حدیث نمبر: 38340
٣٨٣٤٠ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن رجل من النخع عن ابن مسعود قال: يودّ أهل البلاء يوم القيامة أن جلودهم كانت تقرض بالمقاريض (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل مصیبت لوگ قیامت کے دن یہ تمنا کریں گے کہ کاش ان کے جسم قینچیوں سے کاٹ دیے جاتے۔
حدیث نمبر: 38341
٣٨٣٤١ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن أبيه قال: لقد استخلف عثمان وما (أزرهم) (١) إلا (البرود) (٢) وما أرديتهم إلا (النمار) (٣) كان أحدهم يقول لصاحبه: نمرتي خير من نمرتك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو لوگوں کی ازار بند صرف چادر ہی ہوا کرتی تھی اور ان کی اوڑھنیاں بھی دھاری دار چادر کی ہی ہوتی تھیں۔ ان میں سے ایک دوسرے کو کہا کرتا تھا کہ میری چادر تیری چادر سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 38342
٣٨٣٤٢ - حدثنا أبو أسامة عن جرير عن حميد بن هلال قال: قال (لنا) (١) أبو قتادة العدوي: عليكم بهذا الشيخ -يعني الحسن- فما رأيت أحدا أشبه رأيا بعمر بن الخطاب منه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوقتادہ رحمہ اللہ عدوی نے فرمایا ہے کہ تم اس شیخ یعنی حسن بصری رحمہ اللہ کی صحبت لازم پکڑو کیونکہ میں نے ان کی رائے سے زیادہ کسی کو بھی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی رائے کے مشابہہ نہیں دیکھنا۔
حدیث نمبر: 38343
٣٨٣٤٣ - حدثنا أبو أسامة عن سليمان بن المغيرة عن ثابت قال: قال مطرف بن عبد اللَّه: ما كنت لأومن على دعاء أحد حتى أسمع ما يقول إلا الحسن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں کسی کی دعا پر بھی بغیر سنے آمین نہیں کہتا سوائے حسن بصری کی دعا کے۔
حدیث نمبر: 38344
٣٨٣٤٤ - حدثنا أبو (أسامة) (١) عن سليمان بن المغيرة عن ثابت قال: كان أبو (برزة) (٢) (يتقهل) (٣) وكان (عائد) (٤) بن عمرو المزني يلبس لباسا حسنا، قال: (فأتى) (٥) أحدهما رجل فقال: ألم تر إلى أخيك يلبس كذا وكذا ويرغب عن لباسك، قال: (ومن) (٦) يستطيع أن يكون مثل فلان، من فضل فلان كذا، إن من فضل فلان كذا، إن من فضل فلان كذا، قال: (وأتى) (٧) الآخر فقال مثل ذلك (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوبرزہ رحمہ اللہ آلودہ رہتے تھے اور عائد بن عمرو مزنی عمدہ لباس پہنا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ کیا آپ اپنے دوسرے بھائی کی طرف نہیں دیکھتے جو اس اس طرح کے کپڑے پہنتا ہے اور آپ کے لباس سے اعراض کرتا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ ان جیسا کون ہوسکتا ہے اس کی تو یہ یہ فضیلت بھی ہے، اس کو یہ یہ مرتبہ حاصل ہے۔ پھر وہ دوسرے کے پاس آیا تو اس نے بھی پہلے جیسا ہی جواب دیا۔
حدیث نمبر: 38345
٣٨٣٤٥ - حدثنا عيسى بن يونس عن (عبيد اللَّه) (١) بن أبي زياد عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "اسم اللَّه الأعظم في هاتين الآيتين: ﴿وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ﴾ [البقرة: ١٦٣] وفاتحة ⦗٨٠⦘ سورة آل عمران: ﴿الم (١) اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [آل عمران: ١ - ٢] " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماء بنت یزید فرماتی ہیں کہ آپ e نے فرمایا ہے کہ اللہ کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے : { وَإِلَہُکُمْ إلَہٌ وَاحِدٌ لاَ إلَہَ إِلاَّ ہُوَ الرَّحْمَن الرَّحِیمُ } اور سورة فاتحہ اور سورة آلِ عمران کی یہ آیت { الم اللَّہُ لاَ إلَہَ إِلاَّ ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ }۔
حدیث نمبر: 38346
٣٨٣٤٦ - حدثنا وكيع قال: حدثنا مالك بن مغول عن عبد اللَّه بن بريدة عن أبيه أن النبي ﷺ (سمع) (١) رجلا يقول: (اللهم) (٢) إني أسألك بأنك أنت اللَّه الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد، فقال: "لقد سألت اللَّه باسمه الأعظم: الذي إذا دُعي به أجاب، وإذا سئل به أعطى" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ آپ e نے کسی آدمی کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا اللَّہُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِأَنَّک أَنْتَ اللَّہُ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ تو آپ e نے فرمایا کہ تو نے اللہ تعالیٰ کے اس اسم اعظم کے ذریعہ دعا کی ہے کہ اگر اس کے ذریعہ دعا کی جائے تو قبول ہو اور اگر مانگا جائے تو عطا ہو۔
حدیث نمبر: 38347
٣٨٣٤٧ - حدثنا وكيع عن أبي (خزيمة) (١) عن أنس بن سيرين عن أنس بن مالك (قال) (٢): سمع النبي ﷺ (رجلًا) (٣) يقول: اللهم إني (أسألك) (٤) بأن لك الحمد لا إله إلا أنت وحدك، لا شريك لك، المنان بديع السماوات والأرض، ذو الجلال والإكرام، فقال: "لقد سألت اللَّه باسمه الأعظم الذي إذا سئل به أعطى، وإذا دعي به أجاب" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی آدمی کو ان الفاظ سے دعا کرتے ہوئے سنا : اللَّہُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِأَنَّ لَک الْحَمْدَ لاَ إلَہَ إِلاَّ أَنْتَ وَحْدَک ، لاَ شَرِیکَ لَک ، الْمَنَّانُ بَدِیعُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ذُو الْجَلاَلِ وَالإِکْرَامِ تو آپ e نے ارشاد فرمایا کہ تو نے اسم اعظم کے ذریعہ دعا کی ہے کہ جب اس کے ذریعہ مانگا جائے تو عطا ہو اور دعا کی جائے تو قبول ہو۔
حدیث نمبر: 38348
٣٨٣٤٨ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا مسعر عن عبد الملك بن ميسرة عن ابن سابط أن داعيا (دعا) (١) في عهد النبي ﷺ فقال: إني أسألك باسمك الذي لا إله إلا أنت الرحمن الرحيم، بديع السماوات والأرض، وإذا أردت أمرا فإنما تقول له كن فيكون، (فقال النبي ﷺ) (٢): " (لقد) (٣) كدت -أو كاد- أن (تدعو) (٤) اللَّه باسمه الأعظم" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سابط رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ کسی دعا کرنے والے نے نبی کریم e کے زمانہ میں یوں دعا کی : إنِّی أَسَالُکَ بِاسْمِکَ الَّذِی لاَ إلَہَ إِلاَّ أَنْتَ الرَّحْمَن الرَّحِیمُ بَدِیعُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ، وَإِذَا أَرَدْت أَمْرًا فَإِنَّمَا تَقُولُ لَہُ کُنْ فَیَکُونُ تو آپ e نے ارشاد فرمایا کہ تو قریب تھا یا فرمایا کہ یہ آدمی قریب ہی تھا کہ اسم اعظم کے ذریعہ دعا کرتا۔
حدیث نمبر: 38349
٣٨٣٤٩ - حدثنا أبو عبد الرحمن (المقرئ) (١) عن سعيد بن أبي أيوب قال: حدثنا الحسن بن ثوبان عن هشام بن أبي (رقية) (٢) عن أبي الدرداء وابن عباس أنهما كانا يقولان: اسم اللَّه الأكبر: رب رب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابودرداء اور ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ” رب رب “ ہے۔
حدیث نمبر: 38350
٣٨٣٥٠ - حدثنا محمد بن بشو عن مسعر عن عبد الملك (١) بن (عمير) (٢) قال: قرأ رجل البقرة وآل عمران، فقال كعب: لقد قرأ سورتين فيهما الاسم الذي إذا دعي به (استجاب) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالملک بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سورة بقرہ اور آلِ عمران تلاوت کی تو کعب نے ارشاد فرمایا کہ اس شخص نے ایسی دو سورتیں تلاوت کی ہیں کہ جن میں ایسا اسم ہے کہ اگر اس کے ذریعہ دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 38351
٣٨٣٥١ - حدثنا وكيع عن أبي هلال عن (حبان) (١) الأعرج عن (جابر) (٢) بن زيد قال: اسم اللَّه الأعظم: اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ” اللہ “ ہے۔
حدیث نمبر: 38352
٣٨٣٥٢ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن مسعر عمن سمع الشعبي يقول: اسم اللَّه الأعظم: اللَّه، ثم قرأ أو قرأتُ عليه: ﴿هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ (١)﴾ [الحشر: ٢٤] إلى آخرها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ” اللہ “ ہے پھر انہوں نے یا میں نے ان کے سامنے { ہُوَ اللَّہُ الْخَالِقُ الْبَارِیئُ المُصَوِّر } سے لے کر آخر سورة تک تلاوت کی۔
حدیث نمبر: 38353
٣٨٣٥٣ - [حدثنا محمد بن مصعب قال: حدثنا أبو بكر عن ضمرة أن أبا ريحانة مر بحمص وأهلها يقتسمونها بينهم، (فسمع (ضوضاء)) (١) (٢) فقال: (ما هذه الضوضاة؟ قال: حمص يقتسمها أهلها بينهم، فقال) (٣): اللهم لا تجعلها عليهم فتنة، فما زال يرددها حتى لم يُدر متى انقطع صوته] (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوریحانہ رحمہ اللہ ایک مرتبہ ایک غلہ کے قریب سے گزرے جسے غلے والے آپس میں تقسیم کررہے تھے۔ انہوں نے شور کی آواز سنی تو پوچھا کہ یہ شور کیسا ہے ؟ تو جواب دیا کہ یہ غلہ ہے جس کو غلے والے آپس میں تقسیم کررہے ہیں۔ تو انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ ! اس غلہ کو ان کے لیے آزمائش نہ بنا اور اسی کو بار بار کہتے رہے۔ یہاں تک کہ نامعلوم کب ان کی آواز ختم ہوئی۔
حدیث نمبر: 38354
٣٨٣٥٤ - حدثنا محمد بن مصعب قال: حدثنا أبو بكر عن ضمرة أن أبا ريحانة كان مرابطا بالجزيرة في ميافارقين، (فاشترى) (١) (رسنا) (٢) من نبطي من أهلها ⦗٨٣⦘ بأفلس، فلما قفل وكانوا (بالرستن) (٣) (نزل) (٤) عن دابته، وقال لغلامه: هل قضيت النبطي (أفلسه؟) (٥) قال: لا، قال: فاستخرج نفقة من نفقته فدفعها إلى غلامه، وقال (لأصحابه) (٦): أحسنوا (معونته) (٧) على دوابه حتى أبلغ أهلي، قالوا: يا أبا ريحانة وما تريد؟ قال: أريد أن آتي غريمي فأودي عني أمانتي، قال: فانطلق حتى أتى ميافارقين، ثم أتى إلى أهله بعد ما قضى غريمه (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمزہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوریحانہ رحمہ اللہ میافارقین کے جزیرہ میں قیام پذیر تھے۔ انہوں نے وہاں سے ایک نبطی کے گھر والوں سے ایک رسی خریدی۔ پھر جب قافلہ نکل پڑا اور مقام رسین تک لوگ پہنچ گئے تو اپنی سواری سے اترے اور اپنے غلام سے کہا کہ کیا تو نے اس نبطی کو پیسے دے دئیے تھے ؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں۔ تو انہوں نے اپنے خرچہ میں سے کچھ خرچہ نکال کر باقی کا سامان غلام کو دیا اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ میرے گھر آنے تک اس سواری اور سامان کا خیال رکھنا۔ انہوں نے پوچھا کہ ابوریحانہ آپ کہاں چل دیے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میرا ارادہ ہے میں اپنے قرض خواہ کے پاس جا کر اس کی امانت اس کو واپس کردوں۔ پھر وہ نکل پڑے یہاں تک کہ میافارفقین آئے پھر اپنا قرضہ دے دینے کے بعد اپنے گھر واپس آئے۔
حدیث نمبر: 38355
٣٨٣٥٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا أبو الأشهب عن الحسن ﴿كَلَّا بَلْ لَا يَخَافُونَ الْآخِرَةَ﴾ [المدثر: ٥٣]، قال: هذا الذي (فضحهم) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { کَلاَّ بَلْ لاَ یَخَافُونَ الآخِرَۃَ } کی تفسیر میں کہ اسی چیز نے تم کو ہلاک کردیا ہے۔
حدیث نمبر: 38356
٣٨٣٥٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا مالك بن دينار قال: سألت عكرمة قلت قول اللَّه: ﴿لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ﴾ [الأحزاب: ٦٠]، قال: هم الزناة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عکرمہ رحمہ اللہ سے اللہ کے ارشاد { لَئِنْ لَمْ یَنْتَہِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ مَرَضٌ} کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ ان سے مراد زانی ہیں۔
حدیث نمبر: 38357
٣٨٣٥٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا يونس عن الحسن في قوله (تعالى) (١): ﴿(هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ) (٢) إِذْ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَإِذْ أَنْتُمْ أَجِنَّةٌ فِي ⦗٨٤⦘ بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ﴾ [النجم: ٣٢]، قال: علم اللَّه من كل نفس ما هي عاملة، وما هي صانعة وإلى ما هي صائرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد { ہُوَ أَعْلَمُ بِکُمْ إذْ أَنْشَأَکُمْ مِنَ الأَرْضِ وَإِذْ أَنْتُمْ أَجِنَّۃٌ فِی بُطُونِ أُمَّہَاتِکُمْ } کی تفسیر میں منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر نفس کے بارے میں جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرے گا، اور کیا کام کرے گا، اور اس کا ٹھکانہ کیا ہوگا۔
حدیث نمبر: 38358
٣٨٣٥٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الأعمش عن مالك بن الحارث قال: قال عمر: التؤدة في كل شيء خير، إلا ما كان من أمر الآخرة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : نرمی ہر معاملہ میں بہتر ہے سوائے ان معاملات کے جن کا تعلق آخرت سے ہے۔
حدیث نمبر: 38359
٣٨٣٥٩ - حدثنا (أبو) (١) معاوية عن الأعمش عن خيثمة عن الحارث بن قيس قال: إذا كنت في شيء من أمر الدنيا (فتوخ) (٢)، وإذا كنت في شيء من أمر الآخرة فامكث ما استطعت، وإذا جاءك الشيطان وأنت تصلي فقال: إنك (ترائي) (٣) فزد وأطل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث بن قیس رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ جب تو کسی دنیا کے کام میں مشغول ہو تو جلدی سے نمٹا لے اور اگر آخرت کے کسی کام میں مشغول ہو تو جتنا ہوسکے ٹھہر کر سکون سے کر۔ اور جب تیرے پاس نماز میں شیطان آئے اور کہے کہ تو تو ریا کر رہا ہے تو نماز زیادہ پڑھ اور لمبی کرکے پڑھ۔
حدیث نمبر: 38360
٣٨٣٦٠ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا (فطر) (١) عن منذر عن الربيع بن خثيم أنه جاءه (سائل) (٢) فقال: أطعموه سكرا، فقال أهله: ما يصنع هذا بالسكر؟ فقال: لكن أنا أصنع به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن خثیم رحمہ اللہ کے بارے میں مروی ہے کہ ان کے پاس ایک مانگنے والا آیا تو انہوں نے کہا کہ اس کو شکر دے دو ان کے گھر والوں نے کہا کہ وہ شکر کا کیا کرے گا ؟ تو آپ نے جواب دیا کہ میں اس سے کچھ نہ کچھ کروں گا۔
حدیث نمبر: 38361
٣٨٣٦١ - حدثنا الفضل بن دكين عن جعفر بن برقان (١) قال: حدثني ميمون ابن (أبي جرير) (٢) قال: بلغني أن رجلا من بني ابن عمر استكساه إزارا قال: (فذكروا إزارًا) (٣)، قال: اقطعه ثم انكسه، قال: (فتكره) (٤) ذلك الفتى، فقال له ابن عمر: ويحك! أنظر لا تكون من القوم الذين يجعلون ما رزقهم اللَّه في بطونهم وعلى ظهورهم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ایک بیٹے نے انہیں ازار پہننے کو دیا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اس کو کاٹ کر پہنو۔ اس آدمی نے اس بات کو ناپسند کیا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ جو اللہ کے رزق کو پیٹ اور جسموں تک محدود رکھتے ہیں
حدیث نمبر: 38362
٣٨٣٦٢ - [حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا جعفر (عن) (١) ميمون أن أبا الدرداء قال: ويل للذي لا يعلم مرة، وويل للذي يعلم ثم لا يعمل ست (مرار) (٢)] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ نہ جاننے والے کے لیے ایک مرتبہ ہلاکت ہے اور جان کر عمل نہ کرنے والے کے لیے چھ مرتبہ ہلاکت ہے۔
حدیث نمبر: 38363
٣٨٣٦٣ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا جعفر بن برقان قال: حدثني أيوب بن راشد عن وهب بن منبه قال: نجد في كتاب اللَّه المنزل: أناس يدينون بغير العبادة، يختلون الدنيا بعمل الآخرة، يلبسون لباس مسوك الضان، قلوبهم كقلوب (الذئاب) (١)، ألسنتهم أحلى من العسل، وأنفسهم أمر من الصبر قال: ⦗٨٦⦘ (أفبي) (٢) يغترون، وإياي يخدعون، أقسمت (لأبعثن) (٣) عليهم فتنة يعود الحليم (فيها) (٤) حيران.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب میں یہ بات پڑھی ہے کہ لوگ ” بغیر عبادت کے ہی دین دار بنے بیٹھے ہیں، آخرت کے عمل میں بھی دنیا شامل کرلیتے ہیں، لوگ بھیڑ کی کھالوں کا لباس پہنتے ہیں جبکہ ان کے دل بھیڑیوں کی طرح ہیں، ان کی زبانیں شہد سے میٹھی ہیں جبکہ ان کے دل ایلوے سے بھی کڑوے ہیں۔ کیا یہ لوگ مجھ سے دغا بازی کرتے ہیں اور مجھ کو دھوکا دیتے ہیں کہ مجھے قسم ہے میں ان پر ایسا عذاب بھیجوں گا کہ ان کے بردبار لوگ بھی حیران ہوجائیں گے۔
حدیث نمبر: 38364
٣٨٣٦٤ - حدثنا الفضل بن دكين عن جعفر (عن) (١) ميمون قال: لا يكون الرجل تقيا حتى يحاسب نفسه (٢) محاسبة شريكه، حتى يعلم مأكله ومطعمه ومشربه وملبسه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدمی اس وقت تک پرہیزگار نہیں بن سکتا کہ جب تک اپنے نفس کا اس طرح محاسبہ نہ کرے جیسا کہ وہ اپنے شریک کا محاسبہ کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے کھانے، پینے اور لباس کے ذرائع کو نہ جان لے۔
حدیث نمبر: 38365
٣٨٣٦٥ - حدثنا الفضل بن دكين عن (عمر) (١) بن موسى الأنصاري عن موسى ابن عبد اللَّه بن يزيد عن أبيه قال: كان أكثر الناس صلاة وكان لا يصوم إلا يوم عاشوراء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن یزید رحمہ اللہ اپنے والد کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ وہ لوگوں میں سے زیادہ نمازی تھے اور صرف عاشورے کا روزہ رکھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 38366
٣٨٣٦٦ - حدثنا الفضل بن دكين عن سلمة بن نبيط قال: قال (أبي) (١): يا بني قم فصل من السحر، فإن لم تستطع فلا تدع ركعتي الفجر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن نسیط رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ اے میرے بیٹے اٹھ اور سحری کے وقت نماز پڑھا کر۔ اگر تجھ میں یہ قدرت نہ ہو تو فجر کی دو رکعتوں کو ہرگز نہ چھوڑ۔
حدیث نمبر: 38367
٣٨٣٦٧ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا الأعمش عن يزيد بن حيان قال: إن كان (عنبس) (١) بن عقبة التيمي تيم (الرباب) (٢) (ليسجد) (٣) حتى إن ⦗٨٧⦘ العصافير ليقعن على ظهره وينزلن، ما يحسبنه إلا (جذم) (٤) حائط.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عنبس بن عقبہ التیمی رحمہ اللہ (یعنی تیم الر باب) جب سجدہ کرتے یہاں تک کہ چڑیاں ان کی کمر پر بیٹھ جاتیں اور اترتیں۔ چڑیاں ان کو محض ایک دیوار کا ٹکڑا ہی سمجھتی تھیں۔
حدیث نمبر: 38368
٣٨٣٦٨ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا الربيع بن النذر عن أبيه [عن الربيع بن (خثيم) (١) في قوله تعالى: ﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا﴾ [الطلاق: ٢]، قال: من كل أمر ضاق على الناس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن خثیم رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے قول { وَمَنْ یَتَّقِ اللَّہَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا } کی تفسیر میں منقول ہے کہ ہر اس راستہ سے کہ جو لوگوں کے لیے مشکل ہو۔
حدیث نمبر: 38369
٣٨٣٦٩ - حدثنا يحيى بن يمان عن أشعث] (١) عن جعفر عن سعيد بن جبير ﴿أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا (وَقَائِمًا) (٢) يَحْذَرُ الْآخِرَةَ﴾ [الزمر: ٩]، قال: يحذر عذاب الآخرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہاللہ کے ارشاد { أَمَّنْ ہُوَ قَانِتٌ آنَائَ اللَّیْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا یَحْذَرُ الآخِرَۃَ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے۔
حدیث نمبر: 38370
٣٨٣٧٠ - حدثنا ابن يمان عن سفيان عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير أو عن الحسن في قوله تعالى: ﴿لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ﴾ [الأنبياء: ١٠٣]، قال: إذا أطبقت النارُ عليهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ یا حسن رضی اللہ عنہ سے اللہ کے ارشاد { لاَ یَحْزُنُہُمَ الْفَزَعُ الأَکْبَرُ } کی تفسیر میں منقول ہے کہ جب ان کو آگ سے ڈھانپ دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 38371
٣٨٣٧١ - حدثنا قبيصة قال: حدثنا سفيان عن أبي بكر الزبيدي عن أبيه قال: ما رأيت حيًا أكثر جلوسًا في المساجد من الثوريين والعرنيين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر زبیدی رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے کسی زندہ شخص کو بھی ثوریین اور عرنیین سے زیادہ مسجد میں قیام کرنے والا نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 38372
٣٨٣٧٢ - حدثنا أبو أسامة عن أبي الأشهب قال: قال الحسن: يا ابن آدم تبصر القذى في عين أخيك، وتدع (الجذل) (١) معترضا في عينك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم ! تو اپنے بھائی کی آنکھ میں تنکے کو بھی دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ میں پڑے شہتیر سے بھی درگزر کرجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 38373
٣٨٣٧٣ - حدثنا أبو أسامة عن أبي الأشهب عن الحسن قال: كانوا يقولون: إن لسان الحكيم من وراء قلبه، فإذا أراد أن يقول رجع إلى قلبه، فإن كان له: قال، ⦗٨٨⦘ وإن كان عليه: أمسك، وإن الجاهل قلبه في طرف لسانه لا يرجع إلى (قلبه) (١)، ما (أتى) (٢) على لسانه (تكلم) (٣) به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ لوگوں کا مقولہ ہے کہ دانا آدمی کی زبان اس کے دل کے پیچھے (ماتحت) ہوتی ہے۔ جب وہ بولنے کا ارادہ کرتا ہے تو اپنے دل سے پوچھتا ہے۔ اگر اس کا نفع ہو تو بات کہہ دیتا ہے اور اگر نقصان ہو تو خاموش رہتا ہے۔ اور جاہل آدمی کا دل اس کی زبان سے ایک طرف میں ہوتا ہے وہ اپنے دل سے نہیں پوچھتا جو منہ میں آجائے کہہ دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 38374
٣٨٣٧٤ - حدثنا أبو أسامة عن أبي الأشهب عن الحسن قال: قال أبو الدرداء: من يتبع نفسه كل ما يرى في الناس يطل حزنه ولا يشف غيظه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو اپنے نفس کو لوگوں کے پاس موجود اشیاء کے پیچھے لگا دیتا ہے اس کا غم زیادہ ہوجاتا ہے اور اس کا غصہ کم نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 38375
٣٨٣٧٥ - حدثنا أبو أسامة عن (١) سفيان عن أبي حمزة قال: قلت لإبراهيم: إن فرقد السبخي لا يأكل اللحم ولا يأكل كذا، فقال: كان أصحاب محمد ﷺ خيرا منه، كانوا يأكلون اللحم والسمن وكذا وكذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوحمزہ رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے عرض کی کہ ” فَرْقَدَ السَّبَخِیَّ “ نہ تو گوشت کھاتا ہے اور نہ ہی فلاں فلاں چیزیں کھاتا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ آپ e کے صحابہ اس سے اچھے تھے اور وہ گوشت اور گھی اور اسی طرح فلاں فلاں چیزیں بھی کھاتے تھے۔
حدیث نمبر: 38376
٣٨٣٧٦ - حدثنا أبو أسامة عن أبي الأشهب عن الحسن قال: يا ابن آدم إنك لن تؤاخذ إلا بما ركبت على عمد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ اے ابن آدم ! تجھ سے صرف اس عمل کا مواخذہ ہوگا کہ جس کا تو نے عمداً ارتکاب کیا ہوگا۔
حدیث نمبر: 38377
٣٨٣٧٧ - حدثنا أبو أسامة عن أبي الأشهب عن الحسن قال: كان أهل قرية أوسع اللَّه عليهم حتى (١) كانوا يستنجون بالخبز، فبعث اللَّه عليهم الجوع حتى أنهم كانوا يأكلون ما يقعدون به (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بستی والوں پر اللہ تعالیٰ نے وسعت کی یہاں تک وہ روٹیوں سے استنجاء کرنے لگے پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر بھوک مسلط کی یہاں تک کہ وہ اسی کو کھانے لگے جس کو وہ گراتے تھے۔
حدیث نمبر: 38378
٣٨٣٧٨ - حدثنا أبو أسامة عن أبي الأشهب عن الحسن قال: كان رجل يكثر غشيان باب (عمر) (١)، قال: فقال له عمر: اذهب فتعلم كتاب اللَّه ⦗٨٩⦘ (تعالى) (٢)، قال: فذهب الرجل ففقده عمر، ثم لقيه (لقاءة) (٣) فكأنه عاتبه فقال: وجدت في كتاب اللَّه ما أغناني عن باب (عمر) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی اکثر عمر رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آیا کرتا تھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ جا اور اللہ کی کتاب سیکھ۔ حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ آدمی چلا گیا اور عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو گم کردیا۔ پھر وہ عمر رضی اللہ عنہ کو ایک دفعہ ملا تو عمر رضی اللہ عنہ اس کو ڈانٹنے لگے تو اس نے جواب دیا کہ میں نے اللہ کی کتاب میں وہ چیز حاصل کی جس نے مجھ کو عمر رضی اللہ عنہ کے دروازے سے مستغنی کردیا ہے۔
حدیث نمبر: 38379
٣٨٣٧٩ - حدثنا أبو أسامة عن أبي الأشهب عن (الحسن) (١) قال: لا يزال العبد بخير ما لم يصب كبيرة تفسد عليه قلبه وعقله.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ آدمی ہمیشہ بھلائی ہی میں ہوتا ہے جب تک کہ وہ کوئی ایسا کبیرہ گناہ نہ کرلے کہ جو اس کی عقل ودل کو خراب کردے ؟ اور حضر تحسن کا ارشاد ہے ایمان تو ایمان ہے ! اس لیے کہ جو شخص مومن ہوتا ہے تو اللہ کے ہاں اس کے لیے شفاعت کرنے والے ہوتے ہیں جن کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔
…