حدیث نمبر: 38300
٣٨٣٠٠ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن بعض أصحابه عن علي قال: إذا مالت الأفياء وراحت الأرواح فاطلبوا الحوائج إلى اللَّه، فإنها ساعة الأوابين وقرأ: ﴿فَإِنَّهُ كَانَ لِلْأَوَّابِينَ غَفُورًا﴾ [الإسراء: ٢٥] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ جب سائے ڈھل جائیں اور ہوائیں چلنے لگیں تو اپنی ضرورتوں کو اللہ سے مانگو کیونکہ یہ توبہ کرنے والوں کی گھڑی ہے اور قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی : { فَإِنَّہُ کَانَ لِلأَوَّابِینَ غَفُورًا } بیشک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو معاف کرنے والا ہے۔
حدیث نمبر: 38301
٣٨٣٠١ - حدثنا ابن نمير عن مالك بن مغول عن أكيل قال: كان بين رجل من الحي وبين عبد الرحمن بن يزيد شيء، فقال له علقمة: أكنت تسبنى لو (١) (سببتك؟) (٢) قال: لا، قال: هو خير مني، هو أكثر جهادا مني.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اکیل فرماتے ہیں کہ قبیلہ حی اور عبدالرحمن بن یزید کے درمیان کچھ جھگڑا تھا تو ان کو علقمہ نے کہا کہ اگر میں آپ کو گالی دوں تو آپ مجھ کو گالی دیں گے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں دوں گا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ آدمی مجھ سے اچھا ہے۔ اور مجھ سے زیادہ مجاہدہ والا ہے۔
حدیث نمبر: 38302
٣٨٣٠٢ - حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا أبو عوانة عن عاصم بن (بهدلة) (١) قال: كان لأبي وائل خص (٢) يكون فيه (٣) ودابته، فإذا أراد الغزو نقض (الخص) (٤)، وإذا رجع بناه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن بہدلہ کہتے ہیں کہ ابی وائل رضی اللہ عنہ کی ایک لکڑی کی جھونپڑی تھی جس میں وہ خود اور ان کی سواری ہوتی تھی۔ جب غزوہ کا ارادہ کرتے تو اس جھونپڑی کو گرا دیتے اور جب واپس آتے تو اس کو بنا لیتے۔
حدیث نمبر: 38303
٣٨٣٠٣ - حدثنا يونس بن محمد عن حماد بن زيد عن عمرو بن مالك عن أبي (الجوزاء) (١) ﴿إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا﴾ [النبأ: ٢١]، قال: (صارت) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوجوزاء رحمہ اللہ سے قرآن پاک کی آیت {إنَّ جَہَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا } کی تفسیر میں مذکور ہے کہ آیت میں کانت سے مراد صارت ہے۔
حدیث نمبر: 38304
٣٨٣٠٤ - حدثنا سعيد بن (خثيم) (١) عن أبي حيان عن أبيه قال: دخلنا على سويد -يعني بن (مثعبة) (٢) وهو يشتكي (فقلنا) (٣) (له: كيف تجدك؟) (٤) (فقال) (٥): إني لفي عافية من ربي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی حیان کے والد کا ارشاد ہے کہ ہم سوید یعنی ابن مثعبہ کے پاس گئے جبکہ وہ تکلیف میں تھے۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ خود کو کیسا محسوس کرتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ میں اپنے رب کی طرف سے عافیت میں ہوں۔
حدیث نمبر: 38305
٣٨٣٠٥ - محاضر (قال) (١): حدثنا الأعمش عن يزيد بن أبي زياد عن عبد اللَّه بن الحارث قال: ما من شجرة صغيرة ولا كبيرة ولا (مغرز) (٢) إبرة رطبة ولا يابسة، إلا ملك (موكل) (٣) بها، يأتي اللَّه بعملها كل يوم، برطوبتها إذا رطبت (ويبوستها) (٤) إذا يبست (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن حارث کا ارشاد ہے کہ کوئی چھوٹا یا بڑا درخت اور کوئی سوئی کے گاڑنے کے بقدر خشک یا تر وتازہ جگہ ایسی نہیں جس پر فرشتہ مقرر نہ ہو۔ وہ اللہ کے پاس اس کے روزانہ کے اعمال نہ لے کرجاتا ہو۔ اس کی تروتازگی کے وقت کے اعمال بھی اور اس کی خشکی کی حالت کے اعمال بھی۔
حدیث نمبر: 38306
٣٨٣٠٦ - حدثنا محمد بن (عبيد) (١) عن الأعمش عن إبراهيم التيمي قال: إن كان الرجل من الحي (ليجيء) (٢) فيسب الحارث بن سويد فيسكت، فإذا سكت قام (فنفض) (٣) رداءه (فقام) (٤) فدخل.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم تیمی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص حارث بن سوید کو برا بھلا کہتا تو خاموش رہتے۔ جب وہ خاموش ہوتا تو چادر جھاڑ کر چل دیتے۔
حدیث نمبر: 38307
٣٨٣٠٧ - حدثنا الأحوص بن جواب قال: حدثنا يونس بن أبي إسحاق عن عمار (الدهني) (١) عن وهب بن منبه قال: أوحى اللَّه (٢) إلى بعض أوليائه: (إني) (٣) لم أحل رضواني لأهل بيت قط، ولا لأهل دار قط، ولا لأهل قرية قط، فأحوّل عنهم (رضواني حتى يتحولوا من رضواني إلى سخطي، وإني لم أحلَّ ⦗٦٨⦘ سخطي لأهل بيت قط، ولا لأهل دار قط، ولا لأهل قرية قط، فأحول عنهم) (٤) سخطي حتى يتحولوا من سخطي إلى رضواني.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی ولی پر وحی کی کہ میں کسی بھی گھر والوں یا مکان والوں یا بستی والوں پر اپنی رضا نازل کرکے اس وقت تک نہیں پھرتا کہ جب تک وہ خود میری رضا سے میری ناراضگی کی طرف نہ آجائیں اور میں کسی بھی مکان والوں یا گھر والوں یا بستی والوں پر اپنی ناراضگی اتار کر اس وقت تک نہیں پھرتا کہ جب تک وہ خود میری ناراضگی سے رضا مندی کی طرف نہ آجائیں۔
حدیث نمبر: 38308
٣٨٣٠٨ - حدثنا محمد بن أبي عبيدة (قال) (١): حدثنا أبي عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: ما على أحدكم إذا خلى (أن يقول لجليسيه) (٢): اسمعا رحمكما اللَّه، ثم يملي عليهما خيرا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ تم کو اس میں کیا حرج ہے کہ جب وہ اکیلا ہو تو اپنے فرشتوں کو کہے کہ لکھو اللہ تم پر رحم کرے پھر ان کو اچھی چیز لکھوانا شروع کردے۔
حدیث نمبر: 38309
٣٨٣٠٩ - [حدثنا ابن فضيل عن أبيه عن إسماعيل عن الحسن قال: (كان) (١) إذا قرأ: ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ﴾، قال: في الأموال والأولاد، ﴿حَتَّى (زُرْتُمُ) (٢) الْمَقَابِرَ (٢) كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ﴾، قال: وعيد بعد وعيد ﴿عِلْمَ الْيَقِينِ﴾] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے مروی ہے جب انہوں نے { أَلْہَاکُمُ التَّکَاثُرُ } پڑھا تو فرمایا کہ اموال اور اولاد میں مراد ہے پھر { حَتَّی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ کَلاَّ سَوْفَ تَعْلَمُونَ } پڑھا تو فرمایا کہ یہ تو وعید کے بعد دوسری وعید ہے۔ عِلْمَ الْیَقِینِ کی۔
حدیث نمبر: 38310
٣٨٣١٠ - حدثنا (ابن) (١) فضيل عن أبيه عن إسماعيل عن الحسن قال: (كان) (٢) إذا قرأ (هذه) (٣) الآية: ﴿إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ﴾، قال: أنفس هو خلقها وأموال هو رزقها، ﴿فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ﴾ [التوبة: ١١١].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے جب یہ آیت پڑھی : {إنَّ اللَّہَ اشْتَرَی مِنَ الْمُؤْمِنِینَ أَنْفُسَہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ } تو فرمایا کہ نفسوں کو تو پیدا ہی اس نے کیا ہے اور اموال کا رزق وہ خود ہی دیتا ہے۔ { وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِی التَّوْرَاۃِ وَالإِنْجِیلِ }
حدیث نمبر: 38311
٣٨٣١١ - حدثنا معاوية (بن) (١) هشام (قال) (٢): حدثنا سفيان عن رجل عن (الربيع) (٣) بن (خثيم) (٤) قوله: ﴿يَاأَيُّهَا الْإِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ﴾ [الانفطار: ٦]، قال: الجهل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن خثیم رحمہ اللہ قرآنِ پاک کی آیت { یَا أَیُّہَا الإِنْسَان مَا غَرَّک بِرَبِّکَ الْکَرِیمِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جہل نے دھوکہ میں ڈال رکھا ہے۔
حدیث نمبر: 38312
٣٨٣١٢ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن فضيل (بن) (١) (غزوان) (٢) قال: كان أبو جعفر محمد بن عبد الرحمن بن يزيد يذهب بخادمه إلى السوق، فيلقي عليها الآية بعد الآية من القرآن يعلمها، وكان يقوم من الليل إلى فنائه فيلقيه عليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوجعفر محمد بن عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ اپنے ایک خادم کو بازار کی طرف لے جاتے تھے اور اس کو قرآن کی آیات سناتے اور سکھاتے تھے اور رات کو اس کی قیام گاہ کے پاس کھڑے ہو اس کو سناتے تھے۔
حدیث نمبر: 38313
٣٨٣١٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا المسعودي عن عون بن عبد اللَّه كان يقول: ألا إن الحلم والحياء (١) والعي - (عي) (٢) اللسان، لا عي القلب-، والفقه: من الإيمان، وهن مما يُنقصن من الدنيا ويزدن في الآخرة، [وما يزدن في الآخرة أكثر مما (ينقصن) (٣) من الدنيا إلا أن الفحش والبذاء (والجفاء) (٤) والبيان من النفاق، وهن مما يزدن في الدنيا، وينقصن (من) (٥) الآخرة] (٦)، (وما) (٧) ⦗٧٠⦘ (ينقصن) (٨) (من) (٩) الآخرة أكثر مما يزدن في الدنيا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ خبردار بردباری، حیاء زبان کی عاجزی (نہ کہ دل کی) اور فقہ ایمان کا حصہ ہیں۔ اور اشیاء دنیا کم کرتی ہیں اور آخرت بڑھاتی ہیں اور اتنا دنیا نہیں گھٹاتی جتنا کہ آخرت کو بڑھاتی ہیں۔ خبردار بےحیائی، فحش گوئی اور بیان میں منافقت یہ چیزیں دنیا تو زیادہ کرتی ہیں لیکن آخرت گھٹا دیتی ہیں اور یہ دنیا اتنا نہیں بڑھاتیں جتنا آخرت کو کم کردیتی ہیں۔
حدیث نمبر: 38314
٣٨٣١٤ - حدثنا شريك عن عبيد بن مسروق عن منذر الثوري عن ربيع بن (خثيم) (١) ﴿(وَإِذَا) (٢) الْعِشَارُ عُطِّلَتْ﴾ [التكوير: ٤]، قال: تخلى منها أهلها فلم تحلب (ولم تصر) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن خثیم قرآن مجید کی آیت { وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ مراد ہے کہ اونٹنیوں کے مالک نہ ان کا دودھ دھوئیں گے اور نہ ہی ان کے دودھ کی حفاظت کے لیے ان کے تھن باندھیں گے۔
حدیث نمبر: 38315
٣٨٣١٥ - حدثنا إسحاق بن منصور قال: حدثنا الربيع بن المنذر عن (طريف) (١) قال: رأيت ربيع بن (خثيم) (٢) [يحمل (عرقه) (٣) إلى بيت عمته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طریف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ربیع بن خثیم کو کھجور کے پتوں کا ٹوکرا اپنی پھوپھی کے گھر لے جاتے ہوئے دیکھا۔
حدیث نمبر: 38316
٣٨٣١٦ - حدثنا إسحاق بن منصور قال: حدثنا الربيع بن المنذر (عن أبيه) (١) عن ربيع بن (خثيم) (٢)] (٣) قال: ما لم يرد به وجه اللَّه يضمحل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن خثیم کا ارشاد ہے کہ جس کام میں اللہ کی رضا مقصود نہ ہو وہ نیست ونابود ہوجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 38317
٣٨٣١٧ - حدثنا إسحاق بن منصور قال: حدثنا أبو (كدينة) (١) عن مطرف عن المنهال بن عمرو عن سعيد بن جبير قال: لما أصيب ابن عمر قال: ما تركت خلفي ⦗٧١⦘ شيئا من الدنيا (آسى) (٢) عليه غير ظمأ الهواجر وغير مشي إلى الصلاة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما کو تکلیف پہنچی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنے بعد کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی کی جس کی میں امید کروں سوائے سخت گرمی کی پیاس اور میرا نماز کی طرف چل کر جانا۔
حدیث نمبر: 38318
٣٨٣١٨ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن موسى قال: أخبرنا شيبان عن آدم بن علي قال: سمعت أخا بلال مؤذن رسول اللَّه ﷺ يقول: الناس ثلاثة أثلاث: فسالم وغانم وشاجب، قال: (السالم) (٢): الساكت، والغانم: الذي يأمر بالخير وينهى عن المنكر، فذلك في زيادة من اللَّه، والشاجب: الناطق بالخنا والمعين على الظلم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت آدم بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مؤذن رسول بلال بھائی کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ تین اقسام کے ہیں۔ ایک سالم دوسرا غانم اور تیسرا ہالک۔ پھر فرمایا کہ سالم تو وہ ہے جو چپ رہا اور غانم وہ ہے جس نے بھلائی کا حکم دیا اور برائی سے روکا پس یہ آدمی اللہ کی طرف سے نفع میں ہے اور ہلاک ہونے والا شخص وہ ہے جو بدزبانی کرے اور ظلم پر مدد کرے۔
حدیث نمبر: 38319
٣٨٣١٩ - حدثنا حسين بن علي قال: أخبرني إبراهيم (عن) (١) الربيع بن أبي راشد قال: كان أبي معجبا بخلف بن حوشب، قال: قلت له: (يا أبة) (٢) إنك لتعجب بهذا الرجل، (فقال) (٣): يا بني إنه نشأ على طريقة حسنة فلم يزل عليها، قال: وكان (تكنى) (٤) أبا مرزوق؟ فقال له ربيع: حولها، قال: فقال خلف: (فاكنني) (٥)، قال: أنت أبو عبد الرحمن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن ابی راشد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد محترم خلف بن حوشب پر بہت تعجب کرتے تھے۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابا جان آپ اس شخص پر تعجب کرتے ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اے میرے بیٹے یہ شخص اچھے راستے پر چلا اور اسی پر قائم رہا۔ ابی راشد فرماتے ہیں کہ اس وقت ان کی کنیت ابومرزوق تھی تو ان کو ربیع رحمہ اللہ نے کہا کہ آپ اس کنیت کو تبدیل کرلیں۔ ابی راشد کہتے ہیں کہ خلف رحمہ اللہ نے ان سے کہا کہ پھر آپ ہی مجھے کوئی کنیت دے دیجیے تو انہوں نے کہا آپ ابوعبدالرحمن ہیں۔
حدیث نمبر: 38320
٣٨٣٢٠ - حدثنا حسين بن علي عن أبي موسى عن الحسن قال: قال: الإسلام وما الإسلام؟ (قال) (١): الإسلام: السر والعلانية فيه سواء: (أن) (٢) (يسلم) (٣) قلبك للَّه، وأن يَسلم منك كل مسلم، وكل ذي عهد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ اسلام ! اسلام کیا ہے ؟ اسلام یہ ہے کہ پوشیدہ اور علانیہ دونوں حالتوں میں آدمی کا دل اللہ کے احکامات کے تابع ہو، اور تجھ سے ہر مسلمان اور معاہدے والا شخص محفوظ ہو۔
حدیث نمبر: 38321
٣٨٣٢١ - حدثنا حسين بن علي عن الحسن بن الحر قال: بلغني: أن العمل في يوم القدر كالعمل في (ليلته) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن حر فرماتے ہیں کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ لیلۃ القدر کی رات کو عمل کرنے کا جتنا ثواب ہے اتنا ہی اس دن کو عمل کرنے کا بھی ہے۔
حدیث نمبر: 38322
٣٨٣٢٢ - حدثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي (عن العلاء بن المسيب عن خيثمة) (١) (قال) (٢): قال عيسى ابن مريم: (لا تخبئ) (٣) (رزق) (٤) اليوم لغد، فإن الذي أتاك به اليوم (سيأتيك) (٥) به غدا، (فإن) (٦) قلت: وكيف يكون؟ (٧) فانظر إلى الطير لا تحرث ولا تزرع، تغدو وتروح إلى رزق اللَّه، [فإن قلت: وما يكفي الطير؟ فانظر إلى حمر (الوحش) (٨) وبقر الوحش تغدو إلى رزق اللَّه] (٩) وتروح شباعا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ آج کے رزق میں سے کل کے لیے جمع نہ کرکے رکھو۔ اس لیے کہ جس ذات نے آج دیا ہے وہ کل بھی دے سکتی ہے۔ اگر تیرے ذہن میں سوال ہو کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے تو پرندوں کو دیکھ لے جو نہ تو ہل چلاتے ہیں اور نہ ہی کھیتی باڑی کرتے ہیں صبح کو نکلتے ہیں اور شام کو اللہ کے رزق کے ساتھ ہی واپس آتے ہیں۔ پھر اگر تو کہے کہ یہ پرندوں کی مثال کافی نہیں تو جنگلی گدھوں کو دیکھ لے اور نیل گائے کو دیکھ لے جو صبح اللہ کے رزق کی طرف نکلتے ہیں اور شام کو سیر ہو کر واپس آتے ہیں۔
حدیث نمبر: 38323
٣٨٣٢٣ - حدثنا المحاربي عن مالك بن مغول قال: حدثني أبو يعفور عن المسيب ابن رافع عن عبد اللَّه بن مسعود قال: ينبغي لحامل القرآن أن يُعرف بليله (إذا) (١) الناس نائمون، وبنهاره (إذا) (٢) الناس مفطرون، وبحزنه (إذا) (٣) الناس يفرحون، (وببكائه) (٤) (إذا) (٥) الناس يضحكون، وبصمته (إذا) (٦) الناس يخلّطون، وبخشوعه (إذا) (٧) الناس يختالون، وينبغي لحامل القرآن أن يكون باكيا محزونا حليما حكيما سكيتا، ولا ينبغي لحامل القرآن أن يكون -قال أبو بكر: ذكر كلمة- لا صخابا ولا صياحا ولا (حديدا) (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا اشاد ہے کہ حامل قرآن کو چاہیے کہ وہ اپنی رات سے پہچانا جائے جس وقت لوگ سو رہے ہوں اور اپنے دن سے بھی پہچانا جائے جس وقت لوگ صبح کا آغاز کررہے ہوں اور اپنے غم سے پہچانا جائے جب لوگ خوش ہو رہے ہوں، اور اپنے رونے سے پہچانا جائے جب لوگ ہنس رہے ہوں، اور اپنی خاموشی سے پہچانا جائے جس وقت لوگ باتوں میں مشغول ہوں، اور اپنے خشوع سے پہچانا جائے جس وقت لوگ تکبر کرتے ہوں اور حامل قرآن کے لیے مناسب ہے کہ وہ رونے والا، غمگین، بردبار، حکمت والا اور خاموش طبع ہو اور حامل قرآن کے لیے مناسب نہیں کہ وہ (حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ کلمات فرمائے) شور مچانے والا اور چیخنے چلانے والا اور غصہ کرنے والا ہو۔
حدیث نمبر: 38324
٣٨٣٢٤ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: أخبرنا أبو سنان (قال) (٢): حدثنا عمرو بن مرة قال: جاء أبو وائل يعود الربيع بن (خثيم) (٣) فقال: ما جئت إليك إلا ⦗٧٤⦘ (تسمعت) (٤) صوت الناعية، فقال الربيع: ما أنا إلا (على) (٥) شهر يكتب لي فيه خمسون ومائة صلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مرہ فرماتے ہیں کہ ابو وائل رضی اللہ عنہ ربیع بن خثیم کے پاس ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے اور کہا کہ میں تو اس لیے آیا تھا کہ میں نے موت کی خبر دینے والے کی آواز سنی تھی تو ربیع نے جواب دیا کہ میں ایک ماہ سے ایسی حالت پر ہوں کہ میرے لیے ایک سو پچاس نمازوں ” ١٥٠“ کا ثواب لکھا جا رہا ہے۔
حدیث نمبر: 38325
٣٨٣٢٥ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا حماد بن سلمة (قال) (١): حدثنا أبو جعفر الخطمي أن (جده عمير) (٢) بن حبيب [(كان) (٣) يقوم من الليل فيقول: (الرحيل) (٤) أيها الناس، سُبقتم إلى الماء، الدلجة الدلجة، من يُسبق إلى الماء يظمأ، ومن يسبق إلى (الشمس) (٥) (يضح) (٦) (للشمس) (٧) الرحيل الرحيل (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوجعفر خطمی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے دادا محترم عمیر بن حبیب رات کو اٹھ کر کہا کرتے تھے کہ اے لوگو ! کوچ کرو تم کو پانی کی طرف بڑھا دیا گیا ہے۔ کوچ کرو کوچ کرو، جو شخص پانی کی طرف بڑھایا گیا وہ پیاسا رہ جاتا ہے اور جو شخص سورج کی طرف بڑھا گیا وہ دھوپ میں جلتا ہے۔ کوچ کرو، کوچ کرو۔
حدیث نمبر: 38326
٣٨٣٢٦ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا حماد بن سلمة عن أبي جعفر الخطمي أن عمير بن حبيب] (١) كان له مولى يعلم بنيه القرآن والكتاب، فجعل يذاكرهم النساء والدنيا، قال: فقال له: (يا زياد) (٢) لقد ظللت على بنيَّ قبة الشيطان، (اكشطوها) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمیر بن حبیب رحمہ اللہ کا ایک غلام تھا جو ان کے بیٹے کو قرآن اور کتاب کی تعلیم دیا کرتا تھا وہ ان سے دنیا اور عورتوں کی باتیں کرنے لگ جاتا تھا۔ تو اس کو عمیر بن حبیب نے کہا کہ اے زیاد ! تو نے تو ہمارے بچوں کے اوپر شیطان کا گنبد بنادیا ہے اس کو اتار دے۔
حدیث نمبر: 38327
٣٨٣٢٧ - حدثنا محمد بن (أبي) (١) (عدي) (٢) عن (ابن) (٣) عون قال: قال مسلم ابن (يسار) (٤): إذا حدثت عن اللَّه حديثا فأمسك، فاعلم ما قبله وما بعده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تو اللہ تعالیٰ کی کسی بات کو نقل کرنے کا ارادہ کرے تو رک جا اور پہلے اس کا سیاق وسباق معلوم کرلے۔
حدیث نمبر: 38328
٣٨٣٢٨ - حدثنا حسين بن علي عن سفيان ابن عيينة عن عاصم قال: كان (عامة) (١) كلام (الحسن) (٢): سبحان اللَّه العظيم سبحان اللَّه وبحمده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حسن رضی اللہ عنہ کا اکثر کلام یہی ہوتا تھا : سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیمِ سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ ۔
حدیث نمبر: 38329
٣٨٣٢٩ - حدثنا الحسن بن موسى (قال) (١): حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت البناني عن مطرف بن عبد اللَّه بن الشخير قال: من أصفى (صفي) (٢) له، ومن خلط خلط عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف بن عبداللہ بن شخیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص صفائِ قلب میں لگ جاتا ہے اس کو صفائی مل جاتی ہے اور جو شخص ملاوٹ اختیار کرتا ہے اس پر ملاوٹ ڈال دی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 38330
٣٨٣٣٠ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الملك بن عمير قال: أوصى رجل ابنه فقال: يا بني أظهر الياس مما في أيدي الناس، فإنه (غنى) (١)، (وإياك) (٢) وطلب الحاجات فإنه (فقر) (٣) حاضر، وإياك وما يعتذر منه بالقول، وإذا صليت فصل صلاة مودع لا ترى أنك تعود، وإن استطعت أن تكون اليوم خيرا (منك) (٤) ⦗٧٦⦘ أمس (وغدا) (٥) خيرا منك (اليوم) (٦) فافعل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالملک بن عمیر رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ ایک آدمی نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی کہ لوگوں کے ہاتھوں میں موجود چیز سے ناامیدی ظاہر کر اس لیے کہ یہی غنا ہے۔ اور اپنے آپ کو حاجات کے مانگنے سے بچا کیونکہ یہی اس زمانہ کا فقر ہے اور اپنے آپ کو ان باتوں سے بچا جن کی معذرت کرنی پڑے اور جب تو نماز پڑھے تو ایسی نماز پڑھ کہ جیسے یہ آخری نماز ہے یہ مت سمجھ کہ دوبارہ بھی موقع ملے گا۔ اور اگر تو اس طرح کرسکتا ہو تیرا آج کل سے بہتر اور آئندہ کا دن آج سے بہتر ہو تو اس طرح ضرور کر۔
حدیث نمبر: 38331
٣٨٣٣١ - حدثنا شاذان قال: حدثنا مهدي بن ميمون عن يونس بن خباب قال: قال لي مجاهد: ألا (أنبئك) (١) بالأواب الحفيظ، قلت: بلى، قال: هو الذي يذكر ذنبه إذا خلا فيستغفر اللَّه منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یونس بن خباب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ کو مجاہد نے فرمایا کہ میں تجھ کو توبہ کرنے والے اور حفاظت کرنے والے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ میں نے کہا کیوں نہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ وہ شخص ہوتا ہے جو اکیلے میں اپنے گناہوں کو یاد کرکے اللہ سے معافی مانگتا ہے۔
حدیث نمبر: 38332
٣٨٣٣٢ - حدثنا الحسن قال: سمعت زهيرا أبا خيثمة قال: حدثنا أبو إسحاق الهمداني قال: كان الحسن -يعني البصري- يُشبّه بأصحاب رسول اللَّه ﷺ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابواسحاق ہمدانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حسن بصری رحمہ اللہ آپ کے صحابہ کے بہت متشابہہ تھے۔
حدیث نمبر: 38333
٣٨٣٣٣ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا حماد بن سلمة عن حميد ويونس بن عبيد أنهما قالا: قد رأينا الفقهاء فما رأينا منهم أحدا أجمع من الحسن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید رحمہ اللہ اور یونس بن عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے بہت سے فقہاء دیکھے ہیں لیکن ان میں حسن رحمہ اللہ جیسا جامع شخصیت کا مالک نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 38334
٣٨٣٣٤ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا أبو هلال قال: حدثنا خالد بن (رباح) (١) أن أنس بن مالك سئل عن مسألة فقال: عليكم بمولانا الحسن فاسألوه، فقالوا: نسألك يا (أبا) (٢) حمزة (وتقول) (٣): سلوا مولانا الحسن، فقال: إنا سمعنا وسمع، فنسينا وحفظ (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس مالک رضی اللہ عنہ سے کوئی مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا ہمارے غلام حسن سے دریافت کرو۔ لوگوں نے کہا کہ اے ابوحمزہ ہم آپ سے مسئلہ پوچھتے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ ہمارے غلام حسن سے پوچھو ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے بھی سنا اور اس نے بھی سنا لیکن ہم بھول گئے اور اس نے یاد رکھا۔
حدیث نمبر: 38335
٣٨٣٣٥ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن عن موسى القارئ عن طلحة ابن عبد اللَّه قال: كان زاذان يُعلّم بلا شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ” زاذان “ بغیر کسی چیز کے تعلیم دیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 38336
٣٨٣٣٦ - حدثنا يزيد بن هارون (قال) (١): حدثنا فرج بن فضالة عن أسد بن وداعة قال: كان شداد بن أوس إذا أوى إلى فراشه (كأنه) (٢) حبة قمح على مقلى ثم يقول: اللهم إن النار (قد) (٣) (منعتني) (٤) النوم؛ ثم يقوم إلى الصلاة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسد بن وداعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شداد بن اوس جب اپنے بستر پر جاتے تو یوں لگتا جیسے دانہ کڑاہی میں ہو پھر فرماتے کہ اے اللہ مجھ کو جہنم کی آگ نے سونے سے روک دیا ہے پھر نماز کی طرف کھڑے ہوجاتے۔
حدیث نمبر: 38337
٣٨٣٣٧ - حدثنا ابن نمير عن إسماعيل عن عمارة بن القعقاع عن أبي (زرعة) (١) عن عمر بن الخطاب قال: (٢) أجود الناس من جاد على من (لا) (٣) يرجو ثوابه، وإن (أحلم) (٤) الناس من عفا بعد القدرة، وإن أبخل الناس الذي (يبخل) (٥) بالسلام، وإن أعجز الناس الذي يعجز في دعاء اللَّه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ سخی وہ شخص ہے جو اس پر سخاوت کرے کہ جس سے ثواب کی امید نہ ہو۔ اور لوگوں میں سے سب سے بردبار وہ شخص ہے جو قدرت کے باوجود معاف کردے اور لوگوں میں سے سب سے بخیل وہ شخص ہے کہ جو سلام کرنے میں بھی بخل کرے۔ اور لوگوں میں سے سب سے زیادہ عاجز وہ شخص ہے جو اللہ سے دعا کرنے میں بھی عاجز ہو۔
حدیث نمبر: 38338
٣٨٣٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سلام بن مسكين قال: سمعت الحسن يقول: إذا نام العبد في سجوده باهى اللَّه به الملائكة يقول: انظروا عبدي يعبدني وروحه عندي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ جب آدمی سجدہ میں سوجاتا ہے تو اللہ اس پر اپنے فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ دیکھو میرے اس بندے کی طرف وہ میری عبادت کر رہا ہے اور اس کی روح میرے پاس ہے۔
حدیث نمبر: 38339
٣٨٣٣٩ - حدثنا أسود بن عامر (قال) (١): حدثنا ابن (أبي) (٢) (السميط) (٣) عن قتادة عن مطرف قال: (لفضل) (٤) العلم أحب إليّ من فضل العبادة، وملاك دينكم الورع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علم کا مرتبہ میرے نزدیک عبادت کے مرتبہ سے زیادہ ہے اور دین کا سرمایہ پرہیزگاری ہے۔
…