقتص (منك) (٤) يا سيدي، قال ابن سلام: كل ذنب يغفره اللَّه إلا (صكة) (٥) الوجه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن کثیر فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن سلام نے اپنے ایک غلام کو طمانچہ مارا۔ پس وہ رونے لگے اور کہنے لگے کہ مجھ سے بدلہ لے لے اور غلام کہنے لگا کہ اے سردار ! میں آپ سے بدلہ نہیں لوں گا تو ابن سلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر گناہ کو معاف کردے گا سوائے چہرے کے تھپڑ کے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38386
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38386، ترقيم محمد عوامة 36796)
حدیث نمبر: 38387
٣٨٣٨٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حماد بن سلمة عن ثابت البناني عن مطرف عن كعب قال: ما من عبد إلا في رأسه حَكَمة، فإن تواضع (١) رفعه اللَّه، وإن تكبر وضعه اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہر آدمی کی ابتداء میں قدر ومنزلت ہوتی ہے۔ پھر اگر وہ تواضع کرے تو اللہ اس کی قدر کو بڑھا دیتے ہیں اور اگر تکبر کرے تو اللہ اس کی قدر ومنزلت کو گرا دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38387
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38387، ترقيم محمد عوامة 36797)
حدیث نمبر: 38388
٣٨٣٨٨ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن الحسن في قول (اللَّه) (١) ⦗٩٢⦘ (تعالى) (٢): ﴿مَنْ يَعْمَلْ (سُوءًا) (٣) يُجْزَ بِهِ﴾ [النساء: ١٢٣]، قال: قال الحسن: (ذاك) (٤) لمن أراد اللَّه هوانه، فأما من أراد اللَّه كرامته فإنه يتجاوز عن سيئاته في أصحاب الجنة ﴿وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ﴾ [الأحقاف: ١٦].
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد { مَنْ یَعْمَلْ سُوئًا یُجْزَ بِہِ } کی تفسیر میں منقول ہے کہ جس کو اللہ کے ذلیل کرنے کا ارادہ کرلیا ہو۔ لیکن جس شخص کو عزت دینے کا ارادہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی غلطیوں سے درگزر کردیتے ہیں اور جنت میں ٹھکانہ دیتے ہیں جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے : { وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِی کَانُوا یُوعَدُونَ }۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38388
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38388، ترقيم محمد عوامة 36798)
حدیث نمبر: 38389
٣٨٣٨٩ - حدثنا سليمان بن حرب قال: حدثنا أبو هلال قال: حدثنا أبو صالح العقيلي قال: كان أبو العلاء يزيد بن عبد اللَّه بن الشخير يقرأ في المصحف حتى يغشى عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوصالح فرماتے ہیں کہ ابوعلاء یزید بن عبداللہ بن الشخیر قرآن پڑھتے ہوئے بےہوش ہوجایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38389
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38389، ترقيم محمد عوامة 36799)
حدیث نمبر: 38390
٣٨٣٩٠ - حدثنا سليمان بن حرب قال: حدثنا حماد بن زيد عن سعيد الجريري قال: كان أبو العلاء يقرأ في المصحف، فكان مطرف يقول له أحيانا: (أغن) (١) عنا مصحفك سائر اليوم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید جریری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوالعلاء قرآن پڑھتے تو مطرف کہا کرتے تھے کہ تیرے مصحف نے ہم کو سارے دن سے مستغنی کردیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38390
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38390، ترقيم محمد عوامة 36800)
حدیث نمبر: 38391
٣٨٣٩١ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن هارون بن عنترة عن أبيه قال: سألت ابن عباس: أي العمل أفضل؟ قال: ذكر اللَّه أكبر، قال: ومن أبطأ به عمله لم يسرع به حسبه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہارون بن عنترہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کون سا عمل سب سے بہتر ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اللہ کا ذکر کرنا فرمایا کہ جس شخص کو اس کا عمل پیچھے ڈال دے اس کو اس کا حسب ونسب آگے نہیں بڑھا سکتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38391
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسدد كما في المطالب العالية (٣٣٩١)، وابن فضيل في الدعاء (١٠١)، والبيهقي في الشعب (٦٧١)، والدارمي (٣٤٥)، والخطيب في الموضح ٢/ ٥٣٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38391، ترقيم محمد عوامة 36801)
حدیث نمبر: 38392
٣٨٣٩٢ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن عبد اللَّه بن أبي (الحسين) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ألا أدلكم على خير أخلاق أهل الدنيا والآخرة؟ من عفا ⦗٩٣⦘ عمن ظلمه، وأعطى من حرمه، ووصل من قطعه، ومن أحب أن (ينسأ له) (٢) في عمره ويزاد له في ماله فليتق اللَّه ربه وليصل رحمه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن ابی الحسین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم کو دنیا اور آخرت میں سب سے اچھے اخلاق والا نہ بتاؤں ؟ یہ وہ شخص ہے جو اس کو معاف کردے جس نے اس پر ظلم کیا ہو اور اس شخص کو عطا کرے جس نے اس کو محروم رکھا ہو اور اس سے رشتہ جوڑے جس نے قطع رحمی کی ہو اور جس شخص کو یہ اچھی بات اچھی لگتی ہے کہ اس کی عمر دراز اور عمل زیادہ ہو تو وہ اپنے اللہ سے ڈرے اور صلہ رحمی اختیار کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38392
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عبد اللَّه تابعي، أخرجه عبد الرزاق (٢٠٢٣٧)، وابن أبي الدنيا في مكارم الأخلاق (٢٦)، وأخرجه الطبراني مرفوعًا ١٩/ (٣٤٣) من حديث ابن أبي حسين عن كعب بن عجرة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38392، ترقيم محمد عوامة 36802)
حدیث نمبر: 38393
٣٨٣٩٣ - حدثنا عفان (قال) (١): حدثنا حماد بن زيد عن عمرو بن مالك عن أبي الجوزاء ﴿يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ﴾ [الذاريات: ١٣]، قال: يعذبون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوجوزا رحمہ اللہ قرآنِ پاک کی آیت { یَوْمَ ہُمْ عَلَی النَّارِ یُفْتَنُونَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یُعَذَّبُونَ یعنی ان کو عذاب دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38393
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38393، ترقيم محمد عوامة 36803)
حدیث نمبر: 38394
٣٨٣٩٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن جعفر بن سليمان (١) عن أبي الجوزاء: ﴿وَيَخَافُونَ سُوءَ الْحِسَابِ﴾ [الرعد: ٢١]، قال: المناقشة في (الأعمال) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالجوزاء رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَیَخَافُونَ سُوئَ الْحِسَابِ } کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اس سے مراد اعمال میں مناقشہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38394
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38394، ترقيم محمد عوامة 36804)
حدیث نمبر: 38395
٣٨٣٩٥ - حدثنا عفان (قال) (١): حدثنا سعيد بن زيد (قال) (٢): (حدثنا) (٣) عمرو بن مالك قال: سمعت أبا الجوزاء يقول: نقل الحجارة أهون على المنافق من قراءة القرآن، و (قد) (٤) قال سعيد: أخف على المنافق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالجوزاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پتھروں کو منتقل کرنا منافق پر قرآن پاک کی تلاوت سے زیادہ آسان ہے اور سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ منافق پر زیادہ ہلکا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38395
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38395، ترقيم محمد عوامة 36805)
حدیث نمبر: 38396
٣٨٣٩٦ - حدثنا عفان (قال) (١): حدثنا سعيد بن زيد عن عمرو بن مالك قال: سمعت أبا الجوزاء يقول في هذه الآية: ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (٥٦) ⦗٩٤⦘ مَا (أُرِيدُ) (٢) مِنْهُمْ مِنْ رِزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَنْ يُطْعِمُونِ﴾ [الذاريات: ٥٦ - ٥٧]، قال: أنا أرزقهم وأنا أطعمهم، ما خلقتهم إلا ليعبدون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالجوزاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن پاک کی اس آیت کی تفسیر میں { وَمَا خَلَقْت الْجِنَّ وَالإِنْسَ إِلاَّ لِیَعْبُدُونِ مَا أُرِیدُ مِنْہُمْ مِنْ رِزْقٍ ، وَمَا أُرِیدُ أَنْ یُطْعِمُونَ } کہ میں ہی ان کو رزق دیتا ہوں اور کھلاتا ہوں اور میں نے ان کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38396
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38396، ترقيم محمد عوامة 36806)
حدیث نمبر: 38397
٣٨٣٩٧ - حدثنا عفان (قال) (١): حدثنا سعيد بن زيد قال: حدثنا عمرو بن مالك قال: سمعت أبا الجوزاء (يقول) (٢): ﴿لَيْسَ لَهُمْ (٣) طَعَامٌ إِلَّا مِنْ ضَرِيعٍ﴾ [الغاشية: ٦]، (السُلّا) (٤)، كيف (يسمن) (٥) من يأكل الشوك؟.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوالجوزاء رحمہ اللہ قرآنِ پاک کی آیت { لَیْسَ لَہُمْ طَعَامٌ إِلاَّ مِنْ ضَرِیعٍ } کی تلاوت پر فرمانے لگے کہ وہ شخص کس طرح موٹا ہوسکتا ہے کہ جو کانٹوں کو کھائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38397
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38397، ترقيم محمد عوامة 36807)
حدیث نمبر: 38398
٣٨٣٩٨ - حدثنا حسين بن علي عن محمد بن مسلم عن إبراهيم بن ميسرة قال: غزا أبو أيوب المدينة، قال: قلت: القسطنطينية؟ قال: نعم، قال: فمر بقاص يقص وهو يقول: إذا عمل العبدُ العملَ في صدر النهار عُرِض على أهل معارفه (من أهل الآخرة) (١) من آخر النهار، وإذا عمل (٢) (العمل) (٣) في آخر النهار عرض على أهل معارفه من أهل الآخرة في (آخر) (٤) النهار، قال فقال: أبو أيوب: انظر ما تقول؟ قال: فقال: واللَّه إنه لكما أقول، قال: فقال أبو أيوب: اللهم إني أعوذ بك ⦗٩٥⦘ أن (تفضحني) (٥) عند عبادة بن الصامت (وسعد) (٦) بن عبادة بما عملت (بعدهم) (٧) قال: فقال القاص: واللَّه لا يكتب اللَّه ولايته لعبد إلا ستر عوراته وأثنى عليه بأحسن عمله (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم بن میسرہ رحمہ اللہ نے بتایا کہ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے ایک شہر پر حملہ کیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ کیا قسطنطنیہ پر حملہ کیا تھا ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں پھر فرماتے ہیں کہ ان کا ایک قصہ گو کے پاس سے گزر ہوا جو یہ کہہ رہا تھا کہ جب کوئی آدمی دن کے ابتدائی حصہ میں کوئی عمل کرتا ہے تو آخر دن میں اس کا عمل اس تمام جاننے والوں کو جو آخرت میں اس کے جاننے والے ہیں پیش کردیا جاتا ہے اور جب کوئی آدمی آخر دن میں کوئی عمل کرتا ہے تو اس کا عمل آخرت میں اس کے جاننے والے تمام لوگوں کے سامنے ابتدائے دن میں پیش کردیا جاتا ہے تو ابوایوب نے فرمایا کہ اس کو دیکھ کہ تو کیا کہہ رہا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں یہ بات آپ دونوں کو ہی تو کہہ رہا ہوں۔ ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے دعا کی کہ اے اللہ میں تجھ سے عبادہ بن صامت اور سعد بن عبادہ کے سامنے اپنے ان کے بعد کیے ہوئے اعمال کی وجہ سے رسوا ہونے سے پناہ مانگتا ہوں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس قصہ گو نے کہا کہ اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ اپنی دوستی جب کسی کے لیے لکھتا ہے تو اس کے عیوب پر پردہ ڈال دیتا ہے اور پھر اس نے ان کے اچھے اعمال کی تعریف کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38398
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38398، ترقيم محمد عوامة 36808)
حدیث نمبر: 38399
٣٨٣٩٩ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: أخبرنا همام عن قتادة عن مسلم بن (يسار) (١) قال: واديان عريضان لا يدرك غورهما سلك الناس فيهما، فاعمل عملا تعلم أنه لا ينجيك إلا عمل صالح، وتوكل توكل رجل تعلم أنه (لا) (٢) يصيبك إلا ما كتب اللَّه (لك) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم بن یسار فرماتے ہیں کہ دو وادیاں ہیں جو چوڑی ہیں اور ان کی گہرائی بھی معلوم نہیں ہے۔ لوگ اس میں چل رہے ہیں۔ پس تو ایسا عمل کر کہ تو جانتا ہے کہ تیری نجات صرف نیک عمل میں ہے اور ایسا مردانہ توکل کر کہ تو جانتا ہے کہ تجھ کو معلوم ہے کہ تجھے صرف وہی تکلیف پہنچ سکتی ہے کہ جس کا تجھ سے اللہ نے وعدہ کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38399
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38399، ترقيم محمد عوامة 36809)
حدیث نمبر: 38400
٣٨٤٠٠ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سمعت أبا معشر الذي يروي عن إبراهيم يحدث عن إبراهيم قال: ما من قرية إلا وفيها من يُدَفع عن أهلها به، وإني لأرجو أن يكون أبو (وائل) (١) منهم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر بستی میں ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جن کی وجہ سے اس بستی والوں سے عذاب ہٹا لیا جاتا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ ابو وائل انہی میں سے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38400
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38400، ترقيم محمد عوامة 36810)
حدیث نمبر: 38401
٣٨٤٠١ - حدثنا إسحاق بن منصور الأسدي عن عقبة بن إسحاق عن أبي شراعة عن يحيى بن (الجزار) (١): ﴿وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا (٢)﴾ [الفرقان: ١٣]، قال: (كضيق) (٣) الزج في الرمح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن جزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن پاک کی آیت {إِذَا القوا مِنْہَا مَکَانًا ضَیِّقًا } کی تفسیر میں کہ جیسے نیزے کا نچلا حصہ اوپر والے حصہ کے لیے تنگ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38401
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38401، ترقيم محمد عوامة 36811)
حدیث نمبر: 38402
٣٨٤٠٢ - حدثنا محمد بن الحسن الأسدي قال: حدثنا ثابت بن (يزيد) (١) عن (عاصم عن) (٢) أبي قلابة قال: قال مسلم بن يسار: لو كنتَ بين (يدي) (٣) ملك (تطلب) (٤) حاجة لسرك أن (تخشع) (٥) له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم بن یسار فرماتے ہیں کہ اگر تو کسی بادشاہ کے سامنے کسی ضرورت کو مانگے گا تو تجھ کو یہ بات بھی اچھی لگے گی کہ تو اس کے لیے جھکے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38402
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38402، ترقيم محمد عوامة 36812)
حدیث نمبر: 38403
٣٨٤٠٣ - حدثنا (هاشم) (١) بن القاسم (قال) (٢): حدثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال (عن العلاء بن زياد العدوي) (٣) قال: رأيت في النوم كأني (أرى) (٤) عجوزا عوراء كبيرة (العين) (٥)، والعين الأخرى قد كادت (أن) (٦) تذهب عليها من الزبرجد والحلية شيء عجب، فقلت: (ما) (٧) أنت؟ قالت: (أنا) (٨) الدنيا، فقلت: أعوذ باللَّه من شرك، قالت: فإن (سرك) (٩) أن يعيذك اللَّه من شري فأبغض الدرهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علاء بن زیاد عدوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک ادھیڑ عمر کانی بڑھیا کو دیکھ رہا ہوں اور اس کی دوسری آنکھ بس نکلنے کے قریب ہی تھی۔ اور اس کے اوپر زبرجد اور دوسرے کئی قسم کے عجیب و غریب زیورات تھے۔ میں نے پوچھا کہ تو کون ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ میں دنیا ہوں۔ میں نے کہا کہ میں تیرے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اس نے کہا کہ اگر تجھ کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ تجھے اللہ میرے شر سے بچائے تو درہم سے بغض رکھ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38403
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38403، ترقيم محمد عوامة 36813)
حدیث نمبر: 38404
٣٨٤٠٤ - حدفنا الفضل (بن) (١) دكين عن سفيان عن عمرو بن دينار قال: ⦗٩٧⦘ كان جابر بن زيد (مسلما) (٢) عند الدرهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جابر بن زید دراہم سے پرہیز کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38404
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38404، ترقيم محمد عوامة 36814)
حدیث نمبر: 38405
٣٨٤٠٥ - حدثنا ابن نمير عن بن أبي عروبة عن قتادة عن عبد ربه عن (أبي) (١) عياض ﴿(وَنُقَلِّبُهُمْ) (٢) ذَاتَ الْيَمِينِ وَذَاتَ الشِّمَالِ﴾ [الكهف: ١٨]، قال: في كل عام مرتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوعیاض رحمہ اللہ سے قرآن پاک کی آیت { وَنُقَلِّبُہُمْ ذَاتَ الْیَمِینِ وَذَاتَ الشِّمَالِ } کی تفسیر میں مروی ہے کہ سال میں دو مرتبہ بدلتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38405
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38405، ترقيم محمد عوامة 36815)
حدیث نمبر: 38406
٣٨٤٠٦ - حدثنا أبو أسامة عن زكريا عن أبي إسحاق عن (سعيد) (١) بن (معبد) (٢) قال: حدثتني أسماء (ابنة) (٣) (عميس) (٤) أن جعفرا (جاءها) (٥) إذ هم بالحبشة (وهو يبكي) (٦) فقالت: (ما) (٧) شأنك؟ قال: رأيت (فتى) (٨) مترفا من الحبشة (شابًا) (٩) جسيما مر على امرأة فطرح دقيقا كان معها، (فسفته) (١٠) (الريح) (١١)، ⦗٩٨⦘ (فقالت) (١٢): (أكلك) (١٣) إلى يوم يجلس الملك على الكرسي فيأخذ للمظلوم من الظالم (١٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے پاس جعفر رضی اللہ عنہ اس وقت آئے جب وہ حبشہ میں تھے اور وہ رو رہے تھے تو اسماء نے پوچھا کہ آپ کو کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا ہے ناز ونعم والا اور جسامت والا وہ ایک عورت کے پاس سے گزرا اور اس عورت کے پاس موجود آٹے کو اس نے گرا دیا۔ پھر اس آٹے کو ہوا اڑا کرلے گئی تو اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں تو تجھ کو اس دن کے سپرد کرتی ہوں کہ جس دن بادشاہ کرسی پر بیٹھے گا اور ظالم سے مظلوم کا حق دلوائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38406
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38406، ترقيم محمد عوامة 36816)
حدیث نمبر: 38407
٣٨٤٠٧ - حدثنا أبو أسامة عن (محمد بن) (١) طلحة عن إبراهيم (بن) (٢) (عبد الأعلى) (٣) عن عبد الرحمن بن (الأسود) (٤) قال: إني أشم الريحان أذكر به الجنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن اسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ریحان خوشبو سونگھتا ہوں تو جنت یاد آتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38407
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38407، ترقيم محمد عوامة 36817)
حدیث نمبر: 38408
٣٨٤٠٨ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن مالك بن مغول قال: قال رجل للشعبي: أفتنا أيها العالم، قال: العالم من يخاف اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن مغول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی آدمی نے شعبی سے کہا کہ ہمیں بتائیں کہ عالم کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ عالم وہ ہے جو اللہ سے ڈرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38408
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38408، ترقيم محمد عوامة 36818)
حدیث نمبر: 38409
٣٨٤٠٩ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن عمرو بن قيس قال: كانوا يكرهون أن يعطي الرجل (صيّة) (١) شيئا فيخرجه فيراه المسكين فيبكي على أهله ويراه اليتيم فيبكي على أهله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن قیس رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ لوگ اس بات کو ناپسند سمجھتے تھے کہ کوئی آدمی اپنے بچہ کو کوئی چیز دے پھر وہ اس چیز کو لے کر باہر نکلے اور اس کو کوئی مسکین دیکھ لے اور اپنے گھر والوں کے پاس جا کر روئے یا کوئی یتیم دیکھ لے اور اپنے گھر والوں کے پاس جا کر روئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38409
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38409، ترقيم محمد عوامة 36819)
حدیث نمبر: 38410
٣٨٤١٠ - حدثنا ابن يمان عن سفيان قال: لا يفقه عبد حتى يعد البلاء نعمة، والرخاء مصيبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ کوئی آدمی اس وقت تک فقیہ نہیں شمار کیا جاسکتا کہ جب تک وہ مصیبت کو نعمت اور کشادگی کو مصیبت نہ سمجھنے لگے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38410
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38410، ترقيم محمد عوامة 36820)
حدیث نمبر: 38411
٣٨٤١١ - حدثنا يحيى بن يمان عن سفيان قال: كان يعجبهم أن يفرحوا أنفسهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو یہ بات عجیب محسوس ہوتی تھی کہ وہ اپنے نفسوں کو خوش کریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38411
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38411، ترقيم محمد عوامة 36821)
حدیث نمبر: 38412
٣٨٤١٢ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) (قال) (٢): حدثنا جعفر بن سليمان قال: سمعت مالك بن دينار يقول: قلب ليس فيه حزن مثل بيتٍ خربٍ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس دل میں کوئی غم نہ ہو وہ ویران گھر کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38412
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38412، ترقيم محمد عوامة 36822)
حدیث نمبر: 38413
٣٨٤١٣ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) (قال) (٢): حدثنا عبد اللَّه بن (سميط) (٣) عن بديل بن ميسرة العقيلي أو مطر الوراق أنه قال: من عرف ربه أحبه، ومن أبصر الدنيا زهد فيها، ولا يغفل (٤) المؤمن حتى يلهو، فإذا تفكر حزن.
مولانا محمد اویس سرور
بدیل بن میسرہ عقیلی یا مطر الوراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے رب کو پہچان لیا وہ اس سے محبت کرنے لگا اور جو شخص دنیا کو دل کی آنکھ سے دیکھ لیتا ہے وہ اس میں زہد اختیار کرلیتا ہے اور مومن جب تک بےکار کام میں نہ لگے غافل نہیں ہوتا۔ جب وہ سوچتا ہے تو غمگین ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38413
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38413، ترقيم محمد عوامة 36823)
حدیث نمبر: 38414
٣٨٤١٤ - حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي عن أبي (سنان) (١) عن أبي حصين قال: (٢) مثل الذي يسلب اليتيم ويكسو الأرملة مثل الذي (يكسبه) (٣) من غير حله وينفقه في غير حله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی یتیم سے مال چھین کر کسی محتاج کو پہناتا ہے اس کی مثال اس شخض کی سی ہے جو حرام طریقہ سے کماتا ہے اور حرام جگہ پر خرچ کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38414
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38414، ترقيم محمد عوامة 36824)
حدیث نمبر: 38415
٣٨٤١٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن عمرو بن قيس قال: إن اللَّه ليأمر في أهل الأرض بالعذاب فتقول الملائكة: يا رب فيهم الصبيان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ زمین پر بسنے والوں کے حق میں عذاب کا حکم کرتے ہیں تو فرشتے کہتے ہیں کہ اے اللہ ! ان میں تو بچے بھی ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38415
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38415، ترقيم محمد عوامة 36825)
حدیث نمبر: 38416
٣٨٤١٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت قال: كان يقول: ما أكثر أحد ذكر الموت إلا (رؤي) (١) ذلك في عمله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بھی کوئی آدمی موت کو کثرت سے یاد کرتا ہے تو یہ بات اس کے عمل میں ہی نظر آجاتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38416
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38416، ترقيم محمد عوامة 36826)
حدیث نمبر: 38417
٣٨٤١٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: (كان) (١) ثابت يقول: اللهم إن كنت أعطيت أحدا الصلاة في قبره فأعطني الصلاة في قبري.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت رضی اللہ عنہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ اگر کسی کو قبر میں نماز کی اجازت ہو تو مجھے میری قبر میں نماز کی اجازت دے دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38417
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38417، ترقيم محمد عوامة 36827)
حدیث نمبر: 38418
٣٨٤١٨ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا حميد قال: كنا نأتي أنسا ومعنا ثابت، فكلما مر بمسجد صلى فيه، فكنا نأتي أنسا فيقول: (أين) (١) ثابت؟ (أين) (٢) ثابت؟ ((أين) (٣) ثابت) (٤)، (٥) (دويبة) (٦) أحبها (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم انس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا کرتے تھے اور ہمارے ساتھ ثابت بھی ہوتے تھے۔ جب بھی وہ کسی مسجد سے گزرتے اس میں نماز پڑھتے۔ ہم انس رضی اللہ عنہ کے پاس آتے تو وہ پوچھتے تھے کہ ثابت کہاں ہیں ؟ ثابت کہاں ہیں ؟ ثابت کہاں ہیں ؟ وہ ایسے شخص ہیں کہ جن سے میں محبت کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38418
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبو نعيم في الحلية ٢/ ٣٢١، وابن سعد ٧/ ٢٣٢، وابن عدي في الكامل ٢/ ١٠٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38418، ترقيم محمد عوامة 36828)
حدیث نمبر: 38419
٣٨٤١٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن زيد عن أبيه قال: قال أنس: ولم يقل شهدته: إن لكل شيء مفتاحا، وإن ثابتا من مفاتيح الخير (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے (لیکن انہوں نے یہ نہیں کہا کہ میں بھی پاس تھا) کہ ہر چیز کی ایک چابی ہے اور ثابت بھلائی کی چابی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 38419
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38419، ترقيم محمد عوامة 36829)